کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: جنت کی عمارت، مٹی، کمروں اور خیموں کا تذکرہ
حدیث نمبر: 13269
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنَا عَنِ الْجَنَّةِ مَا بِنَاؤُهَا قَالَ: ”لَبِنَةُ ذَهَبٍ وَلَبِنَةُ فِضَّةٍ وَمِلَاطُهَا الْمِسْكُ الْأَذْفَرُ وَحَصْبَاؤُهَا اللُّؤْلُؤُ وَالْيَاقُوتُ وَتُرَابُهَا الزَّعْفَرَانُ مَنْ يَدْخُلُهَا يَنْعَمُ وَلَا يَبْأَسُ وَيَخْلُدُ وَلَا يَمُوتُ وَلَا تَبْلَى ثِيَابُهُ وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے کہا اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں جنت کے بارے میں بتلائیں کہ اس کی عمارت کیسی ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک اینٹ سونے کی اور ایک اینٹ چاندی کی ہو گی، اس کا گارا انتہائی تیز مہکنے والی کستور ی کا اور اس کے کنکر لولو اور یاقوت کے موتی ہوں گے اور اس کی مٹی زعفران ہوگی، جوآدمی جنت میں داخل ہوجائے گا، وہ خوشحال ہو گا، کبھی بدحال نہیں ہو گا، وہ وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا، اسے موت نہیں آئے گی، اس کا لباس بوسیدہ نہیں ہو گا اور اس کا شباب زائل نہیں ہوگا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13269
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح بطرقه وشواهده، أخرجه الترمذي: 2526، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8043 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8030»
حدیث نمبر: 13270
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ ابْنَ صَائِدٍ عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ فَقَالَ: دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ مِسْكٌ خَالِصٌ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”صَدَقَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن صائد سے جنت کی مٹی کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا: وہ سفید رنگ کی ملائم مٹی اور خالص کستوری والی ہے۔ یہ سن کرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13270
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه 2928مسلم: ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11002 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11015»
حدیث نمبر: 13271
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلْيَهُودِ: ”إِنِّي سَائِلُهُمْ عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ وَهِيَ دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ“ فَسَأَلَهُمْ فَقَالُوا: هِيَ خُبْزَةٌ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”الْخُبْزَةُ مِنَ الدَّرْمَكِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودکے بارے میں فرمایا: میں ان سے جنت کی مٹی کے بارے میں دریافت کرتا ہوں جو کہ سفید رنگ کی ملائم مٹی ہے۔ پھر ان سے سوال کیا، انھوں نے کہا: اے ابو القاسم! وہ روٹی کی طرح ہوگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روٹی بھی سفید آٹے کی ہی ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13271
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه الترمذي: 3327 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14883 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14944»
حدیث نمبر: 13272
وَعَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَرَاءَوْنَ الْغُرْفَةَ فِي الْجَنَّةِ كَمَا تَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ فِي السَّمَاءِ“ قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِذَلِكَ النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ فَقَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ: كَمَا تَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ فِي الْأُفُقِ الشَّرَقِيِّ أَوِ الْغَرْبِيِّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت والے ہر جگہ سے اپنے کمروں کو یوں دیکھیں گے، جیسے تم آسمان پر ستاروں کو دیکھتے ہو۔ ابو حازم نے کہا: میں نے حدیث نعمان بن ابی عیاش کو بیان کی، انھوں نے کہا کہ اس نے بھی سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو یہی حدیث بیان کرتے ہوئے یوں سنا ہے: جس طرح تم مشرقی یا مغربی افق پر دمکتے ہوئے تارے کو دیکھتے ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13272
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3256، ومسلم: 2830، 2831، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22876 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23264»
حدیث نمبر: 13273
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَغُرَفًا يُرَى بُطُونُهَا مِنْ ظُهُورِهَا وَظُهُورُهَا مِنْ بُطُونِهَا“ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَنْ هِيَ؟ قَالَ: ”لِمَنْ أَطَابَ الْكَلَامَ وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ وَصَلَّى لِلَّهِ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایسے بالا خانے ہیں کہ باہر سے ان کے اندر کاماحول اور اندر سے ان کے باہر کا ماحول دیکھا جاسکے گا۔ ایک بدّو نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! یہ بالاخانے کن لوگوں کے لیے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اچھی بات کرے، دوسروں کو کھانا کھلائے اور جب رات کو عام لوگ سوئے ہوئے ہوں تو وہ اٹھ کر اللہ تعالیٰ کے لیے نماز ادا کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13273
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه الترمذي: 1984، 2527، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1338 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1338»
حدیث نمبر: 13274
وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِيهِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”الْخَيْمَةُ دُرَّةٌ مُجَوَّفَةٌ طُولُهَا فِي السَّمَاءِ سِتُّونَ مِيلًا فِي كُلِّ زَاوِيَةٍ مِنْهَا لِلْمُؤْمِنِ أَهْلٌ لَا يَرَاهُمُ الْآخَرُونَ“ وَرُبَمَا قَالَ عَفَّانُ: لِكُلِّ زَاوِيَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت کا ایک خیمہ بہت بڑا موتی ہوگا، وہ اندر سے خالی ہوگا، اس کی بلندی ساٹھ میل ہوگی، اس کے ہر کونے میں مومن کا اہل خانہ ہو گا، لیکن (وہ دوری کی وجہ سے) ایک دوسرے کو دیکھ نہیں پائیں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13274
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3243، ومسلم: 2838 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19576 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19805»
حدیث نمبر: 13275
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”مَا بَيْنَ مِصْرَاعَيْنِ فِي الْجَنَّةِ كَمَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ سَنَةً“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت کے دروازے کے دو پٹوں میں چالیس سال کی مسافت جتنی وسعت ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: … اس فصل کی احادیث سے معلوم ہوا کہ جنت اور جنت کی نعمتیں اس قد رخوبصورت، دل آویز، خوشنما اور قیمتی ہوں گی کہ دنیا میں ان کا تصور ہی محال ہے، جنت کی عمارات اور مکانات کی ایک اینٹ سونے کی اور ایک اینٹ چاندی کی ہوگی، ان میں اعلیٰ قسم کی کستوری کو گارے کے طور پر استعمال کیا جائے گا، وہاں انتہائی قیمتی موتی اور یاقوت کنکر کی مانند ہوں گے اور مٹی کے طور پر زعفران ہوگا، وہاں کسی قسم کا غم و اندوہ نہیں ہوگا، ہمیشہ کی زندگی ہوگی، کسی کو موت نہیں آئے گی، لباس پرانا یا بوسیدہ نہیں ہو گا، بھر پور شباب رہے گا، جو کبھی زائل نہیں ہوگا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13275
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابويعلي: 1275، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11239 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11259»