کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سیدنا فرات بن حیان عجلی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11875
عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ عَنْ فُرَاتِ بْنِ حَيَّانَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِهِ وَكَانَ عَيْنًا لِأَبِي سُفْيَانَ وَحَلِيفًا فَمَرَّ بِحَلْقَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ إِنِّي مُسْلِمٌ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّهُ مُسْلِمٌ فَقَالَ ”إِنَّ مِنْكُمْ رِجَالًا نَكِلُهُمْ إِلَى إِيمَانِهِمْ مِنْهُمْ فُرَاتُ بْنُ حَيَّانَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حارثہ بن مضرب سے روایت ہے کہ وہ سیدنا فرات بن حیان رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ وہ قبل از اسلام ابو سفیان کے جاسوس اور (ایک انصاری آدمی کے) حلیف تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو قتل کرنے کا حکم دیا، لیکن جب یہ انصار کے ایک حلقہ کے پاس سے گزرے اور انھوں نے کہا کہ میں مسلم ہوں۔ انصار نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ تو کہتا ہے کہ میں مسلم ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں، جنہیں ہم ان کے ایمان کے سپرد کرتے ہیں، فرات بن حیان بھی ان میں سے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا فرات بن حیان رضی اللہ عنہ نے مشرف باسلام ہونے کے بعد دین میں فقاہت حاصل کی اور بعد میں ان کے اسلام میں حسن پیدا ہوا، قبولیت ِ اسلام کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوات میں شریک رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد کوفہ میں سکونت پذیر ہو گئے۔
وَحَلِیفًا کے الفاظ ابو داود میں اس طرح ہیں: وَحَلِیفًا لِرَجُلٍ مِنَ الْاَنْصَارِ، ممکن ہے کہ مسند احمد کی روایت میں میں کاتب سے یہ الفاظ رہ گئے ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11875
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 2652 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18966 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19173»
حدیث نمبر: 11876
وَعَنْ فُرَاتِ بْنِ حَيَّانَ فِي أُخْرَى عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ ”إِنَّ مِنْكُمْ رِجَالًا لَا أُعْطِيهِمْ شَيْئًا أَكِلُهُمْ إِلَى إِيمَانِهِمْ مِنْهُمْ فُرَاتُ بْنُ حَيَّانَ قَالَ مِنْ بَنِي عِجْلٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ایک دوسری روایت کے مطابق حارثہ بن مضرب، ایک صحابی سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: تم میں سے بعض لوگ ایسے ہیں کہ میں انہیں کچھ نہیں دیتا، میں انہیں ان کے ایمان کے سپرد کرتا ہوں، انہی لوگوں میں سے قبیلہ بنو عجل کا ایک فرد فرات بن حیان بھی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11876
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قوله: لا اعطيھم شيئا ، ففي زيادتھا نظر، وانظر الحديث السابق ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16593 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16710»