کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: چوتھے نمبر پر دائرۂ اسلام میں داخل ہونے والے ابو نجیح سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11862
حَدَّثَنَا شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الدِّمَشْقِيُّ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ أَبُو أُمَامَةَ يَا عَمْرُو بْنَ عَبَسَةَ صَاحِبَ الْعَقْلِ عَقْلِ الصَّدَقَةِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ بِأَيِّ شَيْءٍ تَدَّعِي أَنَّكَ رُبُعُ الْإِسْلَامِ قَالَ إِنِّي كُنْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَرَى النَّاسَ عَلَى ضَلَالَةٍ وَلَا أَرَى الْأَوْثَانَ شَيْئًا ثُمَّ سَمِعْتُ عَنْ رَجُلٍ يُخْبِرُ أَخْبَارَ مَكَّةَ وَيُحَدِّثُ أَحَادِيثَ فَرَكِبْتُ رَاحِلَتِي حَتَّى قَدِمْتُ مَكَّةَ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُسْتَخْفٍ وَإِذَا قَوْمُهُ عَلَيْهِ جُرَاءٍ فَتَلَطَّفْتُ لَهُ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ مَا أَنْتَ قَالَ ”أَنَا نَبِيُّ اللَّهِ“ فَقُلْتُ وَمَا نَبِيُّ اللَّهِ قَالَ ”رَسُولُ اللَّهِ“ قَالَ قُلْتُ آللَّهُ أَرْسَلَكَ قَالَ ”نَعَمْ“ قُلْتُ بِأَيِّ شَيْءٍ أَرْسَلَكَ قَالَ ”بِأَنْ يُوَحَّدَ اللَّهُ وَلَا يُشْرَكَ بِهِ شَيْءٌ وَكَسْرِ الْأَوْثَانِ وَصِلَةِ الرَّحِمِ“ فَقُلْتُ لَهُ مَنْ مَعَكَ عَلَى هَذَا قَالَ ”حُرٌّ وَعَبْدٌ أَوْ عَبْدٌ وَحُرٌّ“ وَإِذَا مَعَهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي قُحَافَةَ وَبِلَالٌ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ قُلْتُ إِنِّي مُتَّبِعُكَ قَالَ ”إِنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ يَوْمَكَ هَذَا وَلَكِنِ ارْجِعْ إِلَى أَهْلِكَ فَإِذَا سَمِعْتَ بِي قَدْ ظَهَرْتُ فَالْحَقْ بِي“ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَى أَهْلِي وَقَدْ أَسْلَمْتُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُهَاجِرًا إِلَى الْمَدِينَةِ فَجَعَلْتُ أَتَخَبَّرُ الْأَخْبَارَ حَتَّى جَاءَ رَكَبَةٌ مِنْ يَثْرِبَ فَقُلْتُ مَا هَذَا الْمَكِّيُّ الَّذِي أَتَاكُمْ قَالُوا أَرَادَ قَوْمُهُ قَتْلَهُ فَلَمْ يَسْتَطِيعُوا ذَلِكَ وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ وَتَرَكْنَا النَّاسَ سِرَاعًا قَالَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ فَرَكِبْتُ رَاحِلَتِي حَتَّى قَدِمْتُ عَلَيْهِ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَعْرِفُنِي قَالَ ”نَعَمْ أَلَسْتَ أَنْتَ الَّذِي أَتَيْتَنِي بِمَكَّةَ“ قَالَ قُلْتُ بَلَى فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي مِمَّا عَلَّمَكَ اللَّهُ وَأَجْهَلُ قَالَ ”إِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ فَأَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتْ فَلَا تُصَلِّ حَتَّى تَرْتَفِعَ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ حِينَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ فَإِذَا ارْتَفَعَتْ قِيدَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ حَتَّى يَسْتَقِلَّ الرُّمْحُ بِالظِّلِّ ثُمَّ أَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاةِ فَإِنَّهَا حِينَئِذٍ تُسْجَرُ جَهَنَّمُ فَإِذَا فَاءَ الْفَيْءُ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ فَإِذَا صَلَّيْتَ الْعَصْرَ فَأَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَغْرُبُ حِينَ تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ“ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ قَالَ ”مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَقْرَبُ وُضُوءَهُ ثُمَّ يَتَمَضْمَضُ وَيَسْتَنْشِقُ وَيَنْتَثِرُ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ فَمِهِ وَخَيَاشِيمِهِ مَعَ الْمَاءِ حِينَ يَنْتَثِرُ ثُمَّ يَغْسِلُ وَجْهَهُ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا وَجْهِهِ مِنْ أَطْرَافِ لِحْيَتِهِ مِنَ الْمَاءِ ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا يَدَيْهِ مِنْ أَطْرَافِ أَنَامِلِهِ ثُمَّ يَمْسَحُ رَأْسَهُ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا رَأْسِهِ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِهِ مَعَ الْمَاءِ ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا قَدَمَيْهِ مِنْ أَطْرَافِ أَصَابِعِهِ مَعَ الْمَاءِ ثُمَّ يَقُومُ فَيَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِالَّذِي هُوَ لَهُ أَهْلٌ ثُمَّ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا خَرَجَ مِنْ ذَنْبِهِ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ“ قَالَ أَبُو أُمَامَةَ يَا عَمْرُو بْنَ عَبَسَةَ انْظُرْ مَا تَقُولُ أَسَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُعْطَى هَذَا الرَّجُلُ كُلَّهُ فِي مَقَامِهِ قَالَ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ يَا أَبَا أُمَامَةَ لَقَدْ كَبِرَتْ سِنِّي وَرَقَّ عَظْمِي وَاقْتَرَبَ أَجَلِي وَمَا بِي مِنْ حَاجَةٍ أَنْ أَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَلَى رَسُولِهِ لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا لَقَدْ سَمِعْتُهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
شداد بن عبداللہ دمشقی، جن کو متعدد صحابۂ کرام سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا، ان سے مروی ہے کہ سیدنا ابو امامہ نے کہا کہ دیت (خون بہا) ادا نہ کر سکنے والوں کی طرف سے خون بہا ادا کرنے والے عمرو بن عبسہ! آپ بنو سلیم میں سے ہیں، آپ کس طرح دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ چوتھے نمبر پر دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے؟ انہوں نے کہا:میں دور جاہلیت میں بھی لوگوں کو گمراہ سمجھتا تھا اور میں بتوں کو کچھ اہمیت نہ دیا کرتا تھا، پھر میں نے ایک آدمی کو سنا وہ مکہ کی باتیں کیا کرتا اور بیان کیا کرتا تھا، میں سواری پر سوار ہو کر مکہ مکرمہ آیا۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوشیدہ طور پر اسلام کی تبلیغ کرتے تھے اور آپ کی قوم آپ پر غالب تھی اور ظلم ڈھاتی تھی۔ میں نرم خوئی اختیار کرکے آپ کے پاس پہنچنے میں کامیاب ہوگیا، میں نے عرض کیا: آپ کا دعویٰ کیاہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کا نبی ہوں۔ میں نے دریافت کیا: اللہ کا نبی ہونے سے کیا مراد ہے یا اس کا مفہوم کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نبی ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ میں اللہ کا رسول اور اس کا فرستادہ ہوں۔ میں نے دریافت کیا: آیا آپ کو اللہ نے رسول بنا کر مبعوث کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی بالکل۔ میں نے پوچھا: اللہ نے آپ کو کیا پیغام اور دعوت دے کر مبعوث کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے ایک ہونے پر ایمان لایا جائے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے، بتوں کو توڑ دیا جائے، صلہ رحمی کی جائے۔ میں نے کہا: اس دعوت کے سلسلہ میں آپ کے ساتھ کس قسم کے لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آزادہے اور ایک غلام۔ ان دنوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے عرض کیا: میں آپ کا متبع بننا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ان حالات میں اس بات کی استطاعت نہیں رکھ سکتے، البتہ تم اپنے اہل میں واپس چلے جاؤ، جب تم میرے غالب ہونے کا سنو تو میرے پاس آجانا۔ اس کے بعد میں اپنے اہل میں واپس آگیا، میں اسلام قبول کر چکا تھا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ منورہ میں تشریف لے آئے، میں حالات معلوم کرتا رہا یہاں تک کہ یثرب سے ایک چھوٹا سا قافلہ آیا۔ میں نے ان سے دریافت کیا کہ وہ مکی جو تمہارے ہاں آیا تھا، اس کی کیا پوزیشن ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ ان کی قوم نے ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا، مگر وہ اپنے اس ارادے میں کامیاب نہ ہو سکے، ان کے اور ان کے اس برے ارادہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رکاوٹ آگئی اور لوگ بڑی تیزی سے اس کے ساتھ مل رہے ہیں۔ پھر میں سواری پر سوار ہو کر مدینہ منورہ آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا اور میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے مجھے پہچانا؟ آپ نے فرمایا: کیا تم وہی شخص نہیں ہو، جو میرے پاس مکہ میں آئے تھے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو کچھ سکھایا ہے اور میں اس سے واقف نہیں، آپ مجھے بھی اس کی تعلیم دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم فجر کی نماز ادا کر لو تو طلوع آفتاب تک نماز نہ پڑھو، آفتاب طلوع ہونے کے بعد بھی اس کے بلند ہونے تک نماز نہ پڑھو، کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور اس وقت کفار اسے سجدہ کرتے ہیں، جب سورج ایک دو نیزوں کے برابر بلند ہو جائے تو نماز پڑھ سکتے ہو، بے شک نماز کے وقت اللہ کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں، تم سورج کے عین سر پر پہنچنے تک نماز پڑھ سکتے ہو، جب سورج عین سر پر ہو تو نماز نہ پڑھو کیونکہ اس وقت جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے، جب سایہ ڈھل جائے تو نماز پڑھو، نماز کے وقت اللہ کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں، پھر تم عصر تک نماز پڑھ سکتے۔ جب تم عصر کی نمازادا کر لو تو غروب آفتاب تک نماز پڑھنے سے رکے رہو، جب سورج غروب ہوتا ہے اس وقت بھی کفار اس کو سجدہ کرتے ہیں۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! مجھے وضوء کے مسائل بھی بتلائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو کوئی وضو کے پانی کے قریب ہو کر کلی کرے، ناک میں پانی چڑھائے، ناک کو جھاڑے،تو اس کے گناہ پانی کے ساتھ اس کے منہ سے اور نتھنوں سے نکل جاتے ہیں، پھر جب وہ چہرہ اسی طرح دھوئے جیسے اس کا اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیاہے تو اس کے گناہ پانی کے ساتھ اس کی داڑھی کے کناروں سے نکل جاتے ہیں۔ پھروہ اپنے بازوؤں کو کہنیوں تک دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کے گناہ انگلیوں کے پوروں سے نکل جاتے ہیں، پھر وہ جب اپنے سرکا مسح کرتا ہے تو اس کے سر کے گناہ پانی کے ساتھ بالوں کے سروں سے نکل جاتے ہیں، پھر وہ اپنے قدموں کو یعنی پاؤں کو اسی طرح دھوتا ہے، جیسے اس کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے گناہ پاؤں کی انگلیوں کے کناروں سے نکل جاتے ہیں، اس کے بعد وہ کھڑا ہو کر اللہ کے شایان شان حمد و ثناء کرتا ہے اور دو رکعت نماز ادا کرتا ہے تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے، جیسا وہ اپنی ولادت کے روز تھا۔ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کے شاگرد ابو امامہ نے دریافت کیا: اے عمرو بن عبسہ! ذرا خیال سے بولیں۔ کیا آپ نے یہ ساری بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خو دسنی ہے؟ کیایہ سب کچھ ایک آدمی کو ایک ہی وقت میں مل جاتا ہے؟ سیدنا عمروبن عبسہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابو امامہ!اب میں بوڑھا ہو چکا ہوں، میری ہڈیاں کمزور ہو چکی ہیں، میری موت کا وقت قریب ہے۔ مجھے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بات ایک، دو یا تین مرتبہ ہی سنی ہوتی تو میں بیان نہ کرتا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث سات مرتبہ بلکہ اس سے بھی زائد مرتبہ سماع کر چکا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ قدیم الاسلام صحابی ہیں، مکہ میں مسلمان ہوئے تھے، مذکورہ بالا حدیث میں خوبصورت انداز میں ان کا قبولیت ِ اسلام والا واقعہ بیان کیا گیا ہے، یہ غزوۂ خندق یا خیبر کے بعد ہجرت کرکے مدینہ منورہ آئے اور یہاں رہائش پذیر ہوئے، بعد میں شام میں سکونت پذیر ہوگئے اور حمص میں وفات پائی۔ حافظ ابن حجر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رقم طراز ہیں: میرا خیال ہے کہ ان کی وفات سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے آخری ایام میں ہوئی، کیونکہ فتنوں میں اور خلافت معاویہ میں ان کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔ واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11862
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 832 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17019 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17144»
حدیث نمبر: 11863
وَعَنْ أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ يَعْنِي عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَاصَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِصْنَ الطَّائِفِ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ بَلَغَ بِسَهْمٍ فَلَهُ دَرَجَةٌ فِي الْجَنَّةِ“ قَالَ فَبَلَغْتُ يَوْمَئِذٍ سِتَّةَ عَشَرَ سَهْمًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو نجیح سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں طائف کے قلعے کا محاصر کیا، اس دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کی راہ میں دشمن کو ایک تیر مارا، اسے جنت میں ایک درجہ ملے گا۔ سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس دن سولہ تیرمارے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11863
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه ابوداود: 3965،والترمذي: 1638 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17022 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17147»