کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: بعض صحابہ کا نبی کر یم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے حق میں شفاعت کی درخواست کرنااور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہر اس شخص کے حق میں سفارش کرنا، جس کو اس حال میں موت آئی ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو
حدیث نمبر: 13112
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ قَالَ فَعَرَّسَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَانْتَهَيْتُ بَعْضَ اللَّيْلِ إِلَى مُنَاخِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَطْلُبُهُ فَلَمْ أَجِدْهُ قَالَ فَخَرَجْتُ بَارِزًا أَطْلُبُهُ وَإِذَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَطْلُبُ مَا أَطْلُبُ قَالَ فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذِ اتَّجَهَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْتَ بِأَرْضِ حَرْبٍ وَلَا نَأْمَنُ عَلَيْكَ فَلَوْلَا إِذْ بَدَتْ لَكَ الْحَاجَةُ قُلْتَ لِبَعْضِ أَصْحَابِكَ فَقَامَ مَعَكَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي سَمِعْتُ هَزِيزًا كَهَزِيزِ الرَّحَى أَوْ حَنِينًا كَحَنِينِ النَّحْلِ وَأَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَخَيَّرَنِي أَنْ يَدْخُلَ شَطْرُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ وَبَيْنَ شَفَاعَتِي لَهُمْ فَاخْتَرْتُ شَفَاعَتِي لَهُمْ وَعَلِمْتُ أَنَّهَا أَوْسَعُ لَهُمْ فَخَيَّرَنِي بِأَنْ يَدْخُلَ ثُلُثُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ فَاخْتَرْتُ لَهُمْ شَفَاعَتِي وَعَلِمْتُ أَنَّهَا أَوْسَعُ لَهُمْ“ فَقَالَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ تَعَالَى أَنْ يَجْعَلَنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ قَالَ فَدَعَا لَهُمَا ثُمَّ إِنَّهُمَا نَبَّهَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَخْبَرَاهُمْ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلُوا يَأْتُونَهُ وَيَقُولُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ تَعَالَى أَنْ يَجْعَلَنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ فَيَدْعُو لَهُمْ قَالَ فَلَمَّا أَضَبَّ عَلَيْهِ الْقَوْمُ وَكَثُرُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّهَا لِمَنْ مَاتَ وَهُوَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں دوران سفر تھے، رات کے آخری حصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آرام کے لیے ایک جگہ رکے، پھر میں رات کے کسی وقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آرام کرنے کی جگہ پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھنے گیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے وہاں نہ ملے، پھر تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاش کے لیے نکل کھڑا ہو گیا اورایک اور صحابی بھی میری طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاش میں تھا، ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تلاش کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف تشریف لے آئے،ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ دشمن کے علاقے میں ہیں، اس لیے ہم آپ کے بارے میں لاپروا نہیں رہ سکتے، اگر کوئی کام ہوتو اپنے کسی ساتھی سے کہہ دیا کریں تاکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جایا کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے چکی کے چلنے یا شہد کی مکھیوں کے بھنبھنانے کی سی آواز سنی اور میرے پاس میرے ربّ تعالیٰ کا ایک فرستادہ آگیا، اس نے مجھے دو میں سے ایک بات کا اختیار دیا کہ یا تو اللہ تعالیٰ میری نصف امت کو جنت میں داخل کردے یا میں ان کے حق میں شفاعت کروں، میں نے امت کے حق میں شفاعت والی بات کو اختیار کر لیا، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اس میں زیادہ وسعت ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس بات کا اختیار دیا کہ یا تو میری امت کا ایک تہائی حصہ جنت میں چلا جائے یا میں ان کے حق میں شفاعت کر لوں، تو میں نے ان کے حق میں شفاعت والی بات کو اختیار کیا، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ سفارش میں زیادہ وسعت ہے۔ یہ سن کر ان دو صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ ہمیں بھی ان لوگوں میں بنا دے، جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت نصیب ہوگی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کے حق میں دعا فرما دی۔ اس کے بعد وہ صحابہ کرام میں آئے اور ان کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ ساری بات بتلا دی، یہ سن کر باقی لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر یہی درخواست کرنے لگے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان کو بھی ان لوگوں میں سے بنا دے، جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت نصیب ہوگی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے حق میں بھی دعائیں کرتے رہے، لیکن جب کثرت سے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آکر اس بارے میں درخواست کرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری شفاعت ہر اس آدمی کے لیے ہوگی جواس حال میں مرے گا کہ وہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہ شہادت دیتا ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں پہلے نصف امت کا اور پھر ایک تہائی امت کا ذکر کیا گیا ہے، ممکن ہے کہ مؤخر الذکر الفاظ دو تہائی ہوں۔ واللہ اعلم۔
مسند احمد کے محقق نے لکھا ہے کہ صحیح یہ ہے کہ ثلث (ایک تہائی) والے الفاظ پہلے اور شطر (نصف) والے بعد میں ہیں، اس لحاظ سے مفہوم میں کوئی اشکال نہیں۔ (مسند محقق: ۳۲/ ۴۹۹)۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة / حدیث: 13112
