کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کا تذکرہ اور ان کے قبول اسلام کا واقعہ
حدیث نمبر: 11864
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ مِنْ فِيهِ قَالَ لَمَّا انْصَرَفْنَا مِنَ الْأَحْزَابِ عَنِ الْخَنْدَقِ جَمَعْتُ رِجَالًا مِنْ قُرَيْشٍ كَانُوا يَرَوْنَ مَكَانِي وَيَسْمَعُونَ مِنِّي فَقُلْتُ لَهُمْ تَعْلَمُونَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى أَمْرَ مُحَمَّدٍ يَعْلُو الْأُمُورَ عُلُوًّا كَبِيرًا مُنْكَرًا وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَأْيًا فَمَا تَرَوْنَ فِيهِ قَالُوا وَمَا رَأَيْتَ قَالَ رَأَيْتُ أَنْ نَلْحَقَ بِالنَّجَاشِيِّ فَنَكُونَ عِنْدَهُ فَإِنْ ظَهَرَ مُحَمَّدٌ عَلَى قَوْمِنَا كُنَّا عِنْدَ النَّجَاشِيِّ فَإِنَّا أَنْ نَكُونَ تَحْتَ يَدَيْهِ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْ أَنْ نَكُونَ تَحْتَ يَدَيْ مُحَمَّدٍ وَإِنْ ظَهَرَ قَوْمُنَا فَنَحْنُ مَنْ قَدْ عُرِفَ فَلَنْ يَأْتِيَنَا مِنْهُمْ إِلَّا خَيْرٌ فَقَالُوا إِنَّ هَذَا الرَّأْيَ قَالَ فَقُلْتُ لَهُمْ فَاجْمَعُوا لَهُ مَا نُهْدِي لَهُ وَكَانَ أَحَبَّ مَا يُهْدَى إِلَيْهِ مِنْ أَرْضِنَا الْأَدَمَ فَجَمَعْنَا لَهُ أُدْمًا كَثِيرًا فَخَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَيْهِ فَوَاللَّهِ إِنَّا لَعِنْدَهُ إِذْ جَاءَ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ بَعَثَهُ إِلَيْهِ فِي شَأْنِ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ قَالَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ ثُمَّ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ قَالَ فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي هَذَا عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ لَوْ قَدْ دَخَلْتُ عَلَى النَّجَاشِيِّ فَسَأَلْتُهُ إِيَّاهُ فَأَعْطَانِيهِ فَضَرَبْتُ عُنُقَهُ فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَأَتْ قُرَيْشٌ أَنِّي قَدْ أَجْزَأْتُ عَنْهَا حِينَ قَتَلْتُ رَسُولَ مُحَمَّدٍ قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَسَجَدْتُ لَهُ كَمَا كُنْتُ أَصْنَعُ فَقَالَ مَرْحَبًا بِصَدِيقِي أَهْدَيْتَ لِي مِنْ بِلَادِكَ شَيْئًا قَالَ قُلْتُ نَعَمْ أَيُّهَا الْمَلِكُ قَدْ أَهْدَيْتُ لَكَ أُدْمًا كَثِيرًا قَالَ ثُمَّ قَدَّمْتُهُ إِلَيْهِ فَأَعْجَبَهُ وَاشْتَهَاهُ ثُمَّ قُلْتُ لَهُ أَيُّهَا الْمَلِكُ إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَجُلًا خَرَجَ مِنْ عِنْدِكَ وَهُوَ رَسُولُ رَجُلٍ عَدُوٍّ لَنَا فَأَعْطِنِيهِ لِأَقْتُلَهُ فَإِنَّهُ قَدْ أَصَابَ مِنْ أَشْرَافِنَا وَخِيَارِنَا قَالَ فَغَضِبَ ثُمَّ مَدَّ يَدَهُ فَضَرَبَ بِهَا أَنْفَهُ ضَرْبَةً ظَنَنْتُ أَنْ قَدْ كَسَرَهُ فَلَوِ انْشَقَّتْ لِي الْأَرْضُ لَدَخَلْتُ فِيهَا فَرَقًا مِنْهُ ثُمَّ قُلْتُ أَيُّهَا الْمَلِكُ وَاللَّهِ لَوْ ظَنَنْتُ أَنَّكَ تَكْرَهُ هَذَا مَا سَأَلْتُكَهُ فَقَالَ لَهُ أَتَسْأَلُنِي أَنْ أُعْطِيَكَ رَسُولَ رَجُلٍ يَأْتِيهِ النَّامُوسُ الْأَكْبَرُ الَّذِي كَانَ يَأْتِي مُوسَى لِتَقْتُلَهُ قَالَ قُلْتُ أَيُّهَا الْمَلِكُ أَكَذَاكَ هُوَ فَقَالَ وَيْحَكَ يَا عَمْرُو أَطِعْنِي وَاتَّبِعْهُ فَإِنَّهُ وَاللَّهِ لَعَلَى الْحَقِّ وَلَيَظْهَرَنَّ عَلَى مَنْ خَالَفَهُ كَمَا ظَهَرَ مُوسَى عَلَى فِرْعَوْنَ وَجُنُودِهِ قَالَ قُلْتُ فَبَايِعْنِي لَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ قَالَ نَعَمْ فَبَسَطَ يَدَهُ وَبَايَعْتُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ ثُمَّ خَرَجْتُ إِلَى أَصْحَابِي وَقَدْ حَالَ رَأْيِي عَمَّا كَانَ عَلَيْهِ وَكَتَمْتُ أَصْحَابِي إِسْلَامِي ثُمَّ خَرَجْتُ عَامِدًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأُسْلِمَ فَلَقِيتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَذَلِكَ قُبَيْلَ الْفَتْحِ وَهُوَ مُقْبِلٌ مِنْ مَكَّةَ فَقُلْتُ أَيْنَ يَا أَبَا سُلَيْمَانَ وَاللَّهِ لَقَدْ اسْتَقَامَ الْمَنْسِمُ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَنَبِيٌّ أَذْهَبُ وَاللَّهِ أُسْلِمُ فَحَتَّى مَتَى قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ مَا جِئْتُ إِلَّا لِأُسْلِمَ قَالَ فَقَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَدَّمَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَأَسْلَمَ وَبَايَعَ ثُمَّ دَنَوْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُبَايِعُكَ عَلَى أَنْ تَغْفِرَ لِي مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِي وَلَا أَذْكُرُ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا عَمْرُو بَايِعْ فَإِنَّ الْإِسْلَامَ يَجُبُّ مَا كَانَ قَبْلَهُ وَإِنَّ الْهِجْرَةَ تَجُبُّ مَا كَانَ قَبْلَهَا“ قَالَ فَبَايَعْتُهُ ثُمَّ انْصَرَفْتُ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ وَقَدْ حَدَّثَنِي مَنْ لَا أَتَّهِمُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ كَانَ مَعَهُمَا أَسْلَمَ حِينَ أَسْلَمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حبیب بن اوس سے مروی ہے کہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے مجھے براہ راست بیان کیا کہ جب ہم غزوۂ احزاب میں خندق سے واپس ہوئے، تو میں نے چند قریشی لوگوں کو جمع کیا، وہ جو میرا مقام سمجھتے اور میری بات کو توجہ سے سنتے تھے، میں نے ان سے کہا: اللہ کی قسم! تم جانتے ہو کہ میری نظر میں محمد کی دعوت سب پر غالب ہو کر رہے گی اور ہم لوگ اسے پسند بھی نہیں کرتے، میری ایک رائے ہے، اب تم بتاؤ کہ اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: جی آپ کی رائے کیا ہے؟ میں نے کہا: میرا خیال ہے کہ ہم نجاشی کے پاس چلے جائیں اور وہیں رہیں، اگر محمد ہماری قوم پر غالب آ گئے، تو ہم نجاشی کے ہاں ہوں گے اور محمد کے ماتحت رہنے کی نسبت نجاشی کے ماتحت رہنا ہمیں زیادہ پسند ہے اور اگر ہماری قوم غالب ہوئی تو ہم معروف ہیں،ہمیں ان کے ہاں خیر ہی خیر ملے گی۔ لوگوں نے کہا: واقعی آپ کی رائے مناسب ہے۔پھر میں نے ان سے کہا: تم اس کو تحائف دینے کے لیے مال جمع کرو، اسے ہمارے علاقے کا چمڑا بطور ہدیہ بہت پسند تھا، پس ہم نے اسے دینے کے لیے بہت سے چمڑے جمع کر لئے اور ہم روانہ ہو گئے اور اس کے ہاں پہنچ گئے، اللہ کی قسم !ہم اس کے پاس موجود تھے کہ عمرو بن امیہ ضمری بھی وہاں آگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو جعفر اور ان کے ساتھیوں کے سلسلہ میں بات چیت کے لیے وہاں بھیجا تھا، وہ اس کے پاس آئے اور اس کے ہاں سے چلے گئے، اب میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: یہ عمرو بن امیہ ضمری ہے، اگر میں نجاشی کے ہاں جا کر اس سے اس کا مطالبہ کروں کہ اسے میرے حوالے کر دے تو وہ اسے میرے حوالے کر دے گا اور میں اسے قتل کر دوں گا تو قریش اعتراف کریں گے کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سفیر کو قتل کر کے ان کی نیابت کا حق ادا کر دیا۔ چنانچہ میں اس کے دربار میں گیا اور جاتے ہی اسے تعظیمی سجدہ کیا، جیسا کہ میں اس سے پہلے بھی کیا کرتا تھا،اس نے کہا: دوست کی آمد مبارک، تم اپنے وطن سے میرے لیے کچھ تحفہ لائے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں ! بادشاہ سلامت! میں آپ کے لیے کثیر مقدار میں چمڑے لے کر حاضر ہوا ہوں۔ پھر میں نے وہ اس کی خدمت میں پیش کئے، اس نے ان کو خوب پسند کیا اور یہ بھی اظہار کیا کہ اس کو ان کی ضرورت تھی، اس کے بعد میں نے کہا: بادشاہ سلامت! میں نے یہاں ایک آدمی کو دیکھا ہے، جو آپ کے ہاں سے باہر گیا ہے، وہ تو ہمارے دشمن کا قاصد ہے، آپ اسے میرے حوالے کر دیں تاکہ میں اسے قتل کر سکوں، وہ تو ہمارے معزز اور بہترین لوگوں کا قاتل ہے، یہ سن کر نجاشی غضبناک ہو گیا۔ اس نے اپنا ہاتھ لمبا کر کے اپنے ہی ناک پر اس قدر زور سے مارا کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ اس نے اپنے ناک کی ہڈی توڑ دی ہو گی، اس کے خوف کی وجہ سے میری یہ حالت ہوئی کہ اگر زمین پھٹ جاتی تو میں اس میں داخل ہو جاتا۔ پھر میں نے کہا: بادشاہ سلامت! اللہ کی قسم اگر مجھے علم ہوتا کہ یہ بات آپ کو اس قدر ناگوار گزرے گی تو میں آپ سے اس کا مطالبہ ہی نہ کرتا۔ نجاشی نے کہا: جو فرشتہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا کرتا تھا، اب وہ جس آدمی کے پاس آتا ہے، کیا میں اس کے قاصد کو تمہارے حوالے کر دوں تاکہ تم اسے قتل کر سکو؟ میں نے کہا: بادشاہ سلامت! کیا وہ واقعی ایسا ہی ہے؟ وہ بولا: اے عمرو! تجھ پر افسوس ہے، تم میری بات مان لو اور اس کی اتباع کر لو، اللہ کی قسم وہ یقینا حق پر ہے اور وہ ضرور بالضرور اپنے مخالفین پر غالب آئے گا، جیسے موسیٰ علیہ السلام ، فرعون اور اس کے لشکروں پر غالب آئے تھے۔ میں نے کہا: آپ مجھ سے اس کے حق میں قبولِ اسلام کی بیعت لے لیں۔ نجاشی نے کہا: ٹھیک ہے۔ چنانچہ اس نے اپنا ہاتھ پھیلا دیا اور میں نے اس کے ہاتھ پر قبولِ اسلام کی بیعت کر لی۔ پھر میں اپنے ساتھیوں کی طرف گیا، جبکہ میری رائے سابقہ رائے سے یکسر بدل چکی تھی، لیکن میں نے اپنے ساتھیوں سے اپنے قبولِ اسلام کو چھپائے رکھا، پھر میں مسلمان ہونے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چل دیا، خالد بن ولید سے میری ملاقات ہوئی، وہ مکہ مکرمہ سے آرہے تھے، یہ فتح مکہ سے پہلے کی بات ہے اور میں نے ان سے دریافت کیا: ابو سلیمان! کہاں سے آرہے ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! راستہ خوب واضح ہو چکا ہے، وہ محمد یقینا نبی ہے، اللہ کی قسم میں تو جا کر مسلمان ہوتا ہوں۔ کب تک یوں ہی ادھر ادھربھٹکتا رہوں گا، میں نے کہا: اللہ کی قسم میں بھی اسلام قبول کرنے کے لیے ہی آیاہوں۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچے۔ خالد بن ولید آگے بڑھے۔ انہوں نے اسلام قبول کیا اوربیعت کی، ان کے بعد میں بھی قریب ہوا اور میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں آپ سے اس شرط پر بیعت کرتا ہوں کہ میرے سابقہ سارے گناہ معاف ہو جائیں اور مجھے بعد میں سرزد ہونے والے گناہوں کانام لینایاد نہ رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمرو! تم بیعت کرو، بے شک اسلام پہلے کے سارے گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور ہجرت سابقہ تمام گناہوں کو ختم کر دیتی ہے، پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کر لی اور پھر میں واپس آگیا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں: مجھ سے ایک ایسے