کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11849
عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَلَامٌ، فَأَغْلَظْتُ لَهُ فِي الْقَوْلِ، فَانْطَلَقَ عَمَّارٌ يَشْكُونِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ خَالِدٌ وَهُوَ يَشْكُوهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَجَعَلَ يُغْلِظُ لَهُ وَلَا يَزِيدُ إِلَّا غِلْظَةً، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَاكِتٌ لَا يَتَكَلَّمُ، فَبَكَى عَمَّارٌ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَلَا تَرَاهُ؟ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ، قَالَ: ”مَنْ عَادَى عَمَّارًا عَادَاهُ اللَّهُ، وَمَنْ أَبْغَضَ عَمَّارًا أَبْغَضَهُ اللَّهُ“، قَالَ خَالِدٌ: فَخَرَجْتُ فَمَا كَانَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ رِضَا عَمَّارٍ، فَلَقِيتُهُ فَرَضِيَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي مَرَّتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے مابین کچھ تکرار ہوگئی،میں نے ان سے کچھ سخت باتیں کہہ دیں۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ میری شکایت کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں چلے گئے، ان کے بعد سیدنا خالد رضی اللہ عنہ بھی ان کی شکایت کے سلسلہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں گئے اور ان کے متعلق سخت باتیں کرنے لگے، ان کی باتوں کی شدت بڑھتی ہی جاتی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش تھے، کوئی کلام نہیں کر رہے تھے، یہ منظر دیکھ کر عمار رضی اللہ عنہ رونے لگے۔ اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! کیا آپ دیکھتے نہیں یہ کیا کچھ کہہ رہے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھا کر فرمایا: جو شخص عمار سے عداوت رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے عداوت رکھے گا اور جو کوئی عمار سے بغض رکھے گا، اللہ تعالیٰ اس سے بغض رکھے گا۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں سے واپس ہوا تو میری نظروں میں سب سے اہم اور پسندیدہ بات یہی تھی کہ عمار رضی اللہ عنہ مجھ سے راضی ہو جائیں، چنانچہ میں نے جا کر ان سے ملاقات کی اور وہ مجھ سے راضی ہوگئے۔ عبداللہ بن امام احمد کہتے ہیں:میں نے یہ حدیث اپنے والدسے دو مرتبہ سنی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ صحابی ہیں،یہ اور ان کے والدین پہلے پہل ایمان لانے والوں میں سے ہیں، اس گھرانے کو اسلام قبول کرنے کے جرم میں بہت سے مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑا، بعض اوقات تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ان کو عذاب دیا جاتا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی صبر کیا اور ان کو بھی صبر کرنے کی تلقین کی، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی اور تمام غزوات میں شریک رہے، جنگ یمامہ میں ان کا ایک کان کام آیا، امیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو کوفہ کا عامل مقرر فرمایا تھا، جنگ صفین میں امیر المومنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اورتریسٹھ برس کی عمر میں۳۷ ھ میں اسی جنگ میں شہید ہو گئے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11849
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، اخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 120، والنسائي في الكبري : 8268، وابن حبان: 7081 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16814 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16938»
حدیث نمبر: 11850
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ يُحَدِّثُ: أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَهْدَى إِلَى نَاسٍ هَدَايَا فَفَضَّلَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عمرو بن دینار مصر کے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتا تھا کہ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کی خدمت میں تحائف بھیجے اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو زیادہ اور قیمتی تحفے بھیجے، اس بارے میں جب ان سے دریافت کیا گیا کہ ان کو اس قدر اہمیت دینے کی کیا وجہ ہے؟ تو انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ایک باغی گروہ ان کو قتل کرے گا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد امت مسلمہ دو گروہوں میں بٹ گئی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ، ان دو گروہوں میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بر حق تھی اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا اجتہادی معاملہ بغاوت اور خطا پر مبنی تھا، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور جنگ صفین میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے گروہ کے ہاتھوں شہید ہو گئے، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشین گوئی پوری ہو گئی کہ وہ باغی گروہ کے ہاتھوں قتل ہوں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11850
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، اخرجه ابن ابي شيبة: 15/ 302، وابويعلي: 7342 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17766 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17918»
حدیث نمبر: 11851
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ فَوَقَعَ فِي عَلِيٍّ وَفِي عَمَّارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَتْ أَمَّا عَلِيٌّ فَلَسْتُ قَائِلَةً لَكَ فِيهِ شَيْئًا وَأَمَّا عَمَّارٌ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا يُخَيَّرُ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَرْشَدَهُمَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عطاء بن یسار سے مروی ہے کہ ایک آدمی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں آیا اور وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے بارے میں ناروا باتیں کرنے لگا۔سیدہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جہاں تک سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بات ہے تو میں ان کے بارے میں تجھ سے کچھ نہیں کہوں گی، البتہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے بارے میں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے سنا ہے کہ عمار کو جب بھی دو باتوں میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کا اختیار دیا جائے تو انھوں نے زیادہ بہتر اور ہدایت والی بات کو منتخب کیا۔
