کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: کعبہ کا منہدم ہونااور جشیوں کے ہاتھوں اس کے خزانوں کو نکالا جانا
حدیث نمبر: 13044
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”يُبَايَعُ لِرَجُلٍ مَا بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ، وَلَنْ يَسْتَحِلَّ الْبَيْتَ إِلَّا أَهْلُهُ، فَإِذَا اسْتَحَلُّوهُ فَلَا يُسْأَلْ عَنْ هَلَاكَةِ الْعَرَبِ، ثُمَّ تَأْتِي الْحَبَشَةُ فَيُخَرِّبُونَهُ خَرَابًا لَا يَعْمُرُ بَعْدَهُ أَبَدًا، وَهُمُ الَّذِينَ يَسْتَخْرِجُونَ كَنْزَهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک (خلیفہ) کی حجراسود اور مقام ِ ابراہیم کے درمیان بیعت کی جائے گی اور اسی بیت اللہ والے یعنی اسی امت کے لوگ اس گھر کو حلال سمجھیں گے (اور اس پر چڑھائیاں کریں گے) اور جب ایسے ہو گا تو اس وقت کے عربوں کی تباہی کے بارے میں کچھ نہ پوچھا جائے، پھر حبشی لوگ آکر بیت اللہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے، اس کے بعد یہ گھر کبھی بھی آباد نہیں ہو گا، وہ لوگ اس کے خزانوں کو نکالیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … اسی امت کے لوگ بیت اللہ کو حلال سمجھیں گے
یعنی اہل اسلام خود بیت اللہ کو نقصان پہنچائیں گے اور اس کی حرمتوں کو پامال کریں گے۔ ایسے ہی ہوا، اپنوں کے ہاتھوں حرم کی بے حرمتی ہوتی رہی، تفصیل آ رہی ہے۔
حافظ ابن حجر کہتے ہیں: اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ یہ احادیث اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مخالف ہے: {اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمَا آمِنًا}، کیونکہ اس آیت کے مطابق تو حرم کو امن والا قرار دیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس وقت اصحاب الفیل کو اس سے روک لیا تھا، جب یہ مسلمانوں کا قبلہ ہی نہ تھا۔ سوال یہ ہے کہ اب حبشی اس پر کیسے مسلط آئیں گے، جبکہ یہ مسلمانوں کا قبلہ بھی بن چکا ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ اس حبشی کا یہ واقعہ آخری زمانہ میں قیامت کے قریب پیش آئے گا، اس وقت اللہ اللہ کہنے والا کوئی ایک شخص بھی اس زمین میں نہیں ہو گا، جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، جب تک اللہ اللہ کہا جانا بند نہ ہو جائے۔ اسی لیے سعید بن سمعان کی روایت میں یہ کہا گیا ہے کہ اس واقعہ کے بعد بیت اللہ کبھی بھی آباد نہیں ہو گا۔
لیکن یہ بات ضرور ہے کہ بیت اللہ میں قتال تو کیا گیا، پھر شامیوں نے یزید بن معاویہ کے زمانے میں اس پر چڑھائی کی، اس کے بعد بھی کئی حملے کیے گئے، جن میں سب سے بڑا حملہ قرامطہ کا تھا، جو چوتھی صدی ہجری میں پیش آیا، انھوں نے بے شمار مسلمان کو مَطاف میں قتل کیا اور حجراسود کو اکھاڑ کر اپنے علاقے میں لے گئے، پھر طویل مدت کے بعد واپس کیا تھا، اس کے بعد کئی لڑائیاں ہوئیں۔ لیکن اس سب کچھ کا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمَا آمِنًا} سے کوئی تناقض اور تضاد نہیں، کیونکہ یہ سارا مسلمانوں نے خود کیا، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور بیت اللہ کی حرمتوں کو پامال کرنے والے اہل بیت اللہ ہی ہوں گے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو پیشین گوئی پیش کی، معاملہ اسی طرح ہوا، اور دوسری بات یہ ہے کہ آیت سے یہ پتہ نہیں چلتا ہے کہ امن کا وجود استمراراً قائم رہے گا۔ واللہ اعلم۔ (فتح الباری: ۳/ ۵۸۹) یہ بھی ممکن ہے کہ اس آیت کے مصداق کو اغلب اوقات پر محمول کیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / علامات أخرى / حدیث: 13044
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابن حبان: 6827، والحاكم: 4/ 452 ، وابن ابي شيبة: 15/ 52، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7910 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7897»
حدیث نمبر: 13045
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”فِي آخِرِ الزَّمَانِ يَظْهَرُ ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ عَلَى الْكَعْبَةِ“، قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: ”فَيَهْدِمُهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آخری زمانہ میں باریک پنڈلیوں والا ایک آدمی کعبہ پر چڑھے گا اور اس کو گرا دے گا۔
وضاحت:
