کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سیدنا علاء بن الحضرمی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11848
عَنِ ابْنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ، أَنَّ أَبَاهُ كَتَبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَدَأَ بِنَفْسِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابن علاء حضرمی سے روایت ہے کہ ان کے والد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک تحریر بھیجی تو تحریر کی ابتداء اپنے آپ سے کی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بحرین کا عامل بنا کر بھیجا تھا، بعد میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی ان کے اس عہدے کو برقرار رکھا، یہاں تک کہ (۱۴یا۲۱) سن ہجری میں ولایت بحرین کے دوران ہی ان کا انتقال ہوا، یہمستجاب الدعاء بزرگ تھے، چند دعائیں پڑھ کر یونہی سمندر کے اندرداخل ہوگئے تھے۔ بحرین کے علاقے میں مرتدین کے خلاف جہاد میں انہوںنے بڑا حصہ لیا تھا۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہرقل کی طرف خط لکھا تو بسم اللہ کے بعد یوں تحریر کیا: مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللّٰہِ وَرَسُولِہِ إِلٰی ہِرَقْلَ عَظِیمِ الرُّومِ (اللہ کے بندے اور رسول محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے عظیم الروم ہرقل کی طرف)
یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے اپنا نام لکھا، اسی طرح جب سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف خط لکھا تو انھوں نے بھی مِنَ الْعَلَائِ بْنِ الْحَضْرَمِیِّ اِلٰی مُحَمَّدٍ رَّسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لکھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11848
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة ابن العلائ، اخرجه ابوداود: 5134 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18986 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19195»