کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اہل ایمان کا جنت میں اپنے ربّ کا دیدار کرنا اور یہ سب سے بڑی نعمت ہو گی، جو اللہ تعالیٰ ان کو عطا کرے گا، اللہ ہمیں اس سے محروم نہ رکھے (آمین)نیز اس باب میں موقف سے موت کے ذبح ہونے تک کے ابواب کی تلخیص بھی ہے
حدیث نمبر: 13336
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {كُلُّ أُمَّةٍ تُدْعَى إِلَى كِتَابِهَا} عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”هَلْ تُضَارُّونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ?“ قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ”فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَذَلِكَ يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ فَيَقُولُ: مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتَّبِعْهُ فَيَتَّبِعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الْقَمَرَ الْقَمَرَ وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ الشَّمْسَ الشَّمْسَ وَيَتَّبِعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الطَّوَاغِيتَ الطَّوَاغِيتَ وَتَبْقَى هَذِهِ الْأُمَّةُ فِيهَا مُنَافِقُوهَا فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي غَيْرِ الصُّورَةِ الَّتِي تَعْرِفُونَ فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ فَيَقُولُونَ: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ هَذَا مَكَانُنَا حَتَّى يَأْتِينَا رَبُّنَا فَإِذَا جَاءَ رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ قَالَ: فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ فِي الصُّورَةِ الَّتِي يَعْرِفُونَ فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ فَيَقُولُونَ: أَنْتَ رَبُّنَا فَيَتَّبِعُونَهُ قَالَ: وَيُضْرَبُ جَسْرٌ عَلَى جَهَنَّمَ“ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُجِيزُ وَدَعْوَى الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ وَبِهَا كَلَالِيبُ مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ هَلْ رَأَيْتُمْ شَوْكَ السَّعْدَانِ?“ قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ”فَإِنَّهَا مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَعْلَمُ قَدْرَ عِظَمِهَا إِلَّا اللَّهُ تَعَالَى فَتَخْطِفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ فَمِنْهُمُ الْمُوْبَقُ بِعَمَلِهِ وَمِنْهُمُ الْمُخَرْدَلُ ثُمَّ يَنْجُوَا حَتَّى إِذَا فَرَغَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ الْعِبَادِ وَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ مِنَ النَّارِ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَرْحَمَ مِمَّنْ كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَمَرَ الْمَلَائِكَةَ يُخْرِجُونَهُمْ فَيَعْرِفُونَهُمْ بِعَلَامَةِ آثَارِ السُّجُودِ وَحَرَّمَ اللَّهُ عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ مِنْ ابْنِ آدَمَ أَثَرَ السُّجُودِ فَيُخْرِجُونَهُمْ قَدِ امْتُحِشُوا فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مِنْ مَاءٍ يُقَالُ لَهُ: مَاءُ الْحَيَاةِ فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحَبَّةِ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ وَيَبْقَى رَجُلٌ يُقْبِلُ بِوَجْهِهِ إِلَى النَّارِ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ قَدْ قَشَبَنِي رِيحُهَا وَأَحْرَقَنِي ذَكَاءُهَا فَاصْرِفْ وَجْهِي عَنِ النَّارِ فَلَا يَزَالُ يَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَقُولُ: فَلَعَلِّي إِنْ أَعْطَيْتُكَ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ فَيَقُولُ: لَا وَعِزَّتِكَ! لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ فَيَصْرِفُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ فَيَقُولُ بَعْدَ ذَلِكَ: يَا رَبِّ قَرِّبْنِي إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ: أَوَلَيْسَ قَدْ زَعَمْتَ أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ! مَا أَغْدَرَكَ فَلَا يَزَالُ يَدْعُو حَتَّى يَقُولُ: فَلَعَلِّي إِنْ أَعْطَيْتُكَ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ فَيَقُولُ: لَا وَعِزَّتِكَ! لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ وَيُعْطَى مِنْ عُهُودِهِ وَمَوَاثِيقِهِ أَنْ لَا يَسْأَلَ غَيْرَهُ فَيُقَرِّبُهُ إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ فَإِذَا دَنَا مِنْهَا انْفَتَحَتْ لَهُ الْجَنَّةُ فَإِذَا رَأَى مَا فِيهَا مِنَ الْحَبْرَةِ وَالسُّرُورِ سَكَتَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ ثُمَّ يَقُولُ: يَا رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ فَيَقُولُ: أَوَلَيْسَ قَدْ زَعَمْتَ أَنْ لَا تَسْأَلَ غَيْرَهُ فَقَدْ أَعْطَيْتَ عُهُودَكَ وَمَوَاثِيقَكَ أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ لَا تَجْعَلْنِي أَشْقَى خَلْقِكَ فَلَا يَزَالُ يَدْعُو اللَّهَ حَتَّى يَضْحَكَ اللَّهُ فَإِذَا ضَحِكَ مِنْهُ أَذِنَ لَهُ بِالدُّخُولِ فِيهَا فَإِذَا دَخَلَ قِيلَ لَهُ: تَمَنَّ مِنْ كَذَا فَيَتَمَنَّى حَتَّى تَنْقَطِعَ بِهِ الْأَمَانِيُّ فَيُقَالُ لَهُ: هَذَا لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ“ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”هَذَا لَكَ وَعَشْرَةُ أَمْثَالِهِ مَعَهُ“ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: حَفِظْتُ مِثْلَهُ مَعَهُ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَذَلِكَ الرَّجُلُ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اللہ تعالیٰ کے ارشاد {کُلُّ اُمَّۃٍ تُدْعِی اِلٰی کِتاَبھَا}( ہر گروہ کو اس کے نامہ ٔ اعمال کی طرف بلایاجائے گا۔) کی تفسیر میں امام زہری، عطاء بن یزید لیثی سے اور وہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! آیا قیامت کے دن ہم اپنے ربّ کا دیدار کریں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا چودھویں شب کے چاند کو دیکھنے میں تمہیں کوئی مشقت پیش آتی ہے، جبکہ اس کے سامنے بادل بھی نہ ہوں؟ صحابہ کرام نے کہا: اے اللہ کے رسول! بالکل نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح قیامت کے دن تم اللہ تعالیٰ کا دیدار کرو گے، اللہ تعالیٰ سب لوگوں کو جمع کر ے گا اور کہے گا: تم دنیا میں جس جس کی عبادت کرتے تھے، اس کے پیچھے چلے جاؤ، چنانچہ چاند کی عبادت کرنے والے چاند کے پیچھے ، سورج کی پوجا کرنے والے سورج کے پیچھے اور دوسرے طاغوتوں کی پوجا پاٹ کرنے والے ان کے پیچھے چل پڑیں گے، اس امت کے لوگ کھڑے رہ جائیں گے، ان میں منافقین بھی ہوں گے، تم اللہ تعالیٰ کی جو صور ت پہچانتے ہو، وہ اس کے علاوہ کسی اور صورت میں تمہارے پاس آکر کہے گا: میں تمہارا ربّ ہوں، وہ کہیں گے: ہم تو تیرے شرّ سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں، ہم تو یہیں ٹھہرے رہیں گے تاآنکہ ہمارا ربّ ہمارے پاس آ جائے، جب ہمارا ربّ ہمارے پاس آئے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کے پاس اس صورت میں آئے گا، جسے وہ پہچانتے ہوں گے، وہ کہے گا: میں تمہارا ربّ ہوں۔ وہ کہیں گے: واقعی تو ہمارا ربّ ہے، سو وہ اس کے پیچھے چل پڑیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم کے اوپر ایک پل نصب کیا جائے گا، سب سے پہلے میں اسے عبور کروں گا، اس دن تمام انبیاء و رسل بھی خوف اور ڈر کے مارے یہ کہہ رہے ہوں گے: اے اللہ بچانا، اے اللہ محفوظ رکھنا، اس پل پر سعدان کے کانٹوں کی طرح خمدار کانٹے ہوں گے، کیا تم نے سعدان کے کانٹے دیکھے ہیں؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بات ضرور ہے کہ ان کانٹوں کی ضخامت کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے،لوگوں کو ان کے اعمال کے حساب سے اچک لیاجائے گا،کوئی تو یوں ہی ہلاک ہو جائے گا اور کسی کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہلاک کیا جائے گا،یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلے کر کے فارغ ہوگا اور وہ توحید کی گواہی دینے والے اہل جہنم میں سے بعض پر رحم کرتے ہوئے ان کو جہنم سے نکالنے کا ارادہ کرے گا تو فرشتوں کو حکم دے گا کہ وہ ان کو جہنم سے نکال لائیں، فرشتے ان اہل توحید کو سجدوں کے نشانات کی وجہ سے پہچان لیں گے، اللہ تعالیٰ نے آگ پر حرام کیا ہے کہ وہ سجدوں کے نشانات کو کھائے، بہرحال فرشتے ان کو نکال کر لائیں گے، وہ جل جل کر کوئلہ بن چکے ہوں گے، ان پر ماءُ الحیاۃ ڈالا جائے گا، اس سے وہ یوں اگیں گے جیسے سیلاب کی جھاگ وغیرہ میں دانے اگتے ہیں، ایسے لوگوں میں سے ایک آدمی باقی رہ جائے گا، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر کہے گا: اے میرے رب! مجھے جہنم کی ہوا نے تکلیف دی ہے اور اس کی گرمی کی شدت نے مجھے جلا کر رکھ دیا ہے، لہذا تو میرے چہرے کو آگ سے پھیر دے، وہ مسلسل دعائیں کرتا رہے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: اگر میں تیری یہ دعا قبول کر لوں تو کیا تواس کے علاوہ کوئی سوال تو نہیں کرے گا؟ وہ کہے گا: اے اللہ! مجھے تیری عزت کی قسم ہے کہ میں تجھ سے مزید کوئی مطالبہ نہیں کروں گا، چنانچہ اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو آگ سے پھیر دے گا، لیکن اس کے بعد وہ پھر کہے گا: اے میرے ربّ! مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو نے وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو مزید کوئی مطالبہ نہیں کرے گا؟ اے ابن آدم! تجھ پر بڑا افسوس ہے، تو کس قدر وعدہ خلاف ہے، لیکن وہ مسلسل اللہ تعالیٰ کو پکارتا رہے گا اور اس سے دعائیں کرتا رہے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: اگر میں تیری یہ بات قبول کر لوں تو تو مزید تو کچھ نہیں مانگے گا؟ وہ کہے گا: اے اللہ! تیری عزت کی قسم! میں تجھ سے مزید کوئی مطالبہ نہیں کروں گا، وہ اس پر اللہ تعالیٰ سے پختہ وعدہ کرے گا، پس اللہ تعالیٰ اسے جنت کے دروازے کے قریب کر دے گا، پھر جب وہ جنت کے دروازے کے قریب پہنچ جائے گا، تو جنت اس کے لیے نمایاں اور وسیع ہوجائے گی، جب وہ جنت کے اندر کی راحتیں اور خوشیاں ملاحظہ کرے گا تو کچھ دیر تو خاموش رہے گا، لیکن بالآخر یوں بول پڑے گا: اے میرے رب! مجھے جنت میں داخل کر دے، اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا: کیا تو نے وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو مزید کوئی مطالبہ نہیں کرے گا؟ جبکہ تو اس سلسلہ میں میرے ساتھ پختہ وعدے کر چکا ہے، وہ کہے گا: اے رب! تو اپنی مخلوق میں سے مجھے اپنی نعمتوں سے محروم نہیں رکھ، چنانچہ وہ مسلسل اللہ تعالیٰ کو پکارتا اور دعائیں کرتا رہے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کی باتوں پر ہنس دے گا، جب اللہ تعالیٰ اس کی باتوں پر ہنسے گا تو اسے جنت میں داخل ہونے کی اجازت بھی دے دے گا، جب وہ جنت میں جائے گا تو اس سے کہا جائے گا: تو جو تمنا کر سکتا ہے کر لے، یعنی جو مانگ سکتا ہے مانگ لے، چنانچہ وہ خوب مانگے گا، پھر اس سے کہا جائے گا کہ تو مزید مانگ لے چنانچہ وہ مزید مانگے گا، یہاں تک کہ اس کی خواہشات ختم ہوجائیں گے، اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس سے کہاجائے گا: تو نے جو کچھ مانگا ہے، یہ سب اور اتنا مزید تجھے دیا جاتا ہے۔ جب سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بھی ان کے قریب تشریف فرما تھے، انھوں نے ان کی بیان کردہ کسی بھی بات میں کوئی تبدیلی نہیں کی، البتہ آخری بات کے بارے میں سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا: میں نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا تھا: تو نے جو کچھ مانگا، تجھے وہ بھی ملے گا اور اس سے مزید دس گنا دیا جاتا ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے تو اسی طرح یاد ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ تو نے جو کچھ مانگا تجھے یہ اور اتنا مزید دیا جاتا ہے، ساتھ ہی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا:جنت میں جانے والا سب سے آخری آدمی یہ ہوگا۔
حدیث نمبر: 13337
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ إِلَى أَنْ ذَكَرَ الصِّرَاطَ فَقَالَ: ”وَيُوْضَعُ الصِّرَاطُ فَهُمْ عَلَيْهِ مِثْلُ جِيَادِ الْخَيْلِ وَالرِّكَابِ وَقَوْلُهُمْ عَلَيْهِ: سَلِّمْ سَلِّمْ وَيَبْقَى أَهْلُ النَّارِ فَيُطْرَحُ مِنْهُمْ فِيهَا فَوْجٌ فَيُقَالُ: هَلِ امْتَلَأْتِ؟ وَتَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ ثُمَّ يُطْرَحُ فِيهَا فَوْجٌ فَيُقَالُ: هَلِ امْتَلَأْتِ؟ وَتَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ حَتَّى إِذَا أُوْعِبُوا فِيهَا وَضَعَ الرَّحْمَنُ عَزَّ وَجَلَّ قَدَمَهُ فِيهَا وَزَوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ ثُمَّ قَالَتْ: قَطْ قَطْ قَطْ وَإِذَا صَيَّرَ أَهْلُ الْجَنَّةِ فِي الْجَنَّةِ وَأَهْلُ النَّارِ فِي النَّارِ أُتِيَ بِالْمَوْتِ مُلَبَّبًا فَيُوْقَفُ عَلَى السُّورِ الَّذِي بَيْنَ أَهْلِ النَّارِ وَأَهْلِ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! فَيَطَّلِعُونَ خَائِفِينَ ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَهْلَ النَّارِ! فَيَطَّلِعُونَ مُسْتَبْشِرِينَ يَرْجُونَ فَيُقَالُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ وَلِأَهْلِ النَّارِ: تَعْرِفُونَ هَذَا؟ فَيَقُولُونَ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ: قَدْ عَرَفْنَاهُ هُوَ الْمَوْتُ الَّذِي وَكَّلَ بِنَا فَيُضْجَعُ فَيُذْبَحُ ذَبْحًا عَلَى السُّورِ ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! خُلُودٌ لَا مَوْتَ وَيَا أَهْلَ النَّارِ! خُلُودٌ لَا مَوْتَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اسی قسم کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے: پھر پل صراط نصب کر دیا جائے گا، لوگ اس کے اوپر سے بہترین گھوڑوں اور سواروں کی رفتار سے گزریں گے اور صورتحال یہ ہو گی کہ انبیاء ورسل بھی خوف کے مارے کہہ رہے ہوں گے: بچانا، محفوظ رکھنا، جہنمی لوگ باقی رہ جائیں گے، ان کی ایک فوج کو جہنم میں ڈال کر اس سے پوچھا جائے گا: کیا تو بھر گئی ہے؟ جہنم کہے گی: کیا مزید لوگ ہیں، اس کے بعد پھر ایک گروہ کو اس میں پھینکا جائے گا اور اس سے پوچھا جائے گا: کیا اب تو بھر گئی ہے؟ وہ کہے گی: مزید لاؤ، یہاں تک کہ جب سب جہنمی جہنم میں ڈال دئیے جائیں گے اور وہ مزید لوگوں کو اپنے اندر ڈالے جانے کا مطالبہ کر رہی ہو گی تو آخرمیں اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے گا، اس کے کنارے ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور وہ کہے گی: بس،بس، بس۔ جب تمام جنتی لوگ جنت میں اور تمام جہنمی لوگ جہنم میں پہنچ جائیں گے تو جنت اور جہنم کے درمیان والی دیوار پر موت کو لا کر کھڑا کر دیا جائے گا، پھر یوں آواز دی جائے گی: او جنتیو! وہ خوف زدہ ہو کر ادھر دیکھیں گے، پھر کہا جائے گا: او جہنمیو! وہ خوش ہو کر اور جہنم سے رہائی کی امید لے کر ادھر دیکھیں گے،پھر اہل جنت اور اہل جہنم دونوں سے کہا جائے گا: کیا تم اس چیز کو جانتے ہو؟ وہ سب کہیں گے:جی ہم اسے جانتے ہیں، یہ و ہ موت ہے، جو ہمارے اوپر مسلط کی گئی تھی، پھر اسے لٹا کر اسی دیوار کے اوپر ذبح کر دیا جائے گا اور کہا جائے گا: جنتیو!اب تم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس جنت میں رہو گے، تم میں سے کسی پر موت نہیں آئے گی اور جہنمیو! اب تم بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اسی میں رہو گے، تم میں سے کسی کو بھی موت نہیں آئے گی۔
حدیث نمبر: 13338
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: ”هَلْ تُضَارُّونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ?“ قَالَ: قُلْنَا: لَا قَالَ: ”فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ دُونَهُ سَحَابٌ?“ قَالَ: قُلْنَا: لَا قَالَ: ”فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَذَلِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ قَالَ: فَيُقَالُ: مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتَّبِعْهُ قَالَ: فَيَتَّبِعُ الَّذِينَ كَانُوا يَعْبُدُونَ الشَّمْسَ الشَّمْسَ فَيَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ وَيَتَّبِعُ الَّذِينَ كَانُوا يَعْبُدُونَ الْقَمَرَ الْقَمَرَ فَيَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ وَيَتَّبِعُ الَّذِينَ كَانُوا يَعْبُدُونَ الْأَوْثَانَ الْأَوْثَانَ وَالَّذِينَ كَانُوا يَعْبُدُونَ الْأَصْنَامَ الْأَصْنَامَ فَيَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ قَالَ: وَكُلُّ مَنْ يَعْبُدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَتَّى يَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ“ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”فَيَبْقَى الْمُؤْمِنُونَ وَمُنَافِقُوهُمْ بَيْنَ ظَهْرَيْهِمْ وَبَقَايَا أَهْلِ الْكِتَابِ وَقَلَّلَهُمْ بِيَدِهِ قَالَ: فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيَقُولُ: أَلَا تَتَّبِعُونَ مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ؟ قَالَ: فَيَقُولُونَ: كُنَّا نَعْبُدُ اللَّهَ وَلَمْ نَرَ اللَّهَ فَيَكْشِفُ عَنْ سَاقٍ فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ كَانَ يَسْجُدُ لِلَّهِ إِلَّا وَقَعَ سَاجِدًا وَلَا يَبْقَى أَحَدٌ كَانَ يَسْجُدُ رِيَاءً وَسُمْعَةً إِلَّا وَقَعَ عَلَى قَفَاهُ قَالَ: ثُمَّ يُوْضَعُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَيْ جَهَنَّمَ وَالْأَنْبِيَاءُ بِنَاحِيَتَيْهِ قَوْلُهُمْ: اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ وَإِنَّهُ لَدَحْضٌ مَزَلَّةٌ وَإِنَّهُ لَكَلَالِيبُ وَخَطَاطِيفُ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: وَلَا أَدْرِي لَعَلَّهُ قَالَ: تَخْطِفُ النَّاسُ وَحَسَكَةٌ تَنْبُتُ بِنَجْدٍ يُقَالُ لَهَا السَّعْدَانُ قَالَ: وَنَعَتَهَا لَهُمْ قَالَ: فَأَكُونُ أَنَا وَأُمَّتِي لَأَوَّلَ مَنْ مَرَّ أَوْ أَوَّلَ مَنْ يُجِيزُ قَالَ: فَيَمُرُّونَ عَلَيْهِ مِثْلَ الْبَرْقِ وَمِثْلَ الرِّيحِ وَمِثْلَ أَجَاوِيدِ الْخَيْلِ وَالرِّكَابِ فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ وَمَخْدُوشٌ مُكَلَّمٌ وَمَكْدُوسٌ فِي النَّارِ فَإِذَا قَطَعُوهُ أَوْ فَإِذَا جَاوَزُوهُ فَمَا أَحَدُكُمْ فِي حَقٍّ يَعْلَمُ أَنَّهُ حَقٌّ لَهُ بِأَشَدِّ مُنَاشَدَةٍ مِنْهُمْ فِي إِخْوَانِهِمُ الَّذِينَ سَقَطُوا فِي النَّارِ يَقُولُونَ أَيْ رَبِّ كُنَّا نَغْزُو جَمِيعًا وَنَحُجُّ جَمِيعًا وَنَعْتَمِرُ جَمِيعًا فَبِمَ نَجَوْنَا الْيَوْمَ وَهَلَكُوا قَالَ: فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: انْظُرُوا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ زِنَةُ دِينَارٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ قَالَ: فَيُخْرَجُونَ قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ: مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ زِنَةُ قِيرَاطٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ قَالَ: فَيُخْرَجُونَ قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ: مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ قَالَ: فَيُخْرَجُونَ قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ أَبُو سَعِيدٍ: بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللَّهِ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: وَأَظُنُّهُ يَعْنِي قَوْلَهُ {وَإِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَى بِنَا حَاسِبِينَ} قَالَ: فَيُخْرَجُونَ مِنَ النَّارِ فَيُطْرَحُونَ فِي نَهْرٍ يُقَالُ لَهُ نَهْرُ الْحَيَوَانِ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحَبُّ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ أَلَا تَرَوْنَ مَا يَكُونُ مِنَ النَّبَتِ إِلَى الشَّمْسِ يَكُونُ أَخْضَرَ وَمَا يَكُونُ إِلَى الظِّلِّ يَكُونُ أَصْفَرَ“ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَأَنَّكَ كُنْتَ قَدْ رَعَيْتَ الْغَنَمَ؟ قَالَ: ”أَجَلْ قَدْ رَعَيْتُ الْغَنَمَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! کیا قیامت کے دن ہم اللہ تعالیٰ کا دیدار کر سکیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب بادل نہ ہوں تو کیا سورج کو دیکھنے میں تمہیں کوئی مشقت ہوتی ہے؟ ہم نے کہا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چودھویں کی رات کو جب بادل نہ ہوں تو کیا چاند کو دیکھنے میں تمہیں کوئی تکلیف ہوتی ہے؟ ہم نے کہا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم قیامت کے دن اپنے ربّ کو اسی طرح بسہولت دیکھو گے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام لوگوں کو ایک کھلے میدان میں جمع کر ے گا اور اعلان کیا جائے گا کہ دنیا میں جو کوئی جس کی عبادت کیا کرتا تھا، وہ اس کے پیچھے چلا جائے، چنانچہ سورج کی پوجا کرنے والے اس کے پیچھے چل پڑے گے اور وہ ان کو جہنم میں جا گرائے گا، چاند کی پرستش کرنے والے اس کے پیچھے چل پڑیں گے اور جہنم میں جا گریں گے اور دوسرے مختلف بتوں کی عبادت کرنے والے ان کے پیچھے چل پڑیں اور اس طرح جہنم میں جا گریں گے۔ صرف اہل ایمان باقی رہ جائیں گے، جبکہ ان میں منافقین اور کچھ اہل ِ کتاب بھی ہوں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ کے اشارہ سے اہل کتاب کی تعداد کی قلت کی طرف اشارہ کیا، پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس آکر ان سے کہے گا: تم جس کی عبادت کیا کرتے تھے، اس کے پیچھے کیوں نہیں جاتے؟ وہ کہیں گے: ہم تو ایک اللہ کی عبادت کیا کرتے تھے اور ہم نے ابھی تک اس کو دیکھا ہی نہیں، پھر اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کو نمایاں کرے گا، جو لوگ صرف اللہ تعالیٰ کو سجدہ کیا کرتے تھے، وہ فوراً اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہوجائیں گے اور جو لوگ محض دکھلاوے اور شہرت کے لیے سجدے کیا کرتے تھے، وہ سجدہ نہیں کر سکیں گے بلکہ گدی کے بل گر جائیں گے، اس کے بعد جہنم پر پل صراط نصب کیا جائے گا، انبیاء و رسل اس کی دونوں اطراف میں کھڑے ہر یہ دعائیں کر رہے ہوں گے: اے اللہ! محفوظ رکھنا، محفوظ رکھنا، اے اللہ! بچانا ، بچانا، اس پل پر شدید قسم کی پھسلن ہوگی اور وہاں بے شمارخمدار سلاخین اور کنڈیاں لگی ہوں گی،وہ گزرنے والوں کو اچک لیں گی اور وہاں نجد کے علاقے میں اگنے والے سعدان درخت کے کانٹوں کی طرح کے کانٹے ہوں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کانٹوں کی صفات بھی بیان کیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اور میری امت سب سے پہلے اس پل کو پار کریں گے، اس کے اوپر سے لوگ بجلی کی رفتار سے، تیز ہوا کی رفتار سے، بہترین تیز رفتار گھوڑوں کی رفتار سے اور تیز اونٹوں کی رفتار سے گزریں گے، بعض لوگ صحیح سالم نجات پا جائیں گے اور بعض گرتے پڑتے زخمی ہو کر گزریں گے اور گر جانے والے جہنم میں جاگریں گے، اس پل کو پار کرجانے والے لوگ دنیا میں اپنے یقینی حق پر جو جھگڑا کرتے تھے، اس سے زیادہ تکرار وہ اپنے ان بھائیوں کے حق میں کریں گے، جو جہنم میں گر جائیں گے، وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم اکٹھے جہاد کرتے تھے، مل کر حج وعمرہ کرتے تھے، تو پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ ہم نجات پا گئے اور وہ ہلاک ہو گئے؟ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: دیکھو، جن لوگوں کے دلوں میں ایک دینار کے برابر ایمان ہو ان کو نکال لاؤ، چنانچہ ایسے لوگوں کو جہنم سے باہر نکال لیا جائے گا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جن کے دلوں میں ایک قیراط کے برابر ایمان ہو، ان کو بھی نکال لاؤ۔ چنانچہ ایسے لوگوں کو بھی نکال لیاجائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جن لوگوں کے دلوں میں رائی کے ایک دانے کے برابر بھی ایمان ہو، ان کو بھی نکال لاؤ، چنانچہ ایسے لوگوں کو بھی جہنم سے نکال لیاجائے گا۔ اس کے بعد سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: اس بات کی تائید کے لیے میرے اور تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ کی کتاب کافی ہے، عبدالرحمن بن اسحاق کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ان کا اشارہ اس آیت کی طرف تھا: {وَاِنْ کَانَ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِھَا وَ کَفٰی بِنَا حَاسِبِیْنَ} (اور اگر کسی کے پاس رائی کے ایک دانے کے برابر ایمان ہوا تو ہم اسے سامنے لے آئیں گے اور محاسبہ کرنے میں ہم کافی ہیں ـ)۔ آگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور اِن جہنمیوں کو جہنم سے نکال کر نہر الحیوان میں ڈالا جائے گا، اس میں وہ لوگ اس طرح اگیں گے، جیسے سیلاب کی لائی ہوئی مٹی وغیرہ میں دانے اگتے ہیں، کیا تم دیکھتے ہو کہ جو پودا سورج کی طرف ہو وہ سبز ہوتا ہے اور جو سائے میں ہو وہ زرد ہوتا ہے۔ صحابہ کرام نے کہا: اے اللہ کے رسول! معلوم ہوتا ہے کہ آپ بکریاں چراتے رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، میں نے بکریاں چرائی ہیں۔
حدیث نمبر: 13339
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ“ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! نَرَى رَبَّنَا؟ قَالَ: فَقَالَ: ”هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ نَصْفَ النَّهَارِ?“ قَالُوا: لَا قَالَ: ”فَتُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ?“ قَالُوا: لَا قَالَ: ”فَإِنَّكُمْ لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ إِلَّا كَمَا تُضَارُّونَ فِي ذَلِكَ“ قَالَ الْأَعْمَشُ: لَا تُضَارُّونَ يَقُولُ: لَا تُمَارُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم عنقریب اپنے ربّ تعالیٰ کا دیدار کرو گے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم اپنے ربّ کا دیدار کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا دوپہر کے وقت سورج کو دیکھنے میں تمہیں کوئی دقت ہوتی ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا یہ بتاؤ کہ کیا چودھویں رات کے چاند کو دیکھنے میں تمہیں کوئی مشقت ہوتی ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح اللہ تعالیٰ کا دیدار کرنے میں بھی تمہیں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی، مگر اسی طرح کہ جتنی سورج اور چاند کو دیکھتے وقت دقت پیش آتی ہے۔ اعمش نے لا تضارون کا معنی لا تمارون کیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کا دیدار کرتے ہوئے دھکم پیل نہیں ہوگی۔
حدیث نمبر: 13340
وَعَنْ أَبِي رَزِينٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَكُلُّنَا يَرَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَا آيَةُ ذَلِكَ فِي خَلْقِهِ؟ قَالَ: ”يَا أَبَا رَزِينٍ! أَلَيْسَ كُلُّكُمْ يَرَى الْقَمَرَ مُخْلًى بِهِ?“ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ”فَاللَّهُ أَعْظَمُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو رزین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم سب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا دیدار کریں گے اور اس کی مخلوق میں اس کی کوئی مثال دی جا سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو رزین! کیا تم میں سے ہر کوئی اپنی اپنی جگہ سے چاندکو نہیں دیکھ لیتا؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تو اس سے عظیم ہے۔
