کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: فیصلے میں اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف ، اس کے اپنے مومن بندے پر رحم کرنے اور اس کی ستر پوشی کرنے اور کافراور منافق کو ذلیل و رسوا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 13168
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا ثَنَا هَمَّامٌ ثَنَا قَتَادَةُ قَالَ عَفَّانُ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ قَالَ كُنْتُ آخِذًا بِيَدِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذْ عَرَضَ لَهُ رَجُلٌ فَقَالَ كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي النَّجْوَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْنِي الْمُؤْمِنَ فَيَضَعُ عَلَيْهِ كَنَفَهُ وَيَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ وَيُقَرِّرُهُ بِذُنُوبِهِ وَيَقُولُ لَهُ أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا حَتَّى إِذَا قَرَّرَهُ بِذُنُوبِهِ وَرَأَى فِي نَفْسِهِ أَنَّهُ قَدْ هَلَكَ قَالَ فَإِنِّي قَدْ سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا وَإِنِّي أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ ثُمَّ يُعْطَى كِتَابَ حَسَنَاتِهِ وَأَمَّا الْكُفَّارُ وَالْمُنَافِقُونَ {فَيَقُولُ الْأَشْهَادُ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ}“ [هود: 18]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
صفوان بن محرز کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھاما ہوا تھا، اسی اثنا میں ایک آدمی نے ان کے سامنے آکر کہا: اللہ تعالیٰ کا قیامت والے دن اپنے بندے سے سرگوشی کرنا، اس بارے میں آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا بیان کرتے ہوئے سنا؟ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ مومن کو اپنے قریب کرے گا، اس پر اپنا بازو رکھے گا اور اسے لوگوں سے اوجھل کر کے اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا اور کہے گا: کیا تجھے فلاں گناہ یاد ہے؟ کیا تجھے فلاں گناہ کا بھی علم ہے؟ کیا تجھے فلاں گناہ کا بھی پتہ ہے؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے تمام گناہوں کا اعتراف کرا لے گا اور اس آدمی کو دل سے یقین ہوجائے گا کہ وہ ہلاک ہونے والا ہے، پھراللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے دنیا میں تیرے ان گناہوں کو لوگوں سے پوشیدہ رکھا اور آج میں ان تمام گناہوں کو معاف کرتا ہوں، اس کے بعد اسے نیکیوں کا اعمال نامہ تھما دیا جائے گا، رہا مسئلہ کافروں اور منافقوں کا تو ان کے بارے میں گواہ کہیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں، جو دنیا میں اپنے ربّ پر جھو ٹ باندھتے رہے، خبردار ! ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی پھٹکار ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / يوم الحساب / حدیث: 13168
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2441، 6070، ومسلم: 3768، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5436 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5436»
حدیث نمبر: 13169
وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ أَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ قَالَ بَيْنَمَا ابْنُ عُمَرَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ عَرَضَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَيْفَ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي النَّجْوَى فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَفِيهِ ”وَأَمَّا الْكُفَّارُ وَالْمُنَافِقُونَ فَيُنَادَى بِهِمْ عَلَى رُؤُوسِ الْأَشْهَادِ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ“ قَالَ سَعِيدٌ وَقَالَ قَتَادَةُ فَلَمْ يَخْزَ يَوْمَئِذٍ أَحَدٌ فَخَفِيَ خِزْيُهُ عَلَى أَحَدٍ مِنَ الْخَلَائِقِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) صفوان بن محرز کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طواف کر رہے تھے کہ ایک آدمی نے ان کے سامنے آکر کہا: اے ابو عبدالرحمن ! آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان سرگوشی کے متعلق کیسے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: پھر گزشتہ حدیث کی مانند ہی بیان کیا، البتہ اس میں یہ اضافہ ہے: رہا مسئلہ کافروں اور منافقوں کا تو تمام لوگوں کے سامنے ان کے بارے میں کہا جائے گا:یہی وہ لوگ ہیں، جنہوں نے اپنے ربّ پر جھوٹ باندھے ، خبردار! ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔ قتادہ نے کہا: اس دن جس آدمی کی رسوائی ہو گئی، تو اس کی یہ رسوائی کسی سے بھی مخفی نہیں رہے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / يوم الحساب / حدیث: 13169
