حدیث نمبر: 13102
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”قَالَ يَجْتَمِعُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُلْهَمُونَ ذَلِكَ فَيَقُولُونَ لَوِ اسْتَشْفَعْنَا عَلَى رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ فَأَرَاحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا فَيَأْتُونَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَيَقُولُونَ يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ خَلَقَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِيَدِهِ وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ وَعَلَّمَكَ أَسْمَاءَ كُلِّ شَيْءٍ فَشَفِّعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ يُرِيحُنَا مَكَانَنَا هَذَا فَيَقُولُ لَهُمْ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ ذَنْبَهُ الَّذِي أَصَابَ فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَقُولُ وَلَكِنِ ائْتُوا نُوحًا فَإِنَّهُ أَوَّلُ رَسُولٍ بَعَثَهُ اللَّهُ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ لَهُمْ خَطِيئَتَهُ وَسُؤَالَهُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا لَيْسَ لَهُ بِهِ عِلْمٌ فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ بِذَلِكَ وَلَكِنِ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ فَيَأْتُونَ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَلَكِنِ ائْتُوا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ عَبْدًا كَلَّمَهُ اللَّهُ وَأَعْطَاهُ التَّوْرَاةَ فَيَأْتُونَ مُوسَى فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ لَهُمُ النَّفْسَ الَّتِي قَتَلَ بِغَيْرِ نَفْسٍ فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْ ذَلِكَ وَلَكِنِ ائْتُوا عِيسَى عَبْدَ اللَّهِ وَرَسُولَهُ وَكَلِمَتَهُ وَرُوحَهُ فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَلَكِنِ ائْتُوا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ فَيَأْتُونَنِي“ قَالَ الْحَسَنُ هَذَا الْحَرْفَ فَأَقُومُ فَأَمْشِي بَيْنَ سِمَاطَيْنِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ أَنَسٌ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ عَلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَيُؤْذَنَ لِي فَإِذَا رَأَيْتُ رَبِّي وَقَعْتُ أَوْ خَرَرْتُ سَاجِدًا إِلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي قَالَ ثُمَّ يُقَالُ ارْفَعْ مُحَمَّدُ قُلْ تُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَهُ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَحْمَدُ بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ ثُمَّ أَعُودُ الثَّانِيَةَ فَإِذَا رَأَيْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ وَقَعْتُ أَوْ خَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ثُمَّ يُقَالُ ارْفَعْ مُحَمَّدُ وَقُلْ تُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَهُ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَحْمَدُهُ بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ ثُمَّ أَعُودُ إِلَيْهِ الثَّالِثَةَ فَإِذَا رَأَيْتُ رَبِّي وَقَعْتُ أَوْ خَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ثُمَّ يُقَالُ ارْفَعْ مُحَمَّدُ وَقُلْ تُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَهُ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَحْمَدُهُ بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ ثُمَّ أَعُودُ الرَّابِعَةَ فَأَقُولُ يَا رَبِّ مَا بَقِيَ إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ“ فَحَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”فَيُخْرَجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيرَةً ثُمَّ يُخْرَجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ بُرَّةً ثُمَّ يُخْرَجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ ذَرَّةً“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اہل ِ ایمان اکٹھے ہوں گے، ان کوالہام کیا جائے گا، چنانچہ وہ کہیں گے کہ ہمیں چاہیے کہ ہم کسی کو سفارشی مقرر کریں تاکہ وہ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں سفارش کرے، تاکہ وہ ہمیں اس جگہ سے نجات دے، چنانچہ وہ آدم علیہ السلام کے پاس جا کر ان سے کہیں گے: اے آدم!