حدیث نمبر: Q26
خِلَافَ قَوْلِ مَنْ يَزْعُمُ مِمَّنْ شَاهَدْنَا مِنْ أَهْلِ عَصْرِنَا مِمَّنْ كَانَ يَدَّعِي اللُّغَةَ مِنْ غَيْرِ مَعْرِفَةٍ بِهَا، وَيَدَّعِي الْعِلْمَ مِنْ غَيْرِ مَعْرِفَةٍ بِهِ، أَنَّ الِاسْمَ بِاسْمِ الْمَعْرِفَةِ يَحْوِي جَمِيعَ مَعَانِي الشَّيْءِ الَّذِي يُوقَعُ عَلَيْهِ بِاسْمِ الْمَعْرِفَةِ بِالْأَلِفِ وَاللَّامِ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَوْقَعَ اسْمَ الْأَحْدَاثِ عَلَى الرِّيحِ خَاصَّةً بِاسْمَ الْمَعْرِفَةِ، وَاسْمِ جَمِيعِ الْأَحْدَاثِ الْمُوجِبَةِ لِلْوُضُوءِ الرِّيحُ يَخْرُجُ مِنَ الدُّبُرِ خَاصَّةً، وَقَدْ بَيَّنْتُ هَذِهِ الْمَسْأَلَةَ فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

ہمارے اس ہم عصر کے قول کے برعکس جولغت عربی کے قواعد وضوابط کی معرفت کے بغیر لغت جاننے کا دعویدار ہے اور بغیر علم کے عالم ہونے کا مدعی ہے کہ اسم معرفہ ان تمام اشیاء کو شامل ہوتا ہے جن پر ” الف “ و” لام “ کےساتھ معرفہ بننے والے اسم کا اطلاق ہوتا ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ احداث کو ریح پر خاص طور پر اور وضو کو واجب کرنے والے تمام احداث پر اسم معرفہ کے ساتھ واضح کیا ہے۔ ریح خاص طور پر دبر سے نکلتی ہے۔ میں یہ مسئلہ کتاب الایمان میں وضاحت سے بیان کر چکا ہوں۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأحداث الموجبة للوضوء / حدیث: Q26