فوائد: … آگے حدیث آرہی ہے کہ وہ حبشی آدمی کعبہ چڑھ کر اس کا ایک ایک پتھر گرائے گا۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / علامات أخرى / حدیث: 13045
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1591، ومسلم: 2909، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8094 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8080»
حدیث نمبر: 13046
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”يُخَرِّبُ الْكَعْبَةَ ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنَ الْحَبَشَةِ، وَيَسْلُبُهَا حِلْيَتَهَا، وَيُجَرِّدُهَا مِنْ كِسْوَتِهَا، وَلَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ أُصَيْلِعَ أُفَيْدِعَ، يَضْرِبُ عَلَيْهَا بِمِسْحَاتِهِ وَمِعْوَلِهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حبشہ کا باریک پنڈلیوں والا ایک حکمران کعبہ کو منہدم کر کے اس کے خزانوں کو لوٹے گا اور اس کا غلاف اتار لے گا، میں گویا کہ اب بھی اسے دیکھ رہا ہوں، اس کا سر گنجا اور پنڈلیاں مڑی ہوئی ہیں اور اس گھر پر اپنا کدال اور گینتی چلا رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / علامات أخرى / حدیث: 13046
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «بعضه مرفوع صحيح، وبعضه يروي مرفوعا وموقوفا، والموقوف اصح، أخرجه بنحوه ابوداود: 4309 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7053 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7053»
حدیث نمبر: 13047
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”أُتْرُكُوا الْحَبَشَةَ مَا تَرَكُوكُمْ، فَإِنَّهُ لَا يَسْتَخْرِجُ كَنْزَ الْكَعْبَةِ إِلَّا ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنَ الْحَبَشَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوامامہ بن سہل بن حنیف سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ایک صحابی کو سنا کہ وہ بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم حبشی لوگوں کو اس وقت تک نہ چھیڑو، جب تک وہ تمہیں چھوڑیں رکھیں، کیونکہ کعبہ کے خزانوں کو نکالنے والا چھوٹی پنڈلیوں والا حبشی ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … حبشیوں کے بارے میں یہ رخصت دینے کا پس منظر یہ تھا کہ حبشی علاقہ مسلمانوں کے علاقوں سے بہت دور تھا، اس تک پہنچنے کے لیے بہت زیادہ محنت و مشقت درکار تھی، اسی قسم کا معاملہ ترکوں کا ہے، کہ ان کا علاقہ بہت ٹھنڈا تھا، جبکہ اس وقت عرب لوگوں کا خطہ گرم تھا اور ترک لوگ لڑنے میں بھی بڑے سخت تھے۔ ان امور کو دیکھ کر مشروط خاموشی اختیار کرنے کی تعلیم دی گئی۔ لیکن اگر ایسے ہو کہ وہ مسلمانوں کے علاقوں میں گھس آئیں تو ان سے ہر ایک کا لڑنا ضروری ہو جائے گا۔
کعبہ کے خزانے سے مراد اس میں دفن شدہ مال ہے، حبشیوں کے مذکورہ شرّ کی وجہ سے ان سے جنگ نہ چھیڑنے کی تلقین کی گئی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / علامات أخرى / حدیث: 13047
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 4309 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23155 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23542»
حدیث نمبر: 13048
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ أَسْوَدَ أَفْحَجَ يَنْقُضُهَا حَجَرًا حَجَرًا“، يَعْنِي الْكَعْبَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں گویا کالے رنگ کے اس آدمی کی طرف دیکھ رہا ہوں، جس کے پیروں کے اگلے حصے قریب اور ایڑھیاں دور ہیں، وہ کعبہ کے پتھروں کو ایک ایک کر کے گرا رہا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … حبشی لوگوں کی پنڈلیاں بالعموم باریک ہوتی ہیں، لیکن اس شخص کی پنڈلیاں اتنی زیادہ باریک ہوں گی کہ وہ دوسرے حبشیوں سے بھی ممتاز نظر آئے گا۔
معلوم ایسے ہوتا ہے کہ ذو السویقتین حبشی کا زمانہ عیسی علیہ السلام کے بعد اور قیامت کے قریب ہو گا، کیونکہ دجال کے زمانے میں حرمین شریفین آباد ہوں گے، صحیح بخاری (۱۵۹۳) کی روایت کے مطابق یاجوج ماجوج کے بعد بھی بیت اللہ کا حج و عمرہ کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / علامات أخرى / حدیث: 13048
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1595 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2010 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2010»