حدیث نمبر: 13221
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَفَّانُ ثَنَا هَمَّامٌ ثَنَا قَتَادَةُ ثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ الْعَدَوِيُّ حَدَّثَنِي يَزِيدُ أَخُو مُطَرِّفٍ قَالَ: وَحَدَّثَنِي عُقْبَةُ كُلُّ هَؤُلَاءِ يَقُولُ: حَدَّثَنِي مُطَرِّفٌ أَنَّ عِيَاضَ بْنَ حِمَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ: ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ“ فَذَكَرَ أَهْلَ النَّارِ وَعَدَّ مِنْهُمُ الضَّعِيفَ الَّذِي لَا زَبْرَ لَهُ الَّذِينَ هُمْ فِيكُمْ تَبَعٌ لَا يَبْتَغُونَ أَهْلاً وَلَا مَالًا قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِمُطَرِّفٍ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ أَمِنَ الْمَوَالِي هُوَ أَمْ مِنَ الْعَرَبِ؟ قَالَ: هُوَ التَّابِعَةُ تَكُونُ لِلرَّجُلِ يُصِيبُ مِنْ خَدَمِهِ سَفَاحًا غَيْرَ نِكَاحٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دوران ِ خطبہ یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں ان امور کی تعلیم دوں جو تم نہیں جانتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل ِ جہنم کا تذکرہ کیا اور ان میں ایسے لوگوں کا بھی ذکر کیا جو کمزور ہوتے ہیں اور عقل سے عاری ہیں (یعنی جو آدمی ان کو پناہ دیتا ہے، اس سے خیانت کرتے ہیں اور اس کی حرمت تک کا خیال نہیں رکھتے) ، یہ وہ لوگ ہیں جو تمہارے پیرو ہو کر رہتے ہیں اور وہ اہل و مال کے متلاشی نہیں ہوتے۔ عقبہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے مطرف (حدیث کے راوی) سے کہا اے ابو عبداللہ! یہ لوگ غلاموں میں سے ہیں یا عربوں میں سے؟ انھوں نے کہا: وہ آدمی کے تابع ہوتے ہیں، لیکن اس کی لونڈیوں سے زنا کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 13222
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ”يَخْرُجُ عُنُقٌ مِنَ النَّارِ يَتَكَلَّمُ يَقُولُ: وُكِّلْتُ الْيَوْمَ بِثَلَاثَةٍ بِكُلِّ جَبَّارٍ وَبِمَنْ جَعَلَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَبِمَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ فَيَنْطَوِي عَلَيْهِمْ فَيَقْذِفُهُمْ فِي غَمَرَاتِ جَهَنَّمَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم سے ایک گردن نکلے گی اور وہ کہے گی: آج تین قسم کے لوگوں کو میرے سپرد کر دیا گیا ہے، ایک وہ جو ظالم و سرکش ہو، دوسرا وہ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے اورتیسرا وہ جس نے کسی جان کو ناحق قتل کیا، پھر وہ اس قسم کے لوگوں کو لپیٹ کر جہنم کی گہرائیوں میں پھینک دے گی۔
حدیث نمبر: 13223
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عِنْدَ ذِكْرِ أَهْلِ النَّارِ: ”كُلُّ جَعْظَرِيٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ جَمَّاعٍ مَنَّاعٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل ِ جہنم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ہر بدمزاج (و بدخلق)،اکڑ کر چلنے والا، متکبر، بہت زیادہ مال جمع کرنے والا اور بہت زیادہ بخل کرنے والا یہ سب جہنمی لوگ ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَلَا اُنَبِّئُکُمْ بِاَھْلِ الْجَنَّۃِ؟ اَلضُّعَفَائُ الْمَظْلُوْمُوْنَ، اَلَا اُنَبِّئُکُمْ بِاَھْلِ النَّارِ؟کُلُّ شَدِیْدٍ جَعْظَرِيٍّ)) … کیا میں تمہارے لیے جنت والوں کی نشاندہی نہ کر دوں؟ وہ تو کمزور اور مظلوم لوگ ہیں۔ کیا میں تمھیں جہنم والوں کے بارے میں نہ بتلاؤں؟ وہ سخت اور مغرور لوگ ہیں۔ (احمد: ۲/ ۵۰۸، صحیحہ:۹۳۲)
ان احادیث میں بد خلقی و بدمزاجی، غرور وگھمنڈ، بڑائی و تکبر، شہرت و ناموری، مال و دولت اور کنجوسی و بخیلی کی مذمت کی گئی ہے اور ان صفات کے حاملین کو دوزخی کہا گیا ہے، جبکہ کمزور، غریب اور گوشۂ خمول میں رہنے والے لوگوں کی فضیلت بیان کی گئی ہے، جن کو معاشرے میں کوئی امتیازی مقام حاصل نہیں ہوتا، وہ مغلوب اور بے بس ہوتے ہیں اور کوئی بھی ان کو وقعت نہیں دیتا،لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معزز و مکرم ہوتے ہیں۔
