حدیث نمبر: 13261
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَيْنَ أَبِي؟ قَالَ: ”فِي النَّارِ“ قَالَ: فَلَمَّا رَأَى مَا فِي وَجْهِهِ قَالَ: ”إِنَّ أَبِي وَأَبَاكَ فِي النَّارِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: میرا والد کہاں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم میں۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے چہرے پر غم کے آثار دیکھے تو فرمایا: میرا باپ اور تیرا باپ دونوں جہنم میں ہیں۔
حدیث نمبر: 13262
وَعَنْ أَبِي رَزِينٍ لَقِيطِ بْنِ عَامِرِ بْنِ الْمُنْتَفِقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ أُمِّي؟ قَالَ: ”أُمُّكَ فِي النَّارِ“ قَالَ: قُلْتُ: فَأَيْنَ مَنْ مَضَى مِنْ أَهْلِي؟ قَالَ: ”أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ أُمُّكَ مَعَ أُمِّي“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا لقیط بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:اے اللہ کے رسول! میری والدہ کہاں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم میں۔ میں نے کہا: تو پھر آپ کے جو رشتہ دار قبل از اسلام فوت ہوچکے ہیں، وہ کہاں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اس بات پر راضی ہو جائے گا کہ تیری ماں میری ماں کے ساتھ ہو۔
حدیث نمبر: 13263
وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَزَا غَزْوَةَ الْفَتْحِ فَخَرَجَ يَمْشِي إِلَى الْقُبُورِ حَتَّى إِذَا أَتَى إِلَى أَدْنَاهَا جَلَسَ إِلَيْهِ كَأَنَّهُ يُكَلِّمُ إِنْسَانًا جَالِسًا يَبْكِي قَالَ: فَاسْتَقْبَلَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: مَا يُبْكِيكَ جَعَلَنِيَ اللَّهُ فِدَاكَ؟ قَالَ: ”سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَأْذَنَ لِي فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّ مُحَمَّدٍ فَأَذِنَ لِي فَسَأَلْتُهُ أَنْ يَأْذَنَ لِي فَأَسْتَغْفِرَ لَهَا فَأَبَى إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِي أَنْ تَمَسَّكُوا بَعْدَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فَكُلُوا مَا بَدَا لَكُمْ وَعَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَمَنْ شَاءَ فَلْيَزُرْ فَقَدْ أَذِنَ لِي فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّ مُحَمَّدٍ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَدَعْ وَعَنِ الظُّرُوفِ تَشْرَبُونَ فِيهَا الدُّبَّاءَ وَالْحَنْتَمَ وَالْمُزَفَّتَ وَأَمَرْتُكُمْ بِظُرُوفٍ وَإِنَّ الْوِعَاءَ لَا يُحِلُّ شَيْئًا وَلَا يُحَرِّمُهُ فَاجْتَنِبُوا كُلَّ مُسْكِرٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ سے فارغ ہو کر قبرستان کی طرف تشریف لے گئے اور اس کی قریب والی طرف میں جا کر بیٹھ گئے، یوں محسوس ہو رہا تھا کہ آپ کسی انسان کے ساتھ باتیں کر رہے ہیں، جبکہ آپ رو بھی رہے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ کے سامنے آئے اور کہا: اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے، آپ کیوں رو رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا: میں نے اپنے ربّ سے اپنی ماں کی قبر کی زیارت کی اجازت طلب کی، اللہ تعالیٰ نے مجھے اس چیز کی تو اجازت دے دی، لیکن جب میں نے اس سے والدہ کے حق میں دعائے مغفرت کی اجازت طلب کی، تو اس نے اس کی اجازت نہیں دی، میں نے تمہیں تین کاموں سے منع کیا تھا، ایک یہ کہ تم تین دنوں کے بعد قربانیوں کے گوشت نہیں کھا سکتے، اب تمہیں اجازت ہے جب تک چاہو کھا سکتے ہو، دوسرا میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا، اب جو آدمی قبرستان جانا چاہے، جا سکتا ہے، مجھے بھی اپنی والدہ کی قبر پر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے،ہاں جو آدمی قبرستان نہ جانا چاہتا ہو، وہ بے شک نہ جائے، اور تیسرا کہ میں نے تمہیں کدو، سبز مٹکے اور تارکول لگے برتن کو استعمال کرنے سے منع کیا تھا اور باقی برتنوں کو استعمال کرنے کی اجازت دی تھی، اب یہ حکم ہے کہ برتن تو کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں کرتا، لہذا تم سارے برتن استعمال کر سکتے ہو، البتہ ہر نشہ آور چیز سے پرہیز کرو۔
حدیث نمبر: 13264
وَعَنْهُ أَيْضًا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَ بِنَا وَنَحْنُ مَعَهُ قَرِيبٌ مِنْ أَلْفِ رَاكِبٍ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ فَقَامَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَفَدَاهُ بِالْأَبِ وَالْأُمِّ يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ؟ قَالَ: ”إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي الِاسْتِغْفَارِ لِأُمِّي فَلَمْ يَأْذَنْ فَدَمَعَتْ عَيْنَايَ رَحْمَةً لَهَا مِنَ النَّارِ وَإِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ“ فَذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، دوران سفر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مقام پر ٹھہرے، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم ایک ہزار کے قریب سوار تھے، آپ نے دو رکعت نماز ادا کی۔، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا رخ ہماری طرف پھیرا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ اٹھ کر آپ کی طرف گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول!میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ کے رونے کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے ربّ سے اپنی والدہ کے حق میں دعائے مغفرت کرنے کی اجازت طلب کی، لیکن اس نے مجھے اس کی اجازت نہیں دی، اس لیے ان کے جہنم میں جانے پر مجھے ان پر ترس آیا اور میں رونے لگ گیا۔ میں نے تمہیں تین کاموں سے منع کیا تھا، ایک قبروں کی زیارت سے، … ۔ اس سے آگے گزشتہ حدیث کی مانند ہی ذکر کیا۔
وضاحت:
فوائد: … ہر مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرتا ہے، اس محبت کے شرعی تقاضے بھی ہیں اور طبعی تقاضے بھی، ایک طبعی تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والدین کا مقام و مرتبہ بلند ہو، لیکن شرعی تقاضوں کو طبعی تقاضوں پر غالب کرنا پڑتا ہے، بہرحال آپ درج بالا احادیث اور درج مثالوں پر غور کریں۔
نوح علیہ السلام کا بیٹا اور بیوی کافر تھے، لوط علیہ السلام کی بیوی کافر تھی، ابراہیم علیہ السلام کا والد کافر تھا، فرعون کی بیوی سیدہ آسیہ عظیم مسلم خاتون تھی۔
دراصل نبوت و رسالت کی یہ خصوصیت نہیں کہ نبی کے متعلقہ لوگ بھی صاحب ِ ایمان ہوں۔
نوح علیہ السلام کا بیٹا اور بیوی کافر تھے، لوط علیہ السلام کی بیوی کافر تھی، ابراہیم علیہ السلام کا والد کافر تھا، فرعون کی بیوی سیدہ آسیہ عظیم مسلم خاتون تھی۔
دراصل نبوت و رسالت کی یہ خصوصیت نہیں کہ نبی کے متعلقہ لوگ بھی صاحب ِ ایمان ہوں۔