کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: جنت کے بازار ، جنتی عورتوں کی صفات اور جنت میں موتی آنکھوں والی حوروں کے گاہنے کا بیان
حدیث نمبر: 13283
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ فِي الْجَنَّةِ سُوقًا مَا فِيهَا بَيْعٌ وَلَا شِرَاءٌ إِلَّا الصُّوَرُ مِنَ النِّسَاءِ وَالرِّجَالِ فَإِذَا اشْتَهَى الرَّجُلُ صُورَةً دَخَلَ فِيهَا وَإِنَّ فِيهَا لَمَجْمَعًا لِلْحُورِ الْعِينِ يَرْفَعْنَ أَصْوَاتًا لَمْ يَرَ الْخَلَائِقُ مِثْلَهَا يَقُلْنَ نَحْنُ الْخَالِدَاتُ فَلَا نَبِيدُ وَنَحْنُ الرَّاضِيَاتُ فَلَا نَسْخَطُ وَنَحْنُ النَّاعِمَاتُ فَلَا نَبْأَسُ فَطُوبَى لِمَنْ كَانَ لَنَا وَكُنَّا لَهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک بازار ہوگا، وہاں کوئی خرید و فروخت نہیں ہوگی، بلکہ وہاں تو صرف مردوں اور عورتوں کی تصاویر ہوں گی، جب کوئی مرد کسی تصویر کو پسند کرے گا، تو وہ اسی تصویر میں تبدیل ہوجائے گا اور جنت میں موٹی آنکھوں والی عورتوں حوروں کی ایک اجتماع گاہ ہو گی، وہ وہاں بلند آواز سے گائیں گی، مخلوقات ان جیسی نہیں دیکھیں، وہ یہ نغمہ گائیں گی:ہم ہمیشہ زندہ رہنی والی ہیں، ہم کبھی نہیں مریں گی، ہم راضی ہونے والی ہیں، کبھی ناراض نہیں ہوں گی، ہم خوشحال رہنی والی ہیں، کبھی بد حال نہیں ہوں گی، پس خوشخبری ہے ان کے لیے جو ہمارے لیے ہیں اور ہم ان کے لیے ہیں۔
حدیث نمبر: 13284
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ سُوقًا يَأْتُونَهَا كُلَّ جُمْعَةٍ فِيهَا كُثْبَانُ الْمِسْكِ فَإِذَا خَرَجُوا إِلَيْهَا هَبَّتِ الرِّيحُ وَفِي رِوَايَةٍ شِمَالٌ قَالَ فَتَمْلَأُ وُجُوهَهُمْ وَثِيَابَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ مِسْكًا فَيَزْدَادُونَ حُسْنًا وَجَمَالًا قَالَ فَيَأْتُونَ أَهْلِيهِمْ فَيَقُولُونَ لَقَدِ ازْدَدْتُمْ بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالًا وَيَقُولُونَ لَهُنَّ وَأَنْتُمْ قَدِ ازْدَدْتُمْ بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالًا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں اہلِ جنت کا ایک بازار ہوگا، وہ وہاں ہر ہفتہ کو جایا کریں گے، اس میں کستوری کے اونچے اونچے ڈھیر ہوں گے، جب وہ اس بازار کی طرف نکلیں گے تو شمال کی جانب سے ہوا چلے گی اور وہ ان کے چہروں ،کپڑوں اور گھروں کو کستوری سے بھر دے گی اور اس سے ان کے حسن و جمال میں اضافہ ہو گا، وہ جب لوٹ کر اپنے گھر والوں کے پاس جائیں گے تو گھر والے ان سے کہیں گے کہ ہمارے پاس سے جانے کے بعد تمہارا حسن و جمال بہت زیادہ ہو چکا ہے اور وہ کہیں گے کہ ہمارے بعد تمہارے حسن و جمال میں بھی بہت اضافہ ہوچکا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … پہلے حسن میں کون سی کمی ہو گی، بس اللہ تعالیٰ فرحت و مسرت کے مزید اسباب پیدا کرتا رہے گا۔
حدیث نمبر: 13285
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَوِ اطَّلَعَتْ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَى الْأَرْضِ لَمَلَأَتْ مَا بَيْنَهُمَا رِيحًا وَلَطَابَ مَا بَيْنَهُمَا وَلَنَصِيفُهَا عَلَى رَأْسِهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ا نس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اہل جنت کی بیویوں میں سے ایک خاتون زمین کی طرف جھانک جائے تو اس کی خوشبو سے زمین و آسمان کے درمیان والا خلا بھر جائے اور ان دونوں کے درمیان والی ہر چیز معطر ہو جائے، اس کے سر کا ایک دوپٹہ دنیا وما فیہا سے بڑھ کر ہے۔
حدیث نمبر: 13286
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لِلرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ زَوْجَتَانِ مِنْ حُورِ الْعِينِ عَلَى كُلِّ وَاحِدَةٍ سَبْعُونَ حُلَّةً يُرَى مُخُّ سَاقِهَا وَرَاءَ الثِّيَابِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: موٹھی آنکھوں والی حوروں میں سے ہر جنتی کی دو دو بیویاں ہوں گی، ہر ایک کے جسم پر ستر ستر لباس ہوں گے، (لیکن نزاکت اور شفافیت کا یہ عالَم ہو گا کہ) ان کپڑوں کے پیچھے سے ان کی ران کا مغز دکھائی دے رہا ہوگا۔
حدیث نمبر: 13287
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَّكِئُ فِي الْجَنَّةِ سَبْعِينَ سَنَةً قَبْلَ أَنْ يَتَحَوَّلَ ثُمَّ تَأْتِيهِ امْرَأَتُهُ فَتَضْرِبُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ فَيَنْظُرُ وَجْهَهَا فِي خَدِّهَا أَصْفَى مِنَ الْمَرْأَةِ وَإِنَّ أَدْنَى لُؤْلُؤَةٍ عَلَيْهَا تُضِيءُ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ فَتُسَلِّمُ عَلَيْهِ قَالَ: فَيَرُدُّ السَّلَامَ وَيَسْأَلُهَا مَنْ أَنْتِ؟ وَتَقُولُ: أَنَا مِنَ الْمَزِيدِ وَإِنَّهُ لَيَكُونُ عَلَيْهَا سَبْعُونَ ثَوْبًا أَدْنَاهَا مِثْلُ النُّعْمَانِ مِنْ طُوبَى فَيَنْفُذُهَا بَصَرُهُ حَتَّى يَرَى مُخَّ سَاقِهَا مِنْ وَرَاءِ ذَلِكَ وَإِنَّ عَلَيْهَا مِنَ التِّيجَانِ إِنَّ أَدْنَى لُؤْلُؤَةٍ عَلَيْهَا لَتُضِيءُ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک آدمی ستر سال تک جگہ تبدیل کیے بغیر ایک مقام میں بیٹھا رہے گا، اس کے بعد اس کی بیوی اس کے پاس آکر اس کے کندھوں پرہاتھ رکھے گی، اسے اس بیوی کے رخساروں میں اپنا چہرہ نظر آئے گا، بیوی کا چہرہ آئینے سے بھی زیادہ شفاف ہوگا، اس کے جسم پر لگے ہوئے موتیوں میں سب سے کم تر موتی اس قدر خوبصورت ہوگا کہ وہ مشرق و مغرب کے درمیان کا علاقہ روشن کر دے گا، وہ اپنے شوہر کو سلام کہے گی اور وہ اسے سلام کا جواب دے گا اور اس سے پوچھے گا کہ تم کون ہو؟ وہ جواب دے گی: میں تمہارے لیے مزید نعمتوں میں سے ہوں، اس کے جسم پر ستر لباس ہوں گے، ان میں ہلکے سے ہلکا لباس طوبیٰ کے پہاڑ کے گل لالہ جیسا ہوگا، اس کی نظر ان تمام لباسوں کو پارکر کے اس کی پنڈلی کے گودے تک کو دیکھ رہی ہوگی، اس کے اوپرکئی تاج ہوں گے، ان تاجوں پر ٹانکا ہوا کم تر موتی اس قدر خوبصورت ہو گا کہ شرق و غرب کے درمیان خلا کو روشن کر دے گا۔
وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {لَہُمْ مَا یَشَائُ وْنَ فِیْہَا وَلَدَیْنَا مَزِیْدٌ} … جنتی جنت میں جو چاہیں گے انہیں ملے گا، اس کے علاوہ بھی ہمارے پاس بہت کچھ ہے۔ (سورۂ ق: ۳۵)