حدیث نمبر: 13054
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”سَتَخْرُجُ نَارٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ أَوْ مِنْ بَحْرِ حَضْرَمَوْتَ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ تَحْشُرُ النَّاسَ“ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَاذَا تَأْمُرُنَا قَالَ ”عَلَيْكُمْ بِالشَّامِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب قیامت سے پہلے حضر موت یا حضر موت کے سمندر سے ایک آگ نکلے گی، جو لوگوں کو جمع کرے گی۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ایسے وقت میں آپ ہمیں کیا حکم دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس وقت شام کے علاقے میں سکونت اختیار کرنا۔
حدیث نمبر: 13055
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”تَخْرُجُ نَارٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ أَوْ بِحَضْرَمَوْتَ فَتَسُوقُ النَّاسَ“ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَأْمُرُنَا قَالَ ”عَلَيْكُمْ بِالشَّامِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حضر موت کے علاقے سے ایک آگ نکلے گی، وہ لوگوں کو ہانک کر لے جائے گی۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں اس وقت کے بارے میں کیا حکم دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم شام کی سرزمین میں چلے جانا۔
وضاحت:
فوائد: … یمن کی اُس طرف والی انتہائی حدود میں حضرموت واقع ہے۔
حدیث نمبر: 13056
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أُسَيْدٍ قَالَ قَامَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا بَنِي غِفَّارٍ قُولُوا وَلَا تَخْتَلِفُوا فَإِنَّ الصَّادِقَ وَالْمَصْدُوقَ حَدَّثَنِي ”أَنَّ النَّاسَ يُحْشَرُونَ عَلَى ثَلَاثَةِ أَفْوَاجٍ فَوْجٌ رَاكِبِينَ طَاعِمِينَ كَاسِينَ وَفَوْجٌ يَمْشُونَ وَيَسْعَوْنَ وَفَوْجٌ تَسْحَبُهُمُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى وُجُوهِهِمْ وَتَحْشُرُهُمْ إِلَى النَّارِ“ فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ هَذَانِ قَدْ عَرَفْنَاهُمَا فَمَا بَالُ الَّذِينَ يَمْشُونَ وَيَسْعَوْنَ قَالَ ”يُلْقِي اللَّهُ الْآفَةَ عَلَى الظَّهْرِ حَتَّى لَا يَبْقَى ظَهْرٌ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ يَكُونُ لَهُ الْحَدِيقَةُ الْمُعْجِبَةُ فَيُعْطِيهَا بِالشَّارِفِ ذَاتِ الْقَتَبِ فَلَا يَقْدِرُ عَلَيْهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے بنو غفار! تم درست بات کیا کرو اور آپس میں اختلاف نہ کیا کرو، بے شک صادق و مصدوق یعنی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بیان کیا تھا کہ: لوگوں کو تین حصوں میں تقسیم کر کے لایا جائے گا، ایک حصہ ان لوگوں کاہو گا، جو سوار ہوں گے، اللہ کی رحمت کے امیدوار ہوں گے اور لباس بھی پہنا ہوا ہو گا، ایک حصہ وہ لوگ ہوں گے، جو چلتے اور دوڑتے ہوئے آئیں گے اور تیسری قسم کے وہ لوگ ہوں گے۔ جنہیں فرشتے چہروں کے بل گھسیٹ کر جہنم کی طرف لے جائیں گے۔ کسی پوچھنے والے نے پوچھا: ہم ان پہلی اور تیسری قسم کے لوگوں کو تو جانتے ہیں، یہ چلنے والے اور دوڑنے والوں کیسے اور کیوں ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سواریوں پر آفتیں نازل کرے گا، یہاں سواریاں بہت کم رہ جائیں گے، ایک آدمی کے پاس ایک شاندار باغ ہوگا، وہ ایک پالان والی اونٹنی حاصل کرنے کے لیے وہ سارا باغ دینے کو تیار ہوگا، مگروہ ایسی اونٹنی نہیں پا سکے گا۔
حدیث نمبر: 13057
