کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ان لوگوں کا تذکرہ، جنہیں حوض کو ثر سے دھتکار دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے
حدیث نمبر: 13136
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ فَمَنْ وَرَدَ أَفْلَحَ وَيُؤْتَى بِأَقْوَامٍ فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ أَيْ رَبِّ فَيُقَالُ مَا زَالُوا بَعْدَكَ يَرْتَدُّونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا،جو شخص وہاں تک پہنچ گیا، وہ فلاح پا جائے گا، وہاں کچھ ایسے لوگ بھی آئیں گے، جن کو بائیں طرف دھکیل دیا جائے گا، میں کہوں گا: اے میرے رب! (یہ لوگ)۔ جواباً کہا جائے گا: یہ لوگ آپ کے بعد دین سے واپس پلٹتے گئے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تتعلق بحوض الكوثر / حدیث: 13136
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مطولا البخاري: 4625، 4740، ومسلم: 2760 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2327 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2327»
حدیث نمبر: 13137
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ وَلَأُنَازِعَنَّ أَقْوَامًا ثُمَّ لَأُغْلَبَنَّ عَلَيْهِمْ فَأَقُولُ يَا رَبِّ أَصْحَابِي فَيَقُولُ إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم سے پہلے حوض پر جا کرتمہارا انتظار کروں گا، کچھ لوگوں کو مجھ سے دور کر دیا جائے گا اور میں ان کے بارے میں مغلوب ہو جاؤں گا۔ میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ لوگ تو میرے ساتھی یعنی میری امت کے لوگ ہیں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: آپ نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد کیا کچھ ایجاد کر لیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تتعلق بحوض الكوثر / حدیث: 13137
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6575، ومسلم: 2297 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4042 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4042»
حدیث نمبر: 13138
وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَنَا عَلَى الْحَوْضِ أَنْظُرُ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ قَالَ فَيُؤْخَذُ نَاسٌ دُونِي فَأَقُولُ يَا رَبِّ مِنِّي وَمِنْ أُمَّتِي قَالَ فَيُقَالُ وَمَا يُدْرِيكَ مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ مَا بَرِحُوا بَعْدَكَ يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ“ قَالَ جَابِرٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”الْحَوْضُ مَسِيرَةُ شَهْرٍ وَزَوَايَاهُ سَوَاءٌ يَعْنِي عَرْضُهُ مِثْلُ طُولِهِ وَكِيزَانُهُ مِثْلُ نُجُومِ السَّمَاءِ وَهُوَ أَطْيَبُ رِيحًا مِنَ الْمِسْكِ وَأَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهُ أَبَدًا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں حوض پربیٹھا آنے والوں کا انتظار کر رہا ہوں گا کہ کچھ لوگوں کو میری طرف آنے سے روک دیا جائے گا، میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ لوگ تو مجھ سے اور میری امت سے ہیں، لیکن جواباً کہا جائے گا:آپ نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد کیسے کیسے کام کیے تھے؟ آپ کے بعد یہ لوگ دین سے دور ہوتے چلے گئے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حوض کے ایک طرف کا طو ل ایک ماہ کی مسافت کے برابر ہے اور اس کی دونوں اطراف برابر برابر ہیں، یعنی اس کی چوڑائی اس کی لمبائی کے مساوی ہے، اس کے آب خوروں کی تعداد ستاروں جتنی ہوگی، اس کی خوشبو کستوری سے زیادہ ہے اور اس کا رنگ دودھ سے زیادہ سفید ہے، جس نے اس کا پانی ایک دفعہ پی لیا، اسے بعد میں کبھی بھی پیاس محسوس نہیں ہوگی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تتعلق بحوض الكوثر / حدیث: 13138
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15121 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15187»
حدیث نمبر: 13139
