حدیث نمبر: 13217
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اتَّقُوا النَّارَ“ قَالَ شَاحَ بِوَجْهِهِ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا ثُمَّ قَالَ ”اتَّقُوا النَّارَ“ وَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ قَالَ قَالَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ”اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشَقِّ تَمْرَةٍ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم سے بچو اس کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چہرے سے ناگواری کا اظہار کیا، ہمیں یوں محسوس ہوا کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے دیکھ رہے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم سے بچنے کے اسباب پیدا کرو۔ ساتھ ہی آپ نے اپنے چہرے سے ناگواری کا اظہار فرمایا، دو تین مرتبہ ایسے ہوا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم سے بچو، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے ہی ہو اور اگر کسی کو وہ بھی نہ ملے تو اچھی بات کے ذریعے ہی سہی۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی مسلمان کو چاہیے کہ وہ حسب ِ استطاعت صدقہ کرتا رہے اور اگر کسی میں اتنی طاقت بھی نہ ہو تو لوگوں سے اچھے انداز میں پیش تو آیا کرے، جو کہ سب سے آسان عمل ہے۔ یہ بات علیحدہ ہے کہ لوگوں کے مزاج بگڑ گئے ہیں اور انھوں نے اپنے اچھے موڈ کے لیے چند بندوں کو خاص کر لیا ہے۔
حدیث نمبر: 13218
وَعَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَخْطُبُ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ لَهُ فَقَالَ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ ”أَنْذَرْتُكُمُ النَّارَ“ فَلَوْ أَنَّ رَجُلًا مَوْضِعَ كَذَا وَكَذَا سَمِعَ صَوْتَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سماک بن حرب کہتے ہیں: میں نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو سنا کہ وہ خطبہ دے رہے تھے اور انھوں نے اپنے اوپر ایک چادر اوڑھی ہوئی تھی، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خطبہ کے دوران یہ فرماتے ہوئے سنا: میں تمہیں جہنم سے خبردار کر چکا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات اس قدر بلند آواز سے فرمائی کہ اگر کوئی آدمی فلاں جگہ پر بھی ہوتا تو وہ بھی سن لیتا۔
حدیث نمبر: 13219
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ بَعْدَ قَوْلِهِ ”أَنْذَرْتُكُمُ النَّارَ“ قَالَ حَتَّى لَوْ أَنَّ رَجُلًا كَانَ بِالسُّوقِ لَسَمِعَهُ مِنْ مَقَامِي هَذَا قَالَ حَتَّى وَقَعَتْ خَمِيصَةٌ كَانَتْ عَلَى عَاتِقِهِ عِنْدَ رِجْلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان میں تمہیں جہنم سے خبردار کر چکا ہوں کے بعد انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ بات اس قدر بلند آواز سے تھی کہ اگر کوئی آدمی بازار میں ہوتا تو وہ میری اس جگہ سے وہ آواز سن لیتا۔ سماک کہتے ہیں: سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ نے بھی یہ بات اس قدر بلند آواز سے کہی کہ ان کی چادر کندھوں سے گر کر ان کے پاؤں میں جاگری۔
حدیث نمبر: 13220
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ حَتَّى لَوْ كَانَ رَجُلٌ كَانَ فِي أَقْصَى السُّوقِ سَمِعَهُ وَسَمِعَ أَهْلُ السُّوقِ صَوْتَهُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) اس میں یوں ہے: اگر کوئی آدمی بازار کے پرلے کنارے میں بھی ہوتا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز کو سن لیتا،بلکہ بازار والے سارے لوگ وہ آواز سن لیتے، جبکہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تھے۔
وضاحت:
فوائد: … لوگوں میں فکر اور سنجیدگی پیدا کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی آواز کو بلند کر کے جہنم کا ذکر کیا۔