حدیث نمبر: 13128
عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ لِي حَوْضًا مَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى صَنْعَاءَ عَرْضُهُ كَطُولِهِ فِيهِ مِيزَابَانِ يَنْثَعِبَانِ مِنَ الْجَنَّةِ مِنْ وَرِقٍ وَالْآخَرُ مِنْ ذَهَبٍ أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ وَأَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ وَأَبْيَضُ مِنَ اللَّبَنِ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ حَتَّى يَدْخُلَ الْجَنَّةَ فِيهِ أَبَارِيقُ عَدَدُ نُجُومِ السَّمَاءِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آخرت میں میرا ایک حوض ہوگا، اس کی وسعت اس قد رہوگی جیسے ایلہ سے صنعاء تک کی مسافت ہے، اس کی چوڑائی اس کی لمبائی جتنی ہو گی، اس میں جنت سے آنے والے پانی کے دو پرنالے گر رہے ہوں گے، ایک پرنالہ چاندی کا ہوگا اور دوسرا سونے کا، اس کا پانی شہد سے زیادہ شیریں، برف سے زیادہ ٹھنڈا، دودھ سے زیادہ سفید ہوگا، جس نے اس سے ایک دفعہ پی لیا وہ جنت میں جانے تک پیاس محسوس نہیں کرے گا، اس کے آبخوروں کی تعداد آسمان کے تاروں جتنی ہوگی۔
حدیث نمبر: 13129
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضًا مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْهِ كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ وَأَذْرُحَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے آگے (یعنی آخرت میں) ایک حوض ہوگا، اس کے دو کناروں کے مابین اس قدر مسافت ہوگی، جس قدر جرباء اور اذرح کے درمیان ہے۔
حدیث نمبر: 13130
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ“ فَقَالَ يَزِيدُ بْنُ الْأَخْنَسِ السُّلَمِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَاللَّهِ مَا أُولَئِكَ فِي أُمَّتِكَ إِلَّا كَالذُّبَابِ الْأَصْهَبِ فِي الذُّبَّانِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”كَانَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ قَدْ وَعَدَنِي سَبْعِينَ أَلْفًا مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا وَزَادَنِي ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ“ (وَفِي رِوَايَةٍ ”مِنْ حَثَيَاتِ الرَّبِّ“) قَالَ فَمَا سِعَةُ حَوْضِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ ”كَمَا بَيْنَ عَدَنَ إِلَى عُمَانَ وَأَوْسَعَ وَأَوْسَعَ يُشِيرُ بِيَدِهِ قَالَ فِيهِ مَثْعَبَانِ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ“ قَالَ فَمَا حَوْضُكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ ”أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مَذَاقَةً مِنَ الْعَسَلِ وَأَطْيَبُ رَائِحَةً مِنَ الْمِسْكِ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا وَلَمْ يَسْوَدَّ وَجْهُهُ أَبَدًا“ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ وَقَدْ ضَرَبَ عَلَيْهِ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ قَدْ ضَرَبَ عَلَيْهِ لِأَنَّهُ خَطَأٌ إِنَّمَا هُوَ عَنْ زَيْدٍ عَنْ أَبِي سَلَامٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار افراد کو بلا حساب جنت میں داخل فرمائے گا۔ یہ سن کر سیدنا یزید بن اخنس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ تعداد تو آپ کی امت میں ایسے ہی ہے، جیسے عام مکھیوں میں سفید سرخی مائل رنگ کی مکھی ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ربّ نے میرے ساتھ ستر ہزار کا وعدہ کیا اور ہر ہزار کے ساتھ مزید ستر ہزار کا بھی وعدہ کیا اور اس پر مستزاد یہ کہ کہ اللہ تعالیٰ کی تین مٹھیاں اس تعداد کے علاوہ ہیں۔ انھوں نے پھر کہا: اللہ کے نبی!آپ کے حوض کی وسعت کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس قد رعدن سے عمان تک مسافت ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: بلکہ اس سے بھی زیادہ وسیع ہے، اس سے زیادہ وسیع ہے، اس میں دو پرنالے ہوں گے، ایک سونے کا ہو گا اور دوسرا چاندی کا۔ انھوں نے کہا: اللہ کے نبی! آپ کے حوض کا پانی کیسا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ شیریں اور کستوری سے بڑھ کر خوشبود ار ہوگا، جس نے ایک دفعہ وہاں سے پی لیا، اس کے بعد وہ کبھی بھی پیاس محسوس نہیں کرے گا اور اس کا چہرہ بھی کبھی سیاہ نہیں ہوگا۔ عبداللہ بن امام احمد کہتے ہیں: یہ حدیث میں نے اپنے والد کی کتاب میں ان کے ہاتھ کے ساتھ لکھی ہوئی پائی اور اس پر نشان لگایا گیا تھا، جس سے مجھے یہ بات سمجھ آئی کہ حدیث اس طرح ٹھیک نہیں دراصل یہ حدیث عن زید عن ابی سلام عن ابی امامہ کے واسطے سے مروی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
وضاحت:
فوائد: … (۱) اس سے معلوم ہوا کہ آخرت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک وسیع و عریض حوض عنایت کیا جائے گا اس میںجنت کی طرف سے دو پرنالے ہوں گے۔ ان میں سے ایک چاندی کا اور ایک سونے کا ہوگا۔ اس کا پانی دودھ سے سفید تر، شہد سے زیادہ شیریں اور برف سے بھی زیادہ ٹھنڈا ہوگا۔ اسے پینے والے کو کبھی پیاس محسوس نہیں ہوگی۔ وہاں پانی پینے کے لیے نجوم ہائے فلک سے بھی زیادہ تعداد میں برتن موجود ہوں گے۔ اور اس پانی کو پینے والے کا چہرہ کبھی سیاہ نہیں ہوگا۔
(۲) نیز معلوم ہوا کہ اس امت میں سے ستر ہزار آدمی بلا حساب جنت میں جائیں گے اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ستر ہزار آدمی ہوں گے۔
(۲) نیز معلوم ہوا کہ اس امت میں سے ستر ہزار آدمی بلا حساب جنت میں جائیں گے اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ستر ہزار آدمی ہوں گے۔