ان احادیث میں بد خلقی و بدمزاجی، غرور وگھمنڈ، بڑائی و تکبر، شہرت و ناموری، مال و دولت اور کنجوسی و بخیلی کی مذمت کی گئی ہے اور ان صفات کے حاملین کو دوزخی کہا گیا ہے، جبکہ کمزور، غریب اور گوشۂ خمول میں رہنے والے لوگوں کی فضیلت بیان کی گئی ہے، جن کو معاشرے میں کوئی امتیازی مقام حاصل نہیں ہوتا، وہ مغلوب اور بے بس ہوتے ہیں اور کوئی بھی ان کو وقعت نہیں دیتا،لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معزز و مکرم ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 13224
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِي لَيْلَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِصَلَاةٍ لَيْسَتْ بِفَرِيضَةٍ فَمَرَّ بِذِكْرِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فَقَالَ: ”أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ وَيْحٌ أَوْ وَيْلٌ لِأَهْلِ النَّارِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو لیلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک نماز میں قراء ت کر رہے تھے، جبکہ وہ نماز فرض نہیں تھی، جب آپ جنت اور جہنم کے ذکرکے پاس سے گزرے تو آپ نے یہ دعا کی: اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ النَّارِ وَیْحٌ اَوْوَیْلٌ لِاَھْلِ النَّارِ۔ (میں جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں، اہل جہنم کے لیے ہلاکت ہے۔
حدیث نمبر: 13225
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”يَعْظُمُ أَهْلُ النَّارِ فِي النَّارِ حَتَّى إِنَّ بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِ أَحَدِهِمْ إِلَى عَاتِقِهِ مَسِيرَةَ سَبْعِمِائَةِ عَامٍ وَإِنَّ غِلَظَ جِلْدِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا وَإِنَّ ضِرْسَهُ مِثْلُ أُحُدٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم میں اہل ِ جہنم کے جسم اتنے بڑے ہوجائیں گے کہ ان کے کانوں اور کندھوں کے درمیان سات سو برس کی مسافت کے برابر فاصلہ ہوگا اور ان کی جلد کی موٹائی ستر ہاتھ اور ان کی ایک ایک داڑھ اُحد پہاڑ کے برابر ہوگی۔
حدیث نمبر: 13226
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”ضِرْسُ الْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِثْلُ أُحُدٍ وَعَرْضُ جِلْدِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا وَفَخِذُهُ مِثْلُ وَرِقَانٍ وَمَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ مِثْلُ مَا بَيْنِي وَبَيْنَ الرَّبَذَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ تعالیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن کافر کی داڑھ احد پہاڑ کے برابر ہوگی، اس کی جلد کی موٹائی ستر ہاتھ ہوگی، اس کی ران و رقان پہاڑ کے برابر ہو گی اوراس کے سرین یہاں سے ربذہ مقام تک مسافت جتنے بڑے ہو جائیں گے۔
حدیث نمبر: 13227
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَفِيهِ: ”وَفَخِذُهُ مِثْلُ الْبَيْضَاءِ وَمَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ كَمَا بَيْنَ قَدِيدٍ إِلَى مَكَّةَ وَكَثَافَةُ جِلْدِهِ اثْنَانِ وَأَرْبَعُونَ ذِرَاعًا بِذِرَاعِ الْجَبَّارِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنمی کی ران بیضاء پہاڑ کے برابر، اس کے سرین اتنے برے ہو جائیں گے کہ جیسے قدید سے مکہ تک کی مسافت ہے اور اس کی جلد کی موٹائی کسی بڑے آدمی کے ہاتھ کے حساب سے بیالیس ہاتھ ہو جائے گی۔
حدیث نمبر: 13228
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”مَقْعَدُ الْكَافِرِ فِي النَّارِ مَسِيرَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ وَكُلُّ ضِرْسٍ مِثْلُ أُحُدٍ وَفَخِذُهُ مِثْلُ وَرِقَانٍ وَجِلْدُهُ سِوَى لَحْمِهِ وَعِظَامِهِ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم میں کافر کے سرین تین دنوں کے سفر کے برابر ہوجائیں گے،اس کی ہر داڑھ احد پہاڑ کے برابر ہو جائے گی، اس کی ران ورقان پہاڑ کے برابر ہو جائے گی اور اس کی جلد کی موٹائی چالیس ہاتھ ہو گی، جبکہ گوشت اور ہڈیاں اس کے علاوہ ہوں گی۔
وضاحت:
فوائد: … چونکہ اہل ِ جہنم کو تعذیب دینا مقصود ہو گاِ اس لیے ان کے اجسام اور اعضاء بہت بڑے بڑے کر دئیے جائیں گے۔