وضاحت:
فوائد: … جب سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے سامنے دو مؤقف رکھ دیئے جائیں تو وہ درست اور زیادہ ہدایت والے مؤقف کو اختیار کریں گے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد جب مسلمانوں کے دو گروہوں میں سے کسی ایک کے ساتھ شریک ہونے کا مسئلہ پیدا ہوا تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کے مطابق درست مؤقف اختیار کیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک ہو گئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11851
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم اخرجه الترمذي: 3799،وابن ماجه: 148، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24820 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25331»
حدیث نمبر: 11852
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”ابْنُ سُمَيَّةَ مَا عُرِضَ عَلَيْهِ أَمْرَانِ قَطُّ إِلَّا اخْتَارَ الْأَرْشَدَ مِنْهُمَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن سمیہ کے سامنے جب بھی دو باتیں پیش کی گئیں تو انہوں نے ان میں سے بہتر بات کو اختیار کیا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی امی جان سیدہ سمیہ رضی اللہ عنہا تھیں، ابوجہل ملعون نے ان کو اس قدر سزائیں دیں کہ یہ دم توڑ گئیں، سیدہ سمیہ رضی اللہ عنہا اسلام کی سب سے پہلی شہیدہ ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11852
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، اخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 119، والحاكم: 3/ 388، والطبراني في الكبير : 10072 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2693 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3693»
حدیث نمبر: 11853
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي (يَعْنِي أَبَا قَتَادَةَ السُّلَمِيَّ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَمَّارٍ حِينَ جَعَلَ يَحْفِرُ الْخَنْدَقَ وَجَعَلَ يَمْسَحُ رَأْسَهُ وَيَقُولُ ”بُؤْسَ ابْنِ سُمَيَّةَ تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک ایسے آدمی نے مجھے بیان کیا جو مجھ سے بہتر اور افضل ہے،ان کی مراد سیدنا ابو قتادہ سلمی انصاری رضی اللہ عنہ ہیں، اس نے بیان کیا کہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ خندق کھود رہے تھے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے سر سے مٹی جھاڑتے ہوئے فرما رہے تھے: ہائے ابن سمیہ کی مصیبت،(اے عمار!) تجھے ایک باغی گروہ قتل کر ے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11853
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 2915، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22609 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22983»
حدیث نمبر: 11854
عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ لَهُ وَلِابْنِهِ عَلِيٍّ انْطَلِقَا إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَاسْمَعَا مِنْ حَدِيثِهِ قَالَ فَانْطَلَقْنَا فَإِذَا هُوَ فِي حَائِطٍ لَهُ فَلَمَّا رَآنَا أَخَذَ رِدَاءَهُ فَجَاءَنَا فَقَعَدَ فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا حَتَّى أَتَى عَلَى ذِكْرِ بِنَاءِ الْمَسْجِدِ قَالَ كُنَّا نَحْمِلُ لَبِنَةً لَبِنَةً وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ يَحْمِلُ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ قَالَ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَنْفُضُ التُّرَابَ عَنْهُ وَيَقُولُ ”يَا عَمَّارُ أَلَا تَحْمِلُ لَبِنَةً كَمَا يَحْمِلُ أَصْحَابُكَ“ قَالَ إِنِّي أُرِيدُ الْأَجْرَ مِنَ اللَّهِ قَالَ فَجَعَلَ يَنْفُضُ التُّرَابَ عَنْهُ وَيَقُولُ ”وَيْحَ عَمَّارٍ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ يَدْعُوهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ“ قَالَ فَجَعَلَ عَمَّارٌ يَقُولُ أَعُوذُ بِالرَّحْمَنِ مِنَ الْفِتَنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عکرمہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے اور میرے بیٹے علی سے کہا: تم ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جا کر ان سے احادیث سن کر آؤ، پس ہم چلے گئے، وہ اپنے باغ میں تشریف فرما تھے، انہوں نے ہمیں دیکھا تو اپنی چادر سنبھال کر ہمارے پاس آکر بیٹھ گئے اور ہمیں احادیث سنانے لگے(یا ہم سے باتیں کرنے لگے) یہاں تک کہ مسجد (نبوی) کی تعمیر کا ذکر آگیا۔ انھوں نے کہا: ہم ایک ایک اینٹ اٹھا رہے تھے اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں اٹھا رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب ان کو دیکھا تو ان کے جسم سے مٹی صاف کرنے لگے اور فرمانے لگے: عمار! تم بھی اپنے ساتھیوں کی طرح ایک ایک اینٹ کیوں نہیں اٹھاتے؟ انہوں نے کہا: میں اللہ سے زیادہ ثواب حاصل کرنا چاہتا ہوں، آپ ان کے جسم سے مٹی جھاڑتے جاتے اور فرماتے جاتے: ہائے عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا، یہ انہیں جنت کی طرف بلائے گا، لیکن وہ اسے جہنم کی طرف بلائیں گے۔ یہ سن کر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں فتنوں سے بچنے کے لیے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11854
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 447، 2812 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11862 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11883»
حدیث نمبر: 11855
