کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: فرشتوں، نبیوں اور مومنوں کی شفاعت کا بیان، اس سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ توحید والے اپنے بندوں پر کس قدر مہربان ہے
حدیث نمبر: 13109
عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِذَا خَلَصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَمِنُوا فَمَا مُجَادَلَةُ أَحَدِكُمْ لِصَاحِبِهِ فِي الْحَقِّ تَكُونُ لَهُ فِي الدُّنْيَا بِأَشَدِّ مُجَادَلَةٍ لَهُ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لِرَبِّهِمْ فِي إِخْوَانِهِمُ الَّذِينَ أُدْخِلُوا النَّارَ قَالَ: يَقُولُونَ: رَبَّنَا إِخْوَانُنَا كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَنَا وَيَصُومُونَ مَعَنَا وَيَحُجُّونَ مَعَنَا فَأَدْخَلْتَهُمُ النَّارَ قَالَ: فَيَقُولُ: اذْهَبُوا فَأَخْرِجُوا مَنْ عَرَفْتُمْ فَيَأْتُونَهُمْ فَيَعْرِفُونَهُمْ بِصُوَرِهِمْ لَا تَأْكُلُ النَّارُ صُوَرَهُمْ فَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ النَّارُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَى كَعْبَيْهِ فَيُخْرِجُونَهُمْ فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مَنْ أَمَرْتَنَا ثُمَّ يَقُولُ: أَخْرِجُوا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ دِينَارٍ مِنَ الْإِيمَانِ ثُمَّ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ نِصْفِ دِينَارٍ حَتَّى يَقُولَ: مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ“ قَالَ: أَبُو سَعِيدٍ فَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْ بِهَذَا فَلْيَقْرَأْ هَذِهِ الْآيَةَ {إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا} ”قَالَ: فَيَقُولُونَ رَبَّنَا قَدْ أَخْرَجْنَا مَنْ أَمَرْتَنَا فَلَمْ يَبْقَ فِي النَّارِ أَحَدٌ فِيهِ خَيْرٌ قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ: شَفَعَتِ الْمَلَائِكَةُ وَشَفَعَ الْأَنْبِيَاءُ وَشَفَعَ الْمُؤْمِنُونَ وَبَقِيَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ قَالَ: فَيَقْبِضُ قَبْضَةً مِنَ النَّارِ أَوْ قَالَ: قَبْضَتَيْنِ نَاسٌ لَمْ يَعْمَلُوا لِلَّهِ خَيْرًا قَطُّ قَدِ احْتَرَقُوا حَتَّى صَارُوا حُمَمًا قَالَ: فَيُؤْتَى بِهِمْ إِلَى مَاءٍ يُقَالُ لَهُ مَاءُ الْحَيَاةِ فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحَبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ فَيَخْرُجُونَ مِنْ أَجْسَادِهِمْ مِثْلَ اللُّؤْلُؤِ فِي أَعْنَاقِهِمُ الْخَاتَمُ عُتَقَاءُ اللَّهِ قَالَ فَيُقَالُ لَهُمْ: ادْخُلُوا الْجَنَّةَ فَمَا تَمَنَّيْتُمْ أَوْ رَأَيْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ لَكُمْ عِنْدِي أَفْضَلُ مِنْ هَذَا قَالَ: فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا وَمَا أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ قَالَ: فَيَقُولُ: رِضَايِ عَلَيْكُمْ فَلَا أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ أَبَدًا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن جب اہل ایمان جہنم سے نجات پا کر مطمئن ہو جائیں گے تو دنیامیں کوئی مومن اپنے حق کے بارے میں اس قدر نہیں جھگڑتا، جتنا زیادہ یہ ایمان والے اپنے ان اہل ایمان بھائیوں کے بارے میں اپنے ربّ سے جھگڑا کریں گے، جن کو جہنم میں داخل کر دیا گیا ہوگا، وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! وہ ہمارے بھائی ہیں، ہمارے ساتھ نمازیں پڑھتے تھے، ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے، ہمارے ساتھ حج کرتے تھے، تو نے ان کو جہنم میں داخل کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اچھا جاؤ، تم ان میں سے جن جن کو پہچانتے ہو، ان کونکال لاؤ۔ وہ ان کے پاس آئیں گے اور ان کو چہروں سے پہچان لیں گے، کیونکہ آگ ان کے چہروں کو نہیں جلائے گی، ان میں کسی کو آگ نے اس کی نصف پنڈلی تک اور کسی کو ٹخنوں تک جلایا ہوا ہوگا، وہ ان کو نکال لائیں گے اور کہیں گے: اے ہمارے رب! تو نے ہمیں جن لوگوں کو وہاں سے نکال لانے کی اجازت دی تھی ان کو تو ہم لے آئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جس کے دل میں ایک دینار کے برابر بھی ایمان ہو، اب اس کو بھی نکال لاؤ، اس کے بعد فرمائے گا:جس کے دل میں نصف دینار کے برابر ایمان ہو، اس کو بھی نکال لاؤ، یہ سلسلہ جاری رہے گایہاں تک کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہے اسے بھی نکال لاؤ۔ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: جس کو اس حدیث پر یقین نہیں آتا ،وہ یہ آیت پڑھ لے: {اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ وَّ اِنْ تَکُ حَسَنَۃً یُّضٰعِفْھَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْہُ اَجْرًا عَظِیْمًا} (بے شک اللہ تعالیٰ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا، اگر کسی کی وہ (ذرہ برابر) بھی نیکی ہو تو وہ اسے بڑھا دیتا ہے اور اپنی طرف سے بہت زیادہ اجر عطا فرماتا ہے)۔اہل ایمان کہیں گے: اے ہمارے رب! تو نے ہمیں جن لوگوں کو نکال لانے کی اجازت دی تھی، ان کو تو ہم نکال لائے ہیں، اب جہنم میں کوئی ایسا آدمی نہیں رہا، جس کے دل میں کوئی خیر ہو۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: فرشتے سفارش کر چکے، انبیاء بھی سفارش کر چکے اور اہل ایمان نے بھی سفارش کر لی ہے، اب ارحم الرحمین باقی رہ گیا ہے، پھر اللہ تعالیٰ ایک یا دو مٹھیاں بھر کر ایسے جہنمیوں کو نکالے گا، جنہوں نے کبھی بھی نیکی نہیں کی ہوگی اور وہ جل جل کر کوئلے بن چکے ہوں گے، پھر انہیں ماء الحیاۃ کی طرف لایا جائے گا اور وہ ان پر ڈالا جائے گا،اس سے وہ یوں اگنے لگیں گے، جیسے سیلاب کے تنکوں اورجھاگ وغیرہ میں دانے اگتے ہیں، وہ اپنے جسموں میں سے موتیوں کی مانند صاف شفاف چمکتے ہوئے نکلیں گے، ان کی گردنوں پر ایک مہر ہوگی اس پر عُتَقَاءُ اللّٰہ لکھا ہوا ہوگا، ان سے کہا جائے گا: تم جنت میں داخل ہو جاؤاور تم جو تمنا کرو گے اور جو چیز دیکھو گے، وہ تمہاری ہو گی۔ اور تمہارے لیے میرے پاس اس سے بھی ایک بہترین چیز ہے۔ وہ کہیں گے: اے ہمارے ربّ ! اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: وہ ہے تمہارے اوپر میری رضا مندی، چنانچہ اب میں کبھی بھی تم سے ناراض نہیں ہوں گا۔
حدیث نمبر: 13110
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَيَتَمَجَّدَنَّ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى أُنَاسٍ مَا عَمِلُوا مِنْ خَيْرٍ قَطُّ فَيُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ بَعْدَ مَا احْتَرَقُوا فَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِهِ بَعْدَ شَفَاعَةِ مَنْ يَشْفَعُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کے لیے بہت زیادہ قابل تعظیم اس طرح ٹھہریں گے کہ ان لوگوں نے کبھی بھی کوئی نیکی نہیں کی ہوگی، لیکن وہ سفارش کرنے والوں کی سفارش کے بعد اپنی رحمت سے ان کو آگ سے نکال کر جنت میں داخل کر دے گا، جبکہ وہ وہاں جل چکے ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … ان سے مراد وہ لوگ ہیں، جنھوں نے اپنی زندگی میں توحید ورسالت کا اقرار تو کیا ہو گا، لیکن اس عمل کے علاوہ ان کے پاس کوئی نیکی نہیں ہو گی۔
حدیث نمبر: 13111
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”سَيَخْرُجُ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ احْتَرَقُوا وَكَانُوا مِثْلَ الْحُمَمِ فَلَا يَزَالُ أَهْلُ الْجَنَّةِ يَرُشُّونَ عَلَيْهِمُ الْمَاءَ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْقِثَّاءُ فِي حَمِيلَةِ السَّيْلِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کر یم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب جہنم سے ایسے لوگوں کو نکالا جائے گا، جو وہاں جل چکے ہوں گے، بلکہ جل جل کر کوئلہ بن چکے ہوں گے، اہل جنت ان پر پانی چھڑکتے رہیں گے، یہاں تک کہ وہ اس طرح صاف ہو کر اُگ آئیں گے، جیسے سیلاب کی جھاگ میں ککڑیاں اُگتی ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … جو مواد سیلاب کے ساتھ بہہ کر آتا ہے، اس میں پودا بہت جلدی اگتا ہے۔