کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سیدنا عبداللہ بن مسعود المعروف ابن ام عبد رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11824
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرَأَيْتَ رَجُلًا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحِبُّهُ أَلَيْسَ رَجُلًا صَالِحًا قَالَ بَلَى قَالَ قَدْ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحِبُّكَ وَقَدِ اسْتَعْمَلَكَ فَقَالَ قَدِ اسْتَعْمَلَنِي فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَحُبًّا كَانَ لِي مِنْهُ أَمِ اسْتِعَانَةً بِي وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكَ بِرَجُلَيْنِ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحِبُّهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حسن بصری سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کی اس شخص کے بارے میں کیا رائے ہے، جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تا حیات محبت کرتے رہے ہوں، کیا وہ صالح آدمی نہیں ہوگا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، تو اس نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کو اپناعامل بنا کر بھیجا ہوا تھا، سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: انہوں نے مجھے عامل تو بنایا تھا، اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ مجھ سے محبت کی وجہ سے یا میری مدد کرنے کے لیے مجھے عامل بنایا تھا، البتہ میں تمہیں بتلاتا ہوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے تو آپ دو آدمیوں سے محبت کرتے تھے، ایک سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور دوسرے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قبیلہ بنوہذیل کے فرد تھے، آغاز اسلام میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بھی پہلے دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے، اولأحبشہ کی طرف اور بعد میں مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی سعادت سے بہرہ مند ہوئے، غزوۂ بدر، احد، خندق، بیعت رضوان اور دیگر مواقع میں شریک رہے، اکثر و بیشتر وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گزارا کرتے، بڑے اور فقیہ صحابۂ کرام میں ان کا شمار ہوتا ہے، ایک قول کے مطابق (۳۲) سن ہجری میں ان کی وفات کو فہ میں اور دوسرے قول کے مطابق مدینہ منور ہ میں ہوئی، اس وقت ان کی عمر چونسٹھ پینسٹھ برس تھی۔
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قرآن کریم کے بہت بڑے عالم اور ماہر تھے، وہ خود اپنے بارے میں کہتے ہیں: اللہ کی قسم میں قرآن کریم کی ہر ہر سورت کے متعلق جانتا ہوں کہ یہ کب اور کہاں نازل ہوئی، اگر مجھے پتہ چلے کہ کوئی آدمی مجھ سے زیادہ کتاب اللہ کا علم رکھتا ہے اور وہاں اونٹ پہنچ سکتے ہوں تو میں اس آدمی کی طرف سفر کرکے اس سے علم حاصل کروں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11824
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمرو بن عاص، اخرجه بنحوه النسائي في الكبري : 9274، والحاكم: 3/ 392 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17807 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17960»
حدیث نمبر: 11825
عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَعَبْدُ اللَّهِ يُصَلِّي فَافْتَتَحَ النِّسَاءَ فَسَحَلَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ“ ثُمَّ تَقَدَّمَ يَسْأَلُ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”سَلْ تُعْطَهْ سَلْ تُعْطَهْ سَلْ تُعْطَهْ“ فَقَالَ فِيمَا سَأَلَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا لَا يَرْتَدُّ وَنَعِيمًا لَا يَنْفَدُ وَمُرَافَقَةَ نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي أَعْلَى جَنَّةِ الْخُلْدِ قَالَ فَأَتَى عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَبْدَ اللَّهَ لِيُبَشِّرَهُ فَوَجَدَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَدْ سَبَقَهُ فَقَالَ إِنْ فَعَلْتَ لَقَدْ كُنْتَ سَبَّاقًا بِالْخَيْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ رات کو نماز ادا کر رہے تھے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، انھوں نے سورۂ نساء کی تلاوت شروع کی اور اس کی مکمل تلاوت کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی قرآن کو اسی طرح پڑھنا چاہتا ہو، جیسا کہ وہ نازل ہواتھا تو وہ ابن ام عبد یعنی ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت کے مطابق تلاوت کیا کرے۔ پھر وہ آگے بڑھے اور سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سوال کرنے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانے لگے : تم اللہ سے مانگو تمہیں دیا جائے گا، تم اللہ سے مانگو تمہیں دیا جائے گا، تم اللہ سے مانگو تمہیں دیا جائے گا۔ تو انہوں نے اپنی دعاؤں میں سے یہ دعا بھی کی: اَللّٰہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ إِیمَانًا لَا یَرْتَدُّ، وَنَعِیمًا لَا یَنْفَدُ، وَمُرَافَقَۃَ نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِی أَعْلٰی جَنَّۃِ الْخُلْدِ (یا اللہ! میں تجھ سے ایسے ایمان کی دعا کرتا ہوں جو مجھ سے واپس نہ جائے، ایسی نعمتوں کا سوال کرتا ہوں جو کبھی زائل نہ ہوں اور میں تجھ سے ہمیشہ والی جنت کے اعلیٰ مقامات میں تیرے نبی کاساتھ چاہتا ہوں۔) اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کو بشارت دینے کے لیے آئے تو انھوں نے دیکھا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس بارے میں ان سے سبقت لے جا چکے تھے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگرچہ آپ نے یہ کام کیا ہے، مگر صورتحال یہ ہے کہ آپ ہر اچھے کام میں سبقت لے جاتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراء ت کی ترجیح کے لیے دیکھیں احادیث نمبر (۸۴۴۹،۸۳۷۸)
