حدیث نمبر: Q58
قَدْ يَحْسَبُ مَنْ لَمْ يَتَبَحَّرْ فِي الْعِلْمِ أَنَّ الْبَوْلَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ جَائِزٌ لِكُلِّ بَائِلٍ، وَفِي أَيِّ مَوْضِعٍ كَانَ، وَيَتَوَهَّمُ مَنْ لَا يَفْهَمُ الْعِلْمَ، وَلَا يُمَيِّزُ بَيْنَ الْمُفَسَّرِ وَالْمُجْمَلِ أَنَّ فِعْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا نَاسِخٌ لِنَهْيِهِ عَنِ الْبَوْلِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

کم علم شخص اس سے یہ سمجھ سکتا ہے کہ قبلہ کی طرف منہ کرکے پیشاب کرنا ہر شخص کے لیے اور ہر جگہ جائز ہے-علم کی فہم وفراست نہ رکھنے والے اور مفسر ومجمل میں تمیز کرنے والے شخص کو وہم ہو سکتا ہے کہ نبی ﷺ کا فعل آپ کے قبلہ رخ پیشاب کرنے کی ممانعت کا ناسخ ہے۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الآداب المحتاج إليها في إتيان الغائط والبول إلى الفراغ منها / حدیث: Q58