کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: قیامت کے اچانک برپا ہو جانے اور سب سے آخرمیں مرنے والے آدمی کا بیان ¤ لوگوں کو ان کی قبروں سے اٹھائے جانے ، میدان ِ حشر میں جمع کیے جانے اور ان کی اس وقت کی شدید گھبراہٹ کا بیان ¤ لوگوں کو اٹھائے جانے کا اور سب سے پہلے اٹھائے جانے والے بشر کا بیان
حدیث نمبر: 13065
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لِتَقُمِ السَّاعَةُ وَثَوْبُهُمَا بَيْنَهُمَا لَا يَطْوِيَانِهِ وَلَا يَتَبَايَعَانِهِ، وَلْتَقُمِ السَّاعَةُ وَقَدْ حَلَبَ لِقْحَتَهُ وَلَا يَطْعَمُهَا، وَلْتَقُمُ السَّاعَةُ وَقَدْ رَفَعَ لُقْمَتَهُ إِلَى فِيهِ وَلَا يَطْعَمُهَا، وَلْتَقُمِ السَّاعَةُ وَالرَّجُلُ يَلِيطُ حَوْضَهُ لَا يَسْقِي مِنْهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو آدمی کپڑے کی خرید و فروخت کر رہے ہوں گے، ان کے سامنے کپڑا پڑا ہوگا، لیکن نہ وہ اسے لپیٹ سکیں گے اور نہ بیع پوری ہو گی کہ قیامت برپا ہو جائے گی، ایک آدمی اونٹنی کا دودھ دوہ چکا ہوگا، مگر ابھی تک اسے پی نہیں سکے گا کہ قیامت قائم ہو جائے گی، اسی طرح ایک آدمی اپنے منہ کی طرف لقمہ اٹھائے گا، لیکن ابھی تک کھائے گا نہیں کہ قیامت برپا ہو جائے گی اور ایک آدمی اپنے حوض کو پلستر کر رہاہو گا، مگر اس سے پانی پینے کی نوبت نہیں آئے گی کہ قیامت قائم ہو جائے گی۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ قیامت اچانک قائم ہوگی، لوگ اپنے دنیاوی کاموںمیں مصروف ہوں گے مگر انہیں ان کی تکمیل کی فرصت نہیں مل سکے گی، کوئی خرید و فروخت کر رہا ہوگا، کوئی جانوروں کا دودھ دوہ رہا ہوگا، کوئی کھانا کھا رہا ہوگا، کوئی حوض وغیرہ کی تعمیر کر رہا ہو گا، مگر ان کے یہ کام پایۂ تکمیل کو پہنچنے سے پہلے پہلے قیامت قائم ہوگی۔
حدیث نمبر: 13066
عَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”يَتْرُكُونَ الْمَدِينَةَ عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ عَلَيْهِ لَا يَغْشَاهَا إِلَّا الْعَوَافِي“، قَالَ: يُرِيدُ عَوَافِيَ السِّبَاعِ وَالطَّيْرِ، ”وَآخِرُ مَنْ يُحْشَرُ رَاعِيَانِ مِنْ مُزَيْنَةَ يَنْعِقَانِ بِغَنَمِهِمَا فَيَجِدَانِهَا وَحُوشًا حَتَّى إِذَا بَلَغَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ حُشِرَا عَلَى وُجُوهِهِمَا أَوْ خَرَّا عَلَى وُجُوهِهِمَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: لوگ مدینہ کو خیر آباد کہہ دیں گے، حالانکہ وہ ان کے لیے سب سے بہتر ہو گا، (درندے اور پرندے جیسے) روزی کے متلاشی جانور اس کو اپنی آماجگاہ بنا لیں گے، سب سے آخر میں مزینہ قبیلے کے دو چرواہے اپنی بکریوں کو ڈانٹتے للکارتے مدینہ کی طرف آئیں گے، (جب پہنچیں گے تو) اسے اجاڑ اور ویران پائیں گا، جب وہ ثنیۂ وداع تک پہنچیں گے تو چہروں کے بل ان کو اکٹھا کیا جائے گا یا چہروں کے بل وہ گر پڑیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … اگرچہ مدینہ منورہ سے خلافت شام و عراق کی طرف منتقل ہوجانے کو اس حدیث کا مصداق ٹھہرایا گیا ہے، لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ یہ حالات قیامت کے قریب ظاہر ہوں گے۔ حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے مختلف شواہد بھی ذکر کیے ہیں۔ (ملاحظہ ہو:فتح الباری: ۴/ ۱۱۱، ۱۱۲)
حدیث نمبر: 13067
عَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”يَقْبِضُ اللَّهُ الْأَرْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ، أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس زمین کو اپنی مٹھی میں بند کر لے گا اور آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا اور پھر فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں، زمین والے بادشاہ کہاں ہیں؟
حدیث نمبر: 13068
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ”يَأْكُلُ التُّرَابُ كُلَّ شَيْءٍ مِنَ الْإِنْسَانِ إِلَّا عَجْبَ ذَنَبِهِ“، قِيلَ: وَمِثْلُ مَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ”مِثْلُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْهُ تَنْبُتُونَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مٹی دم کی جڑ کے آخری حصے کے علاوہ انسان کے پورے جسم کو کھا جاتی ہے۔ کسی نے کہا: اس کی مقدار کیا ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رائی کے دانے کے برابر، تم اسی سے دوبارہ اگو گے۔
وضاحت:
فوائد: … بعض افراد کے مکمل جسم بھی قبر میں سالم رہتے ہیں، بہرحال ہر شخص کی عجب الذنب باقی رہتی ہے، باقی جسم فنا ہو جائے یا باقی رہے، اسی سے انسان کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 13069
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن میں اولادِ آدم کا سردار ہوں گا اور مجھے اس پر فخر نہیں ہے، قیامت کے دن سب سے پہلے میری قبر سے زمین پھٹے گی اورمجھے اس پر بھی فخر نہیں ہے اور قیامت کے دن میں ہی سب سے پہلے سفارش کرنے والا ہوں گا اور میں اس پر بھی فخر نہیں کرتا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سرداری ہے، لیکن ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عجز و انکساری کا اظہار کر دیا۔
حدیث نمبر: 13070
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”يُبْعَثُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاءُ تَطِيشُ عَلَيْهِمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن جب لوگوں کو قبروں سے اٹھایا جائے گا تو آسمان ان پر ہلکی ہلکی بارش برسا رہا ہوگا۔
حدیث نمبر: 13071
وَعَنْ أَبِي رَزِينٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى؟ فَقَالَ: ”أَمَا مَرَرْتَ بِوَادٍ مُمَحَّلٍ ثُمَّ مَرَرْتَ بِهِ خَصِيبًا“ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: ”ثُمَّ تَمُرُّ بِهِ خَضِرًا“ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: ”كَذَلِكَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابورزین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم کبھی ایسی بے آباد وادی سے گزرے ہو کہ وہاں سے جب دوبارہ گزرے ہو تو وہ سر سبز ہوچکی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اسی طرح مردوں کو زندہ کرے گا۔
حدیث نمبر: 13072
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ قَالَ: ”فَكَذَلِكَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى وَذَلِكَ آيَتُهُ فِي خَلْقِهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اسی طرح ہی ہے، البتہ اس میں ہے: اسی طرح اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا اور یہ مخلوق میں اس کی نشانی ہے۔
حدیث نمبر: 13073
وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْبَهْزِيِّ عَنْ أَبِيهِ (مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: ”هَا هُنَا تُحْشَرُونَ ثَلَاثًا رُكْبَانًا وَمُشَاةً وَعَلَى وُجُوهِكُمْ تُوفُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعُونَ أُمَّةً، أَنْتُمْ آخِرُ الْأُمَمِ وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، تَأْتُونَ فِي الْقِيَامَةِ وَعَلَى أَفْوَاهِكُمْ الْفِدَامُ، أَوَّلُ مَا يُعْرِبُ عَنْ أَحَدِكُمْ فَخِذُهُ“ قَالَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ: فَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الشَّامِ فَقَالَ: ”إِلَى هَا هُنَا تُحْشَرُونَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں تین طرح سے اٹھایا جائے گا، بعض لوگ سوار ہوں گے، بعض پیدل چلنے والے ہوں گے اور بعض چہروں کے بل چلتے ہوں گے، تم قیامت کے دن ستر کے عدد کو پورا کرو گے، جبکہ تم آخری امت ہو اور تم اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ معزز ہو، تمہارے چہروں پرمہریں لگی ہوں گی، سب سے پہلے تمہاری رانیں بولیں گی۔ ابن ابی بکیر نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارضِ شام کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: تمہیں وہاں اکٹھا کیا جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … قیامت والے دن کل ستر امتیں ہوں گی، سب سے زیادہ تعداد والی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت ہو گی۔
کامل الایمان لوگ سوار ہو کر اور نیک و بد اعمال والے مؤمن پیدل جائیں گے۔
بڑی رسوائی ان کی ہو گی، جو پاؤں کے بجائے چہرے کے بل چل رہے ہوں گے، یہ کافر لوگ ہوں گے، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { وَمَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَہُمْ اَوْلِیَاء َ مِنْ دُوْنِہٖ وَنَحْشُرُہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ عُمْیًا وَّبُکْمًا وَّصُمًّا مَاْوٰیہُمْ جَہَنَّمُ کُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰہُمْ سَعِیْرًا } … اور جنھیں گمراہ کر دے تو تو ان کے لیے اس کے سوا ہرگز کوئی مدد کرنے والے نہیں پائے گا اور قیامت کے دن ہم انھیں ان کے چہروں کے بل اندھے اور گونگے اور بہرے اٹھائیں گے، ان کا ٹھکانا جہنم ہے، جب کبھی بجھنے لگے گی ہم ان پر بھڑکانا زیادہ کر دیں گے۔ (سورۂ اسرائ: ۹۷)
ناطق کے مقابلے میں غیر ناطق چیزوں کا گواہی دینے کو حجت و استدلال میں زیادہ بلیغ سمجھا جاتا ہے۔یہ موضوع قرآن مجید میں بھی بیان کیا گیا ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {حَتّٰی اِِذَا مَا جَائُ وْہَا شَہِدَ عَلَیْہِمْ سَمْعُہُمْ وَاَبْصَارُہُمْ وَجُلُودُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَo وَقَالُوْا لِجُلُودِہِمْ لِمَ شَہِدْتُمْ عَلَیْنَا قَالُوْا اَنطَقَنَا اللّٰہُ الَّذِیْ اَنطَقَ کُلَّ شَیْئٍ } (سورۂ حم السجدہ: ۲۰، ۲۱) … جب وہ (اللہ کے دشمن) جہنم کے قریب آ جائیں گے تو ان پر ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں، ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ یہ اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف شہادت کیوں دی۔ وہ جواب دیں گی کہ ہمیں اس اللہ نے قوت ِ گویائی عطا فرمائی جس نے ہر چیز کو بولنے کی طاقت بخشی ہے۔ سورۂ یسین میںبھی یہ موضوع بیان ہوا ہے۔
یہ میدان حشر کے ہولناک مناظرہیں۔ اَعَاذَنَا اللّٰہُ مِنْ غَضَبِہٖ بِفَضْلِہ۔
کامل الایمان لوگ سوار ہو کر اور نیک و بد اعمال والے مؤمن پیدل جائیں گے۔
