کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اس امر کا بیان کہ ہر بچہ فطرت ِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، نیز پیدا ہونے والے ہر بچے کو شیطان کے چو کا دینے کا بیان
حدیث نمبر: 13251
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ ثُمَّ يَقُولُ وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ {فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ}“ [الروم: 30]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پیدا ہونے والا ہر بچہ دینِ فطرت یعنی دین اسلام پر پیدا ہوتا ہے، بعد میں اس کے والدین اسے یہودی یا عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں،یہ بات بالکل ایسے ہی ہے جیسے جانور کا بچہ سالم پیدا ہوتا ہے، کیا تم ان میں سے کسی کا کان کٹا ہوا دیکھتے ہو؟اگراس بات کی تصدیق چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو: {فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَالنَّاسَ عَلَیْھَا لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ } (اللہ تعالیٰ کی فطرت کو یعنی اس کے اس دین کو اختیار کرو، جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، کسی کو اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں تبدیلی کا حق حاصل نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 13252
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ مِثْلَ الْأَنْعَامِ تُنْتَجُ صِحَاحًا فَتُكْوَى آذَانُهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پیدا ہونے والا ہر بچہ فطرت یعنی دینِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، بعد میں اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں، یہ بات ایسے ہی ہے جیسے چوپائے صحیح سالم پیدا ہوتے ہیں، بعد میں ان کے کانوں کو داغ دیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 13253
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ حَتَّى يُعْرِبَ عَنْهُ لِسَانُهُ فَإِذَا أَعْرَبَ عَنْهُ لِسَانُهُ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پیدا ہونے والا ہر بچہ فطرت یعنی دینِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، یہاں تک کہ اس کی زبان اس کی طرف سے وضاحت کرنا شروع کر دے، اور جب ایسے ہوتا ہے توپھر پتہ چلتا ہے کہ اب وہ شکر گزار مسلمان ہے یا ناشکرا کافر۔
حدیث نمبر: 13254
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”كُلُّ بَنِي آدَمَ يَطْعَنُ الشَّيْطَانُ بِإِصْبَعِهِ فِي جَنْبِهِ حِينَ يُولَدُ إِلَّا عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ ذَهَبَ يَطْعَنُ فَطَعَنَ فِي الْحِجَابِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنو آدم کے ہر بچے کو پیدائش کے وقت شیطان اپنی انگلی سے چوکا لگاتا ہے، ما سوائے عیسی بن مریم کے، شیطان چوکا لگانے کے لیے گیا تو تھا، لیکن پردے میں چوکا لگا کر واپس آ گیا۔
وضاحت:
فوائد: … پردے سے مراد وہ جھلی ہے، جس میں بچہ رحمِ مادر میں لپٹا ہوا ہوتا ہے اور بوقت ِ ولادت بچہ کے ساتھ نکلتی ہے۔
شیطان یہ چوکا لگا کر بچے پر اپنے تسلّط کا آغاز کرتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی ماں کی اس سے حفاظت کی، یہ ان کی ماں کی دعا کی برکت تھی، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ثابت ہوتا ہے: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا مِنْ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ اِلَّا نَخَسَہُ الشَّیْطَانُ فَیَسْتَھِلُّ صَارِخًا مِنْ نَخْسَۃِ الشَّیْطَانِ اِلَّا ابْنَ مَرْیَمَ وَاُمَّہُ۔)) قَالَ اَبُوْھُرَیْرَۃَ: اِقْرَئُ وْا اِنْ شِئْتُمْ {اِنِّیْ اُعِیْذُھَا بِکَ وَذُرِّیَّتَھَا مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔} … نہیں ہے کوئی بچہ جو پیدا ہوتا ہے، مگر شیطان اس کو چوکا لگاتا ہے، وہ شیطان کے اس چوکے کی وجہ سے چیختا ہے، ما سوائے ابن مریم اور اس کی ماں کے۔ سیدنا ابوہریرہ علیہ السلام نے کہا: اگر تم چاہتے ہو تو قرآن کا یہ حصہ پڑھ لو: بیشک میں اس کو اور اس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں، شیطان مردود سے۔ (بخاری: ۳۴۳۱، ومسلم: ۲۳۶۶)
