کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: امت محمدیہ کے بعض صالحین کی دوسرے بعض نیک لوگوں کے حق میں شفاعت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 13118
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْجَدْعَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَكْثَرُ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ“ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ سِوَاكَ قَالَ ”سِوَايَ سِوَايَ“ قُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنَا سَمِعْتُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن ابی جد عاء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کر یم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے ایک آدمی کی شفاعت کی وجہ سے قبیلہ ٔ بنو تمیم کے افراد سے بھی زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آدمی آپ کے علاوہ ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ میرے علاوہ ہو گا، میرے علاوہ۔ عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے کہا کہ تو نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خود سنا ہے۔
حدیث نمبر: 13119
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ لَيْسَ بِنَبِيٍّ مِثْلُ الْحَيَّيْنِ أَوْ مِثْلُ أَحَدِ الْحَيَّيْنِ رَبِيعَةَ وَمُضَرَ“ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَ مَا رَبِيعَةُ مِنْ مُضَرَ فَقَالَ ”إِنَّمَا أَقُولُ مَا أَقُولُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی، جو نبی بھی نہیں ہوگا، کی سفارش کی وجہ سے ربیعہ اور مضر دونوں یا ان میں سے ایک قبیلے کے افراد جتنے لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول ! کیا ربیعہ بھی مضر میں سے نہیں ہیں؟ فرمایا: میں نے جو بات کہہ دی، سو کہہ دی۔
حدیث نمبر: 13120
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ مِنْ أُمَّتِي لَمَنْ يَشْفَعَ لِأَكْثَرَ مِنْ رَبِيعَةَ وَمُضَرَ وَإِنَّ مِنْ أُمَّتِي لَمَنْ يَعْظُمُ لِلنَّارِ حَتَّى يَكُونَ رُكْنًا مِنْ أَرْكَانِهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں ایسے لوگ بھی ہیں، جو ربیعہ اور مضر کے قبیلوں کے افراد کی تعداد سے بھی زیادہ لوگوں کے حق میں شفاعت کریں گے، لیکن ایسے گنہگار لوگ بھی میری امت میں ہیں، کہ جو جہنم میں اس قدر بڑے ہو جائیں گے کہ جہنم کے کونوں میں ایک کونہ بن جائیں گے۔
حدیث نمبر: 13121
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”قَدْ أُعْطِيَ كُلُّ نَبِيٍّ عَطِيَّةً فَكُلٌّ قَدْ تَعَجَّلَهَا وَإِنِّي أَخَّرْتُ عَطِيَّتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي وَإِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أُمَّتِي يَشْفَعُ لِلْفِئَامِ مِنَ النَّاسِ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَشْفَعُ لِلْقَبِيلَةِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَشْفَعُ لِلْعَصَبَةِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَشْفَعُ لِلثَّلَاثَةِ وَلِلرَّجُلَيْنِ وَلِلرَّجُلِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی کر یم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کو ایک دعا بطورِ عطیہ دی گئی اور ہر نبی نے دنیا میں ہی جلدی جلدی وہ قبول کروا لی، لیکن میں نے اپنے عطیہ کو آخرت میں اپنی امت کے حق میں شفاعت کے لیے مؤخر کر رکھا ہے،جبکہ میری تو امت کا یہ حال ہو گا کہ اس کا ایک آدمی لوگوں کی بڑی بڑی جماعتوں کے حق میں شفاعت کرے گا اور وہ اس کے نتیجے میں جنت میں داخل ہو جائیں گے اور ایک آدمی ایک قبیلہ کے حق میں، ایک آدمی ایک گروہ کے حق میں، ایک آدمی تین افراد کے حق میں، ایک آدمی دو بندوں کے حق میں اور ایک آدمی ایک فرد کے حق میں شفاعت کرے گا۔
حدیث نمبر: 13122
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ مِثْلَهُ وَزَادَ ”وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَشْفَعُ لِلرَّجُلِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: اور کوئی آدمی، ایک فرد اور اس کے اہل خانہ کے حق میں شفاعت کرے گا،جس کے نتیجے میں وہ لوگ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں امت محمدیہ کی بھی بڑی شان اور مقام ہے، اس امت کے بعض افراد کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جہنمیوں کی شفاعت کرنے کی اجازت دی جائے گی