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ بِشْرٍ أَوْ بِسْرٍ السُّلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”يُوشِكُ أَنْ تَخْرُجَ نَارٌ مِنْ حُبْسِ سَيْلٍ تَسِيرُ سَيْرَ بَطِيئَةِ الْإِبِلِ تَسِيرُ النَّهَارَ وَتُقِيمُ اللَّيْلَ تَغْدُو وَتَرُوحُ يُقَالُ غَدَتِ النَّارُ أَيُّهَا النَّاسُ فَاغْدُوا قَالَتِ النَّارُ أَيُّهَا النَّاسُ فَأَقِيلُوا رَاحَتِ النَّارُ أَيُّهَا النَّاسُ فَرُوحُوا مَنْ أَدْرَكَتْهُ أَكَلَتْهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا بشر یا بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایک آگ حبسِ سیل سے نکلے گی، وہ سست رفتار اونٹ کی طرح چلے گی، وہ دن کو چلے گی اور رات کو ٹھہر جائے گی، وہ صبح و شام کرے گی، کہاجائے گا: لوگو! آگ صبح کو چل پڑی ہے، تم بھی چل پڑو۔ لوگو! اب آگ قیلولہ کرنے لگی ہے، تم بھی سستا لو، اب آگ چل پڑی ہے، تم بھی چل پڑو، جس آدمی کو وہ آگ پا لے گی، اسے جلا دے گی۔
حدیث نمبر: 13058
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أُسَيْدٍ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَشْرَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ غُرْفَةٍ وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ السَّاعَةَ فَقَالَ ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَرَوْنَ عَشْرَ آيَاتٍ طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَالدُّخَانُ وَالدَّابَّةُ وَخُرُوجُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَخُرُوجُ عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ وَالدَّجَّالُ وَثَلَاثُ خُسُوفٍ خَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدْنٍ تَسُوقُ أَوْ تَحْشُرُ النَّاسَ تَبِيتُ مَعَهُمْ حَيْثُ بَاتُوا وَتَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم قیامت کا تذکرہ کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بالاخانے سے ہماری طرف جھانکا اور پھر فرمایا: تم جب تک یہ دس نشانیاں نہیں دیکھ لیتے، قیامت قائم نہیں ہوگی: آفتاب کا مغرب کی طرف سے طلوع ہونا، دھواں، چوپایہ، یاجوج ماجوج کا خروج، عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول، دجال، ان تین مقامات میں دھنسنے کے واقعات: مغرب میں دھنسنا، مشرق میں دھنسنا اور جزیرۂ عرب میں دھنسنا اور عدن کے انتہائی مقام سے ایک آگ کا نکلنا، جو لوگوں کو ہانک کر لے جائے گی، جہاں لوگ رات گزاریں گے وہ آگ بھی وہاں رات گزارے گی اور جہاں وہ قیلولہ کریں گے وہ بھی وہاں قیلولہ کر ے گی۔
وضاحت:
فوائد: … عدن یمن کا مشہور شہر ہے، قاموس میں ہے کہ عدن یمن میں ایک جزیرے کا نام ہے۔ یہ آگ اس اعتبار سے قیامت کی پہلی علامت ہے کہ اس کے بعد دنیوی امور کا وجود ختم ہو جائے گا اور اس لحاظ سے آخری نشانی ہے کہ قیامت کی جتنی نشانیاں بیان کی گئیں ہیں، ان میں سب سے آخری یہ آگ ہو گی، اس کے بعد صور پھونک دیا جائے گا۔
حافظ ابن حجر کی بحث کا خلاصہ: کل چار حشر ہوں گے، دو دنیا میں اور دو آخرت میں۔
۱۔ پہلا حشر، جس کاذکر سورۂ حشر میں ہے: {ہُوَ الَّذِیْ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ مِنْ دِیَارِہِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ } (سورۂ حشر: ۲) … وہی (اللہ) ہے، جس نے اہل کتاب میں سے کافروں کو ان کے گھروں سے، پہلے حشر کے وقت نکالا۔
اس سے مراد یہودی قبیلے بنو نضیر کی جلاو طنی ہے، جو مدینہ منورہ سے نکل کر خیبر میں جاکر مقیم ہو گئے۔ بہرحال یہ حشر کی کوئی مستقل قسم نہیں ہے۔
۲۔ دوسرے حشر کا ذکر ان احادیث میں کیا گیا ہے، جو قیامت کی علامت ہے، اس آگ کی جائے خروج کے بارے میں مختلف روایات ہیں، مثلاً مشرق سے، حجاز سے، حضرموت سے، عدن سے، ان میں جمع و تطبیق کی صورت یہ ہے کہ اس آگ کی ابتدا عدن کے انتہائی علاقے سے ہو گی، پھر یہ زمین میں پھیل جائے گی، اور یہ بھی ممکن ہے کہ دو تین مقامات سے آگ کی ابتداء ہو جائے، جیسا کہ قاضی عیاض نے کہا۔
