حدیث نمبر: 13276
عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ الْحَوْضِ وَذَكَرَ الْجَنَّةَ ثُمَّ قَالَ الْأَعْرَابِيُّ: فِيهَا فَاكِهَةٌ؟ قَالَ: ”نَعَمْ وَفِيهَا شَجَرَةٌ تُدْعَى طُوبَى“ فَذَكَرَ شَيْئًا لَا أَدْرِي مَا هُوَ قَالَ: أَيُّ شَجَرِ أَرْضِنَا تُشْبِهُ؟ قَالَ: ”لَيْسَتْ تُشْبِهُ شَيْئًا مِنْ شَجَرِ أَرْضِكَ“ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”أَتَيْتَ الشَّامَ؟“ فَقَالَ: لَا قَالَ: ”تُشْبِهُ شَجَرَةً بِالشَّامِ تُدْعَى الْجَوْزَةَ تَنْبُتُ عَلَى سَاقٍ وَاحِدٍ يَنْفَرِشُ أَعْلَاهَا“ قَالَ: مَا عِظَمُ أَصْلِهَا؟ قَالَ: ”لَوِ ارْتَحَلَتْ جَذْعَةٌ مِنْ إِبِلِ أَهْلِكَ مَا أَحَاطَتْ بِأَصْلِهَا حَتَّى تَنْكَسِرَ تَرْقُوَتُهَا هَرِمًا“ قَالَ: فِيهَا عِنَبٌ؟ قَالَ: ”نَعَمْ“ قَالَ: فَمَا عِظَمُ الْعُنْقُودِ؟ قَالَ: ”مَسِيرَةُ شَهْرٍ لِلْغُرَابِ الْأَبْقَعِ وَلَا يَفْتُرُ“ قَالَ: فَمَا عِظَمُ الْحَبَّةِ؟ قَالَ: ”هَلْ ذَبَحَ أَبُوكَ تَيْسًا مِنْ غَنَمِهِ قَطُّ عَظِيمًا؟“ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: ”فَسَلَخَ إِهَابَهُ فَأَعْطَاهُ أُمَّكَ قَالَ: اتَّخِذِي لَنَا مِنْهُ دَلْوًا؟“ قَالَ: نَعَمْ قَالَ الْأَعْرَابِيُّ: فَإِنَّ تِلْكَ الْحَبَّةَ لَتُشْبِعُنِي وَأَهْلَ بَيْتِي قَالَ: ”نَعَمْ وَعَامَّةَ عَشِيرَتِكَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عتبہ بن عبدسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بدّو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور حوض کے بارے میں پوچھا اور جنت کا ذکر کیا، پھر اس بدّو نے پوچھا: آیا جنت میں پھل ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، اس میں ایک طوبی نامی درخت ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اور بات ذکر کی جو مجھے یاد نہیں رہی، اس نے پوچھا: وہ درخت ہماری اس زمین کے کس درخت کے مشابہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ اس زمین کے کسی درخت جیسا نہیں ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: کیا تم شام کے علاقے میں گئے ہو؟ اس نے کہا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شام میں جوزہ نامی ایک درخت ہوتا ہے، وہ ایک ہی تنا پر اگتا ہے، البتہ اوپر جا کر پھیل جاتا ہے۔ اس بدّو نے پوچھا: اس کاتنا کتنا بڑا ہوگا؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے اونٹوں میں سے ایک نوجوان اونٹ اس کے گرد چکر کاٹنے لگے تو چکر کاٹتے کاٹتے وہ بوڑھا ہو کر مرجائے گا، مگر اس درخت کے تنے کے گرد چکر پورا نہیں کر سکے گا۔ اس نے پوچھا: کیا وہاں انگور ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے پوچھا: انگوروں کا ایک گچھا کتنا بڑا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر سفید کوا ایک ماہ تک کوئی لچک پیدا کیے بغیر مسلسل پرواز کرتا رہے تو اس کے دوسرے کنارے تک نہیں پہنچ پائے گا۔ اس نے پوچھا: وہاں کے غلے کا ایک دانہ کس قدر بڑا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے والد نے بکریوں کے ریوڑ میں سے کوئی بڑا بکرا کبھی ذبح کیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر اس نے اس کا چمڑا اتار کر تمہاری والدہ کو دیا ہے کہ وہ اس سے ایک ڈول تیار کر لے؟(بس اسی کو دانے کی مثال سمجھ لیں) اس نے کہا: جی ہاں۔ بدّو نے کہا: تب تو غلے کا ایک دانہ میرے اور میرے اہل خانہ کے لیے کافی ہو جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی بالکل، بلکہ تمہارے خاندان کے عام افراد کے لیے بھی کافی ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … جذعہ: اونٹ کا وہ بچہ جس کی عمر کا پانچواں سال شروع ہو چکا ہو، نوجوان اونٹ سے یہی جذعہ مراد ہے۔
