کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: وہ امور جن میں مسلمانوں کی اولاد اور کافروں کی اولاد کاایک ہی حکم ہے
حدیث نمبر: 13243
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلَتْ خَدِيجَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَلَدَيْنِ مَاتَا لَهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”هُمَا فِي النَّارِ“ قَالَ فَلَمَّا رَأَى الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهَا قَالَ ”لَوْ رَأَيْتِ مَكَانَهُمَا لَأَبْغَضْتِهِمَا“ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَوَلَدِي مِنْكَ قَالَ ”فِي الْجَنَّةِ“ قَالَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ الْمُؤْمِنِينَ وَأَوْلَادَهُمْ فِي الْجَنَّةِ وَإِنَّ الْمُشْرِكِينَ وَأَوْلَادَهُمْ فِي النَّارِ“ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ} [الطور: 21]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے ان دو بچوں کے انجام کے بارے میں پوچھا جو دورِ جاہلیت میں مر گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جہنم میں جائیں گے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چہرے پر پریشانی کے آثار محسوس کیے تو فرمایا: اگر تم ان کا ٹھکانہ دیکھ لو تو تم بھی ان سے نفرت کرنے لگو گی۔ پھر انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میری جو اولاد آپ سے ہوئی ہے، اس کا انجام؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جنت میں جائے گی، بیشک اہل ِ ایمان اور ان کی اولادیں جنت میں جائیں گی اور مشرکین اور ان کی اولادیں جہنم میں جائیں گی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْہُمْ ذُرِّیَّتُہُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَابِھِمْ ذُرِّیَّتَہُم} (اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان لانے میں ان کی پیروی کی تو ہم ان کی اولاد کو (جنت میں)ان سے ملا دیں گے۔) (سورۂ طور: ۲۱)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13243
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة محمد بن عثمان، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1131 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1131»
حدیث نمبر: 13244
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى عَلَيَّ زَمَانٌ وَأَنَا أَقُولُ أَوْلَادُ الْمُسْلِمِينَ مَعَ الْمُسْلِمِينَ وَأَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ مَعَ الْمُشْرِكِينَ حَتَّى حَدَّثَنِي فُلَانٌ عَنْ فُلَانٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْهُمْ فَقَالَ ”اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ“ قَالَ فَلَقِيتُ الرَّجُلَ فَأَخْبَرَنِي فَأَمْسَكْتُ عَنْ قَوْلِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: مجھ پر ایک ایسا دور بھی رہا کہ جس میں میں یہ فتوی دیا کرتا تھا کہ آخرت میں مسلمانوں کی اولاد مسلمانوں کے ساتھ اورمشرکوں کی اولادمشرکوں کے ساتھ ہوں گی، یہاں تک کہ فلاں آدمی نے فلاں آدمی کے حوالے سے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جب ان کی اولادوں کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ انھوں نے کون سے عمل کرنے تھے؟ پھر میں یہ حدیث بیان کرنے والے اُس آدمی کو جا کر ملا، اس نے مجھے اس حدیث کی خبردی، پھر میں نے اپنی پہلی بات کہنا چھوڑ دی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13244
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرج المرفوع منه البخاري: 6597، ومسلم: 2660، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20697 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20973»
حدیث نمبر: 13245
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ قَالَ كُنْتُ أَقُولُ أَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ هُمْ مِنْهُمْ فَحَدَّثَنِي رَجُلٌ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَقِيتُهُ فَحَدَّثَنِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”رَبُّهُمْ أَعْلَمُ بِهِمْ هُوَ خَلَقَهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ وَبِمَا كَانُوا عَامِلِينَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں مشرکوں کی اولاد کے بارے میں یہی کہتا تھا کہ وہ ان ہی کے ساتھ ہو گی۔لیکن بعد میں ایک آدمی نے ایک صحابی کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کا ربّ ہی ان کے بارے میں بہتر جانتا ہے، اسی نے ان کو پیدا کیا، وہ اِن کو بھی جانتا ہے اور جو انھوں نے عمل کرنے تھے، ان کو بھی جانتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13245
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23880»
حدیث نمبر: 13246
وَعَنْ حَسْنَاءَ بِنْتِ مُعَاوِيَةَ مِنْ بَنِي صَرِيمٍ قَالَتْ حَدَّثَنَا عَمِّي قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ فِي الْجَنَّةِ قَالَ ”النَّبِيُّ فِي الْجَنَّةِ وَالشَّهِيدُ فِي الْجَنَّةِ وَالْمَوْلُودُ وَالْوَلِيدَةُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
بنو صریم کی ایک خاتون حسناء بنت معاویہ اپنے چچا سے بیان کرتی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! کون کون لوگ جنت میں جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نبی جنت میں ہو گا ، شہید جنت میں ہو گا اور (بلوغت سے پہلے فوت ہوجانے والا)بچہ اور بچی بھی جنت میں ہو ں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13246
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح بالشواھد، أخرجه ابن ابي شيبة: 5/ 339، وابن سعد: 7/ 84، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23476 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23872»
حدیث نمبر: 13247
وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ ”وَالْمَوْلُودُ فِي الْجَنَّةِ وَالْمَوْءُودَةُ فِي الْجَنَّةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: نابالغ بچہ بھی جنت میں ہوگا اور زندہ درگور کی گئی بچی بھی جنت میں جائے گی۔
وضاحت:
فوائد: … امت مسلمہ اس حقیقت پر متفق و متحد ہے کہ مسلمانوں کے نابالغ بچے جنت میں داخل ہوں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13247
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20861»