حدیث نمبر: 11883
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ”إِنَّهُ يُحْشَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْنَ يَدَيِ الْعُلَمَاءِ نَبَذَةً“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: وہ قیامت کے دن اہل علم سے ایک تیر کی پھینک پرآگے آگے جا رہے ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … چونکہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ حلال و حرام کا سب سے زیادہ علم رکھنے والے تھے، جیسا کہ اگلی حدیث سے معلوم ہو رہا ہے اور اہل علم کی اصل شناخت بھی حرام و حلال کی معرفت ہوتی ہے، سو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ میدان حشر میں اہل علم کے آگے آگے چل رہے ہوں گے۔ سیدنامعاذ بن جبل خزرجی انصاری رضی اللہ عنہ صحابی ہیں، اٹھارہ برس کی عمر میں دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے، بیعت عقبہ ثانیہ میں ستر انصار کے ساتھ شرکت کی سعادت حاصل کی۔ غزوۂ بدر، احد، خندق اور دیگر غزوات میں شریک ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مابین مواخات قائم کیا تھا، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اسلام کا سفیر بنا کر یمن کی طرف روانہ کیا تھا، معاذ رضی اللہ عنہ ان خوش نصیب لوگ میں سے ہیں جنہوںنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں قرآن کریم جمع کیا ہوا تھا، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی ہی میں فتوے بھی دیا کرتے تھے۔ (۱۸) سن ہجری میں طاعون عمواس میں۳۳برس کی عمر میں وفات پائی۔ ابو نعیم نے ان کے بارے میں کہا: وہ فقہاء کے امام اور علماء کی شان تھے، وہ عقبہ، غزوۂ بدر اور دوسرے مشاہد میں حاضر ہوئے، بردباری، شرم و حیا اور جو دو سخاوت کے لحاظ سے انصاریوں میں سب سے بہتر تھے، بہت حسین و جمیل اور درگزر کرنے والے تھے، ان سے جو چیز مانگیجاتی تھی، وہ عطا کر دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 11884
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَرْحَمُ أُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ وَأَشَدُّهَا فِي دِينِ اللَّهِ عُمَرُ وَأَصْدَقُهَا حَيَاءً عُثْمَانُ وَأَعْلَمُهَا بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں ابو بکر سب سے بڑھ کر مہربان ہیں،میری امت میں سے عمر دین کے بارے میں بڑے سخت ہیں،عثمان سب سے بڑھ کر حیا دار ہیں اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو حلال و حرام کا علم سب سے زیادہ ہے۔
حدیث نمبر: 11885
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقِينِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”يَا مُعَاذُ إِنِّي لَأُحِبُّكَ“ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَنَا وَاللَّهِ أُحِبُّكَ قَالَ ”فَإِنِّي أُوصِيكَ بِكَلِمَاتٍ تَقُولُهُنَّ فِي كُلِّ صَلَاةٍ اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجھ سے ملاقات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! مجھے تم سے محبت ہے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں بھی آپ سے محبت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں چند کلمات کی وصیت کرتا ہوں، تم ہر نماز (کے آخر میں) یہ کلمات کہا کرو: اَللّٰھُمَّ أَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ (یا اللہ! اپنا ذکر کرنے، اپنی نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے اور اپنی عبادت بہتر طور پر کرنے میں میری مدد فرما)۔
حدیث نمبر: 11886
عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ خَرَجَ مَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُوصِيهِ وَمُعَاذٌ رَاكِبٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي تَحْتَ رَاحِلَتِهِ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ ”يَا مُعَاذُ إِنَّكَ عَسَى أَنْ لَا تَلْقَانِي بَعْدَ عَامِي هَذَا أَوْ لَعَلَّكَ أَنْ تَمُرَّ بِمَسْجِدِي هَذَا أَوْ قَبْرِي“ فَبَكَى مُعَاذٌ جَشَعًا لِفِرَاقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ الْتَفَتَ فَأَقْبَلَ بِوَجْهِهِ نَحْوَ الْمَدِينَةِ فَقَالَ ”إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِي الْمُتَّقُونَ مَنْ كَانُوا وَحَيْثُ كَانُوا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو یمن کی طرف روانہ فرمایا تو ان کو وصیتیں کرتے ہوئے گئے، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سوار تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی سواری کے ساتھ ساتھ چلتے جا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی گفتگو سے فارغ ہونے کے بعد فرمایا: معاذ! ممکن ہے کہ اس سال کے بعد تمہاری مجھ سے ملاقات نہ ہو سکے اور ہو سکتا ہے کہ تم میری اس مسجد یا قبر کے پاس سے گزرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدائی کے خیال سے رنجیدہ ہو کر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ روپڑے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف منہ کر کے فرمایا: سب لوگوں میں میرے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہوں گے، جو تقویٰ کی صفت سے متصف ہوں، وہ جو بھی ہوں اور جہاں بھی ہوں۔
حدیث نمبر: 11887
عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَابِطٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ قَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْيَمَنَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ السَّحَرِ رَافِعًا صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ أَجَشَّ الصَّوْتِ فَأُلْقِيَتْ عَلَيْهِ مَحَبَّتِي فَمَا فَارَقْتُهُ حَتَّى حَثَوْتُ عَلَيْهِ التُّرَابَ بِالشَّامِ مَيِّتًا رَحِمَهُ اللَّهُ ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى أَفْقَهِ النَّاسِ بَعْدَهُ فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لِي كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَتَتْ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِغَيْرِ وَقْتِهَا قَالَ فَقُلْتُ مَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ قَالَ صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَاجْعَلْ ذَلِكَ مَعَهُمْ سُبْحَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عمرو بن میمون اودی سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عامل سیدنا معاذ بن جبل یمنی رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں تشریف لائے ، میں نے سنا کہ انہوں نے سحری کے وقت تیز اور بلند آواز سے اللہ اکبر کہا ، ان کے دل میں میری محبت جاگزیں ہو گئی ، اور میں ان کی وفات تک ان سے جدا نہ ہوا اور میں نے عرض شام میں نے ان کی وفات کے بعد ان کی قبر پر مٹی ڈالی ، پھر میں نے غور نہ کیا کہ ان کے بعد زیادہ علم والا شخص کون ہے ؟ چنانچہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں چلا گیا ، انہوں نے مجھ سے کہا : تمہارا اس وقت کیا حال ہو گا ، جب تمہارے حکمران نمازوں کو بے وقت یعنی تاخیر سے ادا کریں گے ؟ میں نے عرض کیا : اگر مجھے ایسے حالات کا سامنا ہو تو میرے لیے آپ کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے کہا : تم نماز کو اس کے اول وقت میں ادا کر لینا اور ان کے ساتھ ادا کی ہوئی نماز کو نفل شمار کر لینا ۔
حدیث نمبر: 11888
عَنْ أَبِي مُنِيبٍ الْأَحْدَبِ قَالَ خَطَبَ مُعَاذٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالشَّامِ فَذَكَرَ الطَّاعُونَ فَقَالَ إِنَّهَا رَحْمَةُ رَبِّكُمْ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ وَقَبْضُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ اللَّهُمَّ أَدْخِلْ عَلَى آلِ مُعَاذٍ نَصِيبَهُمْ مِنْ هَذِهِ الرَّحْمَةِ ثُمَّ نَزَلَ مِنْ مَقَامِهِ ذَلِكَ فَدَخَلَ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ {الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ} [البقرة: 147] فَقَالَ مُعَاذٌ {سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ} [الصافات: 102]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو منیب احدب سے مروی ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے شام میں خطاب کیا اور طاعون کا ذکر کرتے ہوئے کہا: طاعون تمہارے رب کی تم پر رحمت اور تمہارے نبی کی دعا ہے اور تم سے پہلے ابو منیب احدب سے مروی ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے شام میں خطاب کیا اور طاعون کا ذکر کرتے ہوئے کہا: طاعون تمہارے رب کی تم پر رحمت اور تمہارے نبی کی دعا ہے اور تم سے پہلے صالحین کی موت کا سبب ہے ۔ یا اللہ ! آل معاذ پر اس رحمت میں سے ان کا حصہ نازل فرما ۔ اس کے بعد سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ منبر سے نیچے اتر کر اپنے بیٹے عبدالرحمن کے پاس آئے ، عبدالرحمن نے کہا : (الْحَقُّ مِنْ رَبَّکَ فَلا تَکُونَنَّ مِنْ الْمُمْتَرِینَ) .... حق تمہارے رب کی طرف سے ہے ، پس تم شک کرنے والوں میں سے نہ بنو ۔ یہ سن کر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا : (سَتَجِدُنِی إِنْ شَاءَ اللہُ مِنْ الصَّابِرِینَ) ....تم عنقریب مجھے صبر کرنے والوں میں پاؤ گے ۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے لیے طاعون کی بیماری شہادت اور رحمت کا باعث ہے۔
سیدنا معاذ طاعون میں مبتلا ہو گئے تھے، اس لیے آیات کی روشنی میں تبادلۂ خیال کیا گیا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کا ذکر درج ذیل حدیث میں ہے: سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ فَنَائَ اُمَّتِیْ فِیْ سَبِیْلِکَ بِالْطَعْنِ وَالطَّاعُوْنِ۔)) … اے اللہ! میری امت کو اپنے راستے میں ہتھیار کے ساتھ قتل اور طاعون کے ذریعے فنا کرنا۔ (مسند احمد: ۱۵۶۹۳)
اس حدیث میں امت سے سے مراد صحابۂ کرام کی جماعت ہے۔
سیدنا معاذ طاعون میں مبتلا ہو گئے تھے، اس لیے آیات کی روشنی میں تبادلۂ خیال کیا گیا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کا ذکر درج ذیل حدیث میں ہے: سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ فَنَائَ اُمَّتِیْ فِیْ سَبِیْلِکَ بِالْطَعْنِ وَالطَّاعُوْنِ۔)) … اے اللہ! میری امت کو اپنے راستے میں ہتھیار کے ساتھ قتل اور طاعون کے ذریعے فنا کرنا۔ (مسند احمد: ۱۵۶۹۳)
اس حدیث میں امت سے سے مراد صحابۂ کرام کی جماعت ہے۔
حدیث نمبر: 11889
عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”سَتُهَاجِرُونَ إِلَى الشَّامِ فَيُفْتَحُ لَكُمْ وَيَكُونُ فِيكُمْ دَاءٌ كَالدُّمَّلِ أَوْ كَالْحَزَّةِ يَأْخُذُ بِمَرَاقِّ الرَّجُلِ يَسْتَشْهِدُ اللَّهُ بِهِ أَنْفُسَهُمْ وَيُزَكِّي بِهَا أَعْمَالَهُمْ“ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطِهِ هُوَ وَأَهْلَ بَيْتِهِ الْحَظَّ الْأَوْفَرَ مِنْهُ فَأَصَابَهُمُ الطَّاعُونُ فَلَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ أَحَدٌ فَطُعِنَ فِي أُصْبُعِهِ السَّبَّابَةِ فَكَانَ يَقُولُ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي بِهَا حُمْرَ النَّعَمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اسماعیل بن عبید اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ عنقریب ارض شام کی طرف ہجرت کر جاؤ اور وہ تمہارے ہاتھوں فتح ہوگا اور تمہارے اندر گوشت کے ٹکڑے کی مانند ایک بیماری (یعنی طاعون) داخل ہو گی، جو انسان کے پیٹ کے نچلے حصے پر ااثر انداز ہوگی، اللہ تعالیٰ اس بیماری کے ذریعے لوگوں کو مقام شہادت سے نوازے گا اور ان کے اعمال کا تزکیہ کر ے گا۔ یا اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ معاذ بن جبل نے واقعی یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے تو اسے اور اس کے اہل خانہ کو اس بیماری کا وافر حصہ عطا فرما،چنانچہ ان لوگوں کو طاعون کی بیماری نے آ لیا اور ان میں سے ایک بھی زندہ نہ بچا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی انگشت شہادت زخمی ہو گئی تو وہ کہا کرتے تھے کہ مجھے یہ پسند نہیں کہ میری انگلی بچ جاتی اور مجھے سرخ اونٹ مل جاتے۔