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَأَذُودَنَّ رِجَالًا مِنْكُمْ مِنْ حَوْضِي كَمَا تُذَادُ الْغَرِيبَةُ مِنَ الْإِبِلِ عَنِ الْحَوْضِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! میں تم میں سے کچھ لوگوں کو اپنے حوض سے اس طرح دور کر دوں گا، جیسے اجنبی اونٹ کو حوض سے ہٹا دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تتعلق بحوض الكوثر / حدیث: 13139
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2367، ومسلم: 2302 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7968 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7955»
حدیث نمبر: 13140
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَقْبَرَةِ فَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِهَا قَالَ ”سَلَامٌ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا“ قَالُوا أَوَلَسْنَا إِخْوَانَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”بَلْ أَنْتُمْ أَصْحَابِي وَإِخْوَانِيَ الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ وَأَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ“ قَالُوا وَكَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ يَأْتِ مِنْ أُمَّتِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا لَهُ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ بَيْنَ ظَهْرَيْ خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ أَلَا يَعْرِفُ خَيْلَهُ“ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ يَقُولُهَا ثَلَاثًا وَأَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ أَلَا لَيُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ أُنَادِيهِمْ أَلَا هَلُمَّ أَلَا هَلُمَّ فَيُقَالُ إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ فَأَقُولُ سُحْقًا سُحْقًا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبرستان کی طرف تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل قبرستان کو سلام کرتے ہوئے فرمایا: سَلَامٌ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُوْمِنِیْنَ، وَاِنَّا اِنْ شَاءَ اللّٰہُ بِکُمْ لَاحِقُوْنَ (تم پر سلامتی ہو، مومن لوگوں کے گھر والو! ہم بھی ان شاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں۔) میں چاہتا ہوں کہ اپنے بھائیوں کو دیکھ لیتا۔ یہ سن کر صحابہ کرام نے کہا: اے اللہ کے رسول ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم تو میرے صحابہ ہو، میرے بھائی وہ ہیں جو ابھی تک نہیں آئے اور میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا، (یعنی تم سے پہلے جا کر تمہارا انتظار کروں گا)۔ صحابہ کرام نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ! آپ کی امت کے جو لوگ ابھی تک نہیں آئے، آپ انہیں کیسے پہنچانیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر کسی آدمی کا ایسا گھوڑا ہو، جس کی ٹانگوں اور پیشانی پر سفیدی ہو اور وہ کالے سیاہ گھوڑوں کے اندر ہو، تو کیا وہ آدمی اپنے گھوڑے کو پہچان لے گا؟ صحابہ کرام نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے لوگ جب آئیں گے تو وضو کی وجہ سے ان کے چہرے اور ہاتھ پاؤں چمک رہے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ جملہ تین دفعہ دوہرایا، اور میں تم سے پہلے حوض پر جا کر تمہارا انتظار کروں گا۔ خبردار ! کچھ لوگوں کو میرے حوض کی طرف آنے سے یوں روک دیا جائے گا جیسے گمشدہ اونٹ کو دور کر دیا جاتا ہے اور میں پکار پکار کر ان سے کہوں گا: خبردار! اِدھر آجاؤ، اِدھر آجاؤ۔لیکن جواباً مجھے کہا جائے گا:ان لوگوں نے آپ کے بعد دین کو بدل دیا تھا، تب میں بھی کہوں گا: برباد ہو جائیں، برباد ہو جائیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تتعلق بحوض الكوثر / حدیث: 13140
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 249، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9292 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9281»
حدیث نمبر: 13141