حدیث نمبر: 13341
وَعَنْ صُهَيْبِ بْنِ سِنَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ نُودُوا: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! إِنَّ لَكُمْ مَوْعِدًا عِنْدَ اللَّهِ لَمْ تَرَوْهُ فَقَالُوا: وَمَا هُوَ؟ أَلَمْ تُبَيِّضْ وُجُوهَنَا وَتُزَحْزِحْنَا عَنِ النَّارِ وَتُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ وَفِي رِوَايَةٍ: أَلَمْ يُثَقِّلْ مَوَازِينَنَا وَيُعْطِنَا كُتُبَنَا بِأَيْمَانِنَا وَيُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ وَيُنَجِّنَا مِنَ النَّارِ قَالَ: فَيَكْشِفُ الْحِجَابَ وَفِي رِوَايَةٍ: فَيَتَجَلَّى اللَّهُ لَهُمْ فَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ فَوَاللَّهِ! مَا أَعْطَاهُمُ اللَّهُ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنْهُ وَفِي رِوَايَةٍ: مِنَ النَّظْرِ إِلَيْهِ“ ثُمَّ تَلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: {لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ} [يُونُس: 26]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اہل جنت، جنت میں داخل ہوجائیں گے تو ان کو یہ آواز دی جائے گی: اے اہل جنت! تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کا ایک وعدہ پورا ہونا باقی ہے، ابھی تک تم نے اسے نہیں دیکھا، وہ کہیں گے: اے اللہ! کیا تو نے ہمارے چہروں کو سفید کر کے اور جہنم سے محفوظ رکھ کر ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا، ایک روایت میں ہے: وہ کہیں گے: کیا اللہ نے ہمارے میزانوں کو بھاری نہیں کیا اور کیا ہمارے نامہ ہائے اعمال ہمارے دائیں ہاتھوں میں پکڑا کر ہمیں جہنم سے بچا کر جنت میں داخل نہیں کیا۔ اتنے میں وہ حجاب اٹھائے گا اور اللہ تعالیٰ ان کے سامنے جلوہ فرمائے گا اور وہ اس کا دیدار کریں گے، اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بہتر اور پسندیدہ کوئی چیز نہیں دی ہوگی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰی وَ زِیَادَۃٌ} (جو لوگ دنیا میں نیکوکار ہیں، ان کو ان کے اعمال کا اچھا بدلہ ملے گا اور مزید ایک نعمت بھی ملے گی۔ (سورۂ یونس: ۲۶)
وضاحت:
فوائد: … اس باب سے معلوم ہوا کہ اہل ایمان کو قیامت کے دن اپنے ربّ کی زیارت اور دیدار نصیب ہوگا،اور جس طرح سورج یا چودھویں رات کے چاند کے سامنے بادل نہ ہوں تو سورج اور چاند کو دیکھنے میں کچھ دقت و مشقت نہیں آتی ہر آدمی اپنی اپنی جگہ پر موجود رہتے ہوئے سورج اور چاند کو دیکھ لیتا ہے، اس طرح اللہ تعالیٰ کا دیدار کرنے میں بھی لوگوں کو دھکم پیل پیش نہیں آئے گی بلکہ ہر شخص اپنی اپنی جگہ پر ہی اللہ تعالیٰ ربّ العزت کے دیدار سے مشرف ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ہم کو ایسی موت نصیب فرمائے کہ جس کے بعد ہم حشر میں اپنے ربّ کا انتظار کریں اور کسی معبودِ باطل کے پیچھے نہ چلیں۔ (آمین)
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اَزْوَاجِہٖ وَ ذُرِّیِّتِہٖ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی آلِ اِبْرَاہِیْمَ
وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اَزْوَاجِہٖ وَ ذُرِّیِّتِہٖ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرِاہِیْمَ
اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لَلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
تاریخ تکمیل: سینچر وار، 5شوال 1435ھـ (2اگست 2014ئ)
مقام تکمیل: آبائی گاؤں کوٹ شیرا، ملتان خورد، ضلع چکوال (پاکستان)
لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ
اللہ تعالی ہی ہے جو خیر و بھلائی کے امور کو آسان کر دیتا ہے، اسی کی توفیق سے ہر نیکی کرنے کی طاقت اور ہر برائی سے بچنے کی قوت ملتی ہے، ہم اس موقع پر ربّ جلیل کا جوشکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں، قلوب و اذہان کے تصورات کو الفاظ شرمندۂ تعبیر نہیں کر سکتے، اگر سارا مال و متاع اس کے راستے میں وقف کر دیا جائے اور زبانیں اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا کہتے کہتے ساکن ہو جائیں، تو شاید اس کے ہزارویں حصے کا بھی حق ادا نہ ہو سکے۔ (تَقَبَّلَ اللّٰہُ مِنَّا جُھْدَنَا ھٰذَا وَ اَعَاذَنَا مِنَ الشَّرِّ الْعَاجِلِ وَالْآجِلِ)
اے ربّ شکور! گنہگاروں کی نیکیوں کے قدردان ربّ! وسیع و عریض رحمت والے ربّ! بخش دینے والے ربّ! اے وہ ربّ جلیل کہ جس کی رحمت اس کے غضب پہ غالب آگئی! اے وہ ربّ عظیم جو اپنے بندے کو بخشنے کے لیے اس کی نیکیوں کے ہونے اور برائیوں کے نہ ہونے کا محتاج نہیں ہے!
