کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: قیامت کے دن قصاص اور مظلوموں کو ان کے حقوق دلائے جانے کا بیان
حدیث نمبر: 13161
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَتُؤَدَّنَّ الْحُقُوقُ إِلَى أَهْلِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُقْتَصَّ لِلشَّاةِ الْجَمَّاءِ مِنَ الشَّاةِ الْقَرْنَاءِ تَنْطِحُهَا أَوْ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ أَحَدُ الرُّوَاةِ يَعْنِي فِي حَدِيثِهِ يُقَادُ لِلشَّاةِ الْجَلْحَاءِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن حق داروں کو ان کے حقوق دلوائے جائیں گے، یہاں تک کہ سینگ والی بکری نے جو سینگ بے سینگ بکری کو مارا ہو گا، اس کا اسے قصاص دلوایا جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / يوم الحساب / حدیث: 13161
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2582، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7204 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7203»
حدیث نمبر: 13162
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَلَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَخْتَصِمَنَّ كُلُّ شَيْءٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى الشَّاتَانِ فِيمَا انْطَحَتَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قیامت کے دن ہر چیز (یعنی ہر مظلوم ، ہر ظالم سے جھگڑا کرے گا اور اس سے بدلہ لے گا) حتیٰ کہ دو بکریاں جنھوں نے ایک دوسرے کو سینگ مارے ہوں گے۔ (ان میں سے ظالم سے قصاص دلایا جائے گا)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / يوم الحساب / حدیث: 13162
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابن لھيعة سييء الحفظ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9072 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9060»
حدیث نمبر: 13163
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ الْجَمَّاءَ لَتُقَصُّ مِنَ الْقَرْنَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن بغیر سنگ والی بکری کو سینگ والی بکری سے بدلہ دلوایا جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / يوم الحساب / حدیث: 13163
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه البزار: 387، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 520 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 520»
حدیث نمبر: 13164
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ جَالِسًا وَشَاتَانِ تَقْتَرِنَانِ فَنَطَحَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى فَأَجْهَضَتْهَا قَالَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”عَجِبْتُ لَهَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُقَادَنَّ لَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے دو بکریاں آپس میں لڑنے لگیں اور ایک نے دوسری کو سینگ مارا اور اسے دور بھگا دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ منظر یہ دیکھ کر مسکرا پڑے، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مسکرانے کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس بکری پر تعجب ہو رہا ہے، اس ذا ت کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قیامت کے دن اس مظلوم بکری کو اس ظالم بکری سے بدلہ دلوایا جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / يوم الحساب / حدیث: 13164
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه البزار: 4032، والطيالسي: 480 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21511 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21843»
حدیث نمبر: 13165
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) فَذَكَرَ مَعْنَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى شَاتَيْنِ تَنْتَطِحَانِ فَقَالَ ”يَا أَبَا ذَرٍّ هَلْ تَدْرِي فِيمَا تَنْتَطِحَانِ“ قَالَ لَا قَالَ ”لَكِنَّ اللَّهَ يَدْرِي وَسَيَقْضِي بَيْنَهُمَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو بکریوں کو دیکھا کہ وہ ایک دوسری کو ٹکریں مار رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوذر ! تم جانتے ہو یہ کیوں ایک دوسری کو ٹکر مار رہی ہیں؟ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لیکن اللہ جانتا ہے اور وہ عنقریب ان کے درمیان فیصلہ بھی کرے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / يوم الحساب / حدیث: 13165