صحابۂ کرام ایک دوسرے کو خوشخبری دینے اور خوش کرنے کے بڑے حریص تھے، سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما جیسے عظیم صحابہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو خوش کرنے کے درپے ہیں، اسلامی تعلق اور دینی محبت کا یہی تقاضا ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11825
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح بشواهده، اخرجه ابن ماجه: 138، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4255 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4255»
حدیث نمبر: 11826
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُصَلِّي فَقَالَ ”سَلْ تُعْطَهْ يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ“ فَابْتَدَرَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ عُمَرُ مَا بَادَرَنِي أَبُو بَكْرٍ إِلَى شَيْءٍ إِلَّا سَبَقَنِي إِلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ فَسَأَلَاهُ عَنْ قَوْلِهِ فَقَالَ مِنْ دُعَائِي الَّذِي لَا أَكَادُ أَدَعُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَبِيدُ وَقُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْفَدُ وَمُرَافَقَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُحَمَّدٍ فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ جَنَّةِ الْخُلْدِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نماز ادا کر رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ام عبد کے بیٹے! تو جو چاہے دعا کر تجھے عطا کیا جائے گا۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے اس خوشی سے آگاہ کرنے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جس کام میں بھی میرے ساتھ مقابلہ کیا تو وہ مجھ سے سبقت لے گئے۔دونوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ انہوں نے اس رات کو کیا دعا کی تھی، انھوں نے بتلایا کہ میں نے وہ دعا کی تھی، جس کو میں چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوں، میں نے کہا تھا: اَللّٰہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ نَعِیمًا لَا یَبِیدُ، وَقُرَّۃَ عَیْنٍ لَا تَنْفَدُ، وَمُرَافَقَۃَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مُحَمَّدٍ فِی أَعْلَی الْجَنَّۃِ جَنَّۃِ الْخُلْدِ۔ (یا اللہ! میں تجھ سے ایسی نعمتوں کا سوال کرتا ہوں جو کبھی زائل نہ ہوں،آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک کا سوال کرتا ہوں، جو کبھی ختم نہ ہوں او ر جنت کے اعلیٰ مقامات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھ چاہتا ہوں۔)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11826
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، اخرجه ابن ماجه: 138، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4165 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4165»
حدیث نمبر: 11827
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَوْ كُنْتُ مُؤَمِّرًا أَحَدًا دُونَ مَشْوَرَةِ الْمُؤْمِنِينَ لَأَمَّرْتُ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں نے کسی کی مشاورت کے بغیر کسی کو امیر بنانا ہوتا تو میں ام عبد کے بیٹےیعنی عبداللہ بن مسعود کو امیر بناتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11827
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف الحارث الاعور، اخرجه الترمذي: 3809،وابن ماجه: 137، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 566 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 566»
حدیث نمبر: 11828
وَعَنْ أُمِّ مُوسَى قَالَتْ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ابْنَ مَسْعُودٍ فَصَعِدَ عَلَى شَجَرَةٍ أَمَرَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ مِنْهَا بِشَيْءٍ فَنَظَرَ أَصْحَابُهُ إِلَى سَاقِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ حِينَ صَعِدَ الشَّجَرَةَ فَضَحِكُوا مِنْ حُمُوشَةِ سَاقَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَا تَضْحَكُونَ لَرِجْلُ عَبْدِ اللَّهِ أَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أُحُدٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ درخت پر چڑھ کر وہاں کوئی چیز اتار لائیں، وہ درخت پر چڑھے، جب صحابۂ کرام نے ان کے درخت پر چڑھتے ہوئے ان کی پتلی پتلی کم زور پنڈلیوں کو دیکھا تو وہ ہنسنے لگے، لیکن رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کیوں ہنستے ہو؟ قیامت کے دن عبداللہ کی ٹانگ ترازو میں احد پہاڑ سے زیادہ وزنی ہوگی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11828
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، اخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 114، وابويعلي: 539 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 920 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 920»
حدیث نمبر: 11829
