کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11882
عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَمِنَّا مَنْ مَضَى لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ فَلَمْ نَجِدْ شَيْئًا نُكَفِّنُهُ فِيهِ إِلَّا نَمِرَةً كُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ خَرَجَ رَأْسُهُ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُغَطِّيَ بِهَا رَأْسَهُ وَنَجْعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ إِذْخِرًا وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا يَعْنِي يَجْتَنِيهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی، اس لیے اللہ تعالیٰ پر ہمارا ثواب ثابت ہو گیا( جیسا کہ اس نے وعدہ کیا ہے)۔ پھر ہم میں بعض لوگ ایسے تھے، جو اپنے عمل کا اجر کھائے بغیر اللہ کے پاس چلے گئے، ان میں سے ایک سیّدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی تھے، جو احد کے دن شہید ہو گئے، ہمیں ان کے کفن کے لیے صرف ایک چادر مل سکی اور وہ بھی اس قدر مختصر تھی کہ جب ہم ان کا سر ڈھانپتے تو پاؤں ننگے ہو جاتے اور جب ان کے پاؤں کو ڈھانپا جاتا تو سر ننگا ہو جاتا۔ بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ان کا سر ڈھانپ دیں اور ان کے پاؤں پر اذخر (گھاس) ڈال دیں، جبکہ ہم میں بعض ایسے بھی ہیں جن کا پھل تیار ہو چکا اور اب وہ اسے چن رہے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … آخری جملے کا مطلب فتوحات کے نتیجے میںملنے والی غنیمتیں اور دوسرے اسبابِ دنیا ہیں۔ ابو عبداللہ سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں، اسلام کے اولین دور میں اس وقت مسلمان ہوئے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دار ارقم کو دار التبلیغ بنائے ہوئے تھے، انہوں نے اپنی والدہ اور قوم سے اپنے قبول اسلام کو پوشیدہ رکھا، عثمان بن طلحہ عبدری نے آپ کو نماز پڑھتے دیکھ لیا، اس نے جا کر ان کی والدہ کو اور قوم کو اس کی اطلاع کر دی، انہوںنے ان کو قید میں ڈال دیا، لیکنیہ موقع پا کر حبشہ ہجرت کر گئے، حبشہ سے مکہ آئے اور پھر مکہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی، مدینہ منور ہ جا کر لوگوں کو قرآن کی تعلیم دیتے اور احکام دین سکھاتے رہے، مدینہ منورہ میں انہوںنے ہی نماز جمعہ کا آغاز کیا،سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اور اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ جیسے لوگوں نے انہیں کے ہاتھوں اسلام قبول کیا، غزوۂ بدر اور غزوۂ احد میں شریک ہوئے۔ غزوۂ احد میں مرتبہ شہادت سے سرفزاز ہوئے، یہ غزوۂ احد میں مسلمانوں کے علم بردار تھے، شہادت کے وقت ان کی عمر چالیس برس تھی، قبل از اسلام یہ مکہ مکرمہ کے انتہائی خوب رو بھر پور نو جوان تھے۔ ان کے والدین ان سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے۔ ان کی والدہ کو انتہائی عمدہ اور بیش قیمت لباس زیب تن کرایا کرتی تھی۔ یہ ایسی عمدہ خوش بو استعمال کرتے تھے کہ مکہ میں شاید ہی کوئی نو جوان ایسی خوشبو استعمال کرتا ہو،قبول اسلام کے بعد ان کا یہ عالم تھا کہ پھٹی پرانی چادر زیب تن کئے رہتے، حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا ان کی اہلیہ تھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11882
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري:1276، 3913، 3914، 4047، ومسلم: 940 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21058 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21372»