صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب الاستنجاء بالأحجار— پتھروں سے استنجا کرنے کے ابواب کا مجموعہ
(63) بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى النَّهْيِ عَنِ الِاسْتِطَابَةِ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ باب: تین سے کم ڈھلیوں سے استنجا کرنے سے منع کی دلیل کا بیان
حدیث نمبر: Q81
[وَ] أَنَّ الِاسْتِطَابَةَ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ لَا يَكْفِي دُونَ الِاسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ؛ لِأَنَّ الْمُسْتَطِيبَ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ عَاصٍ فِي فِعْلِهِ وَإِنِ اسْتَنْجَى بَعْدَهُ بِالْمَاءِ. وَالنَّهْيِ عَنِ الِاسْتِنْجَاءِ بِالْعِظَامِ وَالرَّجِيعِمحمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اور پانی سے استنجا کیے بغیر تین سے کم ڈھیلوں سے استنجا کرنا کافی نہیں ہے۔ کیونکہ تین سے کم ڈھیلوں سے استنجا کرنے والا اپنے فعل کی وجہ سے گناہ گار ہے، اگرچہ اس بعد پانی سے بھی استنجا کرلے، نیز ہڈیوں اور گوبر سے استنجا کرنا منع ہے۔