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَيَرِدَنَّ عَلَى الْحَوْضِ رَجُلَانِ مِمَّنْ قَدْ صَحِبَنِي فَإِذَا رَأَيْتُهُمَا رُفِعَا لِي اخْتُلِجَا دُونِي“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری صحبت کا شرف حاصل کرنے والوں میں سے دو آدمی حوض پر میری طرف آئیں گے، جب میں ان کو آتے دیکھوں گا تو ان کو میری طرف آنے سے روک دیا جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح بخاری(۶۵۸۲) اور صحیح مسلم (۲۳۰۴) میں یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے: ((لَیَرِدَنَّ الْحَوْضَ عَلَیَّ رِجَالٌ، حَتّٰی اَذِا رَاَیْتُھُمْ رُفِعُوْا اِلَیَّ، فَاخْتُلِجُوْا دُوْنِیْ، فَلَاَقُوْلَنَّ: یَا رَبِّ، اَصْحَابِیْ اَصْحَابِیْ، فَیُقَالُ: اِنَّکَ لَا تَدْرِیْ مَا اَحْدَثُوْا بَعْدَکَ)) (وَاللَّفْظُ لِلْمُسْنَدِ: ۱۳۹۹۱) … کچھ لوگ حوض پر میرے پاس آئیں گے، یہاں تک کہ جب میں ان کو دیکھ لوں گا تو ان کو مجھ سے روک لیا جائے گا، میں کہوں گا: اے میرے ربّ! میرے ساتھی، میرے ساتھی، پس مجھ سے کہا جائے گا: تو نہیں جانتا کہ انھوں نے تیرے بعد کون کون سے نئے امور ایجاد کر لیے تھے
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تتعلق بحوض الكوثر / حدیث: 13141
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «ضعيف بھذا اللفظ، فقد تفرد به مبارك بن فضالة وھو مدلس وقد عنعن ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12418 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12445»
حدیث نمبر: 13142
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”أَنَا فَرَطُكُمْ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَإِذَا لَمْ تَرَوْنِي فَأَنَا عَلَى الْحَوْضِ قَدْرُ مَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى مَكَّةَ وَسَيَأْتِي رِجَالٌ وَنِسَاءٌ بِقِرَبٍ وَآنِيَةٍ فَلَا يَطْعَمُونَ مِنْهُ شَيْئًا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارا پیش رو ہوں گا، جب تم مجھے کسی اور جگہ نہ پاؤ تو میں حوض پر ملوں گا، اس کی وسعت اتنی ہے، جتنی ایلہ سے مکہ مکرمہ تک مسافت ہے، بہت سے مرد اور عورتیں مشکیزے اور برتن لے کر ادھر آئیں گے، مگر وہ وہاں سے کچھ بھی حاصل نہیں کر سکیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … ۱۔ اس فصل کی احادیث میں بھی حوض کوثر کا اثبات ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے جا کر حوض پر امت کا انتظار کریں گے اور آنے والوں کو پانی پلائیں گے۔ البتہ اس امت کے نافرمانوں، بدعتیوں کو حوض سے بائیں جانب لے جایا جائے گا اور انہیں حوض پر آنے سے روک دیا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائیں گے کہ اے ربّ یہ تو میری امت کے لوگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب ملے گا کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد دین میں بہت زیادہ تبدیلیاں کر دی تھیں۔ اس لیے یہ لوگ آب کوثر کے حق دار نہیں ہیں۔
۲۔ نیز معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عالم الغیب نہیں ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ سے کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد کیا کچھ کیا؟
۳۔ اس فصل سے قبرستان جانے کی دعا بھی معلوم ہوئی۔
۴۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بعد آنے والے اپنی امت کے افراد کو اپنے بھائی اور ان کو دیکھنے کی تمنا کا اظہار فرمایا: گویاامت کے افراد کو نبی کر یم کے بھائی کہا جاسکتا ہے۔ اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں۔
۵۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ وضو کی برکت سے اس امت کے افراد کے چہرے ہاتھ اور پاؤں روشن ہوں گے۔ اور یہ اس بات کی دلیل ہوگی کہ یہ امت محمدیہ کے فرد ہیں۔
۶۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ اگرچہ کچھ لوگ بدعتی اور بے عمل ہوں گے تاہم وضو کی وجہ سے ان کے اعضاء روشن ہوں گے۔
۷۔ اور انہیں بدا عمالیوں کی وجہ سے آب کوثر سے محروم رکھاجائے گا۔ (نعوذ باللہ تعالیٰ من ذلک۔ آمین)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تتعلق بحوض الكوثر / حدیث: 13142
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في الاوسط : 753، والبزار: 3481، وابن حبان: 6449 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14719 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14776»