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21769»
حدیث نمبر: 13166
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَلَغَنِي حَدِيثٌ عَنْ رَجُلٍ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَرَيْتُ بَعِيرًا ثُمَّ شَدَدْتُ عَلَيْهِ رَحْلِي فَسِرْتُ إِلَيْهِ شَهْرًا حَتَّى قَدِمْتُ عَلَيْهِ الشَّامَ فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ لِلْبَوَّابِ قُلْ لَهُ جَابِرٌ عَلَى الْبَابِ فَقَالَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ قُلْتُ نَعَمْ فَخَرَجَ يَطَأُ ثَوْبَهُ فَاعْتَنَقَنِي وَاعْتَنَقْتُهُ فَقُلْتُ حَدِيثًا بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْقِصَاصِ فَخَشِيتُ أَنْ تَمُوتَ أَوْ أَمُوتَ قَبْلَ أَنْ أَسْمَعَهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوْ قَالَ الْعِبَادُ عُرَاةً غُرْلًا بُهْمًا“ قَالَ قُلْنَا وَمَا بُهْمًا قَالَ ”لَيْسَ مَعَهُمْ شَيْءٌ ثُمَّ يُنَادِيهِمْ بِصَوْتٍ يَسْمَعُهُ مَنْ قُرْبٍ أَنَا الْمَلِكُ أَنَا الدَّيَّانُ وَلَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ أَنْ يَدْخُلَ النَّارَ وَلَهُ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَقٌّ حَتَّى أَقُصَّهُ مِنْهُ وَلَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ وَلِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ عِنْدَهُ حَقٌّ حَتَّى أَقُصَّهُ مِنْهُ حَتَّى اللَّطْمَةَ“ قَالَ قُلْنَا كَيْفَ وَإِنَّا إِنَّمَا نَأْتِي اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عُرَاةً غُرْلًا بُهْمًا قَالَ ”بِالْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:مجھے ایک حدیث کے متعلق پتہ چلا کہ (شام میں سکونت پذیر) ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہ حدیث سنی ہوئی ہے،میں نے ایک اونٹ خریدا، اس پر پالان کسا اور ایک ماہ کا سفر طے کر کے شام کے علاقے میں اس کے پاس پہنچا، وہ سیدنا عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ تھے، میں نے دربان سے کہا: ان سے جا کر کہو کہ دروازے پر جابر آیا ہے، انھوں نے پوچھا: عبد اللہ کا بیٹا جابر؟ میں نے کہا: جی ہاں، وہ اتنی تیزی سے باہر آئے کہ کپڑان کے پاؤں کے نیچے آرہا تھا،پھر انھوں نے مجھ سے اور میں نے ان سے معانقہ کیا، میں نے ان سے کہا، مجھے معلوم ہوا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قصاص سے متعلقہ ایک حدیث بیان کرتے ہیں، پھر خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ فوت ہو جائیں اور میں مر جاؤں، (اس لیے آپ سے وہ حدیث سننے کے لیے آیا ہوں)۔ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: قیامت کے دن لوگوں کو برہنہ جسم، غیر مختون اور خالی ہاتھ اٹھایا جائے گا۔ ہم نے کہا: حدیث میں وارد لفظ بُھْمًا کا کیا معنی ہے؟ انھوں نے کہا: وہ لوگ جن کے پاس کوئی چیز نہیں ہو گی (اور وہ خالی ہاتھ ہوں گے)۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو پکارے گا، ہر کوئی اسے قریب سے آنے والی آواز کی طرح سنے گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں،میں بدلے دینے والاہوں ، کوئی آدمی جو جہنم میں جانے والا ہو، اگر اس کا کسی جنتی کے ذمے کوئی حق یا بدلہ ہو تو بتائے تاکہ اسے بدلہ دلواؤں، اسی طرح جو آدمی جنت میں جانے والا ہے، اگر اس کا کسی جہنمی کے ذمہ کوئی حق یا بدلہ ہو، خواہ وہ ایک تھپڑ کی صورت میں ہو، تو وہ بھی بتائے تاکہ میں اسے بدلہ دلواؤں۔ پھر سیدنا عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! بدلے کیسے پورے ہوں گے جب کہ ہم تو اللہ تعالیٰ کے ہاں برہنہ جسم ، غیر مختون اور خالی ہاتھ جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس دن نیکیوں اور گناہوں کے ذریعے دلوائے جائیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … بعض نسخوں میں عربی کے الفاظ یوں ہیں: یَسْمَعُہُ مَنْ بَعُدَ کَمَا یَسْمَعُہُ مَنْ قَرُبَ اس آواز کو دور والے اسی طرح سنیں گے جس طرح قریب والے سنیں گے۔ (مسند محقق: ۲۵/ ۴۳۲)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / يوم الحساب / حدیث: 13166
