حدیث نمبر: 11842
عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْكَ، قَالَ: نَعَمْ، لَمَّا بَلَغَنِي خُرُوجُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَرِهْتُ خُرُوجَهُ كَرَاهَةً شَدِيدَةً، خَرَجْتُ حَتَّى وَقَعْتُ نَاحِيَةَ الرُّومِ، وَقَالَ يَعْنِي يَزِيدَ بِبَغْدَادَ: حَتَّى قَدِمْتُ عَلَى قَيْصَرَ، قَالَ: فَكَرِهْتُ مَكَانِي ذَلِكَ أَشَدَّ مِنْ كَرَاهِيَتِي لِخُرُوجِهِ، قَالَ: فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَوْلَا أَتَيْتُ هَذَا الرَّجُلَ، فَإِنْ كَانَ كَاذِبًا لَمْ يَضُرَّنِي، وَإِنْ كَانَ صَادِقًا عَلِمْتُ، قَالَ: فَقَدِمْتُ فَأَتَيْتُهُ، فَلَمَّا قَدِمْتُ قَالَ النَّاسُ: عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي: ”يَا عَدِيُّ بْنَ حَاتِمٍ أَسْلِمْ تَسْلَمْ“ ثَلَاثًا، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي عَلَى دِينٍ، قَالَ: ”أَنَا أَعْلَمُ بِدِينِكَ مِنْكَ“، فَقُلْتُ: أَنْتَ أَعْلَمُ بِدِينِي مِنِّي؟ قَالَ: ”نَعَمْ، أَلَسْتَ مِنَ الرَّكُوسِيَّةِ، وَأَنْتَ تَأْكُلُ مِرْبَاعَ قَوْمِكَ?“، قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: ”فَإِنَّ هَذَا لَا يَحِلُّ لَكَ فِي دِينِكَ“، قَالَ: فَلَمْ يَعُدْ أَنْ قَالَهَا فَتَوَاضَعْتُ لَهَا، فَقَالَ: ”أَمَّا إِنِّي أَعْلَمُ مَا الَّذِي يَمْنَعُكَ مِنَ الْإِسْلَامِ، تَقُولُ: إِنَّمَا اتَّبَعَهُ ضَعَفَةُ النَّاسِ، وَمَنْ لَا قُوَّةَ لَهُ، وَقَدْ رَمَتْهُمُ الْعَرَبُ، أَتَعْرِفُ الْحِيرَةَ?“، قُلْتُ: لَمْ أَرَهَا وَقَدْ سَمِعْتُ بِهَا، قَالَ: ”فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُتِمَّنَّ اللَّهُ هَذَا الْأَمْرَ حَتَّى تَخْرُجَ الظَّعِينَةُ مِنَ الْحِيرَةِ حَتَّى تَطُوفَ بِالْبَيْتِ فِي غَيْرِ جِوَارِ أَحَدٍ، وَلَيَفْتَحَنَّ كُنُوزَ كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ“، قَالَ: قُلْتُ: كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ؟ قَالَ: ”نَعَمْ، كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ، وَلَيُبْذَلَنَّ الْمَالُ حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ“، قَالَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ: فَهَذِهِ الظَّعِينَةُ تَخْرُجُ مِنَ الْحِيرَةِ فَتَطُوفُ بِالْبَيْتِ فِي غَيْرِ جِوَارٍ، وَلَقَدْ كُنْتُ فِيمَنْ فَتَحَ كُنُوزَ كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَكُونَنَّ الثَّالِثَةُ لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَالَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو عبیدہ سے روایت ہے، وہ ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں، اس نے کہا: میں نے سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا کہ مجھ تک آپ کی طرف سے ایک بات پہنچی ہے، میں اسے آپ سے براہ راست سماع کرنا چاہتا ہوں، انہوں نے کہا: جی ٹھیک ہے، جب مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور کی اطلاع ملی تو مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ظہور اچھا نہ لگا، مجھے اس سے شدید کراہت ہوئی، میں یہاں سے بھاگ نکلا اور روم کے علاقے میں جا پہنچا، حدیث کے راوی یزید نے بغداد میں یوں بیان کیا:میں یہاں سے بھاگ کر قیصر روم کے ہاں چلا گیا، مگر مجھے پہلے سے بھی زیادہ پریشانی ہوئی، تو میں نے سوچا کہ کیوں نہ میں اسی آدمی کے ہاں چلا جاؤں، اگر وہ جھوٹا ہوا تو مجھے اس کا ضرر نہیں ہو گا اوراگر وہ سچا ہوا تو مجھے علم ہو ہی جائے گا، چنانچہ میں واپس آکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، جب میں آیا تو لوگوں نے کہا: عدی بن حاتم، عدی بن حاتم، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے تین بار فرمایا: عدی بن حاتم! دائرۂ اسلام میں داخل ہو جاؤ، سلامت رہو گے۔ عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: میں ایک دین پر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے دین کے متعلق تم سے بہتر جانتا ہوں۔ میں نے عرض کیا: کیا آپ میرے دین کے بارے میں مجھ سے بہتر جانتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ کیا تم رکوسیہ گروہ میں سے نہیں ہو؟ (یہ عیسائیوں اور صابئین کا ایک درمیانی گروہ ہے) اور تم اپنی قوم سے مال کا چوتھا حصہ لے کر کھاتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حالانکہ یہ چیز تمہارے دین میں تمہارے لیے حلال نہیں ہیں۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب یہ دونوں باتیں بیان فرمائیں تو میں نے انہیں تسلیم کر لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اسلام قبول کرنے سے کون سی چیز تمہارے لیے مانع ہے؟ تم سمجھتے ہو کہ کم زور معاشرت والے افراد نے دین اسلام کی اتباع کی ہے اور ایسے لوگوں نے دین اسلام قبول کیا ہے، جنہیں دنیوی لحاظ سے قوت یا شان و شوکت حاصل نہیں اور عربوں نے ان مسلمانوں کو دھتکار دیا ہے، کیا تم حیرہ (کوفہ کے قریب ایک) شہر سے واقف ہو؟ میں نے عرض کیا: میں نے اس شہر کو دیکھا تو نہیں، البتہ اس کے بارے سنا ضرور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اللہ تعالیٰ اس دین کو اس حد تک ضرور غالب کرے گا کہ ایک اکیلی خاتون حیرہ شہر سے کسی کی پناہ اور حفاظت کے بغیر بے خوف و خطر سفر کرتی ہوئی آکر بیت اللہ کا طواف کرے گی اور کسریٰ بن ہرمز کے خزانے ضرور بالضرور مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوں گے۔ میں عدی نے حیران ہو کر پوچھا: کیا کسریٰ بن ہرمز کے خزانے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں ہاں کسریٰ بن ہرمز کے اور مال و دولت کی اس قدر فراوانی ہو جائے گی کہ کوئی آدمی مال لینے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے کہا: (میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق ایسا پر امن دور دیکھا کہ) ایک اکیلی خاتون حیرہ سے کسی کی پناہ اور حفاظت کے بغیربے خوف و خطر سفر کرکے آکر بیت اللہ کا طواف کرتی ہے اور میں خود ان لوگوں میں شامل تھا، جنہوں نے کسریٰ بن ہر مز کے خزانوں کو فتح کیا تھا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تیسری بات بھی ضرور پوری ہو کر رہے گی، کیونکہ یہ بات اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عدی بن حاتم بن عبد اللہ طائی کوفی رضی اللہ عنہ صحابی ہیں، ان کے باپ سخاوت میںمشہور ہیں،یہ مذہباً عیسائی تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو انھوں نے اسلام قبول کر لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی عزت کیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد جب عربوں میں مختلف انداز میں ارتداد نمودار ہوا تو یہ اپنی قوم کے ساتھ اسلام پر ثابت قدم رہے اور اس وقت بھی اپنی قوم کی زکوۃ ادا کی،یہ بڑے سختی، اپنی قوم کے ہاں معززاور بزرگ سمجھے جاتے ہیں، بلا کے حاضر الجواب تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ہونے والی عراق کی فتوحات میں حاضر تھے، پھر انھوں نے کوفہ میں سکونت اختیار کر لی تھی اور جنگ جمل اور جنگ صفین میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، انھوں نے کوفہ میں (۶۹) سن ہجری میں وفات پائی، جبکہ ان کی عمر (۱۲۰) برس تھی۔
تیسری چیز کا ذکر درج ذیل روایت میں ہے،یہ عیسی علیہ السلام کے زمانے میں پوری ہو گی، بعض نے عمر بن عبد العزیز کے زمانے کا اس کو مصداق ٹھہرایا ہے۔