آپ ابوالبشر ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا اور آپ کو ہر چیز کے نام سکھائے، آپ ہمارے حق میں اپنے ربّ کے ہاں سفارش تو کر دیں کہ وہ ہمیں اس جگہ سے نجات دلا دے، آدم علیہ السلام ان سے کہیں گے: میں اس کی جسارت نہیں کر سکتا،پھروہ اپنی غلطی کا ذکر کریں گے اور اپنے ربّ کے سامنے حاضر ہو کر سفارش کرنے سے معذرت کریں گے اور کہیں گے کہ تم لوگ نوح علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، وہ اللہ تعالیٰ کے پہلے رسول ہیں، جنہیں اہل زمین کی طرف مبعوث کیا گیا۔ چنانچہ وہ لوگ نوح علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے یہی سفارش کی درخواست کریں گے تو وہ بھی معذرت کرتے ہوئے کہیں گے کہ وہ یہ کام نہیں کرسکتے، پھر وہ اپنی ایک غلطی کا ذکر کریں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ایک ایسی دعا کر بیٹھے تھے کہ جس کا انہیں علم نہیں تھا، اس کی وجہ سے وہ اپنے ربّ کے سامنے جانے سے معذرت کریں گے اور کہیں گے کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ۔ پس وہ لوگ ان کی خدمت میں جائیں گے، لیکن وہ بھی یہ کام نہ کر سکنے کا کہیں گے اور یہ مشورہ دیں کے کہ تم لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، وہ اللہ تعالیٰ کے ایسے برگزیدہ بندے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے براہ راست کلا م کیا اور انہیں تورات عطا کی، لہٰذا لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچیں گے لیکن وہ بھی معذرت کریں گے کہ کہیں گے کہ میں تو ایک آدمی کو بلاوجہ قتل کر چکاہوں اور اس وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جانے سے معذرت کریں گے اور کہیں گے کہ تم لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، وہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے، اس کے رسول ، اس کا کلمہ اور اسکی روح ہیں۔ سو وہ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچ جائیں گے، لیکن وہ بھی معذرت کرتے ہوئے کہیں گے کہ میں یہ کام نہیں کرسکتا، البتہ تم لوگ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلے جاؤ، وہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کے اگلے پچھلے سب گناہوں کو معاف کر دیا ہے،ان کے بعد لوگ میرے پاس آئیں گے،میں ان کی درخواست سن کر اہل ایمان کے دو گروہوں کے درمیان چلتا ہوا جاؤں گا اورجاکر اپنے ربّ سے اجازت طلب کروں گا، مجھے اجازت مل جائے گی اور میں اپنے ربّ کو دیکھ کر اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤں گا، اللہ تعالیٰ جب تک چاہے گا مجھے سجدہ کرنے دے گا، اس کے بعد کہاجائے گا:اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ ،کہو تمہاری بات سنی جائے گی، مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا، سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی، تب میں سر اٹھاؤں گا اور اللہ تعالیٰ کی ایسی ایسی تعریفیں بیان کروں گا کہ جو اس وقت اللہ تعالیٰ مجھے سکھائے گا، پھر میں سفارش کرو ں گا اور میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی کہ آپ اس قسم کے لوگوں کو جنت میں لے جا سکتے ہیں، میں انہیں جنت میں داخل کر آؤں گا اور دوبارہ آجاؤں گا اور اپنے ربّ کو دیکھتے ہی اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجاؤں گا، اللہ تعالیٰ جب تک چاہے گا مجھے سجدہ کرنے دے گا۔ پھر مجھ سے کہا جائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ، کہو تمہاری بات سنی جائے گی، مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا، سفارش کروتمہاری سفارش قبول کی جائے گی، میں سجدہ سے اپنا سر اٹھاؤں گا اور اللہ تعالیٰ کی ایسی ایسی تعریفیں بیان کروں گا کہ اللہ تعالیٰ مجھے اسی وقت وہ الفاظ سکھائے گا، پھر میں سفارش کروں گا اور میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی کہ آپ اس قسم کے لوگوں کو جنت میں لے جاسکتے ہیں، میں تیسری دفعہ آ جاؤں گا اور اپنے ربّ کودیکھ کر اس کے سامنے سجدے میں گر جاؤں گا، جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا اور میں سجدہ ریز رہوں گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا کہ اے محمد! سر اٹھاؤ،کہو تمہاری بات سنی جائے گی، مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا، سفارش کروتمہاری سفارش قبول کی جائے گی، میں سجدہ سے سر اٹھاؤں گا اور اللہ تعالیٰ کی ایسی حمد بیان کروں گا کہ اللہ تعالیٰ مجھے وہ الفاظ اسی وقت سکھائے گا۔ پھر میں سفارش کروں گا اور میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی کہ آپ اس قسم کے لوگوں کو جنت میں لے جا سکتے ہیں، میں انہیں جنت میں داخل کرا کے چوتھی مرتبہ آجاؤں گا اور کہوں گا: اے ربّ ! اب یہاں جہنم میں وہی لوگ رہ گئے ہیں، جنہیں قرآن نے روک رکھاہے، (یعنی جن کے متعلق قرآن نے کہا ہے کہ یہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہیں گے)۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کر یم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم سے ہر اس آدمی کو نکال لیا جائے گا جس نے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ پڑھا ہوگا اور جس کے دل میں ایک جو کے برابر بھی ایمان ہوگا۔ پھر اس کے بعد جہنم سے ہر اس آدمی کو بھی نکال لیا جائے گا جس نے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ پڑھا ہو گااور اس کے دل میں گندم کے دانے کے برابر ایمان ہوگا، بعد ازاں جہنم سے ہر اس آدمی کو بھی نکال لیا جائے گا، جس نے لَا اِلَہَ اِلَّا اللّٰہُ پڑھا ہو اور اس کے دل میں ایک ذراہ برابر ایمان ہوگا۔
حدیث نمبر: 13103
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ حَدَّثَنِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي لَقَائِمٌ أَنْتَظِرُ أُمَّتِي تَعْبُرُ عَلَى الصِّرَاطِ إِذْ جَاءَنِي عِيسَى فَقَالَ هَذِهِ الْأَنْبِيَاءُ قَدْ جَاءَتْكَ يَا مُحَمَّدُ يَسْأَلُونَ أَوْ قَالَ يَجْتَمِعُونَ إِلَيْكَ وَيَدْعُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُفَرِّقَ جَمْعَ الْأُمَمِ إِلَى حَيْثُ يَشَاءُ اللَّهُ لِغَمٍّ مَا هُمْ فِيهِ وَالْخَلْقُ مُلْجَمُونَ فِي الْعَرَقِ وَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَهُوَ عَلَيْهِ كَالزُّكْمَةِ وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيَتَغَشَّاهُ الْمَوْتُ“ قَالَ قَالَ لِعِيسَى ”انْتَظِرْ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكَ“ قَالَ ”فَذَهَبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَامَ تَحْتَ الْعَرْشِ فَلَقِيَ مَا لَمْ يَلْقَ مَلَكٌ مُصْطَفًى وَلَا نَبِيٌّ مُرْسَلٌ فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى جِبْرِيلَ اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ فَقُلْ لَهُ ارْفَعْ رَأْسَكَ سَلْ تُعْطَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ“ قَالَ ”فَشُفِّعْتُ فِي أُمَّتِي أَنْ أَخْرِجَ مِنْ كُلِّ تِسْعَةٍ وَتِسْعِينَ إِنْسَانًا وَاحِدًا“ قَالَ ”فَمَا زِلْتُ أَتَرَدَّدُ عَلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَلَا أَقُومُ مَقَامًا إِلَّا شُفِّعْتُ حَتَّى أَعْطَانِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ ذَلِكَ أَنْ قَالَ يَا مُحَمَّدُ أَدْخِلْ مِنْ أُمَّتِكَ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ شَهِدَ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَوْمًا وَاحِدًا مُخْلِصًا وَمَاتَ عَلَى ذَلِكَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت پل صراط کو عبور کر رہی ہوگی اور میں ان کے انتظار میں کھڑا ہوں گا کہ عیسیٰ علیہ السلام میرے پاس آکر کہیں گے: اے محمد! یہ تمام انبیاء آپ کی خاطر جمع ہیں، وہ اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کر رہے ہیں کہ تمام امتیں جس غم میں مبتلا ہیں، وہ انہیں اس سے نکال کر ان کا حساب کتاب شروع کرے اور جدھر چاہے ان کو بھیج دے، جبکہ سب لوگوں کو منہوں تک پسینہ آ رہا ہو گا، اہل ایمان کی تکلیف تو زکام کی سی ہوگی اور کافروں پر تو موت کی کیفیت طاری ہوگی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عیسیٰ علیہ السلام سے فرمائیں گے: آپ انتظار کریں، میں آپ کے پاس واپس آتا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے جا کر کھڑے ہو جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کا ایسا ذکر کریں گے، جو کسی مقرب فرشتے یا بھیجے ہوئے نبی کو نصیب نہیں ہوا ہو گا، اُدھر اللہ تعالیٰ جبرائیل علیہ السلام کی طرف وحی کرے گا کہ تم جا کر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہو:اپنا سر اٹھاؤ اور مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا، سفارش کرو تمہاری سفارش مقبول ہوگی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی امت کے حق میں اتنی سفارش قبول کی جائے گی کہ آپ ہر ننانوے میں سے ایک آدمی کو جہنم سے نکال کر جنت میں لے جائیں،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بار بار اللہ تعالیٰ کے ہاں جاتے رہیں گے اور ہر دفعہ آپ کی سفارش قبول کی جاتی رہے گی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ یہ کہے گا: اے محمد! اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت میں جتنے افراد پیدا کیے، ان میں سے جس جس نے اخلاص کے ساتھ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی گواہی دی اور اسی پر فوت ہوا تو اسے جنت میں داخل کر لو۔