حدیث نمبر: 11838
عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَقَالَ وَكِيعٌ قَالَتْ قَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَهُوَ مَيِّتٌ قَالَتْ فَرَأَيْتُ دُمُوعَهُ تَسِيلُ عَلَى خَدَّيْهِ يَعْنِي عُثْمَانَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَعَيْنَاهُ تُهْرَاقَانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ فوت ہوگئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی میت کو بوسہ دیا، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنسو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے رخساروں پر بہہ رہے تھے۔ اس حدیث کے ایک راوی عبدالرحمن سے مروی ہے کہ آپ کی آنکھیں آنسو بہار ہی تھیں۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب میں یہی روایت صحیح ہے کہ سیدنا ابو بکر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بوسہ لیا تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میت تھے، اس بات پر ائمہ کا اتفاق ہے کہ میت کو بوسہ دینا جائز ہے۔ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ قدیم الاسلام صحابی ہیں، ابھی تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دار ارقم میں داخل نہیں ہوئے تھے کہ یہ مسلمان ہو گئے تھے، انھوں نے دو ہجرتیں کی ہیں، پہلی ہجرت حبشہ کی طرف اور دوسری مدینہ منورہ کی طرف، جب انھوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو ان کے ساتھ ان کا بیٹا سیدنا سائب اور دو بھائی سیدنا قدامہ اور سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہما بھی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے اور ابو ہیثم بن تیہان انصاری رضی اللہ عنہ کے مابین بھائی چارہ قائم کیا تھا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بدر میں شریک ہوئے اور ہجرت سے اڑھائی برس بعد وفات پاگئے، یہ مہاجرین میں سب سے پہلے فوت ہونے والے صحابی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور بقیع میں ان کو دفن کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی قبر کی سر کی جانب بطورِ علامت ایک پتھر رکھا تھا، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی قبر کی شناخت ہو سکے۔
انھوں نے دور جاہلیت میں بھی اپنے آپ پر شراب کوحرام کر رکھا تھا۔
انھوں نے دور جاہلیت میں بھی اپنے آپ پر شراب کوحرام کر رکھا تھا۔
حدیث نمبر: 11838
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا مَاتَتْ زَيْنَبُ (وَفِي رِوَايَةٍ رُقَيَّةُ) ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”الْحَقِي بِسَلَفِنَا الصَّالِحِ الْخَيْرِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا (یا سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا ) کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیٹی سے مخاطب ہو کر فرمایا: تم جا کر ہمارے بہترین پیش رو عثمان بن مظعون سے جا ملو۔
حدیث نمبر: 11839
وَعَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ كَانَتْ أُمُّ الْعَلَاءِ الْأَنْصَارِيَّةُ تَقُولُ لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْمَدِينَةَ اقْتَرَعَتِ الْأَنْصَارُ عَلَى سُكْنَاهُمْ فَطَارَ لَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ فِي السُّكْنَى قَالَتْ أُمُّ الْعَلَاءِ فَاشْتَكَى عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ عِنْدَنَا فَمَرَّضْنَاهُ حَتَّى إِذَا تُوُفِّيَ أَدْرَجْنَاهُ فِي أَثْوَابِهِ فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ يَا أَبَا السَّائِبِ شَهَادَتِي عَلَيْكَ لَقَدْ أَكْرَمَكَ اللَّهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”وَمَا يُدْرِيكِ أَنَّ اللَّهَ أَكْرَمَهُ“ قَالَتْ فَقُلْتُ لَا أَدْرِي بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ مِنْ رَبِّهِ وَإِنِّي لَأَرْجُو الْخَيْرَ لَهُ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ مَا يُفْعَلُ بِي“ (قَالَ يَعْقُوبُ بِهِ) قَالَتْ وَاللَّهِ لَا أُزَكِّي أَحَدًا بَعْدَهُ أَبَدًا فَأَحْزَنَنِي ذَلِكَ فَنِمْتُ فَأُرِيتُ لِعُثْمَانَ عَيْنًا تَجْرِي فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”ذَاكَ عَمَلُهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا خارجہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ ام علاء انصاریہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں کہ جب مہاجرین ہجرت کرکے مدینہ منورہ آئے تو انصار نے ان کو اپنے ہاں رہائش دینے کے لیے قرعہ اندازی کی تو سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا نام ہمارے حصہ میں نکل آیا، لیکن ہوا یوں کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں بیمار پڑ گئے۔ ہم نے ان کا خوب علاج معالجہ کیا،، لیکن ان کا انتقال ہو گیا،ہم نے ان کو کفن کے کپڑوں میں لپیٹا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے۔ میں نے کہا: اے ابو السائب! آپ پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، میں آپ کے بارے میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ نے آپ کو عزت و تکریم سے نوازا ہے۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آپ کو کیا علم کہ اللہ نے ان کی عزت و تکریم کی ہے۔ میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پرفدا ہوں، میں تو اس بارے میں کچھ نہیں جانتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے رب کی طرف سے موت آئی، مجھے اس کے بارے میں اللہ سے خیر کی امید ہے۔ اللہ کی قسم! میں اگرچہ اللہ کا رسول ہوں، لیکن میں بھی نہیں جانتا کہ کل کلاں میرے ساتھ اور اس کے ساتھ کیا پیش آئے گا؟ ام العلاء رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کی قسم! میں آج کے بعد کسی کی صفائی پیش نہیں کروں گی، اس بات سے مجھے غم لاحق ہوا، میں سوئی ہوئی تھی کہ خواب میں مجھے ایک بہتا چشمہ دکھایا گیا کہ یہ عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جا کر آپ کو اس کے متعلق بتلایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اس کا عمل ہے۔
حدیث نمبر: 11840
عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ إِنَّ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ لَمَّا قُبِضَ قَالَتْ أُمُّ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ طِبْتَ أَبَا السَّائِبِ خَيْرُ أَيَّامِكَ الْخَيْرُ فَسَمِعَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”مَنْ هَذِهِ“ قَالَتْ أَنَا قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”وَمَا يُدْرِيكِ“ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَجَلْ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ مَا رَأَيْنَا إِلَّا خَيْرًا وَهَذَا أَنَا رَسُولُ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا يُصْنَعُ بِي“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
خارجہ بن زید اپنی والدہ سیدہ ام العلاء رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: جب سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو میں نے کہا: :اے ابو السائب! تمہیں مبارک ہو، تمہارے ایام زندگی اچھے گزرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات سنی تو فرمایا: یہ بات کہنے والی کون ہے؟ سیدہ ام علاء رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: جی میں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں اس بات کا کیا علم؟‘ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے یہ بات سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ (جیسے عظیم الترتیب انسان کے بارے میں کہی ہے)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہا ں ہاں، ہم نے عثمان بن مظعون کو ہر لحاظ سے بہتر پایا،یاد رکھو کہ میں اگرچہ اللہ کا رسول ہوں، لیکن میں اپنے بارے میں یہ بھی نہیں جانتا کہ کل کلاں میرے ساتھ کیا معاملہ پیش آئے گا۔
وضاحت:
فوائد: … وحی کے بغیر کسی نیک سے نیک تر انسان کی کامیابی اور برے سے بدتر انسان کی ناکامی کی شہادت نہیں دی جا سکتی، کیونکہ نیک اور برے اعمال کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے قوانین کو کوئی نہیں سمجھ سکتا، البتہ نیک آدمی کے بارے میں حسن ظن اور اچھا گمان رکھا جا سکتا ہے۔
ام خاجہ اور ام العلاء سے ایک ہی عورت مراد ہے۔ (عبداللہ رفیق)
ام خاجہ اور ام العلاء سے ایک ہی عورت مراد ہے۔ (عبداللہ رفیق)
حدیث نمبر: 11841
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
کتاب میں حدیث موجود نہیں۔