حدیث نمبر: 11936
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ كَانَ يَرْمِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ يَتَتَرَّسُ بِهِ وَكَانَ رَامِيًا وَكَانَ إِذَا رَمَى رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَخْصَهُ يَنْظُرُ أَيْنَ يَقَعُ سَهْمُهُ وَيَرْفَعُ أَبُو طَلْحَةَ صَدْرَهُ وَيَقُولُ هَكَذَا بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا يُصِيبُكَ سَهْمٌ نَحْرِي دُونَ نَحْرِكَ وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ يَسُوقُ نَفْسَهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَيَقُولُ إِنِّي جَلْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَوَجِّهْنِي فِي حَوَائِجِكَ وَمُرْنِي بِمَا شِئْتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھڑے کفار پر تیربرسا رہے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پیچھے کھڑے ان کو ڈھال بنائے ہوئے تھے، سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بڑے اچھے تیر انداز تھے، جب وہ تیر چھوڑتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سر اٹھا کر دیکھتے کہ تیر کہاں جا کر گرتا ہے اور ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بھی خوشی سے سینہ تان کر کہتے: اللہ کے رسول میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! ایسے ہوتی ہے تیر اندازی، اللہ کی قسم! کوئی تیر آپ تک نہیں پہنچے گا، میری گردن آپ کے آگے ہے۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ خود کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے لے جاتے اور کہتے: اے اللہ کی رسول! میں مضبوط ہوں، آپ اپنے کاموں کے لیے مجھے بھیجا کریں اور جوچاہیں مجھے حکم دیا کریں۔
وضاحت:
فوائد: … کیا بات ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس محبت کی، جو اللہ تعالیٰ نے صحابۂ کرام کے دلوں میں ودیعت کر دی تھی، اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دفاع میں جان کا نذرانہ پیش کرنا پڑ جاتا تو یہ ان نفوسِ قدسیہ کے لیے کوئی مشکل مرحلہ نہیں ہوتا تھا۔ سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کا نام زید بن سہل بن اسود بن حرام ہے، انصار کے قبیلہ خزرج سے ان کا تعلق ہے، بدر اور اس کے بعد کے تمام معرکوں میں شریک رہے، یہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی والدہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے شوہر ہیں،جب سیدنا ابو طلحہ نے سیدہ ام سلیم کو نکاح کا پیغام بھیجا تو انھوں نے نے جواباً کہا: آپ جیسے آدمی کو رد تو نہیں کرنا چاہیے، لیکن وجہ یہ ہے کہ میں مسلمان ہوں اور تم کا فر ہو، اس لیے تم میرے لیے حلال نہیں ہو، اگر تم اسلام لے آؤ تو یہی میرا مہر ہوگا، چنانچہ وہ مسلمان ہوگئے اور ان کا یہی مہر قرار پایا۔ ان کی وفات ۳۴ھ میں ہوئی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ ایک روایت کے مطابق یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد چالیس برس حیات رہے۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک غزوہ کے دوران ایک سمندر میں ان کی وفات ہوئی، ان کی تدفین کے لیے سات دن بعد ایک جزیرہ میں جگہ مل سکی۔ اس وقت تک ان کے جسم میں کسی قسم کا تغیر نہ آیا تھا۔
حدیث نمبر: 11937
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”صَوْتُ أَبِي طَلْحَةَ فِي الْجَيْشِ خَيْرٌ مِنْ فِئَةٍ“ قَالَ وَكَانَ يَجْثُو بَيْنَ يَدَيْهِ فِي الْحَرْبِ ثُمَّ يَنْثُرُ كِنَانَتَهُ وَيَقُولُ وَجْهِي لِوَجْهِكَ الْوِقَاءُ وَنَفْسِي لِنَفْسِكَ الْفِدَاءُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لشکر میں ابوطلحہ اکیلے کی آواز پوری جماعت کی آواز سے بہتر ہے۔ جنگ کے دوران سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے گھٹنوں کے بل کھڑے ہو جاتے اور اپنے تر کش کے تیروں کو بکھیر دیتے اور کہتے: اے اللہ کے رسول! میرا چہرہ آپ کے چہرے کو بچانے والا ہے اور میری جان آپ کے لیے فدا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی آواز میں رعب اور دبدبہ تھا، جس سے دشمن سہم جاتے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ واقعی کسی جنگجو کی آواز آ رہی ہے۔
حدیث نمبر: 11938
قَالَ كَانَ أَبُو طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَتَتَرَّسُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِتُرْسٍ وَاحِدٍ وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ حَسَنَ الرَّمْيِ فَكَانَ إِذَا رَمَى أَشْرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَى مَوَاقِعِ نَبْلِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک ہی ڈھال کی اوٹ میں ہو جاتے اور سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بہترین تیر انداز تھے، جب وہ تیر چلاتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گردن اٹھا کر دیکھتے کہ تیر کہاں جا کر گرتا ہے۔
حدیث نمبر: 11939
أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ”أَقْرِئْ قَوْمَكَ السَّلَامَ فَإِنَّهُمْ مَا عَلِمْتُ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم اپنی قوم کو میرا سلام کہنا، میرے علم کے مطابق یہ لوگ پاکدامن اور صابر ہیں۔
حدیث نمبر: 11940
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ أَبُو طَلْحَةَ يُكْثِرُ الصَّوْمَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُفْطِرُ إِلَّا فِي سَفَرٍ أَوْ مَرَضٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں بھی کثرت سے روزے رکھا کرتے تھے۔ لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہو گئی تو پھر تو وہ صرف سفر یا بیماری کی وجہ سے ہی روزے کا ناغہ کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … قابل توجہ بات ہے کہ صحیح بخاری کی روایت میں اس روایت کے ابتدائی الفاظ یہ ہیں: کَانَ أَبُوْطَلْحَۃَ لَا یَصُوْمُ عَلٰی عَہْدِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مِنْ اَجْلِ الْغَزْوَ۔ (سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ جہاد کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں روزہ نہیں رکھا کرتے تھے)۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مسند احمد کی اس حدیث کے الفاظ یُکْثِرُ دراصل لَایُکْثِرُ تھے، لَا ساقط ہو گیا،یعنی سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ عہدِ نبوی میں جہادی مصروفیات کی وجہ سے زیادہ روزے نہیں رکھا کرتے تھے۔