شیطان یہ چوکا لگا کر بچے پر اپنے تسلّط کا آغاز کرتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی ماں کی اس سے حفاظت کی، یہ ان کی ماں کی دعا کی برکت تھی، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ثابت ہوتا ہے: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا مِنْ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ اِلَّا نَخَسَہُ الشَّیْطَانُ فَیَسْتَھِلُّ صَارِخًا مِنْ نَخْسَۃِ الشَّیْطَانِ اِلَّا ابْنَ مَرْیَمَ وَاُمَّہُ۔)) قَالَ اَبُوْھُرَیْرَۃَ: اِقْرَئُ وْا اِنْ شِئْتُمْ {اِنِّیْ اُعِیْذُھَا بِکَ وَذُرِّیَّتَھَا مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔} … نہیں ہے کوئی بچہ جو پیدا ہوتا ہے، مگر شیطان اس کو چوکا لگاتا ہے، وہ شیطان کے اس چوکے کی وجہ سے چیختا ہے، ما سوائے ابن مریم اور اس کی ماں کے۔ سیدنا ابوہریرہ علیہ السلام نے کہا: اگر تم چاہتے ہو تو قرآن کا یہ حصہ پڑھ لو: بیشک میں اس کو اور اس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں، شیطان مردود سے۔ (بخاری: ۳۴۳۱، ومسلم: ۲۳۶۶)
حدیث نمبر: 13255
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ ثَنَا السَّرِيُّ بْنُ يَحْيَى ثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ سَرِيعٍ وَكَانَ رَجُلًا مِنْ بَنِي سَعْدٍ وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ قَصَّ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ يَعْنِي الْمَسْجِدَ الْجَامِعَ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ غَزَوَاتٍ قَالَ فَتَنَاوَلَ قَوْمٌ الذُّرِّيَّةَ بَعْدَ مَا قَتَلُوا الْمُقَاتِلَةَ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”أَلَا مَا بَالُ أَقْوَامٍ قَتَلُوا الْمُقَاتِلَةَ حَتَّى تَنَاوَلُوا الذُّرِّيَّةَ“ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَلَيْسَ أَبْنَاءَ الْمُشْرِكِينَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ خِيَارَكُمْ أَبْنَاءُ الْمُشْرِكِينَ إِنَّهَا لَيْسَتْ نَسَمَةٌ تُولَدُ إِلَّا وُلِدَتْ عَلَى الْفِطْرَةِ فَمَا تَزَالُ عَلَيْهَا حَتَّى يُبَيِّنَ عَنْهَا لِسَانُهَا فَأَبَوَاهَا يُهَوِّدَانِهَا أَوْ يُنَصِّرَانِهَا“ قَالَ وَأَخْفَاهَا الْحَسَنُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ ، یہ قبیلہ بنو سعد کے فرد تھے اور انہوں نے سب سے پہلے مسجد جامع وعظ شروع کیا تھا، ان سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چار غزووں میں شرکت کی، ایک دفعہ مسلمانوں نے لڑنے والے مخالفین کو قتل کرنے کے بعد ان کے چھوٹے بچوں کو بھی قتل کر دیا، لیکن جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہو گیا کہ انہوں نے پہلے لڑنے والوں کو قتل کیا ہے اور پھر ان کے بچوں کو بھی قتل کر دیا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وہ بھی ان مشرکوں کی ہی اولاد نہیں ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہترین لوگ مشرکوں کے ہی بیٹے ہیں، بات یہ ہے کہ ہر روح جب پیدا ہوتی ہے تو وہ دین ِ فطرت پر ہی پیدا ہوتی ہے اور وہ اسی پر برقرار رہتی ہے، یہاں تک کہ اس کی زبان اس کی طرف سے وضاحت کرنا شروع کر دے، پھر اس کے والدین اسے یہودی یا عیسائی بنا دیتے ہیں۔ حسن نے آخری الفاظ کی ادائیگی پست آواز سے کی۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ پیدا ہونے والا ہر بچہ دین فطرت ِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، جب وہ بولنا شروع کر دیتا ہے تو اس کے والدین اسے یہودی، عیسائی یامجوسی بنا دیتے ہیں، مشرکوں کا نابالغ بچہ بھی ان احادیث کا مصداق بن رہا ہے، لیکن اس میں تفصیل ہے، سابقہ باب کے فوائد ملاحظہ ہوں۔