حدیث نمبر: 11933
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ وَقَدْ شَقَّ بَصَرُهُ فَأَغْمَضَهُ ثُمَّ قَالَ ”إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ“ فَضَجَّ نَاسٌ مِنْ أَهْلِهِ فَقَالَ ”لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ“ ثُمَّ قَالَ ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي سَلَمَةَ وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي الْمَهْدِيِّينَ وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ اللَّهُمَّ افْسَحْ فِي قَبْرِهِ وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی آنکھیں یعنی نظر اوپر کو اٹھ چکی تھیں۔ (دراصل ان کی وفات ہو رہی تھی یا ہو چکی تھی اور آنکھیں کھلی تھیں)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آنکھوں کو بند کیا اور فرمایا: جب روح قبض کی جاتی ہے تو نظر اس کا پیچھا کر تی ہے۔ یہ سن کر ان کے گھر والے رونے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے حق میں صرف خیر و بھلائی کی ہی دعا کرو، تم جو کچھ بھی کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود یوں دعا کی: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِأَبِی سَلَمَۃَ وَارْفَعْ دَرَجَتَہُ فِی الْمَہْدِیِّینَ، وَاخْلُفْہُ فِی عَقِبِہِ فِی الْغَابِرِینَ، وَاغْفِرْ لَنَا وَلَہُ یَا رَبَّ الْعَالَمِینَ، اللَّہُمَّ افْسَحْ فِی قَبْرِہِ وَنَوِّرْ لَہُ فِیہِ (یا اللہ! ابو سلمہ کی مغفرت فرما اور ہدایت یافتہ لوگوں میں ان کے درجات بلند فرما اور ان کے بعد باقی رہ جانے والوں میں تو اس کا خلیفہ بن جا اور اے رب العالمین! تو اس کی اور ہماری مغفرت فرما، یا اللہ! اس کی قبر کو کشادہ کر اور اسے اس کے لیے روشن فرما۔)
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ قریش کی شاخ بنو مخزوم سے ہیں،یہ قدیم الاسلام صحابی ہیں، انہوںنے اپنی اہلیہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ مکہ مکرمہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی اور پھر مدینہ منورہ کی طرف بھی ہجرت کرنے کی سعادت حاصل ہوئی، بدر اور احد کے غزوات میں شریک ہوئے، غزوۂ احد میں ان کو زخم آئے تھے، ان کے زخم ٹھیک ہوگئے تھے،لیکن پھر دوبارہ تازہ ہوگئے اور اسی کے سبب ان کی وفات ہو گئی۔