حدیث نمبر: 13277
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ طُوبَى لِمَنْ رَآكَ وَآمَنَ بِكَ قَالَ: ”طُوبَى لِمَنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي ثُمَّ طُوبَى ثُمَّ طُوبَى ثُمَّ طُوبَى لِمَنْ آمَنَ وَلَمْ يَرَنِي“ قَالَ لَهُ رَجُلٌ: وَمَا طُوبَى؟ قَالَ: ”شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ مَسِيرَةُ مِائَةِ عَامٍ ثِيَابُ أَهْلِ الْجَنَّةِ تَخْرُجُ مِنْ أَكْمَامِهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ان لوگوں کے لیے طوبیٰ ہے، جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیدار کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی واقعی جن لوگوں نے میری زیارت کی اورمجھ پر ایمان لائے ان کے لیے طوبیٰ ہے، لیکن جو لوگ مجھے دیکھے بغیر مجھ پر ایمان لائے، ان کے لیے طوبی ہے، طوبی ہے، طوبی ہے۔ اس آدمی نے کہا: بھلا طوبیٰ ہے کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ جنت میں ایک درخت کا نام ہے اور یہ سو سال کی مسافت جتنا ہے، اس کی کلیوں کے غلافوں سے جنتی لوگوں کا لباس تیار کیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 13278
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ الْجَوَّادُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ سَنَةٍ وَإِنَّ وَرَقَهَا لَيَخْمُرُ الْجَنَّةَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک درخت ہے، تیز رفتار گھوڑ سوار سو سال تک اس کے سائے میں چلتا رہتا ہے، اس کا ایک پتہ پورے باغ کو ڈھانپ لیتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((فِیْ الْجَنَّۃِ شَجَرَۃٌ یَسِیْرُ الرَّاکِبُ فِیْ ظِلِّھَا مِئَۃَ سَنَۃٍ، لَا یَقْطَعُھَا۔)) … جنت میں ایک درخت ہے، اونٹ سوار اس کے سائے میں سو برس تک چلے گا، لیکن پھر بھی اس سے پار نہیں ہو سکے گا۔ (صحیح بخاری: ۴۸۸۱، صحیح مسلم: ۲۸۲۶)
حدیث نمبر: 13279
وَلَهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ وَزَادَ فَاقْرَأُوا إِنْ شِئْتُمْ {وَظِلٍّ مَمْدُودٍ} قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”وَمَوْضِعُ سَوْطِ أَحَدِكُمْ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا“ وَقَرَأَ {فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اس میں یہ اضافہ ہے: اگر چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو: {وَّظِلٍّ مَّمْدُوْد} (اور وہ لمبے لمبے سایوں میں ہوں گے) (سورۂ واقعہ: ۳۰)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں تمہاری ایک لاٹھی کے برابر جگہ دنیا اور وما فیہا سے بڑھ کر ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: {فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ وَ مَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ} (پس جسے آگ سے بچا کر جنت میں داخل کر دیاگیا تو وہ یقینا کامیاب ہوگیا اور (یاد رکھو کہ) دنیا کی زندگی دھوکے کے سامان کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔ (سورۂ آل عمران: ۱۸۵)
حدیث نمبر: 13280
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا سَبْعِينَ أَوْ مِائَةَ سَنَةٍ هِيَ شَجَرَةُ الْخُلْدِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک درخت اس قدر بڑا ہے کہ ایک اونٹ سوار ستر یا سو برس تک اس کے سائے میں چل سکتا ہے، وہ شَجَرَۃُ الْخُلْد (دائمی درخت) ہے۔