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يَجْتَنِي سِوَاكًا مِنَ الْأَرَاكِ وَكَانَ دَقِيقَ السَّاقَيْنِ فَجَعَلَتِ الرِّيحُ تَكْفَؤُهُ فَضَحِكَ الْقَوْمُ مِنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مِمَّ تَضْحَكُونَ“ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ مِنْ دِقَّةِ سَاقَيْهِ فَقَالَ ”وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُمَا أَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ مِنْ أُحُدٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ پیلو کے درخت سے مسواک توڑ رہے تھے، ان کی پنڈ لیاں کم زور تھیں،ہوا چلنے کی وجہ سے کپڑا اڑنے لگا تو لوگ ان کی باریک پنڈلیوں کو دیکھ کر ہنسنے لگ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تم کس بات پہ ہنس رہے ہو؟ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ان کی کم زور پنڈلیوں کو دیکھ کر ہنسی آرہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ پنڈلیاں ترازو میں احد پہاڑ سے بھی زیادہ وزنی ہوں گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11829
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، اخرجه الطيالسي: 355، والبزار: 2678، والطبراني في الكبير : 8452، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3991 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3991»
حدیث نمبر: 11830
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ أَتَيْنَا حُذَيْفَةَ فَقُلْنَا دُلَّنَا عَلَى أَقْرَبِ النَّاسِ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَدْيًا وَسَمْتًا وَوَلَاءً نَأْخُذْ عَنْهُ وَنَسْمَعْ مِنْهُ فَقَالَ كَانَ أَقْرَبَ النَّاسِ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَدْيًا وَسَمْتًا وَدَلًّا ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ حَتَّى يَتَوَارَى عَنِّي فِي بَيْتِهِ وَلَقَدْ عَلِمَ الْمَحْفُوظُونَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ مِنْ أَقْرَبِهِمْ إِلَى اللَّهِ زُلْفَةً (وَفِي رِوَايَةٍ وَسِيلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبدالرحمن بن یزید سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گئے اور ہم نے کہا آپ ہمیں کسی ایسے آدمی کی طرف راہ نمائی کریں جو اپنی سیرت، کردار اور عمل کے لحاظ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سب سے زیادہ قریب ہو، تاکہ ہم اس سے کچھ حاصل کر سکیں اور اس سے احادیث کا سماع کر سکیں،انہوں نے کہا:سیرت، کردار اور عمل کے لحاظ سے ام عبد کے بیٹے سیدنا عبداللہ بن مسعود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب ہیں،یہاں تک کہ وہ گھر داخل ہو جائیں (یعنی ان کے گھر سے باہر کے تمام معمولات سنت نبوی کے مطابق ہوتے ہیں اور میں ان کے گھر کے اندرونی معمولات نہیں جانتا۔)ایک روایت میں یوں ہے:تم جس قسم کے آدمی کے متعلق پوچھتے ہو تو ایسا شخص عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہی ہے، گھر سے باہر آکر گھر جانے تک اس کے تمام معمولات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معمولات کے مطابق ہوتے ہیں، اب میں یہ نہیں جانتا کہ گھر کے اندر ان کے معمولات کیا ہوتے ہیں؟ اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے اہل علم جانتے ہیں کہ ام عبد کے بیٹے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان میں سے اللہ کے سب سے زیادہ قریب ہیں۔ دوسری روایت کے الفاظ ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قیامت کے دن ان سب سے بڑھ کر اللہ کے مقرب ہوں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11830
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3762، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23342 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23732»
حدیث نمبر: 11831
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ تَرْفَعَ الْحِجَابَ وَأَنْ تَسْتَمِعَ سِوَادِي حَتَّى أَنْهَاكَ“ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ أَبِي بِسَوَادِي سِرِّي قَالَ أَذِنَ لَهُ أَنْ يَسْمَعَ سِرَّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پردہ کو اٹھا دیا جانا تمہارے لیے آگے آجانے کی اجازت کے مترادف ہے اور تم میری راز کی باتوں کو سننے کے بھی مجازہو، یہاں تک کہ میں تمہیں اس سے روک دوں۔ ابوعبدالرحمن نے کہا: سِوَاد کا معنی راز ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں راز کی باتیں سننے کی اجازت دے رکھی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … کسی کو اجازت دینے کے لیے کوئی علامت مقرر کی جا سکتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11831
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2169 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3684 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3684»
حدیث نمبر: 11832
قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَرَأْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ لَهُ ذُؤَابَةٌ فِي الْكُتَّابِ (وَفِي لَفْظٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ غُلَامٌ لَهُ ذُؤَابَتَانِ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ستر سورتیں براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سیکھی ہیں۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اس وقت چھوٹے تھے اور زیر تعلیم تھے۔ انہوں نے لٹیں رکھی ہوئی تھیں۔ دوسری روایت کے الفاظ ہیں کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بچے تھے ان کی دولٹیں تھیں اور وہ بچوں کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … اس روایت کی تفصیل کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۸۴۰۹)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11832
