کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سیدنا ابو الیسر کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11973
عَنْ أَبِي الْيَسَرِ كَعْبِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ وَاللَّهِ إِنَّا لَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ عَشِيَّةً إِذْ أَقْبَلَتْ غَنَمٌ لِرَجُلٍ مِنْ يَهُودَ تُرِيدُ حِصْنَهُمْ وَنَحْنُ مُحَاصِرُوهُمْ إِذْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ رَجُلٌ يُطْعِمُنَا مِنْ هَذِهِ الْغَنَمِ“ قَالَ أَبُو الْيَسَرِ فَقُلْتُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”فَافْعَلْ“ قَالَ فَخَرَجْتُ أَشْتَدُّ مِثْلَ الظَّلِيمِ فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُوَلِّيًا قَالَ ”اللَّهُمَّ أَمْتِعْنَا بِهِ“ قَالَ فَأَدْرَكْتُ الْغَنَمَ وَقَدْ دَخَلَتْ أَوَائِلُهَا الْحِصْنَ فَأَخَذْتُ شَاتَيْنِ مِنْ أُخْرَاهَا فَاحْتَضَنْتُهُمَا تَحْتَ يَدَيَّ ثُمَّ أَقْبَلْتُ بِهِمَا أَشْتَدُّ كَأَنَّهُ لَيْسَ مَعِي شَيْءٌ حَتَّى أَلْقَيْتُهُمَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَبَحُوهُمَا فَأَكَلُوهُمَا فَكَانَ أَبُو الْيَسَرِ مِنْ آخِرِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَلَاكًا فَكَانَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ بَكَى ثُمَّ يَقُولُ أَمْتِعُوا بِي لَعَمْرِي كُنْتُ آخِرَهُمْ (قَالَ جَامِعُهُ رَحِمَهُ اللَّهُ وَاللَّهِ لَقَدْ جَاءَ هَذَا الْحَدِيثُ آخِرَ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ بِدُونِ قَصْدٍ وَقَدْ جَاءَ فِي آخِرِهِ لَعَمْرِي كُنْتُ آخِرَهُمْ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوالیسر کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم دن کے پچھلے پہر خیبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک یہودی کا بکریوں کا ریوڑ آیا، جو قلعہ کے اندر جانا چاہتا تھا اور ہم ان یہودیوں کا محاصرہ کئے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون سا جوان ہمیں ان بکریوں میں سے پکڑ کر کھلائے گا؟ ابو الیسر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس خدمت کے لیے میں حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، کاروائی کرو۔ ابو الیسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں فوراً شتر مرغ کی طرح دوڑتا ہو اگیا، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے جاتے دیکھا تو فرمایا: یا اللہ! ہمیں اس کے ذریعے فائدہ پہنچا۔ میں بکریوں تک پہنچ گیا، ریوڑ کا پہلا حصہ قلعہ میں داخل ہو چکا تھا، میں نے ریوڑ کے آخری حصہ میں سے دو بکریوں کو قابو کر لیا اور میں نے ان کو اپنے بازو کے نیچے بغلوں میں دبا لیا اور میں ان کو لیے اس طرح دوڑتا ہوا آیا گویا کہ میں نے کوئی چیز اٹھائی ہوئی نہیں۔صحابۂ کرام نے ان بکریوں کو ذبح کرکے تناول کیا۔سیدنا ابو الیسر رضی اللہ عنہ صحابہ میں سے سب سے آخر میں فوت ہونے والے صحابی ہیں۔ جب وہ یہ واقعہ بیان کرتے تو رو پڑتے اور کہتے: مجھ سے فائدہ اٹھا لو، میری زندگی کی قسم! میں اس وقت آخری صحابی زندہ ہوں۔ اس کی کتاب کا جامع احمد عبدالرحمن بنا کہتا ہے کہ اللہ کی قسم! اتفاق سے بلا قصد یہ حدیث مناقب صحابہ کے آخر میں آگئی ہے۔ اور اس حدیث کے آخری الفاظ بھی اتفاق سے یہی ہیں کہ میں اس وقت آخری صحابی زندہ ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو الیسر کعب بن عمرو بن عباد انصاری سلمی رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں،یہ اپنے نام اور کنیت دونوں سے معروف ہیں، انہیں بیعت عقبہ اور غزوۂ بدر میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی، انہوںنے غزوۂ بدر میں سیدنا عباس بن عبدالمطلب کو اسیر بنایا تھا۔ (۵۵) سن ہجری میں مدینہ منورہ میں ان کا انتقال ہوا، یہ بدری صحابہ میں سب سے آخر میں فوت ہونے والے ہیں، ویسے علی الاطلاق سب سے آخر میں وفات پانے والے صحابی کا نام سیدنا ابوالطفیل رضی اللہ عنہ ہے، جیسا کہ حدیث نمبر (۱۱۶۰۸) میں گزرا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11973
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف بريدة بن سفيان الاسلمي، ولابھام رواته عن ابي اليسر ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15525 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15610»