صحیح بخاری (۳۵۹۵)میں اس روایت کے الفاظ درج ذیل ہیں: سیدنا عدی بن حاتم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بَیْنَا أَنَا عِنْدَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إِذْ أَتَاہُ رَجُلٌ فَشَکَا إِلَیْہِ الْفَاقَۃَ ثُمَّ أَتَاہُ آخَرُ فَشَکَا إِلَیْہِ قَطْعَ السَّبِیلِ فَقَالَ: ((یَا عَدِیُّ ہَلْ رَأَیْتَ الْحِیرَۃَ۔)) قُلْتُ لَمْ أَرَہَا وَقَدْ أُنْبِئْتُ عَنْہَا قَالَ: ((فَإِنْ طَالَتْ بِکَ حَیَاۃٌ لَتَرَیَنَّ الظَّعِینَۃَ تَرْتَحِلُ مِنَ الْحِیرَۃِ حَتّٰی تَطُوفَ بِالْکَعْبَۃِ لَا تَخَافُ أَحَدًا إِلَّا اللّٰہَ۔)) قُلْتُ فِیمَا بَیْنِی وَبَیْنَ نَفْسِی فَأَیْنَ دُعَّارُ طَیِّئٍ الَّذِینَ قَدْ سَعَّرُوا الْبِلَادَ ((وَلَئِنْ طَالَتْ بِکَ حَیَاۃٌ لَتُفْتَحَنَّ کُنُوزُ کِسْرٰی۔)) قُلْتُ کِسْرَی بْنِ ہُرْمُزَ؟ قَالَ: ((کِسْرَی بْنِ ہُرْمُزَ وَلَئِنْ طَالَتْ بِکَ حَیَاۃٌ لَتَرَیَنَّ الرَّجُلَ یُخْرِجُ مِلْء َ کَفِّہِ مِنْ ذَہَبٍ أَوْ فِضَّۃٍ یَطْلُبُ مَنْ یَقْبَلُہُ مِنْہُ فَلَا یَجِدُ أَحَدًا یَقْبَلُہُ مِنْہُ وَلَیَلْقَیَنَّ اللّٰہَ أَحَدُکُمْ یَوْمَیَلْقَاہُ وَلَیْسَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ تَرْجُمَانٌ یُتَرْجِمُ لَہُ فَلَیَقُولَنَّ لَہُ أَلَمْ أَبْعَثْ إِلَیْکَ رَسُولًا فَیُبَلِّغَکَ فَیَقُولُ بَلٰی فَیَقُولُ أَلَمْ أُعْطِکَ مَالًا وَأُفْضِلْ عَلَیْکَ فَیَقُولُ بَلٰی فَیَنْظُرُ عَنْ یَمِینِہِ فَلَا یَرٰی إِلَّا جَہَنَّمَ وَیَنْظُرُ عَنْ یَسَارِہِ فَلَا یَرٰی إِلَّا جَہَنَّمَ۔)) قَالَ عَدِیٌّ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُولُ: ((اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقَّۃِ تَمْرَۃٍ فَمَنْ لَمْ یَجِدْ شِقَّۃَ تَمْرَۃٍ فَبِکَلِمَۃٍ طَیِّبَۃٍ۔)) قَالَ عَدِیٌّ فَرَأَیْتُ الظَّعِینَۃَ تَرْتَحِلُ مِنَ الْحِیرَۃِ حَتّٰی تَطُوفَ بِالْکَعْبَۃِ لَا تَخَافُ إِلَّا اللّٰہَ وَکُنْتُ فِیمَنْ افْتَتَحَ کُنُوزَ کِسْرَی بْنِ ہُرْمُزَ وَلَئِنْ طَالَتْ بِکُمْ حَیَاۃٌ لَتَرَوُنَّ مَا قَالَ النَّبِیُّ أَبُو الْقَاسِمِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یُخْرِجُ مِلْء َ کَفِّہِ۔
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک شخص نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فاقہ کی شکایت کی دوسرے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر ڈاکہ زنی کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عدی کیا تم نے حیرہ دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا: میں نے وہ جگہ نہیں دیکھی لیکن اس کے بارے میں مجھے بتلایا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہاری زندگی زیادہ ہوئی تو یقینا تم دیکھ لوگے کہ ایک بڑھیا عورت حیرہ سے چل کر کعبہ کا طواف کرے گی، اللہ کے علاوہ اس کو کسی کا خوف نہیں ہوگا۔ میں نے اپنے جی میں کہا کہ اس وقت قبیلہ طے کے ڈاکو کدھر جائیں گے، جنہوں نے تمام شہروں میں آگ لگا رکھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری زندگی زیادہ ہوئی تو یقینا تم کسری کے خزانوں کو فتح کرو گے۔ میں نے دریافت کیا: کسری بن ہرمز؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں (کسری بن ہرمز) اور اگر تمہاری زندگی زیادہ ہوئی تو یقینا تم دیکھ لوگے کہ ایک شخص مٹھی بھر سونایا چاندی لے کر نکلے گا اور ایسے آدمی کو تلاش کرے گا جو اسے لے لے، لیکن اس کو کوئی نہ ملے گا جو یہ رقم لے لے۔ یقینا تم میں سے ہر شخص قیامت میں اللہ سے ملے گا (اس وقت) اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا، جو اس کی گفتگو کا ترجمہ کرے، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کیا میں نے تیرے پاس رسول نہ بھیجا تھا جو تجھے تبلیغ کرتا؟ وہ عرض کرے گا ہاں پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا میں نے تجھ کو مال و زر اور فرزند سے نہیں نوازا تھا؟ وہ عرض کرے گا ہاں،پھر وہ اپنی داہنی جانب دیکھے گا دوزخ کے سوا کچھ نہ دیکھے گا۔ عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آگ سے بچو اگرچہ چھوہارے کا ایک ٹکڑا ہی سہییہ بھی نہ ہو سکے تو کوئی عمدہ بات کہہ کر ہی سہی۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے بڑھیا کو دیکھ لیا کہ حیرہ سے سفر شروع کرتی ہے اور کعبہ کا طواف کرتی ہے اور اللہ کے سوا اس کو کسی کا ڈر نہیں تھا اور میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے کسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح کئے تھے، اگر تم لوگوں کی زندگی زیادہ ہوئی تو جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایک شخص مٹھی بھر سونا لے کر نکلے گا، تو تم یہ بھی دیکھ لوگے۔
تیسری چیز کا ذکر درج ذیل روایت میں ہے،یہ عیسی علیہ السلام کے زمانے میں پوری ہو گی، بعض نے عمر بن عبد العزیز کے زمانے کا اس کو مصداق ٹھہرایا ہے۔
صحیح بخاری (۳۵۹۵)میں اس روایت کے الفاظ درج ذیل ہیں: سیدنا عدی بن حاتم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بَیْنَا أَنَا عِنْدَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إِذْ أَتَاہُ رَجُلٌ فَشَکَا إِلَیْہِ الْفَاقَۃَ ثُمَّ أَتَاہُ آخَرُ فَشَکَا إِلَیْہِ قَطْعَ السَّبِیلِ فَقَالَ: ((یَا عَدِیُّ ہَلْ رَأَیْتَ الْحِیرَۃَ۔)) قُلْتُ لَمْ أَرَہَا وَقَدْ أُنْبِئْتُ عَنْہَا قَالَ: ((فَإِنْ طَالَتْ بِکَ حَیَاۃٌ لَتَرَیَنَّ الظَّعِینَۃَ تَرْتَحِلُ مِنَ الْحِیرَۃِ حَتّٰی تَطُوفَ بِالْکَعْبَۃِ لَا تَخَافُ أَحَدًا إِلَّا اللّٰہَ۔)) قُلْتُ فِیمَا بَیْنِی وَبَیْنَ نَفْسِی فَأَیْنَ دُعَّارُ طَیِّئٍ الَّذِینَ قَدْ سَعَّرُوا الْبِلَادَ ((وَلَئِنْ طَالَتْ بِکَ حَیَاۃٌ لَتُفْتَحَنَّ کُنُوزُ کِسْرٰی۔)) قُلْتُ کِسْرَی بْنِ ہُرْمُزَ؟ قَالَ: ((کِسْرَی بْنِ ہُرْمُزَ وَلَئِنْ طَالَتْ بِکَ حَیَاۃٌ لَتَرَیَنَّ الرَّجُلَ یُخْرِجُ مِلْء َ کَفِّہِ مِنْ ذَہَبٍ أَوْ فِضَّۃٍ یَطْلُبُ مَنْ یَقْبَلُہُ مِنْہُ فَلَا یَجِدُ أَحَدًا یَقْبَلُہُ مِنْہُ وَلَیَلْقَیَنَّ اللّٰہَ أَحَدُکُمْ یَوْمَیَلْقَاہُ وَلَیْسَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ تَرْجُمَانٌ یُتَرْجِمُ لَہُ فَلَیَقُولَنَّ لَہُ أَلَمْ أَبْعَثْ إِلَیْکَ رَسُولًا فَیُبَلِّغَکَ فَیَقُولُ بَلٰی فَیَقُولُ أَلَمْ أُعْطِکَ مَالًا وَأُفْضِلْ عَلَیْکَ فَیَقُولُ بَلٰی فَیَنْظُرُ عَنْ یَمِینِہِ فَلَا یَرٰی إِلَّا جَہَنَّمَ وَیَنْظُرُ عَنْ یَسَارِہِ فَلَا یَرٰی إِلَّا جَہَنَّمَ۔)) قَالَ عَدِیٌّ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُولُ: ((اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقَّۃِ تَمْرَۃٍ فَمَنْ لَمْ یَجِدْ شِقَّۃَ تَمْرَۃٍ فَبِکَلِمَۃٍ طَیِّبَۃٍ۔)) قَالَ عَدِیٌّ فَرَأَیْتُ الظَّعِینَۃَ تَرْتَحِلُ مِنَ الْحِیرَۃِ حَتّٰی تَطُوفَ بِالْکَعْبَۃِ لَا تَخَافُ إِلَّا اللّٰہَ وَکُنْتُ فِیمَنْ افْتَتَحَ کُنُوزَ کِسْرَی بْنِ ہُرْمُزَ وَلَئِنْ طَالَتْ بِکُمْ حَیَاۃٌ لَتَرَوُنَّ مَا قَالَ النَّبِیُّ أَبُو الْقَاسِمِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یُخْرِجُ مِلْء َ کَفِّہِ۔
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک شخص نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فاقہ کی شکایت کی دوسرے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر ڈاکہ زنی کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عدی کیا تم نے حیرہ دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا: میں نے وہ جگہ نہیں دیکھی لیکن اس کے بارے میں مجھے بتلایا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہاری زندگی زیادہ ہوئی تو یقینا تم دیکھ لوگے کہ ایک بڑھیا عورت حیرہ سے چل کر کعبہ کا طواف کرے گی، اللہ کے علاوہ اس کو کسی کا خوف نہیں ہوگا۔ میں نے اپنے جی میں کہا کہ اس وقت قبیلہ طے کے ڈاکو کدھر جائیں گے، جنہوں نے تمام شہروں میں آگ لگا رکھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری زندگی زیادہ ہوئی تو یقینا تم کسری کے خزانوں کو فتح کرو گے۔ میں نے دریافت کیا: کسری بن ہرمز؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں (کسری بن ہرمز) اور اگر تمہاری زندگی زیادہ ہوئی تو یقینا تم دیکھ لوگے کہ ایک شخص مٹھی بھر سونایا چاندی لے کر نکلے گا اور ایسے آدمی کو تلاش کرے گا جو اسے لے لے، لیکن اس کو کوئی نہ ملے گا جو یہ رقم لے لے۔ یقینا تم میں سے ہر شخص قیامت میں اللہ سے ملے گا (اس وقت) اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا، جو اس کی گفتگو کا ترجمہ کرے، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کیا میں نے تیرے پاس رسول نہ بھیجا تھا جو تجھے تبلیغ کرتا؟ وہ عرض کرے گا ہاں پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا میں نے تجھ کو مال و زر اور فرزند سے نہیں نوازا تھا؟ وہ عرض کرے گا ہاں،پھر وہ اپنی داہنی جانب دیکھے گا دوزخ کے سوا کچھ نہ دیکھے گا۔ عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آگ سے بچو اگرچہ چھوہارے کا ایک ٹکڑا ہی سہییہ بھی نہ ہو سکے تو کوئی عمدہ بات کہہ کر ہی سہی۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے بڑھیا کو دیکھ لیا کہ حیرہ سے سفر شروع کرتی ہے اور کعبہ کا طواف کرتی ہے اور اللہ کے سوا اس کو کسی کا ڈر نہیں تھا اور میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے کسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح کئے تھے، اگر تم لوگوں کی زندگی زیادہ ہوئی تو جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایک شخص مٹھی بھر سونا لے کر نکلے گا، تو تم یہ بھی دیکھ لوگے۔
حدیث نمبر: 11843
حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ سِمَاكَ بْنَ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ حُبَيْشٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَتْ خَيْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ: رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِعَقْرَبٍ، فَأَخَذُوا عَمَّتِي وَنَاسًا، قَالَ: فَلَمَّا أَتَوْا بِهِمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”فَصَفُّوا لَهُ“، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! نَأْيَ الْوَافِدُ وَانْقَطَعَ الْوَلَدُ وَأَنَا عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ مَا بِي مِنْ خِدْمَةٍ، فَمُنَّ عَلَيَّ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكَ، قَالَ: ”مَنْ وَافِدُكِ?“، قَالَتْ: عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: ”الَّذِي فَرَّ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ?“، قَالَتْ: فَمُنَّ عَلَيَّ، قَالَتْ: فَلَمَّا رَجَعَ وَرَجُلٌ إِلَى جَنْبِهِ نَرَى أَنَّهُ عَلِيٌّ، قَالَ: سَلِيهِ حِمْلَانًا، قَالَ: فَسَأَلَتْهُ فَأَمَرَ لَهَا، قَالَتْ: فَأَتَتْنِي فَقَالَتْ: لَقَدْ فَعَلْتَ فَعْلَةً مَا كَانَ أَبُوكَ يَفْعَلُهَا، قَالَتْ: ائْتِهِ رَاغِبًا أَوْ رَاهِبًا، فَقَدْ أَتَاهُ فُلَانٌ فَأَصَابَ مِنْهُ وَأَتَاهُ فُلَانٌ فَأَصَابَ مِنْهُ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ فَإِذَا عِنْدَهُ امْرَأَةٌ وَصِبْيَانٌ أَوْ صَبِيٌّ، فَذَكَرَ قُرْبَهُمْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ لَيْسَ مُلْكُ كِسْرَى وَلَا قَيْصَرَ، فَقَالَ لِي: ”يَا عَدِيُّ بْنَ حَاتِمٍ مَا أَفَرَّكَ أَنْ يُقَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَهَلْ مِنْ إِلَهٍ إِلَّا اللَّهُ، مَا أَفَرَّكَ أَنْ يُقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ، فَهَلْ شَيْءٌ هُوَ أَكْبَرُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ?“، قَالَ: فَأَسْلَمْتُ فَرَأَيْتُ وَجْهَهُ اسْتَبْشَرَ، وَقَالَ: ”إِنَّ الْمَغْضُوبَ عَلَيْهِمْ الْيَهُودُ، وَالضَّالِّينَ النَّصَارَى“، ثُمَّ سَأَلُوهُ، فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: ”أَمَّا بَعْدُ! فَلَكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ أَنْ تَرْضَخُوا مِنَ الْفَضْلِ“، ارْتَضَخَ امْرُؤٌ بِصَاعٍ بِبَعْضِ صَاعٍ بِقَبْضَةٍ بِبَعْضِ قَبْضَةٍ، قَالَ شُعْبَةُ: وَأَكْثَرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَالَ: ”بِتَمْرَةٍ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، إِنَّ أَحَدَكُمْ لَاقِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَقَائِلٌ: مَا أَقُولُ أَلَمْ أَجْعَلْكَ سَمِيعًا بَصِيرًا؟ أَلَمْ أَجْعَلْ لَكَ مَالًا وَوَلَدًا؟ فَمَاذَا قَدَّمْتَ؟ فَيَنْظُرُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، فَلَا يَجِدُ شَيْئًا فَمَا يَتَقِي النَّارَ إِلَّا بِوَجْهِهِ، فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوهَا فَبِكَلِمَةٍ لَيِّنَةٍ، إِنِّي لَا أَخْشَى عَلَيْكُمُ الْفَقْرَ، لَيَنْصُرَنَّكُمُ اللَّهُ تَعَالَى وَلَيُعْطِيَنَّكُمْ، أَوْ لَيَفْتَحَنَّ لَكُمْ حَتَّى تَسِيرَ الظَّعِينَةُ بَيْنَ الْحِيرَةِ وَيَثْرِبَ أَوْ أَكْثَرَ مَا تَخَافُ السَّرَقَةَ عَلَى ظَعِينَتِهَا“، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ: ثَنَاهُ شُعْبَةُ مَا لَا أُحْصِيهِ وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک گھڑ سوار دستہ یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قاصد آئے اور انہوں نے میری پھوپھی اور (قبیلہ کے) کچھ لوگوں کو گرفتار کر لیا، میں اس وقت عقرب (ایک جگہ کا نام) میں تھا۔ وہ لوگ ان قیدیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے گئے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے لائنوں میں کھڑے ہوئے تو میری پھوپھی نے کہا: میری پیروی کرنے والا بہت دور ہے، اولاد بھی پاس نہیں اور میں ایک عمر رسیدہ خاتون ہوں میرا کوئی خدمت گزار بھی نہیں، آپ مجھ پر احسان فرمائیں، اللہ آپ پر احسان کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پیروی کرنے والا کون ہے؟ اس نے کہا: عدی بن حاتم۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہی عدی جو اللہ اور اس کے رسول کے ڈر سے فرار ہو گیا ہے۔ اس نے کہا: پس آپ نے مجھ پر احسان فرمایا۔ میری پھوپھی نے بیان کیا کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک اور آدمی بھی تھا، میری پھوپھی کا خیال ہے کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔ اس نے اس سے (یعنی میری پھوپھی سے) سے کہا: رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی سواری مانگ لو۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سواری کا مطالبہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے سواری مہیا کئے جانے کا حکم صادر فرمایا۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میری پھوپھی نے آکر مجھ سے کہا کہ تو نے ایسا کام کیا ہے کہ تیرا باپ تو (بزدلی والا) ایسا کوئی کام نہ کرتا تھا، تو رغبت کے ساتھ یا خوف کے ساتھ ہر حال میں ان کے پاس یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں چلا جاتا، فلاں آدمی ان کی خدمت میں گیا اور فلاں بھی ان کے ہاں حاضر ہوا، انہوں نے ہر ایک کے ساتھ حسن سلوک کا مظاہرہ کیا۔ عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں آپ کی خدمت میں چلا آیا، اس وقت آپ کی خدمت میں ایک عورت اور اس کے ساتھ ایک دو بچے بھی تھے۔ صحابۂ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتہائی قریب آزادی سے بیٹھے تھے، میں نے جان لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیصر و کسریٰ جیسے بادشاہ نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عدی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: عدی! کیا تم محض اس لیے فرار ہوئے کہ کلمۂ توحید لا الہ الا اللہ نہ پڑھا جائے؟ کیا اللہ کے سوا کوئی معبود ہے؟ کیا کوئی اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر بھی ہے؟ عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پس میں دائرہ ٔ اسلام میں داخل ہو گیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر خوشی کے آثار دیکھے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن کریم میں اَلْمَغْضُوبَ عَلَیْہِمْ (وہ لوگ جن پر اللہ کا غضب ہوا) سے مراد یہودی ہیں۔ اور اَلضَّالِّینَ (گمراہ) سے مراد نصاریٰ (عیسائی) ہیں۔ اس کے بعد وہاں پر موجود فقراء نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ مانگا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: لوگو! اللہ نے تمہیں جو نعمتیں دی ہیں، تم ان میں سے اللہ کی راہ میں ضرورت مندوں کو دو۔ تو کسی نے ایک صاع اور کسی نے اس سے کچھ کم، کسی نے ایک مٹھی اورکسی نے اس سے بھی کم یعنی اپنی اپنی استطاعت کے مطابق صدقہ کیا۔ حدیث کے راوی شعبہ نے کہا: میرے علم کے مطابق سماک نے یہ بھی کہا کہ کسی نے ایک کھجور اور کسی نے اس سے بھی کم مقدار میں صدقہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا: تم میں سے ہر ایک جا کر اللہ تعالیٰ سے ملاقات کر نے والا ہے، اللہ اپنے ملاقات کرنے والے بندوں سے فرمائے گا: کیا میں نے تجھے سننے والا اور دیکھنے والا نہیں بنایا تھا؟ کیا میں نے تجھے مال و اولاد سے نہیں نوازا تھا؟ تو بتا تو کیا اعمال کرکے آیا ہے؟ وہ اپنے آگے پیچھے اور دائیں بائیں دیکھے گا، وہ کوئی ایسی چیز نہیں پائے گا، جو اس کے کسی کام آسکے، وہ اپنے چہرے ہی کے ذریعے جہنم سے بچنے کی کوشش کرے گا، پس تم جہنم سے بچنے کا سامان کر لو، اگرچہ وہ کھجور کے ایک حصے کی شکل میں ہو۔ اگر تم کسی کو دینے کے لیے کھجور کا کچھ حصہ بھی نہ پاؤ تو نرم کلامی کے ساتھ ہی جہنم سے بچ جاؤ۔ مجھے تمہارے بارے میں فقر و فاقہ کا ڈر نہیں، اللہ تعالیٰ تمہاری مدد ضرور کرے گا اور ضرور تمہیں بہت کچھ دے گا اور وہ تمہیں ایسی فتح سے ہمکنار فرمائے گا کہ ایک خاتون حیرہ اوریثرب کے درمیان کا یا اس سے بھی زیادہ سفر بے خوف و خطر طے کر ے گی، زیادہ سے زیادہ اس کو اپنی سواری کے چوری ہو جانے کا خطرہ ہو گا۔
حدیث نمبر: 11844
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي أُنَاسٍ مِنْ قَوْمِي فَجَعَلَ يَفْرِضُ لِلرَّجُلِ مِنْ طَيِّئٍ فِي أَلْفَيْنِ وَيُعْرِضُ عَنِّي، قَالَ: فَاسْتَقْبَلْتُهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي، ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنْ حِيَالِ وَجْهِهِ فَأَعْرَضَ عَنِّي، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! أَتَعْرِفُنِي؟ قَالَ: فَضَحِكَ حَتَّى اسْتَلْقَى لِقَفَاهُ ثُمَّ قَالَ: نَعَمْ وَاللَّهِ! إِنِّي لَأَعْرِفُكَ، آمَنْتَ إِذْ كَفَرُوا، وَأَقْبَلْتَ إِذْ أَدْبَرُوا، وَوَفَيْتَ إِذْ غَدَرُوا، وَإِنَّ أَوَّلَ صَدَقَةٍ بَيَّضَتْ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَوُجُوهَ أَصْحَابِهِ صَدَقَةُ عَدِيٍّ جِئْتَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَخَذَ يَعْتَذِرُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّمَا فَرَضْتُ لِقَوْمٍ أَجْحَفَتْ بِهِمُ الْفَقْرُ وَهُمْ سَادَةُ عَشَائِرِهِمْ لِمَا يَنُوبُهُمْ مِنَ الْحُقُوقِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عدی بن خاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنی قوم کے کچھ افراد کے ساتھ سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے بنو طی ٔ کے ہر ہر فرد کو دو دو ہزار دیئے اورمجھ سے اعراض کیا، پھر میں ان کے سامنے آیا، لیکن انھوں نے بے رخی اختیار کی، پھر میں بالکل ان کے چہرے کے سامنے آیا، تب بھی انہوں نے مجھ سے اعراض کیا، بالآخر میں نے کہا: اے امیر المومنین! کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟یہ بات سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس قدر ہنسے کہ گدی کی بل لیٹ گئے اور پھر کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم! میں تمہیں پہچانتا ہوں، تم اس وقت ایمان لائے تھے جب یہ لوگ کفر پر ڈٹے ہوئے تھے، تم اس وقت اسلام کی طرف متوجہ ہوئے تھے جب ان لوگوں نے پیٹھ کی ہوئی تھی اور تم نے اس وقت وفاداری دکھائی، جب یہ لوگ غداری کر رہے تھے اور میں جانتا ہوں کہ سب سے پہلا صدقہ، جس نے نبی کریم اور صحابہ کے چہرے روشن کر دیئے تھے، وہ تو عدی کا صدقہ تھا، جو