کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سیدنا ابو قتادہ حارث بن ربعی سلمی رضی اللہ عنہ کاتذکرہ
حدیث نمبر: 11950
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَقَالَ ”إِنَّكُمْ إِنْ لَا تُدْرِكُوا الْمَاءَ غَدًا تَعْطَشُوا“ وَانْطَلَقَ سَرَعَانُ النَّاسِ يُرِيدُونَ الْمَاءَ وَلَزِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَالَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَاحِلَتُهُ فَنَعَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَعَمْتُهُ فَأَدْعَمَ ثُمَّ مَالَ فَدَعَمْتُهُ فَأَدْعَمَ ثُمَّ مَالَ حَتَّى كَادَ أَنْ يَنْجَفِلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ فَدَعَمْتُهُ فَانْتَبَهَ فَقَالَ ”مَنِ الرَّجُلُ“ قُلْتُ أَبُو قَتَادَةَ قَالَ ”مُذْ كَمْ كَانَ مَسِيرُكَ“ قُلْتُ مُنْذُ اللَّيْلَةِ قَالَ ”حَفِظَكَ اللَّهُ كَمَا حَفِظْتَ رَسُولَهُ“ ثُمَّ قَالَ ”لَوْ عَرَّسْنَا“ فَمَالَ إِلَى شَجَرَةٍ فَنَزَلَ فَقَالَ ”انْظُرْ هَلْ تَرَى أَحَدًا“ قُلْتُ هَذَا رَاكِبٌ هَذَانِ رَاكِبَانِ حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةً فَقَالَ ”احْفَظُوا عَلَيْنَا صَلَاتَنَا“ فَنِمْنَا فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ فَانْتَبَهْنَا فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَارَ وَسِرْنَا هُنَيْهَةً ثُمَّ نَزَلَ فَقَالَ ”أَمَعَكُمْ مَاءٌ“ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ مَعِي مِيضَأَةٌ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ قَالَ ”ائْتِ بِهَا“ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ ”مَسُّوا مِنْهَا مَسُّوا مِنْهَا“ فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ وَبَقِيَتْ جَرْعَةٌ فَقَالَ ”ازْدَهِرْ بِهَا يَا أَبَا قَتَادَةَ فَإِنَّهُ سَيَكُونُ لَهَا نَبَأٌ“ ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ وَصَلَّوْا الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ثُمَّ صَلَّوْا الْفَجْرَ ثُمَّ رَكِبَ وَرَكِبْنَا فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ فَرَّطْنَا فِي صَلَاتِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَا تَقُولُونَ إِنْ كَانَ أَمْرَ دُنْيَاكُمْ فَشَأْنُكُمْ وَإِنْ كَانَ أَمْرَ دِينِكُمْ فَإِلَيَّ“ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَرَّطْنَا فِي صَلَاتِنَا فَقَالَ ”لَا تَفْرِيطَ فِي النَّوْمِ إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَصَلُّوهَا وَمِنَ الْغَدِ وَقْتَهَا“ ثُمَّ قَالَ ”ظُنُّوا بِالْقَوْمِ“ قَالُوا إِنَّكَ قُلْتَ بِالْأَمْسِ ”إِنْ لَا تُدْرِكُوا الْمَاءَ غَدًا تَعْطَشُوا“ فَالنَّاسُ بِالْمَاءِ فَقَالَ أَصْبَحَ النَّاسُ وَقَدْ فَقَدُوا نَبِيَّهُمْ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْمَاءِ وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَقَالَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ لِيَسْبِقَكُمْ إِلَى الْمَاءِ وَيُخَلِّفَكُمْ وَإِنْ يُطِعِ النَّاسُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ يَرْشُدُوا قَالَهَا ثَلَاثًا فَلَمَّا اشْتَدَّتِ الظَّهِيرَةُ رَفَعَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْنَا عَطَشًا تَقَطَّعَتِ الْأَعْنَاقُ فَقَالَ ”لَا هُلْكَ عَلَيْكُمْ“ ثُمَّ قَالَ ”يَا أَبَا قَتَادَةَ ائْتِ بِالْمِيضَأَةِ“ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ ”احْلِلْ لِي غُمَرِي“ يَعْنِي قَدَحَهُ فَحَلَلْتُهُ فَأَتَيْتُهُ بِهِ فَجَعَلَ يَصُبُّ فِيهِ وَيَسْقِي النَّاسَ فَازْدَحَمَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَحْسِنُوا الْمَلَأَ فَكُلُّكُمْ سَيَصْدُرُ عَنْ رَيٍّ“ فَشَرِبَ الْقَوْمُ حَتَّى لَمْ يَبْقَ غَيْرِي وَغَيْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَبَّ لِي فَقَالَ ”اشْرَبْ يَا أَبَا قَتَادَةَ“ قَالَ قُلْتُ اشْرَبْ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”إِنَّ سَاقِيَ الْقَوْمِ آخِرُهُمْ“ فَشَرِبْتُ وَشَرِبَ بَعْدِي وَبَقِيَ فِي الْمِيضَأَةِ نَحْوٌ مِمَّا كَانَ فِيهَا وَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَلَاثُ مِائَةٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَسَمِعَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ وَأَنَا أُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ فَقَالَ مَنِ الرَّجُلُ قُلْتُ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ الْقَوْمُ أَعْلَمُ بِحَدِيثِهِمْ انْظُرْ كَيْفَ تُحَدِّثُ فَإِنِّي أَحَدُ السَّبْعَةِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَلَمَّا فَرَغْتُ قَالَ مَا كُنْتُ أَحْسِبُ أَنَّ أَحَدًا يَحْفَظُ هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرِي قَالَ حَمَّادٌ وَحَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَزَادَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَرَّسَ وَعَلَيْهِ لَيْلٌ تَوَسَّدَ يَمِينَهُ وَإِذَا عَرَّسَ الصُّبْحَ وَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى كَفِّهِ الْيُمْنَى وَأَقَامَ سَاعِدَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے فرمایا: اگر تمہیں کل پانی نہ ملا تو تم پیاسے رہو گے۔ تیز رفتار لوگ آگے چلے گئے تاکہ پانی تلاش کریں۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری آپ کو لیے راستے سے ایک طرف ہٹ گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سواری پر ہی اونگھ آگئی، میں نے آپ کو ذرا آسرا دے کر سیدھا کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدھے ہوگئے، اس کے بعد پھر جھک گئے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدھا کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدھے ہوگئے، اس کے بعد پھر اونگھ کی وجہ سے اس قدر جھکے یا آپ کو جھٹکا لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری سے گرنے کے قریب ہوگئے، میں نے آپ کو سیدھا کیا تو آپ متنبہ ہوئے اور دریافت کیا: تم کون ہو؟ میں نے عرض کیا: جی میں ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کب سے اس طرح میرے ساتھ چل رہے ہو؟ میں نے عرض کیا: ساری رات اسی طرح گزر گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے جس طرح اللہ کے رسول کی حفاظت کی، اللہ تمہاری حفاظت کرے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہتر ہوگا کہ ہم کہیں رک کر آرام کر لیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک درخت کی طرف گئے اور وہاں اترے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ذرا دیکھو کوئی آدمی دکھائی دیتا ہے؟ میں نے عرض کیا: یہ ایک سوار آرہا ہے، یہ دو سوار آرہے ہیں،یہاں تک کہ آنے والوں کی تعداد سات ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ہمارے لیے نماز کے وقت کا خیال رکھنا۔ پھر ہم سو گئے اور اس قدر سوئے کہ سورج کی تمازت نے ہمیں بیدار کیا، ہم بیدار ہوئے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر سوار ہو کر روانہ ہوئے، ہم بھی آپ کے ساتھ کچھ دور تک گئے، اس کے بعد آپ سواری سے نیچے اترے اور دریافت فرمایا: کیا تمہارے پاس پانی موجود ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، میرے پاس وضو کے برتن میں کچھ پانی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہی لے آؤ۔ میں پانی کا برتن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے کر آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے پانی لے کر وضو کر لو۔ چنانچہ لوگوں نے وضو کیا، برتن میں ایک گھونٹ جتنا پانی باقی رہ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ابو قتادہ! اسے محفوظ کرلو، عنقریب اس گھونٹ کی بڑی شان ہوگی۔ پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی اور سب نے فجر سے پہلی د ورکعتیں ادا کیں اور پھر فجر کی نماز با جماعت ادا کی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر سوار ہوئے اور ہم بھی سوار ہوگئے، ہم میں سے بعض لوگوں نے ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ ہم سے نماز کے بارے میں بڑی کوتاہی سرزد ہو گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سنا تو فرمایا: کیا باتیں کر رہے ہو؟ اگر دنیاوی باتیں ہیں توتم جانو اور تمہارا کام اور اگر دین کی کوئی بات ہے تو مجھ سے کرو۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول!ہم سے نماز کے بارے میں بہت بڑی کوتاہی سر زد ہوئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نیند کے سبب نماز میں تاخیر ہو جانا کوتاہی نہیں، کوتاہی تو اس صورت میں ہوتی ہے جب آدمی بیدار ہو اور نماز کو لیٹ کر دے، جب ایسی صورت حال پیش آجائے تو اسی وقت نماز ادا کر لو اور آئندہ اس نماز کو اس کے اپنے مقرر وقت پر ادا کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ آگے گئے ہوئے ہیں، ان کے بارے میں اندازہ کرو کہ وہ اس وقت کہاں پہنچ چکے ہوں گے؟ صحابۂ کرام نے گزارش کی کہ آپ ہی نے توکل ارشاد فرمایا تھا کہ اگر کل تمہیں پانی نہ ملا تو پیاسے رہو گے۔ اس لیے لوگ پانی کی تلاش میں نکلے ہوئے ہیں۔ صبح ہوئی تو لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے پاس موجود نہ پایا، پس وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی پانی والے مقام پر ہوں گے۔ ان لوگوں میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، ان دونوں حضرات نے کہا: لوگو! یہ نہیں ہو سکتا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہیں پیچھے چھوڑ کر خود پہلے پانی کے مقام پر چلے جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے تین بار فرمایا کہ اگر لوگ ابو بکر اور عمر کی بات مان لیں تو اچھے رہیں گے۔ جب دھوپ خوب چڑھ گئی اور گرمی شدید ہوگئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے سامنے نمودار ہوئے تو لوگ چیخ اٹھے کہ: اے اللہ کے رسول! ہم تو پیاسے مر گئے اور پیاس کی شدت سے ہماری گردنیں کٹنے کو ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی بات سن کر فرمایا: تمہارے اوپر ہلاکت نہیں آئے گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ابو قتادہ! پانی والا برتن لے آؤ۔ میں وہ برتن لے کر آپ کی خدمت میں آیا تو آپ نے فرمایا کہ تم میرا پیالہ کھول کر لے آؤ۔ میں نے اسے کھول کر آپ کی خدمت میں پیش کیا تو آپ اس برتن میں سے پانی کو اس پیالے میں انڈیل انڈیل کر لوگوں کو پلانے لگے۔ آپ کے اردگرد لوگوں کا ہجوم ہوگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے سے اچھا برتاؤ کرو عنقریب تم میں سے ہر کوئی سیراب ہو کر جائے گا۔ چنانچہ سب لوگوں نے پانی نوش کر لیا صرف میں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی باقی رہ گئے۔ تو آپ نے میرے لیے پیالے میں انڈیلا اور فرمایا ابو قتادہ! رضی اللہ عنہ لو یہ نوش کرو۔ میں نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول! پہلے آپ نوش فرمائیں۔ آپ نے فرمایا دوسروں کو پلانے والا آخر میں پیتا ہے۔ چنانچہ میں نے پانی پیا اور میرے بعد آپ نے نوش کیا۔ اوربرتن میں پانی اتنا بچ رہا جتنا اس میں پہلے سے تھا۔ اس دن لوگوں کی تعداد تین سو تھی۔عبداللہ سے مروی ہے کہ میں جامع مسجد میں یہ حدیث بیان کر رہا تھا کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے میری آواز سن لی۔ انھوں نے کہا کہ بیان کرنے والا آدمی کون ہے؟میں نے عرض کیا کہ میں عبداللہ بن رباح انصاری ہوں۔ تو انہوں نے فرمایا کہ قوم کے افراد ہی اپنی بات کو بہتر طور پر جانتے ہوتے ہیں۔ بہر حال تم ذرا خیال کرکے بیان کرو۔ اس رات جمع ہونے والے سات افراد میں سے ایک میں بھی ہوں جب میں حدیث بیان کرکے فارغ ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نہیں سمجھتا تھا کہ اس حدیث کو میرے سوا کوئی دوسرا بھی یاد رکھتا ہوگا۔ حماد بن سلمہ نے بیان کیا کہ ہم سے اس حدیث کو حمید طویل نے بکر بن عبداللہ مزنی سے انہوں نے عبداللہ بن رباح سے انہوں نے ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسے اسی طرح بیان کیا۔ اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رات کو آرام کی غرض سے کہیں ٹھہرتے اور رات کا کچھ حصہ باقی ہوتا تو اپنے داہنے ہاتھ کو تکیہ کے طور پر استعمال کرتے اورجب صبح بالکل قریب ہوتی تو اپنا سر اپنی داہنی ہتھیلی پر رکھ کر اپنے بازو کو سیدھا اوپر کو کھڑا کر لیتے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابوقتادہ حارث بن ربعی خزرجی سلمی رضی اللہ عنہ انصاری صحابی ہیں،یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھڑ سوار صحابی تھے، غزوۂ احد اور اس کے بعد والے معرکوں میں شریک ہوئے، (۷۲) سال کی عمر (۵۴) سن ہجری میں مدینہ منورہ میں ان کا انتقال ہوا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11950
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه بنحوه مسلم: 681 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22546 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22913»
حدیث نمبر: 11951
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
کتاب میں حدیث موجود نہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11951
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
حدیث نمبر: 11952
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
کتاب میں حدیث موجود نہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11952
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
حدیث نمبر: 11953
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي أَبُو قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ”تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھ سے بھی بہتر آدمی یعنی سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11953
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 2915، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22610 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22984»