۳۔ مردوں کو ان کی قبروں سے اٹھا کر موقف کی طرف لے کر جانا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَحَشَرْنَاھُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْھُمْ اَحَدًا}
۴۔ حساب و کتاب کے بعد لوگوں کو جنت و جہنم کی طرف لے کر جانا۔
درج بالا بحث کی مزید وضاحت درج ذیل حدیث سے ہوتی ہے: سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((سَتَکُوْنُ ھِجْرَۃٌ بَعْدَ ھِجْرَۃٍ فَخِیَارُ اَھْلِ الْاَرْضِ اَلْزَمُھُمْ مُھَاجَرَ اِبْرَاہِیْمَ، وَیَبْقٰی فِیْ الْاَرْضِ شِرَارُ اَھْلِھَا تَلْفِظُھُمْ اَرْضُوْھُمْ، تَقْذَرُھُمْ نَفْسُ اللّٰہِ،وَتَحْشُرُھُمُ النَّارُ مَعَ الْقِرَدَۃِ وَالْخَنَازِیْرِ۔)) … ہجرت کے بعد ہجرت ہوتی رہے گی، زمین کے باسیوں میں سب سے بہتر لوگ وہ ہوں گے، جو ابراہیم علیہ السلام کے دارِ ہجرت (شام) کو سب سے زیادہ لازم پکڑنے والے ہوں گے اور (قربِ قیامت کے وقت) برے لوگ ہی رہ جائیں گے۔ ان کی زمینیں انہیں نکال باہر پھینکیں گی، اللہ عزوجل بھی انہیں برا جانے گا اور آگ ان لوگوں کو بندروں اور خنزیروں کے ساتھ جمع کرے گی۔ (ابوداود: ۲۴۸۲) آخری جملے کا معنی یہ ہے کہ آگ ان کو جمع کرے گی اور ان کو ہانکے گی، یہ لوگ آگ سے ڈر کر جانوروں کے ساتھ بھاگیں گے۔
شام کا علاقہ اس وقت آگ کے پہنچنے سے سالم ہو گا اور رحمت والے فرشتے اس کی حفاظت کریں گے۔
حافظ ابن حجر کی بحث کا خلاصہ: کل چار حشر ہوں گے، دو دنیا میں اور دو آخرت میں۔
۱۔ پہلا حشر، جس کاذکر سورۂ حشر میں ہے: {ہُوَ الَّذِیْ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ مِنْ دِیَارِہِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ } (سورۂ حشر: ۲) … وہی (اللہ) ہے، جس نے اہل کتاب میں سے کافروں کو ان کے گھروں سے، پہلے حشر کے وقت نکالا۔
اس سے مراد یہودی قبیلے بنو نضیر کی جلاو طنی ہے، جو مدینہ منورہ سے نکل کر خیبر میں جاکر مقیم ہو گئے۔ بہرحال یہ حشر کی کوئی مستقل قسم نہیں ہے۔
۲۔ دوسرے حشر کا ذکر ان احادیث میں کیا گیا ہے، جو قیامت کی علامت ہے، اس آگ کی جائے خروج کے بارے میں مختلف روایات ہیں، مثلاً مشرق سے، حجاز سے، حضرموت سے، عدن سے، ان میں جمع و تطبیق کی صورت یہ ہے کہ اس آگ کی ابتدا عدن کے انتہائی علاقے سے ہو گی، پھر یہ زمین میں پھیل جائے گی، اور یہ بھی ممکن ہے کہ دو تین مقامات سے آگ کی ابتداء ہو جائے، جیسا کہ قاضی عیاض نے کہا۔
۳۔ مردوں کو ان کی قبروں سے اٹھا کر موقف کی طرف لے کر جانا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَحَشَرْنَاھُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْھُمْ اَحَدًا}
۴۔ حساب و کتاب کے بعد لوگوں کو جنت و جہنم کی طرف لے کر جانا۔
درج بالا بحث کی مزید وضاحت درج ذیل حدیث سے ہوتی ہے: سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((سَتَکُوْنُ ھِجْرَۃٌ بَعْدَ ھِجْرَۃٍ فَخِیَارُ اَھْلِ الْاَرْضِ اَلْزَمُھُمْ مُھَاجَرَ اِبْرَاہِیْمَ، وَیَبْقٰی فِیْ الْاَرْضِ شِرَارُ اَھْلِھَا تَلْفِظُھُمْ اَرْضُوْھُمْ، تَقْذَرُھُمْ نَفْسُ اللّٰہِ،وَتَحْشُرُھُمُ النَّارُ مَعَ الْقِرَدَۃِ وَالْخَنَازِیْرِ۔)) … ہجرت کے بعد ہجرت ہوتی رہے گی، زمین کے باسیوں میں سب سے بہتر لوگ وہ ہوں گے، جو ابراہیم علیہ السلام کے دارِ ہجرت (شام) کو سب سے زیادہ لازم پکڑنے والے ہوں گے اور (قربِ قیامت کے وقت) برے لوگ ہی رہ جائیں گے۔ ان کی زمینیں انہیں نکال باہر پھینکیں گی، اللہ عزوجل بھی انہیں برا جانے گا اور آگ ان لوگوں کو بندروں اور خنزیروں کے ساتھ جمع کرے گی۔ (ابوداود: ۲۴۸۲) آخری جملے کا معنی یہ ہے کہ آگ ان کو جمع کرے گی اور ان کو ہانکے گی، یہ لوگ آگ سے ڈر کر جانوروں کے ساتھ بھاگیں گے۔
شام کا علاقہ اس وقت آگ کے پہنچنے سے سالم ہو گا اور رحمت والے فرشتے اس کی حفاظت کریں گے۔