آدمی نے بیان کیا جومیرے نزدیک قابلِ اعتماد ہے، اس نے کہا کہ سیدنا عثمان بن طلحہ بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ بھی ان دونوں کے ہم راہ تھے، جب یہ دونوں اسلام میں داخل ہوئے تو وہ بھی ان کے ساتھ ہی مسلمان ہوئے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ خیبر کے سال (۷) سن ہجری کے اوائل میں مشرف با سلام ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں غزوۂ ذات سلاسل میں تین سو آدمیوں کے ایک دستے پر امیر مقرر فرمایا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں عمان کا حاکم مقرر فرمایا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں آپ وہاں کے حکمران رہے،بعد میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے انہیں ملک شام کا امیر بنا کر روانہ فرمایا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں فلسطین کاا امیر مقرر فرمایا، بعد ازاں عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک لشکر میں مصر کی طرف بھیجا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے انتقال تک وہاں کے امیر رہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں چار سال تک انہیں وہاں کے حاکم کی حیثیت سے برقرار رکھا، بعد میں معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں مصر کا حاکم بنایا،یہ تاحیات وہاں کے حاکم رہے، ان کی وفات اور تدفین وہیں عمل میں لائی گئی۔ ان کی وفات (۴۳) سن ہجری میں عیدالفطر کی شب کو ستر سال کی عمر میں ہوئی، عرب کے معروف تیر انداز اور بہادر تھے۔
حدیث نمبر: 11865
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ بَعَثَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”خُذْ عَلَيْكَ ثِيَابَكَ وَسِلَاحَكَ ثُمَّ ائْتِنِي“ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَصَعَّدَ فِيَّ النَّظَرَ ثُمَّ طَأْطَأَهُ فَقَالَ ”إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبْعَثَكَ عَلَى جَيْشٍ فَيُسَلِّمَكَ اللَّهُ وَيُغْنِمَكَ وَأَرْغَبُ لَكَ مِنَ الْمَالِ رَغْبَةً صَالِحَةً“ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَسْلَمْتُ مِنْ أَجْلِ الْمَالِ وَلَكِنِّي أَسْلَمْتُ رَغْبَةً فِي الْإِسْلَامِ وَأَنْ أَكُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”يَا عَمْرُو نِعْمَ الْمَالُ الصَّالِحُ لِلْمَرْئِ الصَّالِحِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے پیغام بھیجا کہ تم لباس اور اسلحہ زیب ِ تن کر کے میرے پاس آجاؤ، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا تو آپ وضو کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف نظر اٹھائی اور سر کو نیچے کی طرف جھکایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں ایک لشکر پر امیر بنا کر روانہ کرناچاہتا ہوں، اللہ تمہیں سلامت رکھے گا اور تمہیں غنیمت سے نوازے گا یا تمہیں مال کی صالح رغبت دے گا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں مال و دولت کے لالچ میں نہیں، بلکہ اسلام کی رغبت کی بنا پر مسلمان ہوا ہوں،میں تو اس لیے مسلمان ہوا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت حاصل رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمرو! صالح آدمی کے لیے اچھا مال اچھی چیز ہے۔
حدیث نمبر: 11866
حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْوَرْدِ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ قَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ لَا أُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ ”إِنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ صَالِحِي قُرَيْشٍ“ قَالَ وَزَادَ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَرْدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ طَلْحَةَ قَالَ ”نِعْمَ أَهْلُ الْبَيْتِ عَبْدُ اللَّهِ وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَأُمُّ عَبْدِ اللَّهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صرف وہی بات بیان کرتا ہوں، جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمرو بن عاص قریش کے صالح افراد میں سے ہے۔ عبدالجبار بن ورد نے مزید بیان کیا کہ ابن ابی ملیکہ نے طلحہ سے بیان کیا کہ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: عبداللہ، ان کے والد اور ان کی والدہ، یہ بہترین گھرانہ ہیں۔
حدیث نمبر: 11867
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”ابْنَا الْعَاصِ مُؤْمِنَانِ عَمْرٌو وَهِشَامٌ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عاص کے دونوں بیٹے عمرو اور ہشام اہل ایمان ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … دونوں اپنی رضامندی سے مشرف باسلام ہوئے، سیدنا ہشام نے اجنادین میں جام شہادت نوش کیا۔
حدیث نمبر: 11868
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عَقَلْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلْفَ مِثْلٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک ہزار ضرب الامثال سنی اور سیکھی ہیں۔
حدیث نمبر: 11869
أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شِمَاسَةَ حَدَّثَهُ قَالَ لَمَّا حَضَرَتْ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ الْوَفَاةُ بَكَى فَقَالَ لَهُ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ لِمَ تَبْكِي أَجَزَعًا عَلَى الْمَوْتِ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ وَلَكِنْ مِمَّا بَعْدُ فَقَالَ لَهُ قَدْ كُنْتَ عَلَى خَيْرٍ فَجَعَلَ يُذَكِّرُهُ صُحْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفُتُوحَهُ الشَّامَ فَقَالَ عَمْرٌو تَرَكْتَ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ شَهَادَةَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِنِّي كُنْتُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَطْبَاقٍ لَيْسَ فِيهَا طَبَقٌ إِلَّا قَدْ عَرَفْتُ نَفْسِي فِيهِ كُنْتُ أَوَّلَ شَيْءٍ كَافِرًا فَكُنْتُ أَشَدَّ النَّاسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَوْ مِتُّ حِينَئِذٍ وَجَبَتْ لِي النَّارُ فَلَمَّا بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُنْتُ أَشَدَّ النَّاسِ حَيَاءً مِنْهُ فَمَا مَلَأْتُ عَيْنَيَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا رَاجَعْتُهُ فِيمَا أُرِيدُ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَيَاءً مِنْهُ فَلَوْ مِتُّ يَوْمَئِذٍ قَالَ النَّاسُ هَنِيئًا لِعَمْرٍو أَسْلَمَ وَكَانَ عَلَى خَيْرٍ فَمَاتَ فَرُجِيَ لَهُ الْجَنَّةُ ثُمَّ تَلَبَّسْتُ بَعْدَ ذَلِكَ بِالسُّلْطَانِ وَأَشْيَاءَ فَلَا أَدْرِي عَلَيَّ أَمْ لِي فَإِذَا مِتُّ فَلَا تَبْكِيَنَّ عَلَيَّ وَلَا تُتْبِعْنِي مَادِحًا وَلَا نَارًا وَشُدُّوا عَلَيَّ إِزَارِي فَإِنِّي مُخَاصِمٌ وَسُنُّوا عَلَيَّ التُّرَابَ سَنًّا فَإِنَّ جَنْبِيَ الْأَيْمَنَ لَيْسَ بِأَحَقَّ بِالتُّرَابِ مِنْ جَنْبِي الْأَيْسَرِ وَلَا تَجْعَلَنَّ فِي قَبْرِي خَشَبَةً وَلَا حَجَرًا فَإِذَا وَارَيْتُمُونِي فَاقْعُدُوا عِنْدِي قَدْرَ نَحْرِ جَزُورٍ وَتَقْطِيعِهَا أَسْتَأْنِسْ بِكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد الرحمن بن شماسہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو ان پر گریہ طاری ہوگیا، ان کے فرزند عبداللہ نے ان سے کہا: آپ کیوں روتے ہیں؟ کیا موت کے ڈر کی وجہ سے؟ انہوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم موت سے نہیں، بلکہ موت کے بعد والے مراحل کا خوف ہے۔ عبداللہ نے کہا: آپ تو بہت اچھے اچھے اعمال کرتے رہے ہیں، پھر وہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں گزارے ہوئے لمحات اور ان کی فتوحات شام یاد کرانے لگے۔ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: تم ان سب سے افضل بات تو چھوڑ ہی گئے کہ میں کلمۂ شہادت کا اقرار و اعتراف کر چکا ہوں، میری زندگی کے تین مراحل ہیں اور مجھے ہر مرحلہ میں اپنی ذات کی معرفت حاصل ہے، میں پہلے مرحلے میں کافر تھا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سخت دشمن تھا، اگر مجھے اسی حال میں موت آجاتی تو مجھ پر جہنم واجب ہوتی ۔ جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی تو مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سب سے زیادہ جھجک آتی تھی، میں نے کبھی نظر بھر کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو کچھ دریافت کرنا چاہتا ہوتا کبھی دوسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت نہ کرتا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے ہاں تشریف لے گئے، یہ میری طرف سے آپ کے حیاء کی وجہ تھی، اگر انہی دنوں مجھے موت آجاتی تو لوگ کہتے کہ عمرو کو مبارک ہو، وہ مسلمان ہوا اور اس نے بہترین زندگی بسر کی، اس کے لیے جنت کی امید ہے۔اس کے بعد میں حکمران اور بہت سے معاملات میں مشغول رہا، میں نہیں جانتا کہ وہ امور میرے حق میں ثابت ہوں گے یا میرے خلاف، میں فوت ہو جاؤں تو تم میرے اوپر ہرگز گر یہ نہ کرنا اور میرے جنازہ کے ساتھ کسی مدح کرنے والے کو یا آگ لے کر نہ جانا اور میرے اوپر چادر باندھ دینا، کیونکہ اللہ کے فرشتے مجھ سے سخت حساب لیں گے اور تم میرے اوپر اچھی طرح مٹی ڈال دینا ، بے شک میرادایاں پہلو میرے بائیں پہلو سے زیادہ مٹی کا حق دار نہیں۔ اور تم میری قبر پر لکڑی یا پتھر نہ رکھنا، جب تم میری تدفین سے فارغ ہو جاؤ تو تم میری قبر کے پاس اتنی دیر بیٹھے رہنا جتنی دیر میں ایک اونٹ کو نحر کرکے اس کا گوشت تیار کیا جاتا ہے، تاکہ تمہاری موجودگی سے مجھے کچھ انس حاصل ہو۔
حدیث نمبر: 11870
حَدَّثَنَا أَبُو نَوْفَلِ بْنُ أَبِي عَقْرَبَ قَالَ جَزِعَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ عِنْدَ الْمَوْتِ جَزَعًا شَدِيدًا فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَا هَذَا الْجَزَعُ وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُدْنِيكَ وَيَسْتَعْمِلُكَ قَالَ أَيْ بُنَيَّ قَدْ كَانَ ذَلِكَ وَسَأُخْبِرُكَ عَنْ ذَلِكَ إِنِّي وَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَحُبًّا ذَلِكَ كَانَ أَمْ تَأَلُّفًا يَتَأَلَّفُنِي وَلَكِنِّي أَشْهَدُ عَلَى رَجُلَيْنِ أَنَّهُ قَدْ فَارَقَ الدُّنْيَا وَهُوَ يُحِبُّهُمَا ابْنُ سُمَيَّةَ وَابْنُ أُمِّ عَبْدٍ فَلَمَّا حَدَّثَهُ وَضَعَ يَدَهُ مَوْضِعَ الْغِلَالِ مِنْ ذَقْنِهِ وَقَالَ اللَّهُمَّ أَمَرْتَنَا فَتَرَكْنَا وَنَهَيْتَنَا فَرَكِبْنَا وَلَا يَسَعُنَا إِلَّا مَغْفِرَتُكَ وَكَانَتْ تِلْكَ هِجِّيرَاهُ حَتَّى مَاتَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو نوفل بن ابی عقرب سے مروی ہے کہ وفات کے وقت سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ پر گھبراہٹ طاری ہوگئی، ان کے بیٹے عبداللہ نے ان کی یہ حالت دیکھی تو کہا: اے ابو عبداللہ! یہ گھبراہٹ اور پریشانی کیسی؟ آپ کو تو یہ مقام حاصل رہا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کو اپنے قریب بٹھایا کرتے اور آپ کو مختلف علاقوں میں عامل بنا کر بھیجا کرتے تھے۔ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: بیٹے! یہ سب کچھ ہوتا رہا ہے، میں تمہیں اس بارے میں بتلاتا ہوں۔ اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ آپ کا میرے ساتھ یہ تعلق مجھ سے محبت کی بنیاد پر تھا یا میری تالیف قلبی کے لیے تھا۔ البتہ میں گواہی دیتا ہوں کہ دو آدمی ایسے تھے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے روانہ ہونے تک ان سے محبت کرتے رہے۔ ایک ابن سمیہ اور ابن ام عبد (یعنی سیدنا عمار بن یاسر اور سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما )۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ جب اپنے بیٹے سے یہ باتیں کر رہے تھے تو انہوں نے اپنا ہاتھ اپنی ٹھوڑی کے آخری حصہ پر رکھا ہوا تھا اور کہا: یا اللہ! (ہم خطا کار ہیں) تو نے ہمیں حکم دیئے، ہم نے ان کی پروانہ کی اور تونے ہمیں بہت سے کاموں سے روکا، مگر ہم ان کا ارتکاب کرتے رہے، ہم تو تیری مغفرت ہی کے امیدوار اور طلب گار ہیں۔ یہی کہتے ہوئے اور اسی حالت میں وہ انتقال کر گئے۔
حدیث نمبر: 11871
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرَأَيْتَ رَجُلًا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحِبُّهُ أَلَيْسَ رَجُلًا صَالِحًا قَالَ بَلَى قَالَ قَدْ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحِبُّكَ وَقَدِ اسْتَعْمَلَكَ فَقَالَ قَدِ اسْتَعْمَلَنِي فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَحُبًّا كَانَ لِي مِنْهُ أَمِ اسْتِعَانَةً بِي وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكَ بِرَجُلَيْنِ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحِبُّهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حسن بصری سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ کی اس شخص کے بارے میں کیا رائے ہے ، جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تاحیات محبت کرتے رہے ہوں ، کیا وہ صالح آدمی نہیں ہو گا ؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ، تو اس نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کو اپنا عامل بنا کر بھیجا ہوا تھا ، سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا : انہوں نے مجھے عامل تو بنایا تھا ، اللہ کی قسم ! میں نہیں جانتا کہ مجھ سے محبت کی وجہ سے یا میری مدد کرنے کے لیے مجھے عامل بنایا تھا ، البتہ میں تمہیں بتلاتا ہوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے تو آپ دو آدمیوں سے محبت کرتے تھے ، ایک سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور دوسرے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ۔
حدیث نمبر: 11872