بڑی رسوائی ان کی ہو گی، جو پاؤں کے بجائے چہرے کے بل چل رہے ہوں گے، یہ کافر لوگ ہوں گے، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { وَمَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَہُمْ اَوْلِیَاء َ مِنْ دُوْنِہٖ وَنَحْشُرُہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ عُمْیًا وَّبُکْمًا وَّصُمًّا مَاْوٰیہُمْ جَہَنَّمُ کُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰہُمْ سَعِیْرًا } … اور جنھیں گمراہ کر دے تو تو ان کے لیے اس کے سوا ہرگز کوئی مدد کرنے والے نہیں پائے گا اور قیامت کے دن ہم انھیں ان کے چہروں کے بل اندھے اور گونگے اور بہرے اٹھائیں گے، ان کا ٹھکانا جہنم ہے، جب کبھی بجھنے لگے گی ہم ان پر بھڑکانا زیادہ کر دیں گے۔ (سورۂ اسرائ: ۹۷)
ناطق کے مقابلے میں غیر ناطق چیزوں کا گواہی دینے کو حجت و استدلال میں زیادہ بلیغ سمجھا جاتا ہے۔یہ موضوع قرآن مجید میں بھی بیان کیا گیا ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {حَتّٰی اِِذَا مَا جَائُ وْہَا شَہِدَ عَلَیْہِمْ سَمْعُہُمْ وَاَبْصَارُہُمْ وَجُلُودُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَo وَقَالُوْا لِجُلُودِہِمْ لِمَ شَہِدْتُمْ عَلَیْنَا قَالُوْا اَنطَقَنَا اللّٰہُ الَّذِیْ اَنطَقَ کُلَّ شَیْئٍ } (سورۂ حم السجدہ: ۲۰، ۲۱) … جب وہ (اللہ کے دشمن) جہنم کے قریب آ جائیں گے تو ان پر ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں، ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ یہ اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف شہادت کیوں دی۔ وہ جواب دیں گی کہ ہمیں اس اللہ نے قوت ِ گویائی عطا فرمائی جس نے ہر چیز کو بولنے کی طاقت بخشی ہے۔ سورۂ یسین میںبھی یہ موضوع بیان ہوا ہے۔
یہ میدان حشر کے ہولناک مناظرہیں۔ اَعَاذَنَا اللّٰہُ مِنْ غَضَبِہٖ بِفَضْلِہ۔
حدیث نمبر: 13074
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى وُجُوهِهِمْ قَالَ: ”إِنَّ الَّذِي أَمْشَاهُمْ عَلَى أَرْجُلِهِمْ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُمْ عَلَى وُجُوهِهِمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، صحابہ کرام نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! لوگوں کو چہروں کے بل کیسے چلایا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس ذات نے انہیں پاؤں کے بل چلنے کی طاقت دی ہے، وہ انہیں چہروں کے بل چلانے پر بھی قادر ہے۔
حدیث نمبر: 13075
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”يُبْعَثُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَكُونُ أَنَا وَأُمَّتِي عَلَى تَلٍّ وَيَكْسُونِي رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى حُلَّةً خَضْرَاءَ، ثُمَّ يُؤْذَنُ لِي فَأَقُولُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَقُولَ: فَذَلِكَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب قیامت کے دن لوگوں کو اٹھایا جائے گا تو میں اور میری امت ایک بلند ٹیلے پر ہوں گے، میرا ربّ مجھے سبز رنگ کا لباس پہنائے گا، پھرمجھے اجازت دی جائے گی اور جیسے اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا، میں اس کی تعریف کروں گا، یہی مقامِ محمودہوگا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ وہی مقام محمود ہو گا، جہاں رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ ریز ہو کر اللہ تعالیٰ کے سکھائے ہو ئے کلمات کے ذریعے اس کی حمد و ثنا بیان کریں گے اور پھر وہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت کے بعد اپنی امت کے لیے شفاعت کریں گے۔