حدیث نمبر: 11903
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِفُلَانٍ نَخْلَةً وَأَنَا أُقِيمُ حَائِطِي بِهَا فَأْمُرْهُ أَنْ يُعْطِيَنِي حَتَّى أُقِيمَ حَائِطِي بِهَا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَعْطِهَا إِيَّاهُ بِنَخْلَةٍ فِي الْجَنَّةِ“ فَأَبَى فَأَتَاهُ أَبُو الدَّحْدَاحِ فَقَالَ بِعْنِي نَخْلَتَكَ بِحَائِطِي فَفَعَلَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدِ ابْتَعْتُ النَّخْلَةَ بِحَائِطِي قَالَ فَاجْعَلْهَا لَهُ فَقَدْ أَعْطَيْتُكَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”كَمْ مِنْ عَذْقٍ رَاحَ لِأَبِي الدَّحْدَاحِ فِي الْجَنَّةِ“ قَالَهَا مِرَارًا قَالَ فَأَتَى امْرَأَتَهُ فَقَالَ يَا أُمَّ الدَّحْدَاحِ اخْرُجِي مِنَ الْحَائِطِ فَإِنِّي قَدْ بِعْتُهُ بِنَخْلَةٍ فِي الْجَنَّةِ فَقَالَتْ رَبِحَ الْبَيْعُ أَوْ كَلِمَةً تُشْبِهُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے آکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! فلاں آدمی کا کھجور کا ایک درخت ہے، میں اس درخت کا ضرورت مند ہوں تاکہ اس کے ذریعے اپنے باغ کی دیوار کو سیدھا کر سکوں، آپ اسے حکم دیں کہ وہ یہ درخت مجھے دے دے اور میں اپنے باغ کی دیوار کو مضبوط کر لوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم یہ درخت اسے دے دو، اس کے بدلے میں تمہیں جنت میں ایک درخت لے دوں گا۔ اس نے اس بات سے انکار کیا۔ یہ بات سن کر سیدنا ابو دحداح رضی اللہ عنہ نے آکر اس آدمی سے کہا کہ میرے پورے باغ کے عوض تم یہ ایک کھجور مجھے فروخت کر دو، اس نے ایسے ہی کیا، پھر سیدنا ابو دحداح رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے وہ ایک کھجور اپنے پورے باغ کے عوض خریدلی ہے، آپ یہ کھجور اس ضرورت مند کو دے دیں، میں کھجور کا یہ درخت آپ کے حوالے کر چکا ہوں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں کھجور کے کتنے ہی خوشے ابو دحداح رضی اللہ عنہ کے لیے لٹک رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات متعدد مرتبہ دہرائی، ابو دحداح رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کے پاس آکر اس سے کہا: اے ام وحداح! باغ سے باہر نکل آؤ، میں نے یہ باغ جنت کی ایک کھجور کے عوض فروخت کر دیا ہے۔ اس نے کہا: آپ نے تو بڑے فائدے والا سودا کیا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ سیدنا ابو دحداح رضی اللہ عنہ کی کمال رغبت ہے، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سفارش کی تکمیل اور جنت کے حصول کا راز مضمر ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے صلہ بھی ان کی رغبت سے کوئی گنا بڑھ کر ملا۔
حدیث نمبر: 11904
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنِ الدَّحْدَاحِ قَالَ حَجَّاجٌ عَلَى أَبِي الدَّحْدَاحِ ثُمَّ أُتِيَ بِفَرَسٍ مَعْرُورٍ فَعَقَلَهُ رَجُلٌ فَرَكِبَهُ فَجَعَلَ يَتَوَقَّصُ بِهِ وَنَحْنُ نَتَّبِعُهُ نَسْعَى خَلْفَهُ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”كَمْ عِذْقٍ مُعَلَّقٍ أَوْ مُدَلًّى فِي الْجَنَّةِ لِأَبِي الدَّحْدَاحِ“ قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ رَجُلٌ مَعَنَا عِنْدَ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ فِي الْمَجْلِسِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”كَمْ مِنْ عِذْقٍ مُدَلًّى لِأَبِي الدَّحْدَاحِ فِي الْجَنَّةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دحداح رضی اللہ عنہ کے بیٹےیا ابو دحداح کی نماز جنازہ ادا کی، اس کے بعد بغیرزین کے ایک گھوڑا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا، ایک آدمی نے اس کی ٹانگ کو رسی سے باندھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر سوار ہوئے، وہ گھوڑا اچھلتا ہوا چلنے لگا، ہم آپ کے پیچھے پیچھے تیز تیز جا رہے تھے، لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں کھجور کے کتنے ہی خوشے ابو دحداح کی انتظار میں لٹک رہے ہیں۔ حجاج نے اپنی حدیث میں یوں بیان کیا کہ محفل میں ہمارے ساتھ بیٹھے ایک آدمی نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں کھجور کے کتنے ہی خوشے ابو دحداح کے لیے لٹک رہے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … دحداح کا بیٹایا دحداح کا باپ، ان دو روایات میںکوئی تعارض نہیں ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ اس صحابی کے باپ کا نام بھی دحداح ہو اور بیٹے کا نام بھی دحداح۔ سیدنا ابودحداح رضی اللہ عنہ کا نام ثابت بن دحداح ہے، غزوۂ احد میں جب یہ خبر پھیل گئی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہید ہوگئے ہیں تو صحابۂ کرام کے حوصلے پست ہوگئے اور ہمتیں جواب دے گئیںتو اس موقع پر سیدنا ابو دحداح رضی اللہ عنہ نے انصاریوں سے کہا: اگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہید ہوگئے ہیں تو کیا ہوا؟ اللہ تو زندہ ہے، اسے کبھی موت نہیں آئے گی، تم اٹھو اور دین کے دفاع کی خاطر قتال کرو، چنانچہ وہ چند مسلمانوں کو ساتھ لے کر کفار کی طرف نکلے، خالد بن ولید جو اس غزوہ میں کفار کی طرف سے شریک تھے، انہوں نے سیدنا ابو دحداح کو نیزے کا وار کرکے شہید کر دیا۔ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ یہ نیزہ لگنے کی وجہ سے زخمی ہوئے تھے، بعد میں صحت یاب ہوگئے تھے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیبیہ سے واپسی کے بعد ان کا انتقال ہوا تھا۔ واللہ اعلم۔