حدیث نمبر: 13281
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ طَيْرَ الْجَنَّةِ كَأَمْثَالِ الْبُخْتِ تَرْعَى فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ“ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذِهِ لَطَيْرٌ نَاعِمَةٌ فَقَالَ ”أَكَلَتُهَا أَنْعَمُ مِنْهَا قَالَهَا ثَلَاثًا وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِمَّنْ يَأْكُلُ مِنْهَا يَا أَبَا بَكْرٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت کے پرندے بختی اونٹوں جیسے ہوں گے، وہ جنت میں اڑتے پھرتے چرتے رہتے ہیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ پرندے تو بڑے عمدہ ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار فرمایا: ان کو کھانے والے ان سے بھی بہتر اور افضل ہوں گے، اور ابو بکر! مجھے امید ہے کہ تم بھی ان کو کھانے والوں میں سے ہوگے۔
حدیث نمبر: 13282
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”فِي الْجَنَّةِ بَحْرُ اللَّبَنِ وَبَحْرُ الْمَاءِ وَبَحْرُ الْعَسَلِ وَبَحْرُ الْخَمْرِ ثُمَّ تَشَقَّقُ الْأَنْهَارُ مِنْهَا بَعْدَهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں دودھ کا سمندر ہو گا، پانی کا سمندر ہو گا، شہد کا سمندر ہو گا اور شراب کا سمندر ہو گا، پھر ان سے نہریں نکل رہی ہوں گی۔
وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {مَثَلُ الْجَنَّۃِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ فِیْہَآ اَنْہٰرٌ مِّنْ مَّاء ٍ غَیْرِ اٰسِنٍ وَاَنْہٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُہُ وَاَنْہٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّۃٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ وَاَنْہٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّی وَلَہُمْ فِیْہَا مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ وَمَغْفِرَۃٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ کَمَنْ ہُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَسُقُوْا مَائً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَائَ ہُمْ} … اس جنت کا حال جس کا وعدہ متقی لوگوں سے کیا گیا ہے، یہ ہے کہ اس میں کئی نہریں ایسے پانی کی ہیں جوبگڑنے والا نہیں اور کئی نہریں دودھ کی ہیں، جس کا ذائقہ نہیں بدلا اور کئی نہریں شراب کی ہیں، جو پینے والوں کے لیے لذیذ ہے اور کئی نہریں خوب صاف کیے ہوئے شہد کی ہیں اور ان کے لیے اس میں ہر قسم کے پھل اور ان کے رب کی طرف سے بڑی بخشش ہے۔ (کیا یہ متقی لوگ) ان جیسے ہیں جو ہمیشہ آگ میں رہنے والے ہیں اور جنھیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا، تو وہ ان کی انتڑیاں ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔ (سورۂ محمد: ۱۵)
اس فصل کی احادیث سے معلوم ہوا کہ جنت کے درخت ہوں گے تو درخت ہی، مگر ان کی کیفیت، خوبصورتی اور طول و بلندی انسان کے وہم و گمان میںنہیں آسکتی، ایک درخت کا سایہ اس قدر طویل ہوگا کہ تیز رفتار سوار ایک سو سال میں بھی اس کے سایہ کو طے نہیں کر سکے گا۔
اس فصل کی احادیث سے معلوم ہوا کہ جنت کے درخت ہوں گے تو درخت ہی، مگر ان کی کیفیت، خوبصورتی اور طول و بلندی انسان کے وہم و گمان میںنہیں آسکتی، ایک درخت کا سایہ اس قدر طویل ہوگا کہ تیز رفتار سوار ایک سو سال میں بھی اس کے سایہ کو طے نہیں کر سکے گا۔