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ عَمَّارٌ فَاسْتَأْذَنَ فَقَالَ ”ائْذَنُوا لَهُ مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے آکر اندر آنے کی اجازت طلب کی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے آنے کی اجازت دے دو، بہترین اور شاندار آدمی کو خوش آمدید۔
وضاحت:
فوائد: … طَیِّب سے مراد وہ آدمی ہے جو اپنی ذات کے اعتبار سے کریم، بزرگ اور حسین الاخلاق ہو، اور مُطَیَّب سے مراد یہ ہے کہ اسلام کی وجہ سے ان کے اس کرم اور حسن میں اضافہ ہوا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11855
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني، اخرجه الترمذي: 3798، وابن ماجه: 146 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 779 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 779»
حدیث نمبر: 11856
عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ دَعَا عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَقَالَ إِنِّي سَائِلُكُمْ وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَصْدُقُونِي نَشَدْتُكُمُ اللَّهَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْثِرُ قُرَيْشًا عَلَى سَائِرِ النَّاسِ وَيُؤْثِرُ بَنِي هَاشِمٍ عَلَى سَائِرِ قُرَيْشٍ فَسَكَتَ الْقَوْمُ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَوْ أَنَّ بِيَدِي مَفَاتِيحَ الْجَنَّةِ لَأَعْطَيْتُهَا بَنِي أُمَيَّةَ حَتَّى يَدْخُلُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ فَبَعَثَ إِلَى طَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَلَا أُحَدِّثُكُمَا عَنْهُ يَعْنِي عَمَّارًا أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ آخِذًا بِيَدِي نَتَمَشَّى فِي الْبَطْحَاءِ حَتَّى أَتَى عَلَى أَبِيهِ وَأُمِّهِ وَعَلَيْهِ يُعَذَّبُونَ فَقَالَ أَبُو عَمَّارٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ الدَّهْرَ هَكَذَا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اصْبِرْ“ ثُمَّ قَالَ ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِآلِ يَاسِرٍ وَقَدْ فَعَلْتَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سالم بن ابی جعد سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سمیت کچھ صحابہ رضی اللہ عنہ کوبلوایا اور کہا: میں تم سے ایک بات دریافت کرنا چاہتا ہوں اور میرا ارادہ ہے کہ تم مجھ سے سچ سچ بات بیان کر دو، میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں: کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوئی چیز دینے میں قریش کو دوسرے لوگوں پر ترجیح دیا کرتے تھے؟ اور قریش میں سے بنو ہاشم کو ترجیح دیا کرتے تھے؟ یہ سن کر لوگ خاموش رہ گئے۔سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر جنت کی چابیاں میرے ہاتھ میں آجائیں تو میں چابیاں بنو امیہ کو دے دوں یہاں تک کہ یہ سب لوگ جنت میں چلے جائیں ۔پھر انہوں نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: کیا میں تمہیں اس (یعنی عمار رضی اللہ عنہ ) کے متعلق کچھ بیان کردوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور ہم بطحاء میں چلتے آرہے تھے، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عمار رضی اللہ عنہ اور اس کے ماں باپ کے پاس سے گزرے، انہیں قبول اسلام کی پاداش میں عذاب دیا جا رہا تھا۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے والد (سیدنایاسر رضی اللہ عنہ ) نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ایسا کب تک ہوتا رہیگا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: صبرکرو۔ پھر فرمایا: یا اللہ! آل یاسر کی مغفرت فرما۔ (ویسے میں جانتا ہوں کہ) تو ان کی مغفرت کر چکا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … مغفرت کے باوجود مغفرت کا سوال کرنا، اس سے مراد مغفرت کا دوام، سوال کرنے والے کی عاجزی اور اللہ تعالیٰ کے اس احسان کا شکر ادا کرنے کی طاقت نہ ہونا ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11856
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، سالم بن ابي الجعد لم يدرك عثمان بن عفان، وقوله اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِآلِ يَاسِرٍ له شواھد ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 439 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 439»
حدیث نمبر: 11857
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحِبُّهُ أَلَيْسَ رَجُلًا صَالِحًا قَالَ بَلَى قَالَ قَدْ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحِبُّكَ وَقَدِ اسْتَعْمَلَكَ فَقَالَ قَدِ اسْتَعْمَلَنِي فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَحُبًّا كَانَ لِي مِنْهُ أَوِ اسْتِعَانَةً بِي وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكَ بِرَجُلَيْنِ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحِبُّهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حسن بصری سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کی اس شخص کے بارے میں کیا رائے ہے، جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تا حیات محبت کرتے رہے ہوں، کیا وہ صالح آدمی نہیں ہوگا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، تو اس نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کو اپناعامل بنا کر بھیجا ہوا تھا، سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: انہوں نے مجھے عامل تو بنایا تھا، اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ مجھ سے محبت کی وجہ سے یا میری مدد کرنے کے لیے مجھے عامل بنایا تھا، البتہ میں تمہیں بتلاتا ہوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے تو آپ دو آدمیوں سے محبت کرتے تھے، ایک سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور دوسرے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11857
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمرو بن عاص، اخرجه بنحوه النسائي في الكبري : 9274، والحاكم: 3/ 392 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17807 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17960»