کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: قیامت کے دن کی ہولناکی اور سورج کے لوگوں کے سروں کے قریب ہو جانے کا بیان
حدیث نمبر: 13080
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: يَوْمًا كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مَا أَطْوَلَ هَذَا الْيَوْمَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! إِنَّهُ لَيُخَفَّفُ عَلَى الْمُؤْمِنِ حَتَّى يَكُونَ أَخَفَّ عَلَيْهِ مِنْ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ يُصَلِّيهَا فِي الدُّنْيَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی نے کہا: قیامت کا دن، جو پچاس ہزار برس کے برابر ہوگا،وہ کس قدر طویل دن ہوگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ دن مومن کے لیے اس قدر مختصر ہوگا کہ جتنی دیر میں دنیا میں ایک فرضی نماز ادا کرتا ہے، اس وقت سے بھی کم محسوس ہو گا۔
حدیث نمبر: 13081
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”تَدْنُو الشَّمْسُ مِنَ الْأَرْضِ فَيَعْرَقُ النَّاسُ، فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَبْلُغُ عَرَقُهُ عَقِبَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ الْعَجُزَ وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ الْخَاصِرَةَ وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ مَنْكِبَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ عُنُقَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ وَسَطَ فِيهِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ فَأَلْجَمَهَا فَاهُ“ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ هَكَذَا ”وَمِنْهُمْ مَنْ يُغَطِّيهِ عَرَقُهُ“ وَضَرَبَ بِيَدِهِ إِشَارَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سورج زمین کے بہت قریب آجائے گا، اس وجہ سے لوگ پسینے میں شرابور ہوں گے، بعض لوگوں کا پسینہ ایڑیوں تک، بعض نصف پنڈلی تک، بعض کا گھٹنوں تک اور بعض کا دبر تک ، بعض کا کوکھ تک، بعض کا کندھوں تک ، بعض کا گردن تک اور بعض کا منہ تک پہنچ جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے منہ تک کی کیفیت بیان کی اور بعض لوگوں کا پسینہ تو ان کو ڈھانپ لے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔
حدیث نمبر: 13082
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”تَدْنُو الشَّمْسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى قَدْرِ مِيلٍ وَزَادَ فِي حَرِّهَا كَذَا وَكَذَا، يَغْلِي مِنْهَا الْهَوَامُّ كَمَا يَغْلِي الْقُدُورَ يَعْرَقُونَ فِيهَا عَلَى قَدْرِ خَطَايَاهُمْ، مِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى كَعْبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغَ إِلَى سَاقَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغَ إِلَى وَسَطِهِ، وَمِنْهُمْ مَن يُلْجِمُهُ الْعَرَقُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سورج ایک نیزے کے بقدر قریب آجائے گا اور اس کی حرارت بھی کئی گناہ بڑھ جائے گی، اس کی حرارت کی وجہ سے دماغ یوں کھولیں گے، جیسے ہنڈیا ابلتی ہیں، لوگ اپنے اپنے گناہوں کے حساب سے پسینے میں شرابور ہوں گے، بعض لوگوں کا پسینہ ٹخنوں تک ، بعض کا پنڈلیوں تک، بعض کا کمر تک اور بعض کا منہ تک پہنچ جائے گا۔
حدیث نمبر: 13083
عَنْ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ، أُدْنِيَتِ الشَّمْسُ مِنَ الْعِبَادِ حَتَّى تَكُونَ قَدْرَ مِيلٍ أَوْ مِيلَيْنِ، قَالَ: فَتَصْهَرُهُمُ الشَّمْسُ، فَيَكُونُونَ فِي الْعَرَقِ كَقَدْرِ أَعْمَالِهِمْ، مِنْهُمْ مَنْ يَأْخُذُهُ إِلَى عَقِبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَأْخُذُهُ إِلَى حَقْوَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُلْجِمُهُ الْجَامَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہوگا تو سورج انسانوں کے اتنا قریب ہو جائے گا کہ وہ ایک یا دومیل کے فاصلے پر ہو گا، سورج ان کو جھلسے گا اور لوگ اپنے اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں شرابور ہوں گے، بعض کا ایڑیوں تک اور بعض کا کمر تک ہو گا اور بعض کا منہ تک پہنچ جائے گا۔
حدیث نمبر: 13084
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّ الْعَرَقَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَيَذْهَبُ فِي الْأَرْضِ سَبْعِينَ بَاعًا، وَإِنَّهُ لَيَبْلُغُ إِلَى أَفْوَاهِ النَّاسِ أَوْ إِلَى آذَانِهِمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن پسینہ زمین پر ستر ہاتھ تک پھیل جائے گا اور وہ لوگوں کے مونہوں یا گردنوں تک پہنچ جائے گا۔
حدیث نمبر: 13085
عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ لِعَظَمَةِ الرَّحْمَنِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى إِنَّ الْعَرَقَ لَيُلْجِمُ الرِّجَالَ إِلَى أَنْصَافِ آذَانِهِمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن رحمان کی تعظیم کے لیے لوگ ربّ العالمین کے لیے کھڑے ہوں گے، یہاں تک کہ پسینہ ان کے نصف کانوں تک پہنچا ہوا ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … لوگ گرمی کی شدت کی وجہ سے پسینے میں ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ زمین میں ستر ہاتھ تک پسینہ ہی پسینہ ہوگا، اور اپنے اپنے اعمال کے حساب سے لوگ پسینے میں ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ کوئی ایڑیوں تک، کوئی ٹخنوں تک، کوئی نصف پنڈلیوں تک، کوئی گھٹنوں تک، کوئی دبر تک، کوئی کمر تک، کوئی کندھوں تک، کوئی گردن تک، کوئی منہ تک اور کوئی نصف کانوں تک پسینے میں ڈوبا ہوا ہوگا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس دن کی سختی، گرمی، پریشانی اور گھبراہٹ سے محفوظ رکھے اور ہمارے لیے آسانی فرمائے۔ آمین۔