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «قوله صلي الله عليه وآله وسلم في الشفاعة انھا لمن مات وھو يشھد ان لا اله الا الله)) صحيح لغيره، وقوله: ((خيرني بين ان يدخل شطر امتي الجنة، وبين شفاعتي لھم، فاخترت شفاعتي لھم)) حسن، وھذا اسناد ضعيف لجھالة حمزة بن علي بن مخفر، وسُكين بن عبد العزيز مختلف فيه ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19724 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19962»
حدیث نمبر: 13113
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنْ أَبِي مُوسَى أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحْرُسُهُ أَصْحَابُهُ فَقُمْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَلَمْ أَرَهُ فِي مَنَامِهِ فَأَخَذَنِي مَا قَدُمَ وَمَا حَدَثَ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ فَإِذَا أَنَا بِمُعَاذٍ قَدْ لَقِيَ الَّذِي لَقِيتُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَفِيهِ فَقَالَ ”أَنْتُمْ وَمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا فِي شَفَاعَتِي“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدناابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پہرہ دیا کرتے تھے، میں ایک رات کو اٹھا اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آرام گاہ میں نہیں دیکھا، مجھے تو اگلے پچھلے تمام اندیشوں نے آگھیرا، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاش میں نکلا، اس دوران سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی، ان کو بھی وہی پریشانی لاحق تھی، جو مجھے ہوئی تھی، … اس کے بعد گزشتہ حدیث کی مانند ہی ہے، البتہ اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اور ہر وہ آدمی جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا ہوگا، کے حق میں میری شفاعت ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: … یہ صحابۂ کرام کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ محبت تھی۔
اس حدیث میں صرف ایک دفعہ اختیار دینے کا ذکر ہے اور وہ نصف امت کے جنت میں داخلہ اور شفاعت کے درمیان ہے۔ (مسند محقق: ۳۲/ ۳۹۴)۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة / حدیث: 13113
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه الطبراني في الصغير : 784 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19618 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19847»
حدیث نمبر: 13114
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَقَدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً أَصْحَابُهُ وَكَانُوا إِذَا نَزَلُوا أَنْزَلُوهُ أَوْسَطَهُمْ فَفَزِعُوا وَظَنُّوا أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى اخْتَارَ لَهُ أَصْحَابًا غَيْرَهُمْ فَإِذَا هُمْ بِخَيَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرُوا حِينَ رَأَوْهُ وَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَشْفَقْنَا أَنْ يَكُونَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى اخْتَارَ لَكَ أَصْحَابًا غَيْرَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا بَلْ أَنْتُمْ أَصْحَابِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَيْقَظَنِي فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ نَبِيًّا وَلَا رَسُولًا إِلَّا وَقَدْ سَأَلَنِي مَسْأَلَةً أَعْطَيْتُهَا إِيَّاهُ فَاسْأَلْ يَا مُحَمَّدُ تُعْطَ فَقُلْتُ مَسْأَلَتِي شَفَاعَةٌ لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ“ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَمَا الشَّفَاعَةُ قَالَ ”أَقُولُ يَا رَبِّ شَفَاعَتِي الَّتِي اخْتَبَأْتُ عِنْدَكَ فَيَقُولُ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى نَعَمْ فَيُخْرِجُ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى بَقِيَّةَ أُمَّتِي مِنَ النَّارِ فَيَنْبِذُهُمْ فِي الْجَنَّةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، صحابہ کرام نے ایک رات نبی کر یم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی جگہ سے گم پایا، ان کا معمول یہ تھا کہ جب وہ کسی مقام پر ٹھہرتے تو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آرام گاہ اپنے درمیان بناتے، انھوں نے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی جگہ پر نہ پایا تو وہ گھبرا گئے اور انہوں نے سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیے ان کے علاوہ دوسرے لوگوں کو بطورِ ساتھی منتخب کر لیا ہے (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے ہیں)۔ سو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے، پھر جب انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کودیکھا تو خوشی سے اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا، پھر انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمیں تو یہ اندیشہ ہوگیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہمارے علاوہ دوسرے لوگوں کو آپ کا ساتھی بنا دیا ہے (یعنی آپ فوت ہو گئے ہیں)۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، ایسی کوئی بات نہیں ہے اور دنیا و آخرت میں تم ہی میرے صحابہ ہو، بات یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بیدار کر کے فرمایا: اے محمد! میں نے جتنے بھی رسول اور نبی مبعوث کیے، ہر ایک نے مجھ سے ایک ایک ایسی دعا کی کہ میں نے ہر صورت میں اس کی وہ دعا قبول کی،اے محمد! آپ بھی کوئی دعا کریں، وہ ضرور قبول ہوگی، تو میں نے عر ض کیا کہ میری دعا قیامت کے دن امت کے حق میں شفاعت ہوگی۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: شفاعت سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں کہوں گا کہ اے میرے رب! میری وہ سفارش جو میں نے تیرے پاس پوشیدہ کر کے رکھ دی تھی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ہاں،پھر اللہ تعالیٰ اس سفارش کی وجہ سے میری بقیہ امت کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر دے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة / حدیث: 13114
