حدیث نمبر: 11901
عَنْ عَاصِمٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ كَانَ أَمِيرًا عَلَى الْجَيْشِ الَّذِي غَزَا فِيهِ أَبُو أَيُّوبَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ عِنْدَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُ أَبُو أَيُّوبَ إِذَا مِتُّ فَاقْرَؤُوا عَلَى النَّاسِ مِنِّي السَّلَامَ فَأَخْبِرُوهُمْ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا جَعَلَهُ اللَّهُ فِي الْجَنَّةِ“ وَلْيَنْطَلِقُوا بِي فَلْيَبْعُدُوا بِي فِي أَرْضِ الرُّومِ مَا اسْتَطَاعُوا فَحَدَّثَ النَّاسَ لَمَّا مَاتَ أَبُو أَيُّوبَ فَاسْتَلْأَمَ النَّاسُ وَانْطَلَقُوا بِجِنَازَتِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عاصم نے مکہ کے ایک باشندے سے روایت کیا ہے کہ یزید بن معاویہ اس لشکر کا امیر تھا جس میں سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ شریک تھے، ان کی وفات کے وقت یزید ان کے پاس آیا تو انہوں نے اس سے کہا: میری وفات ہو تو میری طرف سے لوگوں کو سلام کہنا اور انہیں بتلا دینا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ جو کوئی اس حال میں فوت ہوا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا تھا، اللہ اسے جنت عطا فرمائے گا۔ اس کے بعد یہ لوگ میری میت کو اٹھا کر روم کی حدود میں جہاں تک ممکن ہو دورلے جائیں، پس جب سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تویزید نے لوگوں کو ان کے انتقال کی خبر دی،لوگوں نے اپنے ہتھیار زیب تن کر لیے اور ان کی میت کو لے کر چل پڑے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا اصل نام خالد بن زید ہے، ان کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو نجار سے تھا، یہ بیعت عقبہ، غزوہ بدر، غزوہ احد، خندق اور بیعت رضوان میں شریک ہونے کی سعادت سے بہر مند ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کے بعد مدینہ منورہ تشریف لائے تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی میز بانی کا شرف حاصل ہوا، (دیکھیں حدیث نمبر۱۰۶۲۱)۔(۵۰یا۵۱یا۵۲) سن ہجری میں فوت ہوئے اور ان کی قبر قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) میں ہے۔ اس وقت یہ اس لشکر میں تھے جس کی قیادتیزید بن معاویہ کر رہے تھے۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے وصیت کی کہ ان کی نماز جنازہ یزید پڑھائے، چنانچہ یزید نے ہی ان کی نماز جنازہ پڑھائی تھی۔
حدیث نمبر: 11902
عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ظِبْيَانَ وَيَعْلَى حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي ظِبْيَانَ قَالَ غَزَا أَبُو أَيُّوبَ الرُّومَ فَمَرِضَ فَلَمَّا حُضِرَ قَالَ أَنَا إِذَا مِتُّ فَاحْمِلُونِي فَإِذَا صَافَفْتُمُ الْعَدُوَّ فَادْفِنُونِي تَحْتَ أَقْدَامِكُمْ وَسَأُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا حَالِي هَذَا مَا حَدَّثْتُكُمُوهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو ظبیان سے مروی ہے کہ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ روم کے خلاف ایک غزوۂ میں شریک تھے اور وہاں بیمار پڑ گئے، جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو انھوں نے کہا: جب میں فوت ہو جاؤں تو مجھے اٹھا کر لے جانا، جہاں دشمن سامنے آجائے تم مجھے وہیں اپنے قدموں کے نیچے دفن کر دینا، میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث سناتا ہوں۔ اگر میں اس حال میں (یعنی اس مرض الموت میں ) نہ ہوتا تو میں تمہیں یہ حدیث نہ سناتا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ جو آدمی اس حال میں فوت ہوا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا تو وہ جنت میں جائے گا۔