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16042 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16138»
حدیث نمبر: 13167
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”هَلْ تَدْرُونَ مَنِ الْمُفْلِسُ“ قَالَ الْمُفْلِسُ فِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ قَالَ ”إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصِيَامٍ وَصَلَاةٍ وَزَكَاةٍ وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ عِرْضَ هَذَا وَقَذَفَ هَذَا وَأَكَلَ مَالَ هَذَا فَيَقْعُدُ فَيَقْتَصُّ هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ مَا عَلَيْهِ مِنَ الْخَطَايَا أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہمارے اندر مفلس وہ ہوتا ہے، جس کے پاس درہم اور دنیوی سازو سامان نہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا مفلس وہ ہے، جو قیامت کے دن روزے، نمازیں اور زکوتیں لے کر آئے گا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس نے کسی کی عزت پر ڈاکہ زنی کی ہو گی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی اور کسی کا مال کھا یا ہو گا، ایسا آدمی بیٹھا ہوگا، ایک مظلوم آکر اس سے نیکیاں لے کر قصاص لے گا، پھر دوسرا آکر اس کی نیکیاں لے کر بدلہ لے گا، پس اگر اس کے مظالم کے بدلے پورے ہونے سے قبل اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں تو مظلوموں کے گناہ اس پر ڈال دئیے جائیں گے اوربالآخر اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … (۱) اس فصل کی احادیث سے معلوم ہو ا کہ قیامت کے دن مظلوموں کو ظالموں سے ان کے حقوق اور بدلے دلوائے جائیں گے حتیٰ کہ جانور جو کہ غیر مکلف ہیں۔ تاہم جس سینگ دار جانور نے کسی بغیر سینگ والے کو ٹکر مار کر اس پر ظلم کیا ہوگا تو مظلوم کو ظالم جانور سے بدلہ دلوایا جائے گا۔
(۲) بکریاں ایک دوسری کو ٹکرمارتی ہیں۔ رسو ل اللہ تعالیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ یہ ایک دوسری کو ٹکر کیوں مارتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عالم الغیب نہیںہیں۔
(۳) اس فصل کی حدیث سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کو سماع حدیث کا کس قدر شوق ہوتا تھا۔ کہ محض ایک حدیث سننے کے لیے جابر رضی اللہ عنہ ایک اونٹ خرید کر مہینے بھر کا سفر کرکے سر زمین شام میں اور طبرانی کی روایت کے مطابق مصر گئے اور جا کر عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے براہ ِ راست حدیث کا سماع کیا۔
(۴) نیز معلوم ہوا کہ عند الملاقات معانقہ کرنا بھی مستحب ہے۔ جیسا کہ جابر رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے ایک دوسرے سے معانقہ کیا۔
(۵) نیز معلوم ہوا کہ قیامت کے دن لوگوں کو برہنہ حالت میں، غیر مختون اور خالی ہاتھ اٹھایا جائے گا۔ ان کے پاس درہم و دینار یاد نیوی مال و دولت نہیں ہوگا۔
(۶) نیز معلوم ہوا کہ جب تک سب لوگوں کو حقوق نہیں دلوا دئیے جائیں گے۔ اس وقت تک لوگ جنت یاجہنم میں نہیں جا سکیں گے۔
(۷) نیز معلوم ہوا کہ اس امت کا مفلس آدمی وہ نہیں جس کے پاس درہم و دینار نہ ہوں بلکہ حقیقی مفلس تو وہ ہے جس نے نیکیاں بہت کی ہوں اور ساتھ ہی لوگوں کے حقوق بھی تلف کئے ہوں تو قیامت کے دن اس کی نیکیاں مظلوموں کو دے کر ان کے حقوق پورے کیے جائیں گے یہاں تک کہ اس کی نیکیاں ختم ہوجائیں گے تو مظلوموں کے گناہ اس کے حساب میں ڈال دئیے جائیں گے اور پھر وہ جہنم رسید ہوگا۔ اس امت کا حقیقی مفلس یہ شخص ہے۔
(۸) اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قیامت کے دن کسی پر ظلم نہیں ہوگا۔ اور ہر شخص کو اس کا حق مل کر رہے گا۔
حدیث سے معلوم ہو رہا ہے کہ حدیث تو انہوں نے سنی تھی، شوق یہ تھا کہ جس آدمی (عبداللہ بن انیس صحابی) نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے براہِ راست سنی ہے، اس سے کسی واسطہ کے بغیر حدیث سنی جائے۔ اصول حدیث کی اصلاح میں سند عالی حاصل کرنے کے لیے سفر کیا۔ یہ اور زیادہ ان کے سماع حدیث کے شوق کی دلیل ہے۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / يوم الحساب / حدیث: 13167
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2581 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8029 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8016»