کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: حوضِ کوثر پر آنے والے لوگوں کی کثرت اوراس حوض کی صفات کے ساتھ ساتھ اس پر آنے والے بعض لوگوں کی صفات کا بیان
حدیث نمبر: 13143
عَنْ أَبِي حَمْزَةَ مَوْلَى الْأَنْصَارِ قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَنْزَلٍ نَزَلُوهُ فِي مَسِيرِهِ فَقَالَ ”مَا أَنْتُمْ بِجُزْءٍ مِنْ مِائَةِ أَلْفِ جُزْءٍ مِمَّنْ يَرِدُ عَلَى الْحَوْضِ مِنْ أُمَّتِي“ قَالَ قُلْتُ (وَفِي رِوَايَةٍ قُلْنَا لِزَيْدٍ) كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ قَالَ كُنَّا سَبْعَمِائَةٍ أَوْ ثَمَانِمِائَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک مقام میں ٹھہرے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ـ: میری امت کے جو لوگ حوضِ کوثر پر میرے پاس آئیں گے، تم ان کا لاکھواں حصہ بھی نہیں ہو۔‘ ہم نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے کہا: تم اس دن کتنے لوگ تھے؟ انھوں نے کہا: ہم سات آٹھ سو افراد تھے۔
حدیث نمبر: 13144
وَعَنِ الْمُخَارِقِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”حَوْضِي كَمَا بَيْنَ عَدَنَ وَعَمَّانَ أَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ وَأَطْيَبُ رِيحًا مِنَ الْمِسْكِ أَكْوَابُهُ مِثْلُ نُجُومِ السَّمَاءِ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا أَوَّلُ النَّاسِ عَلَيْهِ وُرُودًا صَعَالِيكُ الْمُهَاجِرِينَ“ قَالَ قَائِلٌ وَمَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”الشَّعِثَةُ رُءُوسُهُمْ الشَّحِيحَةُ وُجُوهُهُمْ الدَّنِسَةُ ثِيَابُهُمْ لَا يُفْتَحُ لَهُمُ السُّدَدُ وَلَا يُنْكَحُونَ الْمُتَنَعِّمَاتِ الَّذِينَ يُعْطُونَ كُلَّ الَّذِي عَلَيْهِمْ وَلَا يَأْخُذُونَ الَّذِي لَهُمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا حوض اتنا وسیع ہے، جتنی کہ عدن اورعمان کے درمیان مسافت ہے اور اس کا پانی برف سے زیادہ ٹھنڈا، شہد سے زیادہ شیریں اور کستوری سے زیادہ خوشبو والا ہے، اس کے آبخوروں کی تعداد ستاروں کے برابر ہوگی، جس نے ایک دفعہ اس سے پانی پی لیا، اسے دوبارہ کبھی بھی پیاس محسوس نہیں ہو گی، وہ پانی پینے کے لیے سب سے پہلے فقیر مہاجرین آئیں گے۔ ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ! یہ کون لوگ ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے سر پراگندہ ہوتے ہیں، چہرے مرجھائے ہوتے ہیں، لباس میلے کچیلے ہوتے ہیں، جن کے آنے پر دروازے نہیں کھولے جاتے اور جن کے نکاح آسودہ حال خواتین سے نہیں کیے جاتے، جنھوں نے اپنی تمام ذمہ داریاں ادا کرنا ہوتی ہیں اور وہ اپنے حقوق اس طرح حاصل نہیں کر سکتے۔
حدیث نمبر: 13145
وَعَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لَكَ حَوْضًا قَالَ ”نَعَمْ وَأَحَبُّ مَنْ وَرَدَهُ عَلَيَّ قَوْمُكِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حوض ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں اور وہاں آنے والوں میں سے تمہاری قوم مجھے سب سے زیادہ محبوب ہو گی۔
حدیث نمبر: 13146
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ يُحَنَّسَ أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ تَزَوَّجَ خَوْلَةَ بِنْتَ قَيْسِ بْنِ فَهْدٍ الْأَنْصَارِيَّةَ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَزُورُ حَمْزَةَ فِي بَيْتِهَا وَكَانَتْ تُحَدِّثُ عَنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ قَالَتْ جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ تُحَدِّثُ أَنَّ لَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَوْضًا مَا بَيْنَ كَذَا إِلَى كَذَا قَالَ ”أَجَلْ وَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ أَنْ يَرْوَى مِنْهُ قَوْمُكِ“ قَالَتْ فَقَدِمْتُ إِلَيْهِ بِبُرْمَةٍ فِيهَا خُبْزَةٌ أَوْ حَرِيرَةٌ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي الْبُرْمَةِ لِيَأْكُلَ فَاحْتَرَقَتْ أَصَابِعُهُ فَقَالَ ”حَسٍّ“ ثُمَّ قَالَ ”ابْنُ آدَمَ إِنْ أَصَابَهُ الْبَرْدُ قَالَ حَسٍّ وَإِنْ أَصَابَهُ الْحَرُّ قَالَ حَسٍّ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
جب سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تو انھوں نے بنو نجارکی ایک انصاری خاتون سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی ملاقات کے لیے ان کے گھر تشریف لے جایا کرتے تھے اور سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے احادیث روایت کیا کرتی تھیں، انہوں نے بیان کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن ہمارے ہاں تشریف لائے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! مجھے معلوم ہوا ہے کہ قیامت کے دن آپ کا ایک وسیع و عریض حوض ہوگا؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں، اور وہاں سے سیراب ہونے والے لوگوں میں مجھے سب سے پسندیدہ تیری قوم کے لوگ ہوں گے۔ سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:میں نے ایک ہنڈیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کی، اس میں روٹی کے ٹکڑے یا آٹے، گھی اور گوشت ملا کر تیار کیا ہوا کھانا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانے کے لیے اپنا ہاتھ اس میں ڈالا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلی جل گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا: ہائے اور پھر فرمایا: ابن آدم بھی عجیب ہے، اگر اسے ٹھنڈک محسوس ہو تو بھی یہ ہائے کرتا ہے اور اگر اسے حرارت محسوس ہوتو پھر بھی ہائے کرتا ہے۔