کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11835
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ ”هَذَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَجْوَدُ قُرَيْشٍ كَفًّا وَأَوْصَلُهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے حق میں فرمایا: یہ عباس بن عبد المطلب ہیں، جو کہ قریش میں سب سے زیادہ فراخ دست (یعنی سخی) اور سب سے بڑھ کر صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … سیدناعباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ہیں، ان کی کنیت ابوالفضل ہے، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دوتین سال بڑے تھے، قبل از اسلام قریش کے سردار تھے، مسجد حرام کے انتظامات اور حجاج کو پانی پلانے کا کام ان ہی کے ذمے تھا، بیعت ِ عقبہ میں جب انصاری لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بھی وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر موجود تھے، غزوۂ بدر میں مجبور ہو کر کفار کی طرف سے شریک ہوئے اور گرفتار ہو گئے، ان کے دو بھتیجے عقیل بن ابی طالب اور نوفل بن حارث بھی قید ہوئے تھے، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اپنا اور اپنے دونوں بھتیجوں کا فدیہ ادا کیا اور مکہ جا کر اسلام قبول کر لیا، فتح مکہ سے پہلے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے اور فتح مکہ اور غزوۂ حنین میں شریک ہوئے، غزوۂ حنین کے شروع میں جب صحابۂ کرام شکست کھا گئے تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ثابت قدم رہے۔ (۳۲یا۳۴) سن ہجری میں (۸۸)برس کی عمر میں مدینہ منورہ میں ان کا انتقال ہوا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11835
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، اخرجه البزار: 1077، وابويعلي: 820، وابن حبان: 7052 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1610 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1610»
حدیث نمبر: 11836
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ وَقَعَ فِي أَبٍ لِلْعَبَّاسِ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَطَمَهُ الْعَبَّاسُ فَجَاءَ قَوْمُهُ فَقَالُوا وَاللَّهِ لَنَلْطِمَنَّهُ كَمَا لَطَمَهُ فَلَبِسُوا السِّلَاحَ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ ”أَيُّهَا النَّاسُ أَيُّ أَهْلِ الْأَرْضِ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ“ قَالُوا أَنْتَ قَالَ ”فَإِنَّ الْعَبَّاسَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ فَلَا تَسُبُّوا مَوْتَانَا فَتُؤْذُوا أَحْيَاءَنَا“ فَجَاءَ الْقَوْمُ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک انصاری نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے والد پر طنز کیا، وہ دورِ جاہلیت میں فوت ہو گئے تھے، عباس رضی اللہ عنہ نے (طیش میں آکر) اسے تھپڑ رسید کر دیا،انصاری کی قوم کے لوگ آگئے اور کہنے لگے: اللہ کی قسم، جس طرح اس نے تھپڑ مارا ہے، ہم بھی بدلے میں اسے ضرور تھپڑ ماریں گے، وہ لوگ اسلحہ سے مسلح ہو کر آ گئے۔ جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا: لوگو! روئے زمین کے لوگوں میں اللہ کے ہاں سب سے زیادہ معزز کون شخص ہے؟ لوگوں نے کہا: جی آپ ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر عباس میرا ہے اور میں عباس کا ہوں، تم ہمارے فوت شدہ لوگوں کو برا بھلا کہہ کر ہمارے زندہ لوگوں کو ایذا نہ پہنچاؤ۔ پھر ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر معذرت کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ کے غصہ اور ناراضگی سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11836
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عبد الاعلي بن عامر الثعلبي ضعّفه احمد وابوزرعة وابو حاتم والنسائي وابن معين وغيرھم أخرجه الترمذي: 3749، والنسائي: 8/ 33 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2734 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2734»
حدیث نمبر: 11837
عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ دَخَلَ الْعَبَّاسُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا فَقَالَ لَهُ ”مَا يُغْضِبُكَ“ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا وَلِقُرَيْشٍ إِذَا تَلَاقَوْا بَيْنَهُمْ تَلَاقَوْا بِوُجُوهٍ مُبْشِرَةٍ وَإِذَا لَقُونَا لَقُونَا بِغَيْرِ ذَلِكَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ وَحَتَّى اسْتَدَرَّ عِرْقٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَكَانَ إِذَا غَضِبَ اسْتَدَرَّ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ ”وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ (أَوْ قَالَ) وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الْإِيمَانُ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلِرَسُولِهِ“ ثُمَّ قَالَ ”يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ آذَى الْعَبَّاسَ فَقَدْ آذَانِي إِنَّمَا عَمُّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب سے مروی ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ غصے کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: تمہیں کس بات پر غصہ آیا ہے؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! قریش کو ہم سے کیا عداوت ہے؟ وہ آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو بڑے خوش ہو کر ملتے ہیں اور جب ہم سے ملتے ہیں تو ان کے چہرے بدل جاتے ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر غضب ناک ہوئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی سے پسینہ بہنے لگا، ویسے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شدید غصہ آتا تھا تو پسینہ بہنے لگتا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ کیفیت زائل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کسی کے دل میں ایمان اس وقت تک داخل نہیں ہو سکتا، جب تک وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے تم سے محبت نہیں کرے گا۔ (دوسری روایت میں ہے: اللہ تعالیٰ کے لیے اور میری قرابت داری کی وجہ سے تم سے محبت نہیں کرے گا) پھر فرمایا: لوگو! (یاد رکھو) جس نے عباس رضی اللہ عنہ کو ایذا پہنچائی، اس نے مجھے تکلیف دی، آدمی کا چچا اس کے باپ کی ہی ایک قسم ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب بن ہاشم صحابی ہیں، شام میں سکونت پذیر رہے، (۶۲) سن ہجری میں ان کا انتقال ہوا، بعض اہل علم نے ان کا نام مطلب ذکر کیا ہے، مسند احمد میں ان کا نام عبدالمطلب اور مستدرک حاکم میں مطلب مذکور ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11837
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف يزيد بن ابي زياد ،و لضعف يزيد بن عطاء اليشكري، اخرجه الترمذي: 3758، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17516 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17657»