کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ابلیس اور اس کی اولاد کے عذاب کی کیفیت اور ان کا ہلاکتوں کو پکارنے کابیان
حدیث نمبر: 13237
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ قَالَا: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”أَوَّلُ مَنْ يُكْسَى حُلَّةً مِنَ النَّارِ إِبْلِيسُ فَيَضَعُهَا عَلَى حَاجِبِهِ وَيَسْحَبُهَا مِنْ خَلْفِهِ وَذُرِّيَّتُهُ مِنْ بَعْدِهِ وَهُوَ يُنَادِي: وَاثُبُورَاهْ وَيُنَادُونَ: يَاثُبُورَهُمْ“ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ: قَالَهَا مَرَّتَيْنِ ”حَتَّى يَقِفُوا عَلَى النَّارِ فَيَقُولُ: يَاثُبُورَاهْ وَيَقُولُونَ: يَاثُبُورَهُمْ فَيُقَالُ لَهُمْ: {لَا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورًا كَثِيرًا}“ قَالَ عَفَّانُ: وَذُرِّيَّتُهُ خَلْفَهُ وَهُمْ يَقُولُونَ يَاثُبُورَهُمْ قَالَ عَفَّانٌ: حَاجِبَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے پہلے ابلیس کو آگ کا لباس پہنایا جائے گا، وہ اسے اپنی پلکوں پر رکھ کر پیچھے کو کھینچے گا، اس کے بعد اس کی اولاد کو بھی ایسا ہی لباس پہنایا جائے گا، ابلیس کہے گا: ہائے میری ہلاکت، اور اس کی اولاد کہے گی: ہائے ہماری ہلاکت۔ دو دفعہ یہ بات ارشاد فرمائی، یہاں تک کہ وہ آگ پر کھڑے ہو جائیں گے، پھر ابلیس کہے گا: ہائے میری ہلاکت، اور اس کی اولاد کہے گی: ہائے ہماری ہلاکت، اس وقت ان سے کہا جائے گا: { لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّادْعُوْا ثُبُوْرًا کَثِیْرًا} (آج تم ایک ہلاکت کو مت پکارو، بلکہ بہت ساری ہلاکتوں کو پکارو)(سورۂ فرقان: ۱۴)۔
وضاحت:
فوائد: … بہرحال ابلیس اور اس کی طرح کی اس کی نسل کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب النار والجنة / حدیث: 13237
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه ابن ابي شيبة: 13/ 168، والبزار: 3495، والبيھقي في البعث والنشور : 590 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12536 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12564»