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5000، ومسلم: 2462 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3846 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3846»
حدیث نمبر: 11833
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ كُنْتُ أَرْعَى غَنَمًا لِعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ فَقَالَ ”يَا غُلَامُ هَلْ مِنْ لَبَنٍ“ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ وَلَكِنِّي مُؤْتَمَنٌ قَالَ ”فَهَلْ مِنْ شَاةٍ لَمْ يَنْزُ عَلَيْهَا الْفَحْلُ“ فَأَتَيْتُهُ بِشَاةٍ فَمَسَحَ ضَرْعَهَا فَنَزَلَ لَبَنٌ فَحَلَبَهُ فِي إِنَاءٍ فَشَرِبَ وَسَقَى أَبَا بَكْرٍ ثُمَّ قَالَ لِلضَّرْعِ ”اقْلِصْ“ فَقَلَصَ قَالَ ثُمَّ أَتَيْتُهُ بَعْدَ هَذَا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي مِنْ هَذَا الْقَوْلِ قَالَ ”فَمَسَحَ رَأْسِي وَقَالَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ فَإِنَّكَ غُلَيِّمٌ مُعَلَّمٌ“ (وَفِي رِوَايَةٍ) قَالَ فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ بِصَخْرَةٍ مَنْقُورَةٍ فَاحْتَلَبَ فِيهَا فَشَرِبَ وَشَرِبَ أَبُو بَكْرٍ وَشَرِبْتُ قَالَ ثُمَّ أَتَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ قُلْتُ عَلِّمْنِي مِنْ هَذَا الْقُرْآنِ قَالَ ”إِنَّكَ غُلَامٌ مُعَلَّمٌ“ قَالَ فَأَخَذْتُ مِنْ فِيهِ سَبْعِينَ سُورَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کابیان ہے، وہ کہتے ہیں: میں عقبہ بن ابی معیط کی بکریا ں چرایا کرتا تھا، رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لڑکے! دودھ مل سکتا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، لیکن یہ میرے پاس امانت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس ریوڑ میں کوئی ایسی بکری ہے، جس کی ابھی تک نر سے جفتی ہی نہ ہوئی ہو؟ تو میں ایک بکری پکڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے تھنوں پر ہاتھ پھیرا تو دودھ اتر آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک برتن میں دودھ دوہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی نوش فرمایا اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کو بھی دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تھن سے فرمایا: سکڑ جا (یعنی پہلے کی طرح ہو جا)۔ پس وہ سکڑ کر اپنی پہلی حالت میں ہو گیا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں اس کے بعد ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ دعا مجھے بھی سکھا دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: تجھ پر اللہ کی رحمت ہو، تو سیکھا سکھایا، پڑھا پڑھایا بچہ ہے۔ دوسری روایت میں ہے: ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کی خدمت میں پیالےیا برتن کی طرح کا ایک پتھر لے کر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں دودھ دوہا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی نوش فرمایا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیا اور میں نے بھی پیا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے اس کے بعد ایک موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: آپ مجھے بھی اس قرآن میں سے کچھ سکھا دیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پڑھا پڑھایا بچہ ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: چنانچہ میں نے ستر سورتیں براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پڑھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11833
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، اخرجه الطيالسي: 353، والطبراني في الكبير : 8455 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4412 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4412»
حدیث نمبر: 11834
عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ كُنَّا نَأْتِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَنَتَحَدَّثُ عِنْدَهُ فَذَكَرْنَا يَوْمًا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ لَقَدْ ذَكَرْتُمْ رَجُلًا لَا أَزَالُ أُحِبُّهُ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ مِنْ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ“ فَبَدَأَ بِهِ ”وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مسروق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جایا کرتے اور ان کے ہاں بیٹھ کر باتیں کیا کرتے تھے، ہم نے ایک دن سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا تو انھوں نے کہا: تم نے ایک ایسے آدمی کا نام لے دیا ہے کہ میں نے جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے، تب سے میں اس سے محبت کرتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاہے: تم لوگ چار آدمیوں سے قرآن کا علم حاصل کرو، ابن ام عبد، معاذ بن جبل، ابی بن کعب اور مولائے ابی حذیفہ سالم سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلے ام عبد کے بیٹے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا نام لیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11834
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3760،ومسلم: 2464، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6795 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6795»