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ فَأَتَيْتُ عَلَى سَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ وَهُوَ مُحْتَبٍ بِحَمَائِلِ سَيْفِهِ فَأَخَذْتُ سَيْفًا فَاحْتَبَيْتُ بِحَمَائِلِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَلَا كَانَ مَفْزَعُكُمْ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ“ ثُمَّ قَالَ ”أَلَا فَعَلْتُمْ كَمَا فَعَلَ هَذَانِ الرَّجُلَانِ الْمُؤْمِنَانِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ مدینہ منورہ میں خوف و ہراس پھیل گیا تو میں سیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام سیدنا سالم رضی اللہ عنہ کے ہاں گیا، وہ اپنی تلوار کے پٹے کے ساتھ گوٹھ مار کر بیٹھے تھے، میں نے ان سے تلوار لی اور اس کے پٹے سے گوٹھ مار کر بیٹھ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! تمہاری گھبراہٹ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف کیوں نہیں ہوئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس طرح کیوں نہیں کیا، جیسے ان دونوں نے کیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … تلوار کے پٹے سے گوٹھ مارنا، یہ اس بات پر دلیل ہے کہ اگر دشمن ہوا تو ہم اس کو واپس پلٹانے کے لیے مستعد ہیں۔
حدیث نمبر: 11873
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”أَسْلَمَ النَّاسُ وَآمَنَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: (فتح مکہ کے موقع پر) لوگوں نے تو ظاہراً اسلام قبول کیا اور عمرو بن عاص نے (دلی طور پر ) ایمان قبول کیا۔
وضاحت:
فوائد: … دراصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس ارشاد کے ذریعے سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے اس عداوت کو زائل کرنا چاہتے تھے، جو ان کو قبولیت ِ اسلام سے قبل اسلام اور اہل اسلام سے تھی۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: اس حدیث میں سیدناعمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی عظیم منقبت کا بیان ہے،کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے مومن ہونے کی شہادت دی، جس کا لازمی نتیجہ جنت ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ اِلَّا نَفْسٌ مُوْمِنَۃٌ۔)) … صرف مومن جنت میں داخل ہو گا۔
اس لیے عصرِ حاضر کے جو مخالفین سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ پر اس بنا پر طعن کرتے ہیں کہ انھوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ اختلاف بلکہ قتال کیا، ان کا یہ دعوی صحیح نہیں ہے، کیونکہ اس سے ایمان کی نفی نہیں ہوتی، جیسے ان کی بیان کردہ فضیلت سے ان کی عصمت ثابت نہیں ہوتی۔ یہ کہنا بہتر ہے کہ سیدناعمرو رضی اللہ عنہ کا یہ اختلاف ان کے کسی اجتہاد کی وجہ سے تھا، نہ کہ خواہش پرستی کی وجہ سے۔ (صحیحہ: ۱۵۵)
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: اس حدیث میں سیدناعمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی عظیم منقبت کا بیان ہے،کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے مومن ہونے کی شہادت دی، جس کا لازمی نتیجہ جنت ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ اِلَّا نَفْسٌ مُوْمِنَۃٌ۔)) … صرف مومن جنت میں داخل ہو گا۔
اس لیے عصرِ حاضر کے جو مخالفین سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ پر اس بنا پر طعن کرتے ہیں کہ انھوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ اختلاف بلکہ قتال کیا، ان کا یہ دعوی صحیح نہیں ہے، کیونکہ اس سے ایمان کی نفی نہیں ہوتی، جیسے ان کی بیان کردہ فضیلت سے ان کی عصمت ثابت نہیں ہوتی۔ یہ کہنا بہتر ہے کہ سیدناعمرو رضی اللہ عنہ کا یہ اختلاف ان کے کسی اجتہاد کی وجہ سے تھا، نہ کہ خواہش پرستی کی وجہ سے۔ (صحیحہ: ۱۵۵)