حدیث نمبر: 13060
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَاحِبَ الصُّورِ فَقَالَ ”عَنْ يَمِينِهِ جَبْرِيلُ وَعَنْ يَسَارِهِ مِيكَائِيلُ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صور پھونکنے والے فرشتے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: اس کی دائیں جانب جبرائیل علیہ السلام اور اس کی بائیں جانب میکائیل علیہ السلام ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … دو دفعہ صور پھونکا جائے گا، پہلی دفعہ لوگوں کو مارنے کے لیے اور دوسری دفعہ ان کو زندہ کرنے کے لیے۔
حدیث نمبر: 13061
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا الصُّورُ؟ قَالَ: ”قَرْنٌ يُنْفَخُ فِيهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک بدّو نے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! صور کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک سینگ ہے، اس میں پھونک ماری جائے گی۔
حدیث نمبر: 13062
عَنْهُ أَيْضًا: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”النَّفَّاخَانِ فِي السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ، رَأْسُ أَحَدِهِمَا بِالْمَشْرِقِ وَرِجْلَاهُ بِالْمَغْرِبِ“، أَوْ قَالَ: ”رَأْسُ أَحَدِهِمَا بِالْمَغْرِبِ وَرِجْلَاهُ بِالْمَشْرِقِ، يَنْتَظِرَانِ مَتَى يُؤْمَرَانِ يَنْفُخَانِ فِي الصُّورِ فَيَنْفُخَانِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صور پھونکنے والے دو فرشتے دو سرے آسمان پر ہیں، وہ اس قدر بڑے بڑے ہیں کہ ان میں سے ایک کا سر مشرق میں اور اس کے پاؤں مغرب میں ہیں۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں فرمایا: ان میں سے ایک کا سر مغرب میں اور اس کے پاؤں مشرق میں ہیں، وہ اس انتظار میں ہیں کہ انہیں کب صور میں پھونک مارنے کا حکم ملے تو وہ پھونک مار دیں۔
حدیث نمبر: 13063
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ قَالَ: ”كَيْفَ أَنْعَمُ وَقَدِ الْتَقَمَ صَاحِبُ الْقَرْنِ الْقَرْنَ وَحَنَى جَبْهَتَهُ وَأَصْغَى سَمْعَهُ يَنْتَظِرُ مَتَى يُؤْمَرُ“، قَالَ الْمُسْلِمُونَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَمَا نَقُولُ؟ قَالَ: ”قُولُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں خوشی کیونکر مناؤں جب کہ صور پھونکنے والا فرشتہ صور کو منہ میں لیے اپنی پیشانی کو جھکائے اور اپنی سماعت کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کیے ہوئے کھڑا ہے کہ کب اسے صور میں پھونک مارنے کا حکم ملتا ہے؟ یہ سن کر مسلمانوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کیا کہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم یہ کہو: حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ عَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلْنَا ہمارے لیے اللہ کافی ہے، وہ بہترین کار ساز ہے، ہم نے اللہ ہی پر توکل کیا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آخرت کے معاملات کے بارے میں فکر تھی، جب مسلمان کو آخرت کے واقعات کی وجہ سے گھبراہٹ اور فکر لاحق ہو تو درج ذیل دعا پڑھے۔
حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ، عَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلْنَا۔
حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ، عَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلْنَا۔
حدیث نمبر: 13064
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدِ الْتَقَمَ الْقَرْنَ وَحَنَى جَبْهَتَهُ وَأَصْغَى السَّمْعَ مَتَى يُؤْمَرُ“، قَالَ: فَسَمِعَ ذَلِكَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَشَقَّ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”قُولُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں کیسے خوش رہوں جب کہ صور پھونکنے والا فرشتہ صور کو منہ میں لیے پیشانی جھکائے اور کانوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف لگائے اس انتظار میں کھڑا ہے کہ کب اسے صور میں پھونک مارنے کا حکم ملتا ہے؟ جب صحابہ نے یہ بات سنی تو یہ ان پر بہت گراں گزری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم یہ کلمہ پڑھو: حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ ( ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے)۔
وضاحت:
فوائد: … اس موضوع سے متعلقہ ایک اور حدیث درج ذیل ہے: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ طَرْفَ صَاحِبِ الصُّوْرِ مُنْذُ وُکِّلَ بِہٖ مُسْتَعِدٌّ یَنْظُرُ نَحْوَ الْعَرْشِ، مَخَافَۃَ اَنْ یُّؤْمَرَ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْہِ طَرْفُہٗ، کَأَنَّ عَیْنَیْہِ کَوْکَبَانِ دُرِّیَّانِ۔)) … جب سے صور پھونکنے کی ذمہ داری صور پھونکنے والے فرشتے کو سونپی گئی، اس وقت سے اس کی نگاہ پلکوں کی جھپک کے بغیر عرش کی طرف لگی ہوئی ہے، اس ڈر سے کہ کہیںپلکوں کی جھپک کے لوٹنے سے پہلے ہی حکم نہ دے دیا جائے۔ (ہمیشہ سے کھلا رہنے کی وجہ سے) اس کی آنکھیں دو چمکدار ستاروں کی مانند لگتی ہیں۔ (حاکم: ۴/۵۵۸۔ ۵۵۹، صحیحہ:۱۰۷۸)