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5825»
حدیث نمبر: 13170
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَسْتَخْلِصُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي عَلَى رُؤُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَنْشُرُ عَلَيْهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ سِجِلًّا كُلُّ سِجِلٍّ مَدَّ الْبَصَرِ ثُمَّ يَقُولُ أَتُنْكِرُ مِنْ هَذَا شَيْئًا أَظَلَمَتْكَ كَتَبَتِي الْحَافِظُونَ قَالَ لَا يَا رَبِّ فَيَقُولُ أَلَكَ عُذْرٌ أَوْ حَسَنَةٌ فَيَبْهَتُ الرَّجُلُ فَيَقُولُ لَا يَا رَبِّ فَيَقُولُ بَلَى إِنَّ لَكَ عِنْدَنَا حَسَنَةً وَاحِدَةً لَا ظُلْمَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ فَتُخْرَجُ لَهُ بِطَاقَةٌ فِيهَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فَيَقُولُ احْضِرُوهُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ مَا هَذِهِ الْبِطَاقَةُ مَعَ هَذِهِ السِّجِلَّاتِ فَيُقَالُ إِنَّكَ لَا تُظْلَمُ قَالَ فَتُوضَعُ السِّجِلَّاتُ فِي كَفَّةٍ قَالَ فَطَاشَتِ السِّجِلَّاتُ وَثَقُلَتِ الْبِطَاقَةُ وَلَا يَثْقُلُ شَيْءٌ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایک آدمی کو لوگوں کے سامنے سے الگ کر ے گا اور ا س کے سامنے اس کے گناہوں کے ننانوے رجسٹر پھیلا دئیے جائیں گے، ہر رجسٹر تاحدِّ نگاہ ہو گا، اللہ تعالیٰ اس بندے سے فرمائے گا :کیا تو ان گناہوں میں سے کسی گناہ کا انکار کرتا ہے؟ کیا میرے مقرر کر دہ لکھنے والے محافظ فرشتوں نے تجھ پر ظلم کیا ہے؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! نہیں، جی نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تیرے پاس کوئی عذر یا نیکی ہے؟ وہ آدمی حیران و پریشان ہو کر کہے گا: اے میرے ربّ ! نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ہمارے پاس تیری ایک نیکی ہے، آج تجھ پر ظلم نہیں کیا جائے گا، اس کے سامنے ایک ٹکڑا لایا جائے گا، اس پر کلمہ شہادت اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ تحریر ہوگا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اس کو بھی سامنے لاؤ۔ وہ بندہ کہے گا: اے میرے ربّ ! اتنے بڑے بڑے رجسٹروں کے مقابلے میں اس معمولی سے ٹکڑے کی کیا وقعت ہے؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا جائے گا: آج تجھ پر ظلم نہیں کیا جائے گا، چنانچہ وہ تمام رجسٹر ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دئیے جائیں گے اور وہ ہلکا ہونے کی وجہ سے اوپر اٹھ جائیں گے اور وہ ٹکڑا بھاری ہو جائے گا، اصل بات یہ ہے کہ مہربان اور نہایت رحم والے اللہ کے نام کے مقابلے میں کوئی چیز وزنی نہیں ہو سکتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / يوم الحساب / حدیث: 13170
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي، أخرجه الترمذي: 2639، وابن ماجه: 4300، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6994 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6994»
حدیث نمبر: 13171
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيُسْأَلُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَكُونَ فِيمَا يُسْأَلُ عَنْهُ أَنْ يُقَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُنْكِرَ الْمُنْكَرَ إِذَا رَأَيْتَهُ قَالَ فَمَنْ لَقَّنَهُ اللَّهُ حُجَّتَهُ قَالَ رَبِّ رَجَوْتُكَ وَخِفْتُ النَّاسَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن تم میں سے ایک آدمی سے مختلف سوالات کیے جائیں گے، یہاں تک کہ اس پوچھ گچھ کے دوران اس سے یہ بھی پوچھا جائے گا: جب تو نے دنیا میں گناہ کو دیکھا تھا تو نے اس سے روکا کیوں نہیں تھا؟ تو جس بندے کو اللہ تعالیٰ جواب سمجھا دے گا، وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے تیری رحمت کی امید تھی اور میں لوگوں سے ڈر گیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / يوم الحساب / حدیث: 13171
