کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: سب سے کم درجہ والے اور سب سے بلند درجہ والے جنتی کے انعامات کا بیان
حدیث نمبر: 13311
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ أَدْنَى مَقْعَدِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ أَنْ يَقُولَ تَمَنَّ وَيَتَمَنَّى فَيَقُولُ لَهُ هَلْ تَمَنَّيْتَ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيَقُولُ لَهُ فَإِنَّ لَكَ مَا تَمَنَّيْتَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو آدمی جنت میں سب سے کم درجہ والا ہو گا، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: تو جو کچھ مانگنا چاہتا ہے، اس کی تمنا کر، وہ آدمی تمناکرے گا، پھراللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: کیا تو نے تمنا کر لی ہے؟ وہ عرض کرے گا: جی ہاں، پھر اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: تو نے جو تمنا کی ہے، تجھے وہ کچھ بھی ملے گا اور اس جتنا مزید بھی۔
حدیث نمبر: 13312
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً لَيَنْظُرُ فِي مُلْكِهِ أَلْفَيْ سَنَةٍ يَرَى أَقْصَاهُ كَمَا يَرَى أَدْنَاهُ يَنْظُرُ فِي أَزْوَاجِهِ وَخَدَمِهِ وَإِنَّ أَفْضَلَهُمْ مَنْزِلَةً لَيَنْظُرُ فِي وَجْهِ اللَّهِ تَعَالَى كُلَّ يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اہل جنت میں سے سب سے کم مرتبے والا آدمی اپنے ملک میں دو ہزار سال کے عرصہ میں محض ایک بار نظر ڈال سکے گا، وہ دور والے مقامات کو بھی اسی طرح دیکھے گا جیسے قریب والی جگہ کو دیکھے گا، اسی طرح وہ اپنی بیویوں اور خادموں کو دیکھے گا اور اہل جنت میں سے اعلیٰ ترین درجے والا جنتی وہ ہو گا جو روزانہ دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کا دیدار کرے گا۔
حدیث نمبر: 13313
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً الَّذِي يَنْظُرُ إِلَى جِنَانِهِ وَنَعِيمِهِ وَخَدَمِهِ وَسُرُرِهِ مِنْ مَسِيرَةِ أَلْفِ سَنَةٍ إِنَّ أَكْرَمَهُمْ عَلَى اللَّهِ مَنْ يَنْظُرُ إِلَى وَجْهِهِ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً“ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اہل جنت میں سب سے کم درجہ والا جنتی ایک ہزار سال کی مسافت سے اپنے باغات، نعمتوں ، خادموں اور تختوں کودیکھے گا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ معزز وہ جنتی ہوگا جو ہر صبح شام کو اللہ تعالیٰ کا دیدار کرے گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ} (اس دن بہت سے چہرے پر رونق ہوں گے اور اپنے ربّ کا دیدار کر رہے ہوں گے۔) (سورۂ قیامہ: ۲۲،۲۳)
حدیث نمبر: 13314
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً مَنْ يَتَمَنَّى عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيُقَالُ لَكَ ذَلِكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ إِلَّا أَنَّهُ يُلَقَّنُ فَيُقَالُ لَهُ كَذَا وَكَذَا فَيُقَالُ لَكَ ذَلِكَ وَمِثْلُهُ“ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”فَيُقَالُ لَكَ ذَلِكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اہل جنت میں سب سے کم درجے والا شخص وہ ہو گا جو اللہ تعالیٰ پر تمنائیں کرے گا اور اس سے کہا جائے گا: یہ سب کچھ تیرے لیے ہے، بلکہ اتنا مزید بھی دیا جاتا ہے، پھر اسے یہ لقمہ دیا جائے گا کہ فلاں فلاں چیز بھی مانگ لے ۔ پھر اسے کہاجائے گا یہ سب کچھ تجھے دیا جاتا ہے اور اس کا ایک گنا مزید بھی عطا کیا جاتا ہے۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے کہا جائے گا کہ یہ سب کچھ تجھے دیا جا رہا ہے، بلکہ اس کے ساتھ اس کا دس گنا مزید بھی دیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 13315
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً أَنَّ لَهُ لَسَبْعَ دَرَجَاتٍ وَهُوَ عَلَى السَّادِسَةِ وَفَوْقَهُ السَّابِعَةُ وَإِنَّ لَهُ لَثَلَاثَمِائَةِ خَادِمٍ وَيُغْدَى عَلَيْهِ وَيُرَاحُ كُلَّ يَوْمٍ ثَلَاثَمِائَةِ صَحْفَةٍ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ مِنْ ذَهَبٍ فِي كُلِّ صَحْفَةٍ لَوْنٌ لَيْسَ فِي الْأُخْرَى وَإِنَّهُ لَيَلَذُّ أَوَّلَهُ كَمَا يَلَذُّ آخِرَهُ وَإِنَّهُ لَيَقُولُ يَا رَبِّ لَوْ أَذِنْتَ لِي لَأَطْعَمْتُ أَهْلَ الْجَنَّةِ وَلَسَقَيْتُهُمْ لَمْ يَنْقُصْ مِمَّا عِنْدِي شَيْءٌ وَإِنَّ لَهُ لَاثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ زَوْجَةً سِوَى أَزْوَاجِهِ مِنَ الدُّنْيَا وَإِنَّ الْوَاحِدَةَ مِنْهُمْ لَتَأْخُذُ مَقْعَدُهَا قَدْرَ مِيلٍ مِنَ الْأَرْضِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے کم مرتبے والے جنتی کے سات درجات ہوں گے، وہ چھٹے درجے پر ہو گا اور اس سے اوپر ساتواں ہوگا، اس کے تین سو خادم ہوں گے، صبح شام سونے کے تین سو برتن اس کے سامنے پیش کیے جائیں گے اور ہر برتن میں ایسا کھانا ہوگا جو دوسرے برتن میں نہیں ہوگا اور اس کا پہلا حصہ جتنا لذید ہو گا، اس کا آخری بھی اتنا ہی مزیدار ہو گا۔وہ کہے گا: اے میرے ربّ! اگر تو مجھے اجازت دے اور میں اہل جنت کو کھانا پیش کروں اور مشروبات پلاؤں، اس سے میری نعمتوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی، نیز اسے دنیا والی بیویوں کے علاوہ بہتر جنتی بیویاں ملیں گی، ان میں سے ایک ایک بیوی کے بیٹھنے کی جگہ ایک میل زمین کے برابر ہوں گی۔
وضاحت:
فوائد: … جنت میں اہل ِ جنت کے مراتب اور مختلف درجے ہوںگے، ان میں سے بعض بہت اعلیٰ درجات پر فائز ہوںگے، بعض ان سے نیچے اور بعض ان سے بھی نیچے ہوں گے، لیکن کسی کو اپنی کمی یا حقارت کا احساس نہیں ہوگا۔