حدیث نمبر: 11860
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ شَيْءٌ فَأَعْطَاهُ نَاسًا وَتَرَكَ نَاسًا وَقَالَ جَرِيرٌ أَعْطَى رِجَالًا وَتَرَكَ رِجَالًا قَالَ فَبَلَغَهُ عَنِ الَّذِينَ تَرَكَ أَنَّهُمْ عَتَبُوا وَقَالُوا قَالَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ”إِنِّي أُعْطِي نَاسًا وَأَدَعُ نَاسًا وَأُعْطِي رِجَالًا وَأَدَعُ رِجَالًا“ قَالَ عَفَّانُ قَالَ ”ذِي وَذِي وَالَّذِي أَدَعُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الَّذِي أُعْطِي أُعْطِي أُنَاسًا لِمَا فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْجَزَعِ وَالْهَلَعِ وَأَكِلُ قَوْمًا إِلَى مَا جَعَلَ اللَّهُ فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْغِنَى وَالْخَيْرِ مِنْهُمْ عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ“ قَالَ وَكُنْتُ جَالِسًا تِلْقَاءَ وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِكَلِمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حُمْرَ النَّعَمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمروبن تغلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مال غنیمت آیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لوگوں میں اس کو تقسیم کر دیا اور بعض لوگوں کو چھوڑ دیا، جن لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مال نہیں دیا تھا،انہوں نے خفگی کا اظہار کیا، جب ان کی یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر چڑھ کر اللہ کی حمد و ثناء کی اور پھر فرمایا: میں بعض لوگوں کو دیتا اور بعض کو چھوڑ دیتا ہوں، حالانکہ میں جن کو نہیں دیتا، وہ مجھے ان افراد کی بہ نسبت زیادہ محبوب ہوتے ہیں، جن کو میں دیتا ہوں، جن لوگوں کے دلوں میں حرص اور طمع ہوتی ہے، میں ان کو دیتا ہوں اور اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کے دلوں میں استغنا اور بھلائی رکھی ہے، میں انہیں اللہ کی ان عطا کردہ نعمتوں کے سپرد کر تا ہوں، عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ بھی ایسے ہی لوگوں میں سے ہیں۔ سیدنا عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ نے اپنے حق میں یہ بات سن کر کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس بات کے مقابلے میں مجھے سرخ اونٹ لینا زیادہ پسند نہیں ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عمر بن تغلب رضی اللہ عنہ معروف صحابی ہیں، انھوں نے بصرہ میںسکونت اختیار کی تھی، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ احادیث بیان کی ہیں، بعض اہل علم نے تو ان سے روایت کرنے والوں میں صرف حسن بصری کا ذکر کیا ہے۔