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، راشد بن داود الصنعاني لين الحديث، أخرجه الطبراني في الشاميين : 1101 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22771 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23152»
حدیث نمبر: 13115
وَعَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى بَنِي مَخْزُومٍ عَنْ خَادِمٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٍ أَوِ امْرَأَةٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يَقُولُ لِلْخَادِمِ ”أَلَكَ حَاجَةٌ“ قَالَ حَتَّى كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَاجَتِي قَالَ ”وَمَا حَاجَتُكَ“ قَالَ حَاجَتِي أَنْ تَشْفَعَ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ ”وَمَنْ دَلَّكَ عَلَى ذَلِكَ“ قَالَ رَبِّي قَالَ ”إِمَّا لَا فَأَعِنِّي بِكَثْرَةِ السُّجُودِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
نبی کر یم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک خادم یا خادمہ بیان کرتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خادم سے پوچھا کرتے تھے کہ: آیا تمہاری کوئی حاجت ہے؟ ایک دن ایسے ہو ا کہ خادم نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری ایک ضرورت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: وہ کون سی؟ اس نے کہا: میری حاجت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیامت کے دن میرے حق میں شفاعت فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تمہیں اس کے بارے میں کس نے بتلایا ہے؟ اس نے کہا: میرے ربّ نے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہی بات ہے تو تم کثرتِ سجود کے ساتھ میری اعانت کرو۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ جو لوگ اپنے حق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سفارش کا شرف حاصل کرنے کے خواہشمند ہوں، ان کو چاہیے کہ وہ نیک اعمال بھی کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة / حدیث: 13115
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16076 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16173»
حدیث نمبر: 13116
وَعَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ نَبِيَّ اللَّهِ أَنْ يَشْفَعَ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ قَالَ ”أَنَا فَاعِلٌ بِهِمْ“ قَالَ فَأَيْنَ أَطْلُبُكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ ”اطْلُبْنِي أَوَّلَ مَا تَطْلُبُنِي عَلَى الصِّرَاطِ“ قَالَ قُلْتُ فَإِذَا لَمْ أَلْقَكَ عَلَى الصِّرَاطِ قَالَ ”فَأَنَا عِنْدَ الْمِيزَانِ“ قَالَ قُلْتُ فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ عِنْدَ الْمِيزَانِ قَالَ ”فَأَنَا عِنْدَ الْحَوْضِ لَا أُخْطِئُ هَذِهِ الثَّلَاثَ مَوَاطِنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کر یم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کی کہ قیامت کے دن آپ میرے حق میں سفارش کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی میں قیامت کے دن لوگوں کے حق میں شفاعت کروں گا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے نبی! میں اس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہاں تلاش کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مجھے سب سے پہلے پل صراط پر تلاش کرنا۔ میں نے کہا: اگر آپ سے میری ملاقات پل صراط پر نہ ہو سکے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: توپھر میزان کے پاس مجھے تلاش کرنا۔ میں نے کہا: اگر میزان کے پاس بھی میں آپ کو نہ پا سکوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر میں حوض کو ثر کے پاس ہوں گا، قیامت کے دن میں ان تین مقامات میں سے کسی ایک پر ہی ہوں گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة / حدیث: 13116
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني، أخرجه الترمذي: 2433، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12825 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12856»
حدیث نمبر: 13117
وَعَنِ ابْنِ دَارَةَ مَوْلَى عُثْمَانَ قَالَ أَنَا لَبِالْبَقِيعِ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذْ سَمِعْنَاهُ يَقُولُ أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِشَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ فَتَدَاكَّ النَّاسُ عَلَيْهِ فَقَالُوا إِيِّهِ يَرْحَمُكَ اللَّهُ قَالَ يَقُولُ ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِكُلِّ عَبْدٍ مُسْلِمٍ لَقِيَكَ يُؤْمِنُ بِي وَلَا يُشْرِكُ بِكَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مولائے عثمان ابن دارہ کہتے ہیں: میں بقیع مقام پر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، ہم نے انہیں یوں کہتے ہوئے سنا: قیامت کے دن محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سفارش کے بارے میں سب سے زیادہ جانتا ہوں، یہ سن کر لوگ ان کے ارد گرد جمع ہوگئے اور کہنے لگے: کچھ اور کہو، اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے، (اس کی تفصیل بیان کر دو)۔انھوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرمائیں گے: اے اللہ ہر اس مسلمان بندے کو بخش دے جو مجھ پر ایمان رکھتا تھا اور تیرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة / حدیث: 13117
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10473 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10478»