تم رسول اللہ کے پاس لے کر آئے تھے، بعد ازاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عدی سے معذرت کی اور کہا: میں نے ان لوگوں کو اس لئے دیا ہے کہ یہ لوگ آج کل فاقوں سے دو چار ہیں، جبکہ یہ اپنے اپنے قبیلوں کے سردار بھی ہیں اور ان پر کافی ساری ذمہ داریاں ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … کتنی قابل غور بات ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کی خوبیوںکے معترف بھی ہیں اور وہ بار بار اِن کے سامنے اس مقصد سے آ رہے ہیں کہ ان کو بھی کچھ مال ودولت دے دیا جائے، لیکن ان دو چیزوں کے باوجود ان کو کچھ بھی نہیں دیا جا رہا، کیونکہ بڑی مصلحت اور منفعت اس میں تھی کہ دوسرے لوگوں میں مال تقسیم کر دیا جائے۔
حدیث نمبر: 11845
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَّمَنِي الْإِسْلَامَ وَنَعَتَ لِي الصَّلَاةَ وَكَيْفَ أُصَلِّي كُلَّ صَلَاةٍ لِوَقْتِهَا، ثُمَّ قَالَ لِي: ”كَيْفَ أَنْتَ يَا ابْنَ حَاتِمٍ إِذَا رَكِبْتَ مِنْ قُصُورِ الْيَمَنِ لَا تَخَافُ إِلَّا اللَّهَ حَتَّى تَنْزِلَ قُصُورَ الْحِيرَةِ?“، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَأَيْنَ مَقَانِبُ طَيِّئٍ وَرِجَالُهَا، قَالَ: ”يَكْفِيكَ اللَّهُ طَيِّئًا وَمَنْ سِوَاهَا“، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا قَوْمٌ نَتَصَيَّدُ بِهَذِهِ الْكِلَابِ وَالْبُزَاةِ فَمَا يَحِلُّ لَنَا مِنْهَا؟ قَالَ: ”يَحِلُّ لَكُمْ {مَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللَّهُ فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ} فَمَا عَلَّمْتَ مِنْ كَلْبٍ أَوْ بَازٍ ثُمَّ أَرْسَلْتَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكَ عَلَيْكَ“، قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلَ؟ قَالَ: ”وَإِنْ قَتَلَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَمْسَكَهُ عَلَيْكَ“، قُلْتُ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ خَالَطَ كِلَابُنَا كِلَابٌ أُخْرَى حِينَ نُرْسِلُهَا؟ قَالَ: ”لَا تَأْكُلْ حَتَّى تَعْلَمَ أَنَّ كَلْبَكَ هُوَ الَّذِي أَمْسَكَ عَلَيْكَ“، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا قَوْمٌ نَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ فَمَا يَحِلُّ لَنَا؟ قَالَ: ”لَا تَأْكُلْ مَا أَصَبْتَ بِالْمِعْرَاضِ إِلَّا مَا ذَكَّيْتَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم لوگ کتوں اور بازوں کے ذریعے شکارکرتے ہیں، ہمارے لیے ان کے شکار میں سے کیا حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شکاری کتے تم نے سدھائے ہیں، اس تعلیم سے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں دے رکھی ہے، ان کے روکے ہوئے شکار کو کھا سکتے ہو اور اس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا ہو اور جو کتایا باز تم نے چھوڑا ہے اور اللہ کا نام ذکر کیا ہے، تو وہ جو شکار روک کر رکھیں، وہ کھا لو۔ میں نے کہا: اگرچہ یہ شکار کو مار بھی دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ یہ مار بھی دیں،لیکن شکار سے خود نہ کھایا ہو تو انہوں نے شکار تمہارے لیے روکا ہے۔ میں نے کہا: اب یہ فرمائیں کہ چھوڑتے وقت اگر ہمارے کتے کے ساتھ دوسرے کتے مل جل جاتے ہیں تو پھر کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس وقت تک شکار نہ کھاؤ جب تک تمہیں یہ معلوم نہ ہو جائے کہ یہ شکار تمہارے کتے نے ہی کیا ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم تیر کے درمیانی موٹے حصے سے شکار کرتے ہیں، اس میں سے ہمارے لیے کیا حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شکار تیر کے اس حصے سے مر جائے، اس کو نہ کھاؤ، الا یہ کہ خود ذبح کر لو۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث میں مذکورہ مسائل کی تفصیل کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۷۵۸۰) والا باب۔