صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب الاستنجاء بالأحجار— پتھروں سے استنجا کرنے کے ابواب کا مجموعہ
(59) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ بِالِاسْتِطَابَةِ وِتْرًا باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ استنجا کے لئے طاق ڈھیلے استعمال کرنے
حدیث نمبر: Q76
، هُوَ الْوِتْرُ الَّذِي يَزِيدُ عَلَى الْوَاحِدِ، الثَّلَاثُ فَمَا فَوْقَهُ مِنَ الْوِتْرِ، إِذِ الْوَاحِدُ قَدْ يَقَعُ عَلَيْهِ اسْمُ الْوِتْرِ، وَالِاسْتِطَابَةُ بِحَجَرٍ وَاحِدٍ غَيْرُ مُجْزِيَةٍ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ أَنْ لَا يُكْتَفَى بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ فِي الِاسْتِطَابَةِمحمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
طاق ڈھیلے استعمال کرنے کے حکم سے مراد طاق ہے جو ایک سے زائد ، تین یا اس ے زائد ہو(مثلا پانچ ، سات.........) کیونکہ ایک پر بھی کبھی طاق کا اطلاق ہوجاتا ہے ۔ حالانکہ ایک ڈھیلے سے استنجا کرنا کافی نہیں ہوتا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ استنجا کے لیے تین سے کم پتھر وں کو کافی نہ سمجھا جائے