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه الحميدي: 739، والبيھقي في الشعب : 7575 ، وابويعلي: 1344، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11214 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11232»
حدیث نمبر: 13172
وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ وَفَرَغَ اللَّهُ مِنْ قَضَاءِ الْخَلْقِ فَيَبْقَى رَجُلَانِ فَيُؤْمَرُ بِهِمَا إِلَى النَّارِ فَيَلْتَفِتُ أَحَدُهُمَا فَيَقُولُ الْجَبَّارُ تَبَارَكَ اسْمُهُ رُدُّوهُ فَيَرُدُّوهُ فَيَقُولُ لَهُ لِمَ الْتَفَتَّ يَعْنِي فَيَقُولُ قَدْ كُنْتُ أَرْجُو أَنْ تُدْخِلَنِي الْجَنَّةَ قَالَ فَيُؤْمَرُ بِهِ إِلَى الْجَنَّةِ قَالَ فَيَقُولُ لَقَدْ أَعْطَانِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى لَوْ أَنِّي أَطْعَمْتُ أَهْلَ الْجَنَّةِ مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِمَّا عِنْدِي شَيْئًا“ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَهُ يُرَى السُّرُورُ فِي وَجْهِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا فضالہ بن عبید اور سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہوگا اور اللہ تعالیٰ لوگوں کے فیصلوں سے فارغ ہو گا، تو اُدھر دو آدمی بچے ہوئے ہوں گے۔پھر ا نہیں جہنم کی طرف لے جانے کا حکم دیا جائے گا، ان میں سے ایک آدمی مڑ مڑ کر دیکھے گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اسے واپس لاؤ، فرشتے اسے واپس لے آئیں گے،اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: تو پیچھے مڑ مڑ کر کیوں دیکھ رہا تھا؟ وہ کہے گا: مجھے تو یہ امید تھی کہ تو مجھے جنت میں داخل کرے گا۔ پھر اسے جنت میں داخل کرنے کا حکم دیا جائے گا، وہ جنت میں جا کر کہے گا: اللہ تعالیٰ نے مجھے اس قدر نعمتیں دی ہیں کہ اگر میں تمام اہل ِ جنت کو بھی کھانا کھلاؤں تو میری نعمتوں میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب یہ واقعہ بیان فرماتے تو آپ کے چہرے پر خوشی کے آثار دکھائی دیتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / يوم الحساب / حدیث: 13172
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف رشدين بن سعد ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23964 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24464»
حدیث نمبر: 13173
وَعَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يُؤْتَى بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ اعْرِضُوا عَلَيْهِ صِغَارَ ذُنُوبِهِ قَالَ فَتُعْرَضُ عَلَيْهِ وَيُخْبَأُ عَنْهُ كِبَارُهَا فَيُقَالُ عَمِلْتَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا كَذَا وَكَذَا وَهُوَ مُقِرٌّ لَا يُنْكِرُ وَهُوَ مُشْفِقٌ مِنَ الْكِبَارِ فَيُقَالُ أَعْطُوهُ مَكَانَ كُلِّ سَيِّئَةٍ حَسَنَةً قَالَ فَيَقُولُ إِنَّ لِي ذُنُوبًا مَا أَرَاهَا“ قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ایک آدمی کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیا جائے گا، کہا جائے گا کہ اس کے چھوٹے گناہ اس پر پیش کرو، پس اس کے صغیرہ گناہ اس پر پیش کیے جائیں گے اور بڑے بڑے گناہوں کو اس سے اوجھل رکھا جائے گا۔ اس سے کہا جائے گا کہ تو نے فلاں فلاں دن فلاں فلاں گناہ کیا تھا؟ وہ ان گناہوں کا اعتراف کرتا جائے گا اور انکار نہیں کرے گا، جبکہ وہ اپنے بڑے بڑے گناہوں سے ڈر رہا ہوگا، لیکن جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کہا جائے گا کہ اسے ہر گناہ کے عوض ایک ایک نیکی دے دو، تب وہ بولے گا اور کہے گا: میں نے تو ایسے گناہ بھی کیے تھے، جو یہاں مجھے نظر نہیں آ رہے۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ کو دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حدیث بیان کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر مسکرائے کہ آپ کی داڑھیں بھی نمایاں ہوگئیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / يوم الحساب / حدیث: 13173
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 190 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21393 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21721»
