حدیث نمبر: 11905
عَنْ أَبِي عُمَرَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ نَزَلَ بِأَبِي الدَّرْدَاءِ رَجُلٌ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ مُقِيمٌ فَنَسْرَحَ أَمْ ظَاعِنٌ فَنَعْلِفَ قَالَ بَلْ ظَاعِنٌ قَالَ فَإِنِّي سَأُزَوِّدُكَ زَادًا لَوْ أَجِدُ مَا هُوَ أَفْضَلُ مِنْهُ لَزَوَّدْتُكَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَ الْأَغْنِيَاءُ بِالدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ نُصَلِّي وَيُصَلُّونَ وَنَصُومُ وَيَصُومُونَ وَيَتَصَدَّقُونَ وَلَا نَتَصَدَّقُ قَالَ ”أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى شَيْءٍ إِنْ أَنْتَ فَعَلْتَهُ لَمْ يَسْبِقْكَ أَحَدٌ كَانَ قَبْلَكَ وَلَمْ يُدْرِكْكَ أَحَدٌ بَعْدَكَ إِلَّا مَنْ فَعَلَ الَّذِي تَفْعَلُ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَسْبِيحَةً وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَحْمِيدَةً وَأَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ تَكْبِيرَةً“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی ان کے ہاں مہمان ٹھہرا، انھوں نے اس سے دریافت کیا کہ اگر آپ ہمارے ہاں قیام فرمائیں تو ہم آپ کی سواری کو چراگاہ میں بھجوا دیں اور اگر جلد روانگی کا پروگرام ہو تو ہم اسے یہیں چارہ ڈال دیں۔ اس آدمی نے کہا:نہیں، میں تو بس جانے والا ہوں، انہوں نے فرمایا: میں آپ کو ایک زادِ راہ دینا چاہتا ہوں، اگر میرے پاس اس سے بہتر کوئی تحفہ ہوتا تو میں وہ آپ کی نذر کرتا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گیا تھا اور آپ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مالدار لوگ دنیا کے لحاظ سے بھی آگے نکل گئے اور آخرت کے لحاظ سے بھی ۔ہم (غریب لوگ) نماز پڑھتے ہیں اور وہ امیر لوگ بھی نماز ادا کرتے ہیں، ہم بھی روزے رکھتے ہیں اور وہ بھی روزے رکھتے ہیں، لیکن وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم صدقہ نہیں کر سکتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایک ایسا عمل نہ بتلاؤں، اگر تم اس پر عمل کرو تو نہ اگلوں میں سے کوئی تم سے آگے بڑھ سکے گا اور نہ پچھلوں میں سے کوئی تجھ کو پا سکے گا، ماسوائے اس کے جو اسی پر عمل کرے، تم ہر نماز کے بعد تینتیس بار سُبْحَانَ اللّٰہِ تینتیس بار اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اور چونتیس بار اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کا نام عویمریا عامر بن زید ہے، یہ خزرجی انصاری صحابی ہیں،یہ فقہ، حکمت اور زہد و تقوی سے متصف تھے، غزوۂ بدر کے موقع پر مسلمان ہوئے اور غزوۂ احد میں شرکت کی اور اس غزوے میں ان کو خوب آزمایا گیا، خلافت ِ فاروقی میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کو دمشق کا والی بنایا تھا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں (۳۱یا۳۲) سن ہجری میں وفات پا گئے۔
حدیث نمبر: 11906
عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ صَحِبْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ أَتَعَلَّمُ مِنْهُ فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ قَالَ آذِنْ النَّاسَ بِمَوْتِي فَآذَنْتُ النَّاسَ بِمَوْتِهِ فَجِئْتُ وَقَدْ مُلِئَ الدَّارُ وَمَا سِوَاهُ قَالَ فَقُلْتُ قَدْ آذَنْتُ النَّاسَ بِمَوْتِكَ وَقَدْ مُلِئَ الدَّارُ وَمَا سِوَاهُ قَالَ أَخْرِجُونِي فَأَخْرَجْنَاهُ قَالَ أَجْلِسُونِي قَالَ فَأَجْلَسْنَاهُ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ يُتِمُّهُمَا أَعْطَاهُ اللَّهُ مَا سَأَلَ مُعَجَّلًا أَوْ مُؤَخَّرًا“ قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِيَّاكُمْ وَالِالْتِفَاتَ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِلْمُلْتَفِتِ فَإِنْ غُلِبْتُمْ فِي التَّطَوُّعِ فَلَا تُغْلَبُنَّ فِي الْفَرِيضَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا یوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں حصول علم کے لیے سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا، جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا۔ تو انہوں نے مجھ سے کہا: تم لوگوں کو میری وفات کی اطلاع کردو۔ میں نے لوگوں کو ان کی وفات کی اطلاع دی، میں واپس آیا تو ان کا گھر اور ارد گرد کے مقامات لوگوں سے بھرے تھے، میں نے جا کر ان سے عرض کیا: میں نے لوگوں کو آپ کی وفات کی اطلاع دی اورگھر اور اردگرد کے مقامات لوگوں سے بھر گئے ہیں۔ انھوں نے مجھے کہا: تم مجھے باہر لے چلو، ہم ان کو باہر لے گئے۔ انھوں نے کہا: مجھے بٹھا دو، ہم نے ان کو بٹھا دیا۔ انہوں نے کہا: لوگو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ جو آدمی اچھی طرح مکمل وضو کرکے مکمل دو رکعت نماز ادا کرے تو وہ اللہ سے جو بھی دعا کرے، اللہ اسے جلد یا بدیر اس کی مطلوبہ چیز ضرور عطا فرمائے گا۔ پھر انھوں نے کہا: لوگو! نماز میں ادھر ادھر نہ دیکھا کرو، جو کوئی ادھر ادھر دیکھتا ہے اس کی نماز نہیں ہوتی، اگر نفل نماز میں اس کی ضرورت پیش آ جائے تو خیر، مگر فرض نماز میں اس کی گنجائش نہ نکالا کرو۔