حدیث نمبر: 11949
عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ الْأَشْعَرِيِّ عَنْ رَابِّهِ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ كَانَ خَلَفَ عَلَى أُمِّهِ بَعْدَ أَبِيهِ كَانَ شَهِدَ طَاعُونَ عَمَوَاسَ قَالَ لَمَّا اشْتَعَلَ الْوَجَعُ قَامَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي النَّاسِ خَطِيبًا فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ رَحْمَةُ رَبِّكُمْ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ وَمَوْتُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ وَإِنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ يَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يَقْسِمَ لَهُ مِنْهُ حَظَّهُ قَالَ فَطُعِنَ فَمَاتَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَاسْتُخْلِفَ عَلَى النَّاسِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَامَ خَطِيبًا بَعْدَهُ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ رَحْمَةُ رَبِّكُمْ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ وَمَوْتُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ وَإِنَّ مُعَاذًا يَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يَقْسِمَ لِآلِ مُعَاذٍ مِنْهُ حَظَّهُ قَالَ فَطُعِنَ ابْنُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُعَاذٍ فَمَاتَ ثُمَّ قَامَ فَدَعَا رَبَّهُ لِنَفْسِهِ فَطُعِنَ فِي رَاحَتِهِ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا ثُمَّ يُقَبِّلُ ظَهْرَ كَفِّهِ ثُمَّ يَقُولُ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِمَا فِيكِ شَيْئًا مِنَ الدُّنْيَا فَلَمَّا مَاتَ اسْتُخْلِفَ عَلَى النَّاسِ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَامَ فِينَا خَطِيبًا فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ إِذَا وَقَعَ فَإِنَّمَا يَشْتَعِلُ اشْتِعَالَ النَّارِ فَتَجَبَّلُوا مِنْهُ فِي الْجِبَالِ قَالَ فَقَالَ لَهُ أَبُو وَاثِلَةَ الْهُذَلِيُّ كَذَبْتَ وَاللَّهِ لَقَدْ صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتَ شَرٌّ مِنْ حِمَارِي هَذَا قَالَ وَاللَّهِ مَا أَرُدُّ عَلَيْكَ مَا تَقُولُ وَأَيْمُ اللَّهِ لَا نُقِيمُ عَلَيْهِ ثُمَّ خَرَجَ وَخَرَجَ النَّاسُ فَتَفَرَّقُوا عَنْهُ وَدَفَعَهُ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَ فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مِنْ رَأْيِ عَمْرٍو فَوَاللَّهِ مَا كَرِهَهُ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ جَدُّ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُشْكُدَانَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
شہر بن حوشب اشعری سے روایت ہے وہ اپنے سوتیلے باپ جو اس کی قوم کے ایک آدمی ہیں، سے روایت کرتے ہیں، جس نے اس کے والد کی وفات کے بعد اس کی والدہ سے نکاح کیا تھا اور وہ طاعون عمواس کے موقع پر حاضر تھا، اس سے مروی ہے کہ جب وہاں طاعون کی وبا پھیلی تو سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر لوگوں سے خطاب کیا اور کہا : لوگو! یہ بیماری تمہارے اللہ کی طرف سے رحمت اور تمہارے نبی کی دعاء کا نتیجہ اور تم سے پہلے صالحین کی موت کا ذریعہ ہے اور ابو عبیدہ اللہ سے دعا کرتا ہے کہ وہ اسے بھی اس میں سے حصہ عطا کرے، رابہ سے مروی ہے کہ اس دعا کے بعد سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ طاعون میں مبتلا ہو کر فوت ہو گئے اور انہوں نے لوگوں پر سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو امیر نامزد کیا۔ سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور خطاب کرتے ہوئے لوگوں سے کہا: لوگو! یہ بیماری تمہارے رب کی رحمت، تمہارے نبی کی دعا اور تم سے پہلے صالحین کی موت کا سبب رہی ہے اورمعاذ اللہ سے دعا کرتا ہے کہ وہ آل معاذ رضی اللہ عنہ کو اس بیماری میں سے حصہ عطا کرے۔ رابہ سے مروی ہے کہ اس کے بعد سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے فرزند عبدالرحمن بن معاذ طاعون میں مبتلا ہو کر فوت ہوگئے، اس کے بعد سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنے رب سے اپنے حق میں دعا کی، چنانچہ ان کی ہتھیلی پر طاعون کا پھوڑا ظاہر ہوا، میں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اس پھوڑے کو دیکھتے اور اپنی ہتھیلی کی پشت کو بوسہ دے کر کہتے تھے کہ مجھے یہ پسند نہیں کہ تیری وجہ سے مجھے جو مقام ملنے والا ہے، اس کی بجائے مجھے دنیا بھر کی دولت مل جائے، پھر جب ان کا انتقال ہوا تو انہوں نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو لوگوں پر اپنا نائب نامزد کر دیا۔ وہ بھی خطبہ دیتے ہوئے ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، انہوں نے کہا: لوگو! جب یہ بیماری شروع ہوتی ہے تو آگ کے شعلوں کی مانند پھیلتی چلی جاتی ہے، تم اس سے بچنے کے لیے پہاڑوں کی طرف نکل جاؤ۔ ان کی یہ بات سن کر ابو واثلہ ہذلی رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کی یہ بات درست نہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں رہ چکا ہوں، تم تو میرے اس گدھے سے بھی بد تر ہو۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ کی بات کا جواب نہیں دیتا، تاہم اللہ کی قسم! ان حالات میں ہم یہاں نہیں رہ سکتے اور پھر وہ وہاں سے دور چلے گئے اور لوگ بھی ان کے ساتھ وہاں سے دور چلے گئے،وہ اس طاعون کے علاقے سے چلے گئے تو اللہ نے بھی اسے ان سے دور کر دیا، جب یہ بات امیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو انہوں نے اس بات کو نا پسند نہیں کیا۔
وضاحت:
فوائد: … عمواس رملہ اور بیت المقدس کے ما بین ایک مقام ہے۔ وہاں (۱۸)سن ہجری میں طاعون کی وبا پھوٹی تھی، جس میں پچیسیا تیس ہزار مسلمان لقمۂ اجل بنے تھے، اس میں وفات پانے والوں میں سیدناابو عبیدہ بن جراح، سیدنایزید بن ابی سفیان، سیدنا معاذ بن جبل، سیدنا شرجیل بن حسنہ اور سیدنا حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