حدیث نمبر: 13174
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي لَأَعْرِفُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنَ النَّارِ وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ يُؤْتَى بِرَجُلٍ“ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَفِيهِ بَعْدَ قَوْلِهِ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ قَالَ ”فَيُقَالُ لَهُ فَإِنَّ لَكَ مَكَانَ كُلِّ سَيِّئَةٍ حَسَنَةً“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اس آدمی کو جانتا ہوں جسے سب سے آخرمیں جہنم سے نکال کر سب سے آخر میں جنت میں داخل کیا جائے گا، ایک آدمی کو لایا جائے گا، … … ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھیں ظاہر ہونے لگیں یہاں تک پہلی حدیث کی طرح ہی ہے۔ اور یہ بات زیادہ ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس اسے کہا جائے گا: پس بیشک تیرے لیے ہر برائی کے بدلے نیکی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / يوم الحساب / حدیث: 13174
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21824»
حدیث نمبر: 13175
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ الْمُؤْمِنَ حَسَنَةً يُعْطَى عَلَيْهَا فِي الدُّنْيَا وَيُثَابُ عَلَيْهَا فِي الْآخِرَةِ وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيُعْطِيهِ حَسَنَاتِهِ فِي الدُّنْيَا حَتَّى إِذَا أَفْضَى فِي الْآخِرَةِ لَمْ يَكُنْ لَهُ بِهَا حَسَنَةٌ يُعْطَى بِهَا خَيْرًا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی مومن پر ایک نیکی کے سلسلہ میں بھی ظلم نہیں کرے گا، بلکہ مومن کو دنیا میں نیکی کا عوض بھی دیا جاتا ہے اور آخرت میں ثواب بھی دیا جاتا ہے، رہا مسئلہ کافر کا تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی نیکیوں کا بدلہ دنیا میں ہی چکا دیتا ہے، جب وہ آخرت تک پہنچتا ہے تو کوئی نیکی نہیں ہوتی کہ اسے بدلہ دیا جائے۔
وضاحت:
فوائد: … (۱) اس فصل سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر انتہائی مہربان ہے وہ اپنے بعض مومن بندوں پر تو اس قدر مہربان ہوگا کہ انہیں اپنے قریب کر کے سرگوشی کے انداز میں ان سے کلام کرے گا۔ اور یاد دلائے گا کہ میں نے دنیا میں تمہارے گناہوں پر پردہ ڈالے رکھا۔ میں آج تمہارے گناہوں کو معاف کر تا ہوں۔ اور اسے جنت میں بھیج دیا جائے گا۔
(۲) اس فصل سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دورانِ طواف باتیں کرنا منع نہیں۔ حسب ضرورت کسی سے بات کی جاسکتی ہے۔ اور اہل علم سے مسائل بھی دریافت کیے جا سکتے ہیں۔
(۳) اس فصل سے اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعت اور عقیدہ ٔ توحید کی عظمت بھی واضح ہوئی کہ ایک گناہ گار کے بڑے بڑے ننانوے دفتر گناہوں سے بھرے ہوئے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی ایک نیکی بھی ہوگی کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت و رسالت کا اعتراف کیا ہوگا تو اسی کی برکت سے اس کی نجات ہوجائے گی۔
(۴) نیز معلوم ہوا کہ جو بندہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید رکھے اللہ تعالیٰ بھی اسے مایوس نہیں کرتا۔
(۵) نیز معلوم ہوا کہ جنت میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اس دنیا میںانسان کے لیے اندازہ کرنا ناممکن ہے۔ سب سے آخر میں جنت میں جانے والا بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھ کر کہے گا کہ اگر میں تمام اہل ِ جنت کی دعوت کروں تب بھی یہ نعمتیں ختم نہیں ہوں گی۔
(۶) نیز معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اہل توحید سے اس قدر خوش ہوگا کہ ان کے ہر ہر گناہ کے عوض انہیں نیکیاں دے گا۔
(۷) نیز معلوم ہوا کہ مومن کی ایک بھی نیکی اللہ تعالیٰ کے ہاں ضائع نہیں ہوتی۔ اسے دنیا میں بھی اس کا اجر ملتا ہے۔ اور آخرت میں بھی ثواب ملے گا۔ ان شاء اللہ۔
(۸) البتہ کفار کو ان کی نیکیوں کا بدلہ دنیا میں ہی مل جاتا ہے۔ انہیں آخرت میں کوئی اچھا بدلہ نہیں ملے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / يوم الحساب / حدیث: 13175
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2808 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12237 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12262»