ہماری اس ادنی سی کاوش کو شرفِ قبولیت سے نواز دے اور اس محنت کو ہمارے لیے صدقہ جاریہ بنا دے۔ (آمین)
تیری رحمت کے سہارے ہمارا جو حصہ بنتا ہے، ہمیں اس سے کئی گنا زیادہ عطا فرما۔ (آمین)
اور اگر ہم اپنی خطاؤں کی وجہ سے اپنے حصے سے محروم قرار پائیں، تو ہمیں بلاسبب اپنی رحمت کا مستحق قرار دے، اے عزتیں دینے والے ربّ! (آمین)
الٰہی! ہمیں ریاکاری، نمودو نمائش اور تمام روحانی اور اخلاقی بیماریوں سے محفوظ فرما۔ (آمین)
الٰہی! ہمیں عزت والی زندگی عطا فرمایا اور ہمارے وطن اور عالم اسلام پر رحم فرما دے۔ (آمین)
اے ربّ کریم! ہمیں اپنے پیارے نبی کی سنتوں کا حقیقی خادم بنا دے۔ (آمین ثم آمین یا ربّ العالمین)
سُبْحَانَکَ اللَّہُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ،أَشْہَدُ أَنْ لا إِلَہَ إِلا أَنْتَ،أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ إِلَیْکَ
اللہ تعالیٰ ہم کو ایسی موت نصیب فرمائے کہ جس کے بعد ہم حشر میں اپنے ربّ کا انتظار کریں اور کسی معبودِ باطل کے پیچھے نہ چلیں۔ (آمین)
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اَزْوَاجِہٖ وَ ذُرِّیِّتِہٖ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی آلِ اِبْرَاہِیْمَ
وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اَزْوَاجِہٖ وَ ذُرِّیِّتِہٖ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرِاہِیْمَ
اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لَلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
تاریخ تکمیل: سینچر وار، 5شوال 1435ھـ (2اگست 2014ئ)
مقام تکمیل: آبائی گاؤں کوٹ شیرا، ملتان خورد، ضلع چکوال (پاکستان)
لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ
اللہ تعالی ہی ہے جو خیر و بھلائی کے امور کو آسان کر دیتا ہے، اسی کی توفیق سے ہر نیکی کرنے کی طاقت اور ہر برائی سے بچنے کی قوت ملتی ہے، ہم اس موقع پر ربّ جلیل کا جوشکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں، قلوب و اذہان کے تصورات کو الفاظ شرمندۂ تعبیر نہیں کر سکتے، اگر سارا مال و متاع اس کے راستے میں وقف کر دیا جائے اور زبانیں اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا کہتے کہتے ساکن ہو جائیں، تو شاید اس کے ہزارویں حصے کا بھی حق ادا نہ ہو سکے۔ (تَقَبَّلَ اللّٰہُ مِنَّا جُھْدَنَا ھٰذَا وَ اَعَاذَنَا مِنَ الشَّرِّ الْعَاجِلِ وَالْآجِلِ)
اے ربّ شکور! گنہگاروں کی نیکیوں کے قدردان ربّ! وسیع و عریض رحمت والے ربّ! بخش دینے والے ربّ! اے وہ ربّ جلیل کہ جس کی رحمت اس کے غضب پہ غالب آگئی! اے وہ ربّ عظیم جو اپنے بندے کو بخشنے کے لیے اس کی نیکیوں کے ہونے اور برائیوں کے نہ ہونے کا محتاج نہیں ہے!
ہماری اس ادنی سی کاوش کو شرفِ قبولیت سے نواز دے اور اس محنت کو ہمارے لیے صدقہ جاریہ بنا دے۔ (آمین)
تیری رحمت کے سہارے ہمارا جو حصہ بنتا ہے، ہمیں اس سے کئی گنا زیادہ عطا فرما۔ (آمین)
اور اگر ہم اپنی خطاؤں کی وجہ سے اپنے حصے سے محروم قرار پائیں، تو ہمیں بلاسبب اپنی رحمت کا مستحق قرار دے، اے عزتیں دینے والے ربّ! (آمین)
الٰہی! ہمیں ریاکاری، نمودو نمائش اور تمام روحانی اور اخلاقی بیماریوں سے محفوظ فرما۔ (آمین)
الٰہی! ہمیں عزت والی زندگی عطا فرمایا اور ہمارے وطن اور عالم اسلام پر رحم فرما دے۔ (آمین)
اے ربّ کریم! ہمیں اپنے پیارے نبی کی سنتوں کا حقیقی خادم بنا دے۔ (آمین ثم آمین یا ربّ العالمین)
سُبْحَانَکَ اللَّہُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ،أَشْہَدُ أَنْ لا إِلَہَ إِلا أَنْتَ،أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ إِلَیْکَ