کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: عبیداللہ بن زیاد کا پہلے حوض کو تسلیم نہ کرنا، لیکن بعد میں اس کا اپنے اس موقف سے رجوع کر لینا اور حوض کے وجود کی تصدیق کرنا
حدیث نمبر: 13131
عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَ إِلَيَّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ مَا أَحَادِيثُ تُحَدِّثُهَا أَوْ تَرْوِيهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا نَجِدُهَا فِي كِتَابِ اللَّهِ تُحَدِّثُ أَنَّ لَهُ حَوْضًا فِي الْجَنَّةِ قَالَ قَدْ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَوَعَدَنَاهُ قَالَ كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ شَيْخٌ قَدْ خَرَفْتَ قَالَ إِنِّي قَدْ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ جَهَنَّمَ“ وَمَا كَذَبْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: عبیدا للہ بن زیاد نے مجھے بلوایا اور جب میں اس کے پاس گیا تو اس نے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ کیسی کیسی احادیث روایت کرتے ہو، جن کی اصل کا کتاب اللہ میں کوئی ذکر نہیں ہے، تم بیان کرتے ہو کہ جنت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک حوض ہوگا۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس کے متعلق بیان کیا اور ہم سے اس کا وعدہ بھی کیا ہے، عبیداللہ نے کہا: تم غلط کہتے ہو، تم بوڑھے ہوگئے ہو اور تمہاری عقل چلی گئی ہے۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میرے کانوں نے سنی اور میرے دل نے اسے یاد رکھا ہے، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کا بھی مجھے علم ہے: جس نے جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات کو منسوب کیا، تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے اور میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ نہیں باندھتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تتعلق بحوض الكوثر / حدیث: 13131
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19480»
حدیث نمبر: 13132
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ شَكَّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ فِي الْحَوْضِ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَتَاهُ فَقَالَ لَهُ جُلَسَاءُ عُبَيْدِ اللَّهِ إِنَّمَا أَرْسَلَ إِلَيْكَ الْأَمِيرُ لِنَسْأَلَكَ عَنِ الْحَوْضِ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُهُ فَمَنْ كَذَّبَ بِهِ فَلَا سَقَاهُ اللَّهُ مِنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبیداللہ بن زیاد کو حوض کے بارے میں شک ہونے لگا، اس لیے اس نے سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کو بلوایا، جب یہ اس کے ہاں گئے تو اس کے ہم نشینوں نے ان سے کہا: امیر نے آپ کو اس لیے بلوایا ہے کہ ہم آپ رضی اللہ عنہ سے حوض کے متعلق دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ آیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حوض کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے، اور جو اس کوجھٹلائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو اس سے نہ پلائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تتعلق بحوض الكوثر / حدیث: 13132
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 4749 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19763 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20001»
حدیث نمبر: 13133
وَعَنْ أَبِي طَالُوتَ الْعَنَزِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَخَرَجَ مِنْ عِنْدِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ وَهُوَ مُغْضَبٌ فَقَالَ مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنِّي أَعِيشُ حَتَّى أَخْلُفَ فِي قَوْمٍ يُعَيِّرُونِي بِصُحْبَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالُوا إِنَّ مُحَمَّدِيَّكُمْ هَذَا لَدَحْدَاحٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الْحَوْضِ فَمَنْ كَذَّبَ فَلَا سَقَاهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو طالوت عنزی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کو غصے کی حالت میں دیکھا، جبکہ وہ اس وقت عبید اللہ بن زیاد کے پاس سے نکل رہے تھے اور کہہ رہے تھے: یہ تو میرا خیال نہیں تھا کہ مجھے اپنی زندگی میں یہ دن بھی دیکھنے پڑیں گے کہ لوگ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کی عار دلائیں گے، یہ میرے بارے میں کہتے ہیں: یہ تمہارا محمدی پست قد والا موٹوہے، جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حوض کر ذکر کرتے ہوئے سنا تھا، اب جو اس حوض کی تکذیب کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے اس سے نہ پلائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تتعلق بحوض الكوثر / حدیث: 13133
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20017»
حدیث نمبر: 13134
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنَا مَعْمَرٌ عَنْ مَطَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ شَكَّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ فِي الْحَوْضِ فَقَالَ لَهُ أَبُو سَبِرَةَ رَجُلٌ مِنْ صَحَابَةِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ فَإِنَّ أَبَاكَ حِينَ انْطَلَقَ وَافِدًا إِلَى مُعَاوِيَةَ انْطَلَقْتُ مَعَهُ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَحَدَّثَنِي مِنْ فِيهِ إِلَى فِيَّ حَدِيثًا سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمْلَاهُ عَلَيَّ وَكَتَبْتُهُ قَالَ فَإِنِّي أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَمَا أَعْرَقْتَ هَذَا الْبِرْذَوْنَ حَتَّى تَأْتِيَنِي بِالْكِتَابِ قَالَ فَرَكِبْتُ الْبِرْذَوْنَ فَرَكَضْتُهُ حَتَّى عَرَقَ فَأَتَيْتُهُ بِالْكِتَابِ فَإِذَا فِيهِ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُخَوَّنَ الْأَمِينُ وَيُؤْتَمَنَ الْخَائِنُ حَتَّى يَظْهَرَ الْفُحْشُ وَقَطِيعَةُ الْأَرْحَامِ وَسُوءُ الْجِوَارِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْقِطْعَةِ مِنَ الذَّهَبِ نَفَخَ عَلَيْهَا صَاحِبُهَا فَلَمْ تَتَغَيَّرْ وَلَمْ تَنْقُصْ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ لَكَمَثَلِ النَّحْلَةِ أَكَلَتْ طَيِّبًا وَوَضَعَتْ طَيِّبًا وَوَقَعَتْ فَلَمْ تَكْسِرْ وَلَمْ تَفْسُدْ“ قَالَ ”أَلَا إِنَّ لِي حَوْضًا مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْهِ كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى مَكَّةَ أَوْ قَالَ صَنْعَاءَ إِلَى الْمَدِينَةِ وَإِنَّ فِيهِ مِنَ الْأَبَارِيقِ مِلْءَ الْكَوَاكِبِ هُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا“ قَالَ أَبُو سَبِرَةَ فَأَخَذَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ الْكِتَابَ فَجَزِعْتُ عَلَيْهِ فَلَقِينِي يَحْيَى بْنُ يَعْمُرَ فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَيْهِ فَقَالَ وَاللَّهِ لَأَنَا أَحْفَظُ لَهُ مِنِّي لِسُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ فَحَدَّثَنِي بِهِ كَمَا كَانَ فِي الْكِتَابِ سَوَاءً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد اللہ بن بریدہ کہتے ہیں کہ عبیداللہ بن زیاد کو حوض کو ثر کے بارے میں شک ہوا،اس کے ہم نشینو ں میں سے ابو سبرہ نامی ایک شخص نے اس سے کہا: تمہارا والد جب وفد کی صورت میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو میں بھی اس کے ساتھ تھا،سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی، انھوں نے براہ راست مجھے ایک حدیث بیان کی، جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی، انھوں نے مجھے باقاعدہ املا کرائی اور میں نے اسے لکھ لیا۔ عبید اللہ نے کہا:میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ تم اس خچر کو اس قدر تیز دوڑاؤ کہ اسے پسینہ آجائے اور اس طرح تم وہ تحریر میرے پاس لے کر آؤ، ابو سبرہ کہتے ہیں: میں خچر پر سوار ہوا اوراسے ایڑی لگائی، یہاں تک کہ اسے خوب پسینہ آگیا اور میں وہ تحریرلے کر اس کے پاس واپس پہنچ گیا، اس میں تحریر تھا کہ مجھے سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فحش کلامی اور تکلف کے ساتھ فحش باتیں کرنے کو انتہائی نا پسند کرتا ہے، اس ذا ت کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک اس طرح نہیں ہو جاتا کہ دیانت دار کو خائن اور خائن کو دیانت دار قرار دیا جائے، فحش کلامی اور تکلف کے ساتھ فحش کلامی عام ہوجائے گی اور قطع رحمی اور ہمسایوں کے ساتھ بدسلوکی بھی عام ہوجائے گی۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! مومن کی مثال سونے کے ایک ٹکڑے کی طرح ہے کہ اگراس کا مالک اس پر پھونک مارے تو وہ نہ تبدیل ہوتا ہے اور نہ اس میں کوئی کمی آتی ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! مومن کی مثال شہد کی مکھی کی سی ہے، جو پاکیزہ چیز کھاتی اور پاکیزہ چیز نکالتی ہے، وہ جہاں بھی بیٹھتی ہے، نہ تو کسی چیز کو توڑتی ہے اور نہ اسے خراب کرتی ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: خبردار ! آخر ت میں میرا ایک حوض ہوگا، جس کے دونوں کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہو گا کہ جتنی مسافت ایلہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان یاصنعاء سے مدینہ منورہ کے درمیان ہے اور وہاں پانی پینے کے لیے برتنوں کی تعداد ستاروں سے بھی زیادہ ہوگی، حوض کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شریں ہوگا، جس نے ایک دفعہ وہ پی لیا، اس کے بعد وہ کبھی بھی پیاس محسو س نہیں کرے گا۔ ابو سبرہ کہتے ہیں: عبیداللہ بن زیاد نے وہ تحریر لے لی اور میں گھبرا گیا، اس کے بعد یحییٰ بن یعمرسے میری ملاقات ہوئی، میں نے ان سے اس چیز کا اظہار کیا، انھوں نے کہا: اللہ کی قسم مجھے یہ حدیث قرآنی سورت کی بہ نسبت بھی زیادہ یاد ہے، پھر انہوں نے مجھے وہ حدیث بعینہٖ اسی طرح بیان کر دی، جیسے وہ اس کتاب میں لکھی ہوئی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تتعلق بحوض الكوثر / حدیث: 13134
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه باخصر منه الحاكم: 1/ 75 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6872 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6872»
حدیث نمبر: 13135
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يَحْيَى ثَنَا حُسَيْنُ الْمُعَلِّمُ ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِي سَبِرَةَ قَالَ كَانَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ يَسْأَلُ عَنِ الْحَوْضِ حَوْضِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ يُكَذِّبُ بِهِ بَعْدَ مَا سَأَلَ أَبَا بَرْزَةَ وَالْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ وَعَائِذَ بْنَ عَمْرٍو وَرَجُلًا آخَرَ وَكَانَ يُكَذِّبُ بِهِ فَقَالَ أَبُو سَبِرَةَ أَنَا أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ فِيهِ شِفَاءُ هَذَا إِنَّ أَبَاكَ بَعَثَ مَعِيَ بِمَالٍ إِلَى مُعَاوِيَةَ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَحَدَّثَنِي بِمَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَمْلَى عَلَيَّ فَكَتَبْتُ بِيَدِي فَلَمْ أَزِدْ حَرْفًا وَلَمْ أَنْقُصْ حَرْفًا حَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ“ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَفِيهِ ”أَلَا إِنَّ مَوْعِدَكُمْ حَوْضِي عَرْضُهُ وَطُولُهُ وَاحِدٌ هُوَ كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ وَمَكَّةَ وَهُوَ مَسِيرَةُ شَهْرٍ فِيهِ مَثَلُ النُّجُومِ أَبَارِيقُ شَرَابُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ الْفِضَّةِ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ مَشْرَبًا لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهُ أَبَدًا“ فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ مَا سَمِعْتُ فِي الْحَوْضِ حَدِيثًا أَثْبَتَ مِنْ هَذَا فَصَدَّقَ بِهِ وَأَخَذَ الصَّحِيفَةَ فَحَبَسَهَا عِنْدَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) ابو سبرہ کہتے ہیں: عبیدا للہ بن زیاد، جناب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوض کے بارے میں دریافت کرتا رہتا تھا، وہ اس بارے میں سیدنا ابو برزہ ، سیدنا براء بن عازب ، سیدنا عائذبن عمرو اور ایک اور صحابی سے پوچھ چکا تھا، پھر بھی وہ اس کی تکذیب کیا کرتا تھا۔ ایک دن ابو سبرہ نے اس سے کہا: میں آپ کو ایک حدیث بیان کرتا ہوں، اس میں آپ کے اشکال کا حل موجود ہے، تمہارے والد نے مال دے کر مجھے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس روانہ کیا تھا، وہاں سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوگئی تھی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوئی احادیث مجھے بیان کیں اور ان کی املا بھی کرائی تھیں، میں نے ان احادیث کو اپنے ہاتھ سے لکھ لیا تھا، میں نے ان میں ایک حرف کی بھی کمی بیشی نہیں کی، انھوں نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: اللہ تعالیٰ فحش کلامی کو پسند نہیں کرتا، … اس سے آگے حدیث پہلی حدیث کی طرح ہے، البتہ اس میں یہ اضافہ ہے: خبردار! میرے ساتھ تمہاری ملاقات میرے حوض پر ہوگی، اس کا طول اور عرض برابر ہے، وہ ایلہ سے مکہ مکرمہ تک کی مسافت جتنا وسیع ہے، یہ ایک مہینے کی مسافت ہے، وہاں آسمان کے تاروں کی تعداد کے برابر پانی پینے کے برتن ہوں گے، اس حوض کا پانی چاندی سے زیادہ سفید ہوگا، جس نے ایک دفعہ وہ پی لیا، اس کے بعد اسے کبھی بھی پیاس محسوس نہیں ہوگی۔ یہ حدیث سن کر عبیداللہ بن زیاد نے کہا: میں نے حوض کوثر کے بارے میں اس سے زیادہ صحیح اور مضبوط حدیث نہیں سنی، پھر اس نے اس کی تصدیق کی اور اس صحیفہ (کتاب) کو لے کر اپنے پاس رکھ لیا۔
وضاحت:
فوائد: … ۱۔ اس فصل کی احادیث میں حوض کوثر کا اثبات ہے۔ نیز یہ بھی پتہ چلا کہ عبیداللہ بن زیاد شرو ع میں حوض کوثر کے وجود کا انکاری تھا۔ بعد میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی احادیث سن کر اس نے اپنے رائے سے رجوع کر لیا۔
۲۔ نیز معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جھوٹ بات کو عمداً منسوب کرنے والے کا انجام جہنم ہے۔
۳۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ عبیداللہ بن زیاد نے ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کو نبی کر یم کے صحابی ہونے کا طعنہ دیا اور بطور طنز ان کو محمدی کہا۔
۴۔ نیز معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو بطور عادت والی فحش کلامی اور بطور تکلف والی فحش کلامی بھی ناپسند ہے۔
۵۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی دیانت دار کو خائن اور خائن کو دیانت دار سمجھنا، بطور عادت فحش کلامی کرنا، اور تکلف کے ساتھ فحش کلامی کرنا، قطعی رحمی اور ہمسایوں کے ساتھ بدسلوکی یہ سب کام قیامت کی علامات میں سے ہیں۔
۶۔ نیز معلوم ہوا کہ حوض کوثر انتہائی وسیع و عریض ہوگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بطور تمثیل فرمایا کہ جس طرح ایلہ سے مکہ مکرمہ تک یا صنعاء سے مدینہ منورہ تک کی مسافت ہے۔ حوض کوثر کے دو کناروں یا دو جانبوں کے درمیان اسی طرح مسافت ہوگی۔ اور وہاں پانی پینے کے لیے برتن نجوم ہائے فلک کے برابر تعداد میں ہوں گے۔ اور حوض کوثر کا پانی دودھ سے سفید تر، شہد سے شیریں تر ہوگا اور اسے پینے والے کو کبھی پیاس محسوس نہیں ہوگی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تتعلق